uttar pradesh
خواتین کی فلاح و بہبود گی کے لیے بہتر اور سنجیدگی سے انجام دیں خدمات:پروفیسر اسلم جمشید پوری
(پی این این)
میرٹھ:بلا شبہ کسی بھی ادارے کا قیام کوئی معمولی عمل نہیں بلکہ یہ ایک بہت بڑا کام ہوتاہے اور اس سے بھی بڑا کام ہوتا ہے کسی بھی ادارے یا تنظیم کو کا میابی کے ساتھ چلا نے کا۔یہ الفاظ تھے معروف ادیب و ناقد اور صدر شعبہئ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری کے جو آج یہاں شعبہئ اردو میں مجلس النساء کے پہلے سر وے ٹیم کوروانہ کرتے وقت ادا کر رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں آپ کو مبار باد دیتا ہوں اور آپ کی کامیابی کے لیے دعا گو ہوں مجھے امید ہے کہ آپ خوا تین کی فلاح و بہبود گی کے لیے بہترین کام انجام دیں گی اور سنجیدگی کے ساتھ اس تنظیم کی ممبر شپ کو وسعت دیں گی۔
واضح ہو کہ شعبہئ اردو، چودھری چرن سنگھ یو نیورسٹی میں پچھلے دنوں ”مجلس النساء“ کا قیام عمل میں آ یا تھا۔جس کا مقصد خواتین میں تعلیمی بیداری، فلاحی کاموں میں حصہ داری،نئی نسل میں اچھے اخلاق، صبر و تحمل،غریبوں کی کفالت،نیز بچیوں میں تعلیم و ہنر مندی کا ذوق و شوق پیدا کرنا، خواتین کے درمیان محبت، یکجہتی اور تعاون کے جذبہ کو فروغ دینا نیز انہیں سلائی، کڑھائی،بنائی یادیگر فنون سکھا کر خود کفیل بناناہے۔
مجلس النساء کی ٹیم نے آج میرٹھ کے شیام نگر اور ا س کے آس پاس کے علاقوں کا دورہ کیا اور گھر گھر جاکر خواتین کے مسائل سنے جس سے ان کی تعلیمی حالات، مالی مشکلات،خود کفالت کے لیے مدد کی درخواست اور بہت سے مسائل سر وے ٹیم کے سامنے آئے۔سروے ٹیم میں صدر ڈاکٹر شاداب علیم، نائب صدر عفت ذکیہ، جنرل سیکریٹری سیدہ مریم الٰہی، سیکریٹری فرحت اختر اور پریس سیکریٹری طاہرہ پروین نے شر کت کی اور کم از کم بیس گھروں میں جا کر وہاں کے تعلیمی مسائل، مالی مشکلات اور گھریلوں مسائل کے حالات سنیں۔ حالات سننے کے بعد سر وے ٹیم نے ان کے مسائل کا حل اور ہر طرح سے ان کی مدد کا وعدہ کیا۔اس مو قع پر رضوان احمد، شبنم، کوثر، شاہانہ، معراج بانو،ثمینہ، اسما، غزالہ، عائشہ، پروین، شاہینہ وغیرہ سمیت دیگر خواتین موجود رہیں۔
uttar pradesh
ایس بی آئی کسانوں کو قرض سے متعلق اسکیموں کے بارے میں معلومات دی
uttar pradesh
دنیش کمار وششٹھ نے سماج سے جو لیا تھا وہ سماج کو لو ٹا دیا:پروفیسر اسلم جمشید پوری
uttar pradesh
اپنی خوشیوں اور تقریبات کو اللہ کی رضا کا ذریعہ بنائیں: خطیب محمد اقبال
آگرہ: مسجد نہر والی سکندرا کے خطیب مولانا محمد اقبال نے جمعہ کے خطبہ میں مسلمانوں کو اپنی خوشیوں اور تقریبات کو اللہ تعالیٰ کی رضا اور شکر گزاری کا ذریعہ بنانے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ آج معاشرے میں بہت سی ایسی رسمیں رائج ہو چکی ہیں جنہیں لوگ بغیر سوچے سمجھے اختیار کر رہے ہیں، حالانکہ ایک مومن کی زندگی کا ہر عمل اللہ کی خوشنودی کے تابع ہونا چاہیے۔
انہوں نے خصوصی طور پر سالگرہ (برتھ ڈے) کی تقریبات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ والدین اپنے بچوں کی سالگرہ بڑے اہتمام اور خوشی سے مناتے ہیں، لیکن اس موقع پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے بجائے محض رسموں اور ظاہری مظاہروں پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیک پر موم بتیاں روشن کرکے پھر خود ہی انہیں بجھا دینا ایک ایسی روایت بن چکی ہے جس پر لوگ غور و فکر کرنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے۔مولانا محمد اقبال نے قرآن کریم کی سورۂ الدہر (الانسان) کی پہلی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ انسان کو اس کی حقیقت یاد دلاتے ہوئے فرماتا ہے: “کیا انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت بھی نہیں گزرا جب وہ کوئی قابلِ ذکر چیز نہ تھا؟” انہوں نے کہا کہ یہ آیت انسان کو اپنی حقیقت، عاجزی اور اپنے رب کی نعمتوں کا احساس دلاتی ہے۔ انسان اس دنیا میں اپنے اختیار سے نہیں آیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے عدم سے وجود بخشا اور بے شمار نعمتوں سے نوازا۔انہوں نے کہا کہ جس بچے کی سالگرہ منائی جا رہی ہوتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت اور امانت ہے۔ یہ بھی ممکن تھا کہ وہ کسی جسمانی یا ذہنی معذوری کے ساتھ پیدا ہوتا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے صحت، قوت، سماعت، بصارت اور محبت کرنے والا خاندان عطا فرمایا۔ ایسی بے شمار نعمتوں کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے رب کا شکر گزار بنے اور اپنی اولاد کو بھی شکر گزاری کا سبق سکھائے۔
خطیب مسجد نہر والی نے والدین کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ سالگرہ اور دیگر خوشی کے مواقع کو محض تفریح اور نمود و نمائش تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ان مواقع پر بچوں کو دعاؤں، اچھے اخلاق، دینی تعلیمات اور زندگی کے مثبت پیغامات سے آراستہ کیا جائے تاکہ نئی نسل اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور بندگی کے مطابق گزارنے کی کوشش کرے۔انہوں نے کہا کہ آج کے ڈیجیٹل دور میں والدین کے پاس اپنی اولاد کی صحیح رہنمائی کے بے شمار ذرائع موجود ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ اپنی ترجیحات کا جائزہ لیں اور یہ سوچیں کہ ان کی تقریبات اور خوشیاں اللہ تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ بن رہی ہیں یا محض رسم و رواج کی پیروی کا۔
آخر میں مولانا محمد اقبال نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو دین کی صحیح سمجھ، اپنی نعمتوں کی قدر اور ہر حال میں شکر گزار بننے کی توفیق عطا فرمائے، تاکہ ہماری زندگی کا ہر لمحہ اور ہر خوشی اس کی رضا کے حصول کا ذریعہ بن سکے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
بہار7 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
دلی این سی آر10 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
