تازہ ترین
ضلع انتظامیہ کا صدر اسپتال کے باہر کھڑی نجی ایمبولینسوں پر چھاپہ، ڈی ایم ارریہ کی ہدایت پر کی گئی کارروائی، قانونی دائرے کے تحت تھانہ بھجوائی گئیں2 ایمبولینسسیتامڑھی:معمولی رقم کے تنازعہ میں معذور شخص کا پیٹ پیٹ کرقتل، گاؤں میں ہرطرف سنسنی، ملزم کے گھر کے سامنے لاش رکھ کر مشتعل گاؤں والوں نے کیا سڑک جام، ایف ایس ایل ٹیم نے شواہد جمع کیے، ایک خاتون زیر حراستمیرٹھ کے ’سدبھاؤنا سمیلن‘ میں امن، بھائی چارے اور مذہبی رواداری کا پیغام، ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی طبقوں کی سرکردہ شخصیات کی شرکت، چھ ماہ میں 200 نکڑ میٹنگیں منعقد کرنے کا فیصلہسیدالبشر چریٹیبل ٹرسٹ کے زیراہتمام نعتیہ مشاعرہ پروگرام کا انعقاد، مولانا خالد رشید فرنگی محلی ’’ مولانا محمد علی جوہری ایوارڈ‘‘ سےسرفرازحیاتیاتی تنوع کا تحفظ پائیدار مستقبل کے لیے ناگزیر: پروفیسر سوچت سوروپ، لینگویج یونیورسٹی کے شعبۂ ہوم سائنس میں ایک تربیتی پروگرام کا انعقادبدلتے وقت کا وہ بھی کمال دیکھے گاالیکشن کمیشن کی کاکردگی کی جانچ کیلئے نئی عرضی داخل،کسی ریاست کے سابق چیف جسٹس یا جج کی قیادت میں کمیٹی بنانے کا سپریم کورٹ سےمطالبہضمانت کی درخواست پر 2 ماہ کے اندر کریں فیصلہ، نہیں تو ججوں کوبتانی ہوگی وجہ، پٹنہ ہائی کورٹ نے بہار کی تمام سول عدالتوں کیلئے معیاری طریقۂ کار (ایس او پی) سے متعلق جاری کی رہنما ہدایات
uttar pradesh

جرائم کو مذہب سے مت جوڑیئے۔یوگی کے بیان پر اپوزیشن ممبران پارلیمنٹ کا جوابی حملہ،تمام مجرموں کے ساتھ یکساں سلوک ضروری، ذات اور مذہب کی بنیاد پر جرائم کا فیصلہ کریں گے تو نہیں پایا جاسکتاجرائم پر قابو:عمران مسعود

(پی این این)
لکھنؤ؍سہارنپور:کانگریس ایم پی عمران مسعود نے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرائم کو مذہب کی نظر سے نہ دیکھا جائے۔ پورے اترپردیش میں تشدد کے متعدد واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امن و امان کا اطلاق تمام مجرموں پر یکساں طور پر ہونا چاہئے، خواہ وہ کسی بھی برادری کے ہوں۔ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے غازی آباد سوریہ قتل کیس پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ’’دوستی کی آڑ میں دھوکہ دہی اور چھرا گھونپنے جیسے واقعات کسی بھی قیمت پر ناقابل قبول ہیں۔‘‘
میڈیا سے بات کرتے ہوئے کانگریس ایم پی نے کہا’’وہ (مرکزی ملزم اسد) پولیس کے تصادم میں مارا گیا تھا۔ لیکن آپ کو دوسرے کھلاڑی تیاگی کے بارے میں تفتیش کرنی چاہیے تھی۔ اس کے ساتھ کیا ہوا؟ اسے بھی دوستی کے نام پر مارا گیا، آپ اس کے بارے میں کچھ کیوں نہیں کہہ سکتے؟ رنگداری کے مطالبے پر آپ غازی پور میں مارے گئے ایک شخص کے بارے میں کیوں نہیں بول سکتے؟’’جس نے بچے کو پٹک پٹک کر مارا آپ اس پر کیوں نہیں بولتے۔ یہاں بچے کو گلا کاٹ کر قتل کیا گیا، قتل تو قتل ہی ہے؟
عمران مسعود نے اتر پردیش میں امن و امان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جرائم پر قابو نہیں پایا جا رہا ہے، اس کا نتیجہ کیا ہے؟ میں نے کل کہا تھا کہ اگر آپ ذات اور مذہب کی بنیاد پر جرائم کا فیصلہ کریں گے تو جرائم پر قابو نہیں پایئے گا۔ جو سلوک مجرموں کے ساتھ ہونا چاہیے وہی سلوک ہر مجرم پر ہونا چاہیے۔
عمران مسعود نے گائے سے متعلق سی ایم یوگی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ’’اگر گائے گائے ہے تو کیا 14 سال تک صرف گائے ہی رہے گی؟ بنگال حکومت نے 14 سال سے بڑی گائے کو ذبح کرنے کی اجازت دے دی ہے، تو کیا 14 سال بعد گائے کی گائے والی اہمیت ختم ہو جائے گی؟ آپ ذبح کرنے کی اجازت کیوں دیتے ہیں، آپ کو برآمدگی پر پابندی لگانی چاہئے؟‘‘
سماج وادی پارٹی کے ایم پی اودھیش پرساد نے بھی سی ایم یوگی کے بیان پر ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا،’’وزیر اعلی یوگی کی ریاست اور ملک دونوں میں ایک شناخت ہے، ان کی ایک شناخت ہے، اس لیے وہ اس نظریہ کے بارے میں فکر مند ہیں جو وہ رکھتے ہیں، اور وہ فکر مند ہیں کہ ہماری شناخت ختم نہ ہو جائے۔’’
اودھیش پرساد نے اتر پردیش میں ہونے والے انکاؤنٹر پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ انکاؤنٹر کی قانون کی حکمرانی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ہم نے ہمیشہ انکاؤنٹر کے خلاف لڑائی لڑی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست میں کئی انکاؤنٹر دھوکہ دہی سے کئے گئے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔