تازہ ترین
ہائی کورٹ نے بہار کی خواتین کودی بڑی راحت، ذات سرٹیفکیٹ میں شوہر کا نام درج ہونے کے باوجودبھی ملے گا ریزرویشن کا فائدہگیاجی:بھروسہ مندڈرائیور ہی نکلا5 لاکھ کی لوٹ کا ماسٹر مائنڈ،3 گرفتار، چوتھا فرارگیاجی کے خطیب احمد بہار فٹ بال ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری منتخبحاجی پور: ہدفی مداخلتی پروگرام کے تحت 3 روزہ ریفریشر ٹریننگ کا آغاز، تکنیکی پہلوؤں کو مزید مضبوط بنانے پر زور، بہار اسٹیٹ ایڈز کنٹرول کمیٹی اور بی وی ایچ اے کے زیر اہتمام تربیتی ورکشاپ کا انعقادسیتامڑھی:2758 ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری، 440 مکمل، 543 کروڑ روپے کی تخمینہ سے زیر تعمیر ماں سیتا میڈیکل کالج، کاياکلپ مہم کے تحت اسکولوں، اسپتالوں اور آنگن باڑی مراکز کی حالت بہتر بنانے کا کام جاریزمین پرناجائزقبضہ کرنے والوں کوبھیجو جیل، جنتادربار میں اراضی پر قبضے کی شکایت پر وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا حکماتر پردیش میں ہولناک سڑک حادثہ، تلک کی تقریب سے لوٹ رہی کارکی ٹریلر سے ٹکر،6 افراد ہلاک،2 بچے شدید زخمیمالیگاؤں کی ڈاکٹر ثانیہ خان کی تاریخی کامیابی پرکی گئی حوصلہ افزائی
دلی این سی آر

سرکار ریونیو کے تحفظ اور شہریوں کے مفادات کی حفاظت کے لیے پوری طرح پرعزم :ریکھا

نئی دہلی: دہلی حکومت نے غیر منقولہ جائیدادوں کی رجسٹریشن میں اسٹامپ ڈیوٹی کی ہیرا پھیری پر لگام کسنے کے لیے جنرل پاور آف اٹارنی (جی پی اے ) کے ذریعے ہونے والے جائیداد کے لین دین کی جانچ کے سلسلے میں سخت رہنما خطوط جاری کیے ہیں۔وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی ہدایت پر اب تمام سب رجسٹرار جی پی اے دستاویزات کی گہرائی سے جانچ کریں گے اور خونی رشتہ داروں کے علاوہ دیگر افراد کے حق میں ہونے والے جی پی اے معاملات کو لازمی طور پر کلکٹر آف اسٹامپ’ کے پاس بھیجا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت ریونیو کے تحفظ اور شہریوں کے مفادات کی حفاظت کے لیے پوری طرح پرعزم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کئی معاملات میں صرف ‘جی پی اے ‘ کے نام پر برائے نام اسٹامپ ڈیوٹی دے کر ایسی دستاویزات رجسٹرڈ کرا لی جاتی ہیں، جن میں درحقیقت جائیداد کی فروخت، قبضے کی منتقلی اور مالکانہ حق دینے جیسے ضوابط شامل ہوتے ہیں۔ اسے اسٹامپ ڈیوٹی کی چوری قرار دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ایسے معاملات کو اب کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔
حکومت کی نئی ہدایات کے مطابق، سب رجسٹرار ہر جی پی اے دستاویز کی باریکی سے جانچ کریں گے ۔ یہ دیکھا جائے گا کہ دستاویز میں رقم کے لین دین کا ذکر ہے یا نہیں، جائیداد کا قبضہ سونپنے کی بات شامل ہے یا نہیں، جی پی اے ناقابل واپسی تو نہیں ہے اور اس میں جائیداد بیچنے ، تحفہ دینے ، منتقل کرنے یا رہن رکھنے جیسے مستقل حقوق تو نہیں دیے گئے ہیں۔ اگر ایسے ضوابط پائے جاتے ہیں تو معاملے کو مزید جانچ کے لیے بھیجا جائے گا۔ حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ والدین، میاں بیوی، بیٹا، بیٹی، بھائی اور بہن جیسے خونی رشتہ داروں کے علاوہ کسی دوسرے شخص کے حق میں جاری کیے گئے جی پی اے کی رجسٹریشن براہ راست نہیں ہوگی۔ ایسے تمام معاملات کو مناسب اسٹامپ ڈیوٹی کے تعین کے لیے متعلقہ کلکٹر آف اسٹامپ کے پاس بھیجنا لازمی ہوگا۔ کلکٹر آف اسٹامپ کو 30 دنوں کے اندر وجوہات کے ساتھ تحریری حکم جاری کرنا ہوگا کہ متعلقہ دستاویز عام جی پی اے ہے یا اس پر سیل ڈیڈ کے برابر اسٹامپ ڈیوٹی واجب الادا ہوگی۔ خصوصی حالات میں اس مدت میں زیادہ سے زیادہ تین ماہ تک کی توسیع کی جا سکے گی۔وزیر اعلیٰ نے انتباہ دیا کہ اگر کوئی سب رجسٹرار ان ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کلکٹر آف اسٹامپ کو بھیجے بغیر ایسے جی پی اے کی رجسٹریشن کرتا ہے تو اس کے خلاف سخت ڈسپلنری کارروائی کی جائے گی۔ ساتھ ہی ہر سب رجسٹرار آفس میں ایسے معاملات کا الگ رجسٹر رکھا جائے گا اور ماہانہ رپورٹ تیار کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔