تازہ ترین
چھوٹی صنعتوںکو فروغ دینے کیلئے حکومت کی نئی پالیسی،بہار کے اگلے بجٹ میں سرمایہ کاری پر ہوگی دولت کی بارش، نتیش کمار کی تشکیل کردہ کمیٹی نے سمراٹ حکومت کوسونپی رپورٹمدارس کی تعلیمی صورتحال اور ملحقہ کنونشن کیلئے میٹنگ منعقد، مدرسہ ایجوکیشن بورڈکا قیام اور ملحقہ مدارس، مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ کی مرہون منتافسران سے ملی بھگت کے ذریعہ فرضی رجسٹری کراکر زمین پر قبضہ کر رہے ہیں ’زمین مافیا‘چھپرا : 6 ماہ پرانے تنازع پر ہوا خونی تصادم، چاقو زنی سے 3 افراد ہلاکیوپی میںچیف الیکشن کمشنر کے خلاف ایس پی کا احتجاج،غازی آباد،میرٹھ،رائے بریلی، باغپت اور مظفر نگرمیں سڑکوں پر اترےسماجوادی پارٹی کے کارکنان ،نکالاپیدل مارچ،ای سی آئی کا پتلا نذر آتشپارٹی کی توقعات پوری کرنے کی کروں گاکوشش ،صوبہ کا ر گزار صد منتخب ہونے کے بعد عمران مسعود کی میڈیا سے گفتگوجمعیۃ علماء کی میٹنگ میں اصلاح معاشرہ، مردم شماری اور ہندو- مسلم اتحاد کی حکمت عملی طےرام لیلا بھگوان شری رام کی اقدار کی زندہ روایت :ریکھا
uttar pradesh

جرائم کو مذہب سے مت جوڑیئے۔یوگی کے بیان پر اپوزیشن ممبران پارلیمنٹ کا جوابی حملہ،تمام مجرموں کے ساتھ یکساں سلوک ضروری، ذات اور مذہب کی بنیاد پر جرائم کا فیصلہ کریں گے تو نہیں پایا جاسکتاجرائم پر قابو:عمران مسعود

(پی این این)
لکھنؤ؍سہارنپور:کانگریس ایم پی عمران مسعود نے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرائم کو مذہب کی نظر سے نہ دیکھا جائے۔ پورے اترپردیش میں تشدد کے متعدد واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امن و امان کا اطلاق تمام مجرموں پر یکساں طور پر ہونا چاہئے، خواہ وہ کسی بھی برادری کے ہوں۔ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے غازی آباد سوریہ قتل کیس پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ’’دوستی کی آڑ میں دھوکہ دہی اور چھرا گھونپنے جیسے واقعات کسی بھی قیمت پر ناقابل قبول ہیں۔‘‘
میڈیا سے بات کرتے ہوئے کانگریس ایم پی نے کہا’’وہ (مرکزی ملزم اسد) پولیس کے تصادم میں مارا گیا تھا۔ لیکن آپ کو دوسرے کھلاڑی تیاگی کے بارے میں تفتیش کرنی چاہیے تھی۔ اس کے ساتھ کیا ہوا؟ اسے بھی دوستی کے نام پر مارا گیا، آپ اس کے بارے میں کچھ کیوں نہیں کہہ سکتے؟ رنگداری کے مطالبے پر آپ غازی پور میں مارے گئے ایک شخص کے بارے میں کیوں نہیں بول سکتے؟’’جس نے بچے کو پٹک پٹک کر مارا آپ اس پر کیوں نہیں بولتے۔ یہاں بچے کو گلا کاٹ کر قتل کیا گیا، قتل تو قتل ہی ہے؟
عمران مسعود نے اتر پردیش میں امن و امان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جرائم پر قابو نہیں پایا جا رہا ہے، اس کا نتیجہ کیا ہے؟ میں نے کل کہا تھا کہ اگر آپ ذات اور مذہب کی بنیاد پر جرائم کا فیصلہ کریں گے تو جرائم پر قابو نہیں پایئے گا۔ جو سلوک مجرموں کے ساتھ ہونا چاہیے وہی سلوک ہر مجرم پر ہونا چاہیے۔
عمران مسعود نے گائے سے متعلق سی ایم یوگی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ’’اگر گائے گائے ہے تو کیا 14 سال تک صرف گائے ہی رہے گی؟ بنگال حکومت نے 14 سال سے بڑی گائے کو ذبح کرنے کی اجازت دے دی ہے، تو کیا 14 سال بعد گائے کی گائے والی اہمیت ختم ہو جائے گی؟ آپ ذبح کرنے کی اجازت کیوں دیتے ہیں، آپ کو برآمدگی پر پابندی لگانی چاہئے؟‘‘
سماج وادی پارٹی کے ایم پی اودھیش پرساد نے بھی سی ایم یوگی کے بیان پر ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا،’’وزیر اعلی یوگی کی ریاست اور ملک دونوں میں ایک شناخت ہے، ان کی ایک شناخت ہے، اس لیے وہ اس نظریہ کے بارے میں فکر مند ہیں جو وہ رکھتے ہیں، اور وہ فکر مند ہیں کہ ہماری شناخت ختم نہ ہو جائے۔’’
اودھیش پرساد نے اتر پردیش میں ہونے والے انکاؤنٹر پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ انکاؤنٹر کی قانون کی حکمرانی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ہم نے ہمیشہ انکاؤنٹر کے خلاف لڑائی لڑی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست میں کئی انکاؤنٹر دھوکہ دہی سے کئے گئے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔