uttar pradesh
جرائم کو مذہب سے مت جوڑیئے۔یوگی کے بیان پر اپوزیشن ممبران پارلیمنٹ کا جوابی حملہ،تمام مجرموں کے ساتھ یکساں سلوک ضروری، ذات اور مذہب کی بنیاد پر جرائم کا فیصلہ کریں گے تو نہیں پایا جاسکتاجرائم پر قابو:عمران مسعود
(پی این این)
لکھنؤ؍سہارنپور:کانگریس ایم پی عمران مسعود نے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرائم کو مذہب کی نظر سے نہ دیکھا جائے۔ پورے اترپردیش میں تشدد کے متعدد واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امن و امان کا اطلاق تمام مجرموں پر یکساں طور پر ہونا چاہئے، خواہ وہ کسی بھی برادری کے ہوں۔ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے غازی آباد سوریہ قتل کیس پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ’’دوستی کی آڑ میں دھوکہ دہی اور چھرا گھونپنے جیسے واقعات کسی بھی قیمت پر ناقابل قبول ہیں۔‘‘
میڈیا سے بات کرتے ہوئے کانگریس ایم پی نے کہا’’وہ (مرکزی ملزم اسد) پولیس کے تصادم میں مارا گیا تھا۔ لیکن آپ کو دوسرے کھلاڑی تیاگی کے بارے میں تفتیش کرنی چاہیے تھی۔ اس کے ساتھ کیا ہوا؟ اسے بھی دوستی کے نام پر مارا گیا، آپ اس کے بارے میں کچھ کیوں نہیں کہہ سکتے؟ رنگداری کے مطالبے پر آپ غازی پور میں مارے گئے ایک شخص کے بارے میں کیوں نہیں بول سکتے؟’’جس نے بچے کو پٹک پٹک کر مارا آپ اس پر کیوں نہیں بولتے۔ یہاں بچے کو گلا کاٹ کر قتل کیا گیا، قتل تو قتل ہی ہے؟
عمران مسعود نے اتر پردیش میں امن و امان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جرائم پر قابو نہیں پایا جا رہا ہے، اس کا نتیجہ کیا ہے؟ میں نے کل کہا تھا کہ اگر آپ ذات اور مذہب کی بنیاد پر جرائم کا فیصلہ کریں گے تو جرائم پر قابو نہیں پایئے گا۔ جو سلوک مجرموں کے ساتھ ہونا چاہیے وہی سلوک ہر مجرم پر ہونا چاہیے۔
عمران مسعود نے گائے سے متعلق سی ایم یوگی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ’’اگر گائے گائے ہے تو کیا 14 سال تک صرف گائے ہی رہے گی؟ بنگال حکومت نے 14 سال سے بڑی گائے کو ذبح کرنے کی اجازت دے دی ہے، تو کیا 14 سال بعد گائے کی گائے والی اہمیت ختم ہو جائے گی؟ آپ ذبح کرنے کی اجازت کیوں دیتے ہیں، آپ کو برآمدگی پر پابندی لگانی چاہئے؟‘‘
سماج وادی پارٹی کے ایم پی اودھیش پرساد نے بھی سی ایم یوگی کے بیان پر ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا،’’وزیر اعلی یوگی کی ریاست اور ملک دونوں میں ایک شناخت ہے، ان کی ایک شناخت ہے، اس لیے وہ اس نظریہ کے بارے میں فکر مند ہیں جو وہ رکھتے ہیں، اور وہ فکر مند ہیں کہ ہماری شناخت ختم نہ ہو جائے۔’’
اودھیش پرساد نے اتر پردیش میں ہونے والے انکاؤنٹر پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ انکاؤنٹر کی قانون کی حکمرانی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ہم نے ہمیشہ انکاؤنٹر کے خلاف لڑائی لڑی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست میں کئی انکاؤنٹر دھوکہ دہی سے کئے گئے۔
uttar pradesh
مدارس و مساجد کے خلاف کارروائی تشویشناک
دیوبند:جمعیۃ علماء راجستھان کے ناظم مولانا مفتی حبیب اللہ قاسمی اور راجستھان لیبر بورڈ کے سابق چیئرمین غفور احمد نے راجستھان کے سرحدی علاقہ میں حالیہ میں دنوں میں مساجد،مدارس اور درگاہوں کے خلاف جاری انہدامی کارروائی اور نوٹسوں پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے یکطرفہ اور منظم کارروائی قرار دیا اور ہائی کورٹ سے معاملہ خارج ہونے پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی بات کہی ہے۔
آج یہاں دارالعلوم چوک پرواقع میڈیا سینٹر میں اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے مفتی حبیب اللہ قاسمی اور غفور احمد نے کہاکہ راجستھان کے جیسلمیر، باڑمیر، بیکانیر اور دیگر سرحدی اضلاع میں سرحد سے پچاس کلو میٹر تک کے دائرہ میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران متعدد مساجد، مدارس اور درگاہوں کے خلاف کارروائیاں کی گئی ہیں، درجن بھر سے زائد مساجد و مدارس اور مذہبی مقامات کو منہدم کیا جا چکا ہے جبکہ سیکڑوں عبادت گاہوں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں، جس سے متاثرہ علاقوں کے مسلمانوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔یہ کارروائی نیشنل سکیوریٹی کا حوالہ دے کر صرف مساجد، مدارس اور درگاہوں کے خلاف کی جارہی ہے۔
غفور احمد نے بتایا کہ اس معاملے پر جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی سے تفصیلی ملاقات ہوئی ہے اور ہم نے قانونی محاذ پر پوری قوت کے ساتھ جدوجہد جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ غفور احمد نے الزام عائد کیا کہ مرکزی وزارت داخلہ کے2021 کے نوٹیفکیشن کا سہارا لے کر سرحدی علاقوں میں صرف مسلم مذہبی اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ اسی دائرے میں واقع دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کے خلاف ایسی کارروائیاں نہیں کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر واقعی قومی سلامتی کا کوئی مسئلہ ہے تو قانون کا اطلاق بلا امتیاز تمام متعلقہ مقامات پر ہونا چاہیے، صرف ایک طبقے کو نشانہ بنانا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ مفتی حبیب اللہ نعمانی نے کہا کہ مدارس اور مساجد کی صدیوں پر محیط روشن تاریخ ہے اور آج تک ان اداروں سے قومی سلامتی کو کسی قسم کا خطرہ ثابت نہیں ہوا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت قومی سلامتی کا حوالہ دے رہی ہے تو اسے واضح کرنا چاہیے کہ ان مذہبی اداروں سے کس نوعیت کا خطرہ لاحق ہے۔ غفور احمد نے تجویز پیش کی کہ اگر اراضی یا تعمیر سے متعلق کسی قانونی ضابطے کی خلاف ورزی پائی جاتی ہے تو متاثرین کو جرمانہ یا دیگر قانونی تقاضے پورے کرنے کا موقع دیا جائے، نہ کہ براہ راست انہدامی کارروائی کی جائے۔ ان کے مطابق یہ کارروائیاں نہ صرف مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والی ہیں بلکہ اس سے مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس بھی پیدا ہو رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی یہ یک طرفہ کارروائی مسلمانوں کو معاشی، سماجی اور مذہبی طور پر کمزور کرنے کی منظم کوشش معلوم ہوتی ہے اور اس کے خلاف اب سپریم کورٹ سے رجوع کرینگے۔
uttar pradesh
اے ایم یو کی استاذکو برونیل یونیورسٹی لندن سے ماسٹر آف پبلک ہیلتھ کی ڈگری تفویض
علی گڑھ:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج کے شعبہ کمیونٹی میڈیسن کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ احمد کو برطانیہ کی برونیل یونیورسٹی لندن کی جانب سے 14 جولائی کو منعقدہ جلسہ تقسیمِ اسناد میں ماسٹر آف پبلک ہیلتھ (ایم پی ایچ) کی ڈگری سے نوازا گیا۔
ڈاکٹر ثمینہ احمد نے اے ایم یو میں اپنی تدریسی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے بین الاقوامی شہرت یافتہ ایم پی ایچ پروگرام کامیابی کے ساتھ مکمل کیا۔
اس پروگرام کے تحت انہیں وبائیات، حیاتیاتی شماریات، صحت کے فروغ، صحت عامہ کی پالیسی، تحقیقی طریقہ کار اور عالمی صحتِ عامہ جیسے موضوعات میں اعلیٰ تربیت حاصل ہوئی، جس سے صحتِ عامہ کی تعلیم، تحقیق اور کمیونٹی ہیلتھ کے شعبوں میں ان کی مہارت مزید مستحکم ہوئی۔
اس کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے شعبہ کمیونٹی میڈیسن کی چیئرپرسن پروفیسر عظمیٰ ارم نے کہا کہ یہ کامیابی ڈاکٹر ثمینہ احمد کے تعلیمی امتیاز اور مسلسل پیشہ ورانہ ترقی کے عزم کی آئینہ دار ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس پروگرام سے حاصل ہونے والا علم اور بین الاقوامی تجربہ شعبے کی تدریسی، تحقیقی اور سماجی خدمات کو مزید تقویت بخشے گا۔
ڈاکٹر ثمینہ احمد نے اپنی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے پروفیسر عظمیٰ ارم کا مسلسل حوصلہ افزائی، رہنمائی اور تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اپنے اساتذہ، رہنماؤں، ساتھیوں، دوستوں اور اہلِ خانہ کے تعاون کو بھی سراہا، جن کی مدد سے وہ یہ ڈگری کامیابی سے مکمل کر سکیں۔
ڈاکٹر ثمینہ احمد نے ایم بی بی ایس اور ایم ڈی (کمیونٹی میڈیسن) کی ڈگریاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے حاصل کی ہیں اور وہ اس وقت جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج میں انڈر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ تدریس، تحقیق اور کمیونٹی ہیلتھ پروگراموں میں سرگرم کردار ادا کر رہی ہیں۔
uttar pradesh
عالمی یومِ ہنرمندیِ نوجوانان کے موقع پر3 روزہ کروشیا ورکشاپ اور ہنر نمائش کا انعقاد
علی گڑھ:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سینٹر فار اسکل ڈیولپمنٹ اینڈ کیریئر پلاننگ (سی ایس ڈی اینڈ سی پی) کے زیر اہتمام عالمی یومِ ہنرمندیِ نوجواناں 2026 کے موقع پر 13 تا 15 جولائی ”ہک، یارن اینڈ کری ایٹوٹی: لرن کروشیا فرام اسکریچ“ کے عنوان سے تین روزہ عملی تربیتی ورکشاپ منعقد کی گئی، جس کے اختتام پر شرکاء کی تیار کردہ مصنوعات کی ایک ہنر نمائش بھی سجائی گئی۔
نمائش میں گارمنٹ میکنگ، فیشن السٹریشن اینڈ اسکیچنگ، ٹیکسٹائل ڈیزائننگ اور مرکز کی جانب سے گزشتہ چند ماہ کے دوران منعقد کیے گئے دیگر ہنر مندی پروگراموں میں شریک طلبہ کے تیار کردہ منصوبے اور تخلیقی نمونے پیش کیے گئے۔ اس موقع پر سینٹر آف کنٹی نیواِنگ اینڈ ایڈلٹ ایجوکیشن اینڈ ایکسٹینشن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شمیم اختر، جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج کے شعبہ کمیونٹی میڈیسن کے پروفیسر سلمان خلیل اور شعبہ تعلیم کے ڈاکٹر محمد شاکر بھی موجود تھے۔
اپنے خطاب میں ڈاکٹر شمیم اختر نے نوجوانوں کو بااختیار بنانے، تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے اور زندگی بھر سیکھنے کے رجحان کو مستحکم کرنے میں ہنر پر مبنی تعلیم کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے عالمی یومِ ہنرمندیِ نوجواناں کے جذبے کے مطابق پیشہ ورانہ مہارتوں اور پائیدار دستکاری کو فروغ دینے کے لیے مرکز کی کوششوں کو سراہا۔
پروفیسر سلمان خلیل نے شرکاء کی تخلیقی صلاحیتوں اور کاروباری امکانات کی تعریف کرتے ہوئے انہیں ترغیب دی کہ وہ اپنے حاصل کردہ ہنر کو خود روزگار اور آمدنی کے مواقع میں تبدیل کریں۔
ڈاکٹر محمد شاکر نے طلبہ کے جوش و جذبے کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے پروگرام شخصیت سازی، روزگار کے امکانات میں اضافے اور نوجوانوں میں ہنر پر مبنی تعلیم کے بڑھتے ہوئے رجحان کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
نمائش کی نگرانی سینٹر کی اسٹوڈنٹ کاؤنسلر ڈاکٹر ثمرین حسن خان نے ٹرینرز ادیبہ سلیم، صنوبر اور زینت بانو کے تعاون سے کی۔ ڈاکٹر ثمرین حسن خان نے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیاں طلبہ میں عملی مہارت، تخلیقی صلاحیت، خود انحصاری اور چھوٹے پیمانے پر کاروباری صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرتی ہیں۔
کروشیا کی تربیتی نشستیں کری ایٹو کروشیا کی سربراہ محترمہ زینت بانو نے منعقد کیں، جنہوں نے عملی مشقوں اور تعاملی مظاہروں کے ذریعے شرکاء کو کروشیا کے بنیادی اصول، مختلف ٹانکے، دھاگے کے استعمال، ڈیزائن سازی، تکمیلی تکنیکوں اور آرائشی و استعمالی اشیا کی تیاری کی تربیت دی۔
ورکشاپ میں تقریباً 50 طلبہ نے شرکت کی، جبکہ عالمی یومِ ہنرمندیِ نوجواناں 2026 کے موضوع ”اسکِلس فار اے شیئرڈ فیوچر“ پر منعقدہ نعرہ نویسی مقابلے میں بھی 20 سے زائد طلبہ نے پُرجوش انداز میں حصہ لیا۔
پروگرام کے اختتام پر ورکشاپ، مقابلوں، اورینٹیشن سیشنز اور مرکز کی جانب سے منعقدہ دیگر ہنر مندی سرگرمیوں میں شریک طلبہ کو اسناد تقسیم کی گئیں۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
