Connect with us

دیش

ایشیا پاور انڈیکس 2025 میں ہندوستان تیسرے نمبر پر

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی: ہندوستان نے ایشیا پاور انڈیکس 2025 میں تیسری درجہ بندی حاصل کی ہے جب کہ امریکہ اور چین بالترتیب پہلے اور دوسرے نمبر پر ہیں، یہ بات عالمی سطح پر معروف تھنک ٹینک نے اپنے نتائج میں کہی۔لوئی انسٹی ٹیوٹ، آسٹریلیا میں مقیم تھنک ٹینک نے حال ہی میں اپنا سالانہ ایشیا پاور انڈیکس جاری کیا ہے جس میں قوموں، خاص طور پر ایشیائی براعظموں میں رہنے والوں کی اپنے بیرونی ماحول پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت کا اندازہ لگایا گیا ہے۔
اس کی درجہ بندی کے مطابق، ہندوستان اپنے ساتھیوں سے بہت آگے نظر آتا ہے لیکن بڑے فرق کے ساتھ چین سے پیچھے رہتا ہے۔ ہندوستان اور چین دونوں نے مختلف میٹرکس میں بہتر اسکور کیا ہے اور پہلے کی نسبت اپنی پوزیشن کو بہتر بنایا ہے لیکن دونوں کے درمیان وسیع فرق موجود ہے۔ روس 2019 کے بعد پہلی بار ایشیا میں اپنی مجموعی طاقت کو بہتر کرتا ہوا نظر آ رہا ہے۔
رپورٹ کی ایک اور نمایاں خصوصیت ہندوستان کی مسلسل بڑھتی ہوئی طاقت اور سال 2025 میں ایشیا پاور انڈیکس کی طرف سے “بڑی طاقت” کی حیثیت کے لیے متعین حد کو عبور کرنا ہے۔ایشیا پاور انڈیکس کا ساتواں ایڈیشن پورے ایشیا کے 27 ممالک اور خطوں کی طاقت کا اندازہ کرتا ہے، آٹھ موضوعاتی اقدامات کے 131 اشاریوں کی بنیاد پر، جن میں فوجی صلاحیت اور دفاعی نیٹ ورک، اقتصادی صلاحیت اور تعلقات، سفارتی اور ثقافتی اثر و رسوخ، نیز لچک اور مستقبل کے وسائل شامل ہیں۔
ریاستہائے متحدہ 81.7 کے اسکور کے ساتھ چارٹ میں سرفہرست ہے اور بدستور غیر متنازعہ رہنما ہے۔ چین 27 میں سے دوسرے نمبر پر ہے، 100 میں سے 73.7 کے مجموعی اسکور کے ساتھ، 2025 میں مجموعی اسکور میں 1 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ہندوستان جامع طاقت کے لیے 27 میں سے 3 ویں نمبر پر ہے، 100 میں سے 40 کے مجموعی اسکور کے ساتھ، مجموعی اسکور میں 2 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ ہندوستان کے بڑھتے ہوئے غلبے کو کووڈ کے بعد کے عرصے میں مضبوط معاشی بحالی اور اس کے بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے دیکھا جاتا ہے۔”
ایشیا پاور انڈیکس کے 2025 ایڈیشن میں ہندوستان کی اقتصادی اور فوجی صلاحیت دونوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کی معیشت نے مضبوطی سے ترقی جاری رکھی ہے اور اس کی جغرافیائی سیاسی مطابقت کے لحاظ سے چھوٹے فوائد حاصل کیے ہیں – جو بین الاقوامی لیوریج، کنیکٹیویٹی اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے بیان کیے گئے ہیں۔ ہندوستان کی فوجی صلاحیت میں بھی مسلسل بہتری آئی ہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

دیش

پانچ کلو وزن ہواکم،وانگچک کے بھوک ہڑتال کا ساتواں دن

Published

on

نئی دہلی:جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کا دھرنا جاری ہے۔ ان کے اندولن کے ساتھ معروف سماجی خدمات گار سونم وانگچک بھی شریک ہوچکے ہیں آج ان کے بھوک ہڑتال کا ساتواں دن ہے۔ جس میں ان کا پانچ کلو وزن کم ہوگیا ہے۔ اس دوران سی جے پی نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبہ کو تیز کردیا ہے۔ واضح ہو کہ جنتر منتر پر طلبا نیٹ ، یوجی سمیت مقابلہ جاتی امتحانات میں بدعنوانی کولیکر مظاہرہ کررہے ہیں۔

Continue Reading

دیش

حکومت پر تنقید جمہوریت کا حصہ ، جرم نہیں : بمبئی ہائی کورٹ

Published

on

بمبئی ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ جمہوری نظام میں شہریوں کو حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف کرنے، اپنے خیالات کا اظہار کرنے اور پُرامن احتجاج کرنے کا آئینی حق حاصل ہے۔ صرف حکومت مخالف نعرے لگانے یا احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرنے کی بنیاد پر کسی شہری کو اس کے اپنے شہر سے بے دخل نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے اسی بنیاد پر مہاراشٹر پولیس کی جانب سے جاری ایک سالہ ایکسٹرنمنٹ (شہر بدری) کا حکم منسوخ کر دیا۔
یہ فیصلہ جسٹس مادھو جمدار کی بنچ نے سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے مہاراشٹر کے جنرل سیکریٹری اور سابق لوک سبھا امیدوار سعید احمد عبد الواحد چودھری کی درخواست پر سنایا۔ عدالت نے واضح کیا کہ انتظامی اختیارات کا استعمال شہریوں کے آئینی اور بنیادی حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے نہیں کیا جا سکتا۔
سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کی کارروائی اور اس کے جواز پر کئی اہم سوالات اٹھائے۔ جسٹس مادھو جمدار نے ریمارکس دیے کہ ہر شہری کو حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے، احتجاج کرنے اور اختلاف رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
عدالت نے سوال کیا کہ محض ’’بی جے پی حکومت مردہ باد‘‘ یا ’’امت شاہ مردہ باد‘‘ جیسے نعرے کسی شخص کے خلاف شہر بدری جیسی سخت کارروائی کی بنیاد کیسے بن سکتے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ جمہوریت میں اختلاف رائے کو دبانے کے بجائے اسے برداشت کرنا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔
جسٹس جمدار نے گزشتہ برسوں میں مختلف مسابقتی امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر عوام ایسے معاملات پر احتجاج کریں اور اس کے جواب میں ان پر مقدمات درج کیے جائیں تو یہ جمہوری اقدار کے مطابق نہیں ہوگا۔ عدالت نے واضح کیا کہ پولیس عوام کی خدمت کے لیے ہے اور اس کی جواب دہی شہریوں کے سامنے ہے، نہ کہ کسی سیاسی جماعت یا حکومت کے سامنے۔
اپنے تحریری فیصلے میں ہائی کورٹ نے کہا کہ حکومت کے بعض فیصلوں کی مخالفت کرنا کسی شخص کو اس کے رہائشی علاقے سے بے دخل کرنے کی قانونی بنیاد نہیں بن سکتا۔ عدالت کے مطابق ایسی کارروائی اظہارِ رائے کی آزادی اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔عدالت نے مشاہدہ کیا کہ درخواست گزار کے خلاف جاری کیے گئے ایکسٹرنمنٹ آرڈر کی اصل وجہ مختلف احتجاجی پروگراموں کا انعقاد اور ان میں شرکت تھی۔ عدالت نے کہا کہ صرف اسی بنیاد پر کسی شہری کے خلاف اتنی سخت انتظامی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔
سعید احمد عبد الواحد چودھری شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے)، نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی)، بابری مسجد تنازع، گیان واپی مسجد معاملہ، وقف بورڈ میں مبینہ بدعنوانی اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سمیت کئی عوامی مسائل پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں سرگرم رہے ہیں۔

Continue Reading

دیش

رام مندر کے بعد بدری ناتھ میں چڑھاوا چوری معاملہ ، کرمچاریوں سے جواب طلب

Published

on

نئی دہلیایودھیا کے رام مندر میں چڑھاوا چوری کا معاملہ چل ہی رہا ہے کہ اب معروف کیدار بدری ناتھ چڑھاوا چوری کا معاملہ بھی اجاگر ہوا ہے اس سلسلے میں انتظامیہ نے فوری طور پر کرمچاریوں کو نوٹس دیا ہے اور تین دن میں جواب دینے کو کہا ہے۔ غورطلب ہے کہ شری بدری ناتھ-کیدار ناتھ مندر کمیٹی (بی کے ٹی سی) نے معاملے کی تحقیقات کا حکم جاری کر دیا ہے۔ کمیٹی کے ایک عہدیدارکے مطابق دہرادون واقع ’بھیرو سینا‘ نامی تنظیم نے الزام عائد کیا ہے کہ بدری ناتھ دھام میں تعینات ایک ملازم عطیات اور نذرانوں کی رقم میں گڑبڑی کر رہا ہے۔ حالانکہ انتظامیہ کی جانب سے ان الزامات کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا ہے، لیکن معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے کمیٹی نے تحقیقات شروع کر دی ہے۔ ساتھ ہی عطیات کی رقم کی گنتی سے منسلک ملازمین سے بھی وضاحت طلب کی گئی ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network