(پی این این)
دیوبند:آنے والے الیکشن کے لئے تیار ہوجائو اور ناراضگی کو ختم کردو ،بی جے پی قیادت کے اس پیغام پر دیوبند میں بی جے پی کے سینئر لیڈر دیپک راج سنگھل نے کئی سوالات اٹھائے ہیں ۔
لکھنؤ میں مرکزی وزیر داخلہ کے بیان پر اپنا رد عمل دیتے ہوئے دیپک راج سنگھل نے پوچھا کہ پارٹی کارکنان سے ناراضگی ختم کرنے کی اپیل تو کی جاتی ہے لیکن ان کی شکایات سن کر ان کے مسائل کون حل کرے گا ؟ دیپک راج سنگھل نے کہا کہ کسی کو وزیر ،ایم پی یا ضلع پنچایت کا رکن بنایا جاسکتا ہے لیکن ایسے کارکنان بھی ہیں جنہیں کو ئی عہدہ نہیں چاہئے اور نہ ہی ان کے کوئی ذاتی مفادات ہیں وہ صرف پارٹی کے لئے کام کرتے ہیں لیکن پھر بھی ان کی بات نہیں سنا جاتا ۔
انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کچھ عوامی نمائندے اور سینئر لیڈران ایسے پارٹی کارکنان کے اداروں پر قبضہ کرکے ان کا استحصال کررہے ہیں ۔دیوبند کے ایس کے ہیپی اسکول کا معاملہ اٹھاتے ہوئے دیپک راج سنگھل نے میونسپل بورڈ کے چیئر مین اور ان کے ساتھیوں پر ایک عوامی نمائندے کی پشت پناہی حاصل کرکے اسکول پر قبضہ کرنے کا الزام لگایا ۔
ان کا دعویٰ ہے کہ رجسٹرار سوسائٹی اور بیسک شکشا ادھیکاری کے دستاویزات ان کے حق میں ہیں جب کہ چیئرمین کے پاس اپنے حق سے متعلق کوئی سرٹیفکیٹ یا عدالت کا اسٹے آڈر نہیں ہے ،سنگھل نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ تقریباً دس سالوں سے اسکول میں زیر تعلیم طالب علموں کی فیس ،کھاتوں میں نہیں جمع کی گئی ہے بلکہ تمام حساب وکتاب خرد وبرد کیا جارہاہے انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں تنظیم کے سینئر عہدیداران خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں،جبکہ کچھ لگ ظاہری طور پر قبضہ کرنے والے کے حمایتی بنے ہوئے ہیں ۔
دیپک راج سنگھل نے ایک مرتبہ پھر اپنا سوال دہراتے ہوئے کہا کہ کارکنان سے 2027؍ میں تیسری مرتبہ بی جے پی حکومت بنانے کے لئے سرگرم ہونے کو کہا جاتا ہے ؛لیکن ان کے مسائل اور شکایات پر کوئی توجہ دنہیں دی جاتی ۔انہوں نے عام لوگوں سے کہا کہ وہ دونوں فریقوں کے دستاویزات کو دیکھیں اور پھر فیصلہ کریں کہ کون حق پر ہے ؟ انہوں نے کہا کہ وہ ایس کے ہیپی اسکول کو کے ایل جنتا انٹر کالج کی طرح بلند مقام تک پہنچا کر صحیح ہاتھوں میں سونپنا چاہتے ہیں ۔
