uttar pradesh
اترپردیش میںامید پورٹل پر وقف املاک کے اندراج کی دوڑ تیز,5 جون ہے آخری تاریخ،سنی سنٹرل وقف بورڈ اور شیعہ سنٹرل وقف بورڈ جنگی بنیادوں پر وقف املاک کے رجسٹریشن مصروف، بورڈ حکام کی چھٹیاں منسوخ
(پی این این)
لکھنؤ: وقف ترمیمی قانون 2025 کے تحت ملک بھر میں وقف املاک کی تفصیلات مرکزی حکومت کے امید پورٹل پر درج کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ نتیجتاً، اتر پردیش سنی سنٹرل وقف بورڈ اور شیعہ سنٹرل وقف بورڈ جنگی بنیادوں پر وقف املاک کے رجسٹریشن، تصدیق اور منظوری کا عمل انجام دے رہے ہیں۔ 5 جون 2026 کی آخری تاریخ کے ساتھ، دونوں بورڈز نے اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔
میڈیا کے ساتھ بات چیت میں اتر پردیش شیعہ وقف بورڈ کے ایگزیکٹیو آفیسر ذیشان رضوی نے بتایا کہ بورڈ کا مقصد تمام وقف املاک کے رجسٹریشن کو مقررہ تاریخ سے پہلے مکمل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر پورٹل کے ساتھ کچھ تکنیکی مسائل تھے لیکن اب ان میں سے بیشتر کو حل کر لیا گیا ہے۔
تاہم جن املاک کے لیے متولی ضروری دستاویزات اور ریکارڈ فراہم نہیں کر رہے ہیں ان کو تصدیق کے دوران مسترد کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شیعہ وقف بورڈ کی 2000 سے زیادہ جائیدادیں اس وجہ سے مسترد کر دی گئی ہیں۔ڈیڈ لائن کے پیش نظر دونوں وقف بورڈوں نے اگلے چار دنوں کے لیے اپنے افسران اور ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں۔ کام کو تیز کرنے کے لیے شیعہ وقف بورڈ میں تین اضافی ملازمین اور سنی وقف بورڈ میں 15 ملازمین کا تقرر کیا گیا ہے، جو پورٹل پر جائیدادوں کو اپ لوڈ، تصدیق اور منظوری دے رہے ہیں۔ریاست کے مختلف اضلاع سے متولیوں اور متعلقہ افراد کی ایک بڑی تعداد امید پورٹل پر رجسٹریشن اور تصدیق سے پیدا ہونے والے مسائل کو حل کرنے کے لیے لکھنؤ میں وقف بورڈ کے دفتر پہنچ رہی ہے۔ جونپور سے آئے مہندی حسن نے کہا کہ ان کے پاس اپنی وقف جائیداد سے متعلق دفعہ 37 کی کاپی نہیں ہے اور امید ہے کہ جلد ضروری سرٹیفکیٹ مل جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر مسجد کی تفصیلات امید پورٹل پر اپ لوڈ نہیں کی گئیں تو آگے کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔
بدایوں کے نور محمد، جو وہاں ایک کوآرڈینیٹر کے طور پر کام کرتے ہیں، نے کہا کہ بہت سے لوگ شکایت کر رہے ہیں کہ رجسٹریشن کے باوجود ان کی جائیدادیں پورٹل پر زیر التواء دکھائی دے رہی ہیں۔ کچھ معاملات میں جائیدادیں منسوخ کر دی گئی ہیں، لیکن متعلقہ لوگوں کو کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کے پاس گزٹ نوٹیفکیشن ہے لیکن ان کے پاس سیکشن 37 کا ثبوت نہیں ہے وہ بھی ازالے کے لیے بورڈ آفس پہنچ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ دو سے تین دنوں میں غلطیوں کو دور نہ کیا گیا تو جائیدادیں منسوخ تصور کی جائیں گی۔
بریلی کے عبدالقادر نے بتایا کہ وہ اپنی مسجد سے جڑی دکانوں کی تفصیلات امید پورٹل پر درج کرانے کے لیے وقف بورڈ آئے ہیں۔ وہ اس عمل اور مطلوبہ دستاویزات سے واقف نہیں تھا، اس لیے وہ رجسٹریشن سے پہلے معلومات حاصل کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔بارہ بنکی کے دیوا شریف کے رہائشی عمران ہاشمی نے بتایا کہ انہوں نے اپنی مسجد نومبر میں رجسٹر کروائی تھی لیکن اس کی حیثیت ابھی تک زیر التوا دکھائی دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین چار دنوں سے وہ لکھنؤ میں ہیں اور مسلسل حکام سے رابطہ کر رہے ہیں، لیکن ابھی تک کوئی تسلی بخش حل نہیں ملا ہے۔
لکھنؤ کے احمد میاں کا کہنا ہے کہ جہاں وقف املاک کو پورٹل پر تیزی سے رجسٹر کیا جا رہا ہے، وہیں بڑی تعداد میں جائیدادوں کے مسترد ہونے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ وقف بورڈ کو عوامی سہولت کے لیے ہیلپ ڈیسک اور اضافی امدادی مراکز قائم کرنے چاہیے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے آخری تاریخ میں توسیع کا امکان نہیں ہے، جب کہ کئی معاملات میں اعتراضات کے حل کے لیے ضروری دستاویزات جمع کرنا چیلنجنگ ثابت ہو رہا ہے۔اتر پردیش سنی وقف بورڈ کے مطابق، کل 132,679 وقف املاک کی تفصیلات اپ لوڈ کرنے کا عمل شروع کیا گیا تھا، جن میں سے اب تک 119,597 جائیدادوں کی تفصیلات پورٹل پر اپ لوڈ کی جاچکی ہیں۔
وقف املاک کے بروقت رجسٹریشن کو یقینی بنانے کے لیے محکمہ اقلیتی بہبود نے تمام اضلاع کے ضلع اقلیتی بہبود افسران کو خصوصی مہم شروع کرنے کی ہدایت دی ہے۔ محکمہ کی طرف سے جاری کردہ ایک خط کے ذریعے عہدیداروں کو امید پورٹل پر اپ لوڈ کی گئی معلومات کی تصدیق کرنے، غلطیوں کو درست کرنے اور 50 ایکڑ سے زیادہ اراضی کے مالکان کے معاملات پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔ مزید برآں، ضروری دستاویزات جمع کرنے اور مسائل کو حل کرنے کے لیے ضلع وار کیمپس کا انعقاد کیا جا رہا ہے، تاکہ وقف املاک کی زیادہ سے زیادہ تعداد کا اندراج اور آخری تاریخ سے پہلے تصدیق کی جا سکے۔
uttar pradesh
مدارس و مساجد کے خلاف کارروائی تشویشناک
دیوبند:جمعیۃ علماء راجستھان کے ناظم مولانا مفتی حبیب اللہ قاسمی اور راجستھان لیبر بورڈ کے سابق چیئرمین غفور احمد نے راجستھان کے سرحدی علاقہ میں حالیہ میں دنوں میں مساجد،مدارس اور درگاہوں کے خلاف جاری انہدامی کارروائی اور نوٹسوں پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے یکطرفہ اور منظم کارروائی قرار دیا اور ہائی کورٹ سے معاملہ خارج ہونے پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی بات کہی ہے۔
آج یہاں دارالعلوم چوک پرواقع میڈیا سینٹر میں اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے مفتی حبیب اللہ قاسمی اور غفور احمد نے کہاکہ راجستھان کے جیسلمیر، باڑمیر، بیکانیر اور دیگر سرحدی اضلاع میں سرحد سے پچاس کلو میٹر تک کے دائرہ میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران متعدد مساجد، مدارس اور درگاہوں کے خلاف کارروائیاں کی گئی ہیں، درجن بھر سے زائد مساجد و مدارس اور مذہبی مقامات کو منہدم کیا جا چکا ہے جبکہ سیکڑوں عبادت گاہوں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں، جس سے متاثرہ علاقوں کے مسلمانوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔یہ کارروائی نیشنل سکیوریٹی کا حوالہ دے کر صرف مساجد، مدارس اور درگاہوں کے خلاف کی جارہی ہے۔
غفور احمد نے بتایا کہ اس معاملے پر جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی سے تفصیلی ملاقات ہوئی ہے اور ہم نے قانونی محاذ پر پوری قوت کے ساتھ جدوجہد جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ غفور احمد نے الزام عائد کیا کہ مرکزی وزارت داخلہ کے2021 کے نوٹیفکیشن کا سہارا لے کر سرحدی علاقوں میں صرف مسلم مذہبی اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ اسی دائرے میں واقع دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کے خلاف ایسی کارروائیاں نہیں کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر واقعی قومی سلامتی کا کوئی مسئلہ ہے تو قانون کا اطلاق بلا امتیاز تمام متعلقہ مقامات پر ہونا چاہیے، صرف ایک طبقے کو نشانہ بنانا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ مفتی حبیب اللہ نعمانی نے کہا کہ مدارس اور مساجد کی صدیوں پر محیط روشن تاریخ ہے اور آج تک ان اداروں سے قومی سلامتی کو کسی قسم کا خطرہ ثابت نہیں ہوا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت قومی سلامتی کا حوالہ دے رہی ہے تو اسے واضح کرنا چاہیے کہ ان مذہبی اداروں سے کس نوعیت کا خطرہ لاحق ہے۔ غفور احمد نے تجویز پیش کی کہ اگر اراضی یا تعمیر سے متعلق کسی قانونی ضابطے کی خلاف ورزی پائی جاتی ہے تو متاثرین کو جرمانہ یا دیگر قانونی تقاضے پورے کرنے کا موقع دیا جائے، نہ کہ براہ راست انہدامی کارروائی کی جائے۔ ان کے مطابق یہ کارروائیاں نہ صرف مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والی ہیں بلکہ اس سے مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس بھی پیدا ہو رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی یہ یک طرفہ کارروائی مسلمانوں کو معاشی، سماجی اور مذہبی طور پر کمزور کرنے کی منظم کوشش معلوم ہوتی ہے اور اس کے خلاف اب سپریم کورٹ سے رجوع کرینگے۔
uttar pradesh
اے ایم یو کی استاذکو برونیل یونیورسٹی لندن سے ماسٹر آف پبلک ہیلتھ کی ڈگری تفویض
علی گڑھ:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج کے شعبہ کمیونٹی میڈیسن کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ احمد کو برطانیہ کی برونیل یونیورسٹی لندن کی جانب سے 14 جولائی کو منعقدہ جلسہ تقسیمِ اسناد میں ماسٹر آف پبلک ہیلتھ (ایم پی ایچ) کی ڈگری سے نوازا گیا۔
ڈاکٹر ثمینہ احمد نے اے ایم یو میں اپنی تدریسی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے بین الاقوامی شہرت یافتہ ایم پی ایچ پروگرام کامیابی کے ساتھ مکمل کیا۔
اس پروگرام کے تحت انہیں وبائیات، حیاتیاتی شماریات، صحت کے فروغ، صحت عامہ کی پالیسی، تحقیقی طریقہ کار اور عالمی صحتِ عامہ جیسے موضوعات میں اعلیٰ تربیت حاصل ہوئی، جس سے صحتِ عامہ کی تعلیم، تحقیق اور کمیونٹی ہیلتھ کے شعبوں میں ان کی مہارت مزید مستحکم ہوئی۔
اس کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے شعبہ کمیونٹی میڈیسن کی چیئرپرسن پروفیسر عظمیٰ ارم نے کہا کہ یہ کامیابی ڈاکٹر ثمینہ احمد کے تعلیمی امتیاز اور مسلسل پیشہ ورانہ ترقی کے عزم کی آئینہ دار ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس پروگرام سے حاصل ہونے والا علم اور بین الاقوامی تجربہ شعبے کی تدریسی، تحقیقی اور سماجی خدمات کو مزید تقویت بخشے گا۔
ڈاکٹر ثمینہ احمد نے اپنی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے پروفیسر عظمیٰ ارم کا مسلسل حوصلہ افزائی، رہنمائی اور تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اپنے اساتذہ، رہنماؤں، ساتھیوں، دوستوں اور اہلِ خانہ کے تعاون کو بھی سراہا، جن کی مدد سے وہ یہ ڈگری کامیابی سے مکمل کر سکیں۔
ڈاکٹر ثمینہ احمد نے ایم بی بی ایس اور ایم ڈی (کمیونٹی میڈیسن) کی ڈگریاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے حاصل کی ہیں اور وہ اس وقت جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج میں انڈر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ تدریس، تحقیق اور کمیونٹی ہیلتھ پروگراموں میں سرگرم کردار ادا کر رہی ہیں۔
uttar pradesh
عالمی یومِ ہنرمندیِ نوجوانان کے موقع پر3 روزہ کروشیا ورکشاپ اور ہنر نمائش کا انعقاد
علی گڑھ:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سینٹر فار اسکل ڈیولپمنٹ اینڈ کیریئر پلاننگ (سی ایس ڈی اینڈ سی پی) کے زیر اہتمام عالمی یومِ ہنرمندیِ نوجواناں 2026 کے موقع پر 13 تا 15 جولائی ”ہک، یارن اینڈ کری ایٹوٹی: لرن کروشیا فرام اسکریچ“ کے عنوان سے تین روزہ عملی تربیتی ورکشاپ منعقد کی گئی، جس کے اختتام پر شرکاء کی تیار کردہ مصنوعات کی ایک ہنر نمائش بھی سجائی گئی۔
نمائش میں گارمنٹ میکنگ، فیشن السٹریشن اینڈ اسکیچنگ، ٹیکسٹائل ڈیزائننگ اور مرکز کی جانب سے گزشتہ چند ماہ کے دوران منعقد کیے گئے دیگر ہنر مندی پروگراموں میں شریک طلبہ کے تیار کردہ منصوبے اور تخلیقی نمونے پیش کیے گئے۔ اس موقع پر سینٹر آف کنٹی نیواِنگ اینڈ ایڈلٹ ایجوکیشن اینڈ ایکسٹینشن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شمیم اختر، جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج کے شعبہ کمیونٹی میڈیسن کے پروفیسر سلمان خلیل اور شعبہ تعلیم کے ڈاکٹر محمد شاکر بھی موجود تھے۔
اپنے خطاب میں ڈاکٹر شمیم اختر نے نوجوانوں کو بااختیار بنانے، تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے اور زندگی بھر سیکھنے کے رجحان کو مستحکم کرنے میں ہنر پر مبنی تعلیم کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے عالمی یومِ ہنرمندیِ نوجواناں کے جذبے کے مطابق پیشہ ورانہ مہارتوں اور پائیدار دستکاری کو فروغ دینے کے لیے مرکز کی کوششوں کو سراہا۔
پروفیسر سلمان خلیل نے شرکاء کی تخلیقی صلاحیتوں اور کاروباری امکانات کی تعریف کرتے ہوئے انہیں ترغیب دی کہ وہ اپنے حاصل کردہ ہنر کو خود روزگار اور آمدنی کے مواقع میں تبدیل کریں۔
ڈاکٹر محمد شاکر نے طلبہ کے جوش و جذبے کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے پروگرام شخصیت سازی، روزگار کے امکانات میں اضافے اور نوجوانوں میں ہنر پر مبنی تعلیم کے بڑھتے ہوئے رجحان کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
نمائش کی نگرانی سینٹر کی اسٹوڈنٹ کاؤنسلر ڈاکٹر ثمرین حسن خان نے ٹرینرز ادیبہ سلیم، صنوبر اور زینت بانو کے تعاون سے کی۔ ڈاکٹر ثمرین حسن خان نے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیاں طلبہ میں عملی مہارت، تخلیقی صلاحیت، خود انحصاری اور چھوٹے پیمانے پر کاروباری صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرتی ہیں۔
کروشیا کی تربیتی نشستیں کری ایٹو کروشیا کی سربراہ محترمہ زینت بانو نے منعقد کیں، جنہوں نے عملی مشقوں اور تعاملی مظاہروں کے ذریعے شرکاء کو کروشیا کے بنیادی اصول، مختلف ٹانکے، دھاگے کے استعمال، ڈیزائن سازی، تکمیلی تکنیکوں اور آرائشی و استعمالی اشیا کی تیاری کی تربیت دی۔
ورکشاپ میں تقریباً 50 طلبہ نے شرکت کی، جبکہ عالمی یومِ ہنرمندیِ نوجواناں 2026 کے موضوع ”اسکِلس فار اے شیئرڈ فیوچر“ پر منعقدہ نعرہ نویسی مقابلے میں بھی 20 سے زائد طلبہ نے پُرجوش انداز میں حصہ لیا۔
پروگرام کے اختتام پر ورکشاپ، مقابلوں، اورینٹیشن سیشنز اور مرکز کی جانب سے منعقدہ دیگر ہنر مندی سرگرمیوں میں شریک طلبہ کو اسناد تقسیم کی گئیں۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
