تازہ ترین
نعتیہ مقابلے میں سینٹ روز نے جیتے 5 انعاممولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی کا انتقال ملت اسلامیہ کا عظیم خسارہایس آئی آر کے خلاف وزیرگنج میں احتجاج، الیکشن کمیشن کے خلاف نعرے بازیبرج بھوشن سے ملے وزیر سنجے سنگھ، 8 اکتوبر کی برسی تقریب میں شرکت کی دعوتسی یو ایس بی کی 3 طالبات کو آئی سی ایس ایس آر سے تین لاکھ روپے کا تحقیقی گرانٹدھوکہ دہی،ڈیجیٹل ہراسانی کے موضوع پربیداری پروگرام کا انعقادملک کی ترقی کے لیےنریندر مودی پرعزم:ریکھاپنک سہیلی کارڈ کھونے پرنہیں کر سکیںگے مفت بس سفر
دلی این سی آر

سرکار ریونیو کے تحفظ اور شہریوں کے مفادات کی حفاظت کے لیے پوری طرح پرعزم :ریکھا

نئی دہلی: دہلی حکومت نے غیر منقولہ جائیدادوں کی رجسٹریشن میں اسٹامپ ڈیوٹی کی ہیرا پھیری پر لگام کسنے کے لیے جنرل پاور آف اٹارنی (جی پی اے ) کے ذریعے ہونے والے جائیداد کے لین دین کی جانچ کے سلسلے میں سخت رہنما خطوط جاری کیے ہیں۔وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی ہدایت پر اب تمام سب رجسٹرار جی پی اے دستاویزات کی گہرائی سے جانچ کریں گے اور خونی رشتہ داروں کے علاوہ دیگر افراد کے حق میں ہونے والے جی پی اے معاملات کو لازمی طور پر کلکٹر آف اسٹامپ’ کے پاس بھیجا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت ریونیو کے تحفظ اور شہریوں کے مفادات کی حفاظت کے لیے پوری طرح پرعزم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کئی معاملات میں صرف ‘جی پی اے ‘ کے نام پر برائے نام اسٹامپ ڈیوٹی دے کر ایسی دستاویزات رجسٹرڈ کرا لی جاتی ہیں، جن میں درحقیقت جائیداد کی فروخت، قبضے کی منتقلی اور مالکانہ حق دینے جیسے ضوابط شامل ہوتے ہیں۔ اسے اسٹامپ ڈیوٹی کی چوری قرار دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ایسے معاملات کو اب کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔
حکومت کی نئی ہدایات کے مطابق، سب رجسٹرار ہر جی پی اے دستاویز کی باریکی سے جانچ کریں گے ۔ یہ دیکھا جائے گا کہ دستاویز میں رقم کے لین دین کا ذکر ہے یا نہیں، جائیداد کا قبضہ سونپنے کی بات شامل ہے یا نہیں، جی پی اے ناقابل واپسی تو نہیں ہے اور اس میں جائیداد بیچنے ، تحفہ دینے ، منتقل کرنے یا رہن رکھنے جیسے مستقل حقوق تو نہیں دیے گئے ہیں۔ اگر ایسے ضوابط پائے جاتے ہیں تو معاملے کو مزید جانچ کے لیے بھیجا جائے گا۔ حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ والدین، میاں بیوی، بیٹا، بیٹی، بھائی اور بہن جیسے خونی رشتہ داروں کے علاوہ کسی دوسرے شخص کے حق میں جاری کیے گئے جی پی اے کی رجسٹریشن براہ راست نہیں ہوگی۔ ایسے تمام معاملات کو مناسب اسٹامپ ڈیوٹی کے تعین کے لیے متعلقہ کلکٹر آف اسٹامپ کے پاس بھیجنا لازمی ہوگا۔ کلکٹر آف اسٹامپ کو 30 دنوں کے اندر وجوہات کے ساتھ تحریری حکم جاری کرنا ہوگا کہ متعلقہ دستاویز عام جی پی اے ہے یا اس پر سیل ڈیڈ کے برابر اسٹامپ ڈیوٹی واجب الادا ہوگی۔ خصوصی حالات میں اس مدت میں زیادہ سے زیادہ تین ماہ تک کی توسیع کی جا سکے گی۔وزیر اعلیٰ نے انتباہ دیا کہ اگر کوئی سب رجسٹرار ان ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کلکٹر آف اسٹامپ کو بھیجے بغیر ایسے جی پی اے کی رجسٹریشن کرتا ہے تو اس کے خلاف سخت ڈسپلنری کارروائی کی جائے گی۔ ساتھ ہی ہر سب رجسٹرار آفس میں ایسے معاملات کا الگ رجسٹر رکھا جائے گا اور ماہانہ رپورٹ تیار کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔