تازہ ترین
مالیگاؤں کی ڈاکٹر ثانیہ خان کی تاریخی کامیابی پرکی گئی حوصلہ افزائیقرآن کریم ابدی ہدایت و سعادت کا پیامبر اور امن و آشتی اور اخوت و انسانیت کا علمبردار: اصغر امام مہدیجالے:مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کی طلبہ کی حوصلہ افزائی، دارالعلوم سبیل الفلاح میںتعلیمی و تربیتی سرگرمیوں کالیا جائزہ، اساتذہ کو دیے اہم مشورے، دارالطعام کی زیر تعمیر عمارت کاکیا بھی معائنہبی جے پی کارکنوں نے نو منتخب ایم ایل سی ڈاکٹر راہل راج کا کیا استقبالناظم امارت شرعیہ کی عمر ہ سے واپسی پر امارت شرعیہ میں دعائیہ نشست منعقدطلبہ کیلئے خوداعتمادی ، محنت اور معاشرتی ذمہ داریوں کو سمجھنا ضروری ، تعلیم کے ساتھ ساتھ طالب علم کی ہونی چاہیے کردارسازی ،مدنی پبلک اسکول سنگرام میں منعقد حوصلہ افزائی تقریب سے مولانا سیدحسن اسجدمدنی کا خطابوقت بدلتے ہی بدل جاتا ہے تخت، اعظم کے خلاف ای ڈی کی کارروائی پرسخت برہم ہوئے اکھلیش یادو،برسراقتدار پارٹی کو بنایا نشانہاے ایم یو کے ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈٹکنالوجی میں بین الاقوامی تعلیمی میلے کا انعقاد، 14 اساتذہ ایوارڈ سے سرفراز
uttar pradesh

دیپک راج سنگھل کے تلخ سوالات سے بی جے پی میں اضطرابی کیفیت ، دیوبند چیئرمین اور ان کے ساتھیوں پرایس کے ہیپی اسکول پرقبضہ کرنے کا الزام

Oplus_131072

(پی این این)
دیوبند:آنے والے الیکشن کے لئے تیار ہوجائو اور ناراضگی کو ختم کردو ،بی جے پی قیادت کے اس پیغام پر دیوبند میں بی جے پی کے سینئر لیڈر دیپک راج سنگھل نے کئی سوالات اٹھائے ہیں ۔
لکھنؤ میں مرکزی وزیر داخلہ کے بیان پر اپنا رد عمل دیتے ہوئے دیپک راج سنگھل نے پوچھا کہ پارٹی کارکنان سے ناراضگی ختم کرنے کی اپیل تو کی جاتی ہے لیکن ان کی شکایات سن کر ان کے مسائل کون حل کرے گا ؟ دیپک راج سنگھل نے کہا کہ کسی کو وزیر ،ایم پی یا ضلع پنچایت کا رکن بنایا جاسکتا ہے لیکن ایسے کارکنان بھی ہیں جنہیں کو ئی عہدہ نہیں چاہئے اور نہ ہی ان کے کوئی ذاتی مفادات ہیں وہ صرف پارٹی کے لئے کام کرتے ہیں لیکن پھر بھی ان کی بات نہیں سنا جاتا ۔
انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کچھ عوامی نمائندے اور سینئر لیڈران ایسے پارٹی کارکنان کے اداروں پر قبضہ کرکے ان کا استحصال کررہے ہیں ۔دیوبند کے ایس کے ہیپی اسکول کا معاملہ اٹھاتے ہوئے دیپک راج سنگھل نے میونسپل بورڈ کے چیئر مین اور ان کے ساتھیوں پر ایک عوامی نمائندے کی پشت پناہی حاصل کرکے اسکول پر قبضہ کرنے کا الزام لگایا ۔
ان کا دعویٰ ہے کہ رجسٹرار سوسائٹی اور بیسک شکشا ادھیکاری کے دستاویزات ان کے حق میں ہیں جب کہ چیئرمین کے پاس اپنے حق سے متعلق کوئی سرٹیفکیٹ یا عدالت کا اسٹے آڈر نہیں ہے ،سنگھل نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ تقریباً دس سالوں سے اسکول میں زیر تعلیم طالب علموں کی فیس ،کھاتوں میں نہیں جمع کی گئی ہے بلکہ تمام حساب وکتاب خرد وبرد کیا جارہاہے انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں تنظیم کے سینئر عہدیداران خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں،جبکہ کچھ لگ ظاہری طور پر قبضہ کرنے والے کے حمایتی بنے ہوئے ہیں ۔
دیپک راج سنگھل نے ایک مرتبہ پھر اپنا سوال دہراتے ہوئے کہا کہ کارکنان سے 2027؍ میں تیسری مرتبہ بی جے پی حکومت بنانے کے لئے سرگرم ہونے کو کہا جاتا ہے ؛لیکن ان کے مسائل اور شکایات پر کوئی توجہ دنہیں دی جاتی ۔انہوں نے عام لوگوں سے کہا کہ وہ دونوں فریقوں کے دستاویزات کو دیکھیں اور پھر فیصلہ کریں کہ کون حق پر ہے ؟ انہوں نے کہا کہ وہ ایس کے ہیپی اسکول کو کے ایل جنتا انٹر کالج کی طرح بلند مقام تک پہنچا کر صحیح ہاتھوں میں سونپنا چاہتے ہیں ۔

 

متعلقہ خبریں