uttar pradesh
سہارنپور میں جلد دوڑیں گی الیکٹرک بسیں
(پی این این)
دیوبند: شہر اور دیہی علاقوں کو جدید، آرام دہ اور آلودگی سے پاک عوامی ٹرانسپورٹ سہولت فراہم کرنے کی سمت میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ طویل انتظار کے بعد لکھنؤ سے سہارنپور کے لیے25 الیکٹرک بسوں کی منظوری مل گئی ہے، جس کے بعد جلد ہی ضلع میں الیکٹرک بس سروس شروع ہونے کی امید بڑھ گئی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ نے ان بسوں کے لیے مختلف روٹس بھی مقرر کر دیے ہیں، جبکہ اسمارٹ سٹی منصوبہ کے تحت مانکمؤ میں الیکٹرک چارجنگ اسٹیشن بھی تیار کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق شہر میں الیکٹرک بس سروس شروع کرنے کی تجویز گزشتہ دو برسوں سے زیر التوا تھی، تاہم سرکاری منظوری اور دیگر تکنیکی کارروائیوں کے مکمل ہونے کے بعد اب اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کی تیاری تیز کر دی گئی ہے۔ ابتدائی مرحلہ میں ۵۲ الیکٹرک بسوں کو شروع کیا جائے گا، جس سے روزانہ سفر کرنے والے ہزاروں مسافروں کو سہولت حاصل ہوگی۔
میونسپل کمشنر شپو گیری نے بتایا کہ ضلع میں الیکٹرک بسوں کے آپریشن کے لیے حکومت سے منظوری موصول ہو چکی ہے اور تمام روٹس بھی حتمی شکل دے دیے گئے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلد ہی عوام کو اس جدید سفری سہولت کا فائدہ ملنا شروع ہو جائے گا۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کے مطابق یہ الیکٹرک بسیں ان راستوں پر چلائی جائیں گی جہاں مسافروں کی تعداد زیادہ رہتی ہے، تاکہ شہر اور دیہی علاقوں کے درمیان رابطہ مزید مضبوط ہو سکے۔ طے شدہ روٹس کے مطابق بسیں گھنٹہ گھر سے کورٹ روڈ، حسن پور چنگی اور کانشی رام کالونی کے راستہ رامپور منیہاران تک چلیں گی۔ اس کے علاوہ گھنٹہ گھر سے گاگلہیڑی ہوتے ہوئے چھٹمل پور تک، گھنٹہ گھر سے سرکاری میڈیکل کالج اور سرساوہ کے راستہ یمنا برج ہریانہ-یوپی بارڈر تک بھی الیکٹرک بس سروس فراہم کی جائے گی۔
اسی طرح گھنٹہ گھر سے مانکمؤ کے راستہ نکوڑ، گھنٹہ گھر سے کلسیہ ہوتے ہوئے بہٹ اور گھنٹہ گھر سے ماں شاکمبھری یونیورسٹی پنوارکا تک بھی الیکٹرک بسیں چلائی جائیں گی۔ واضح رہے کہ الیکٹرک بسوں کے آغاز سے نہ صرف عوام کو آرام دہ اور کم خرچ سفری سہولت میسر آئے گی بلکہ فضائی آلودگی میں بھی کمی آئے گی۔ شہریوں کا ماننا ہے کہ اس منصوبہ سے دیہی علاقوں کے لوگوں کو شہر سے جوڑنے میں بڑی مدد ملے گی اور روزمرہ سفر پہلے کے مقابلہ زیادہ آسان ہو جائے گا۔
uttar pradesh
ایس بی آئی کسانوں کو قرض سے متعلق اسکیموں کے بارے میں معلومات دی
uttar pradesh
دنیش کمار وششٹھ نے سماج سے جو لیا تھا وہ سماج کو لو ٹا دیا:پروفیسر اسلم جمشید پوری
uttar pradesh
اپنی خوشیوں اور تقریبات کو اللہ کی رضا کا ذریعہ بنائیں: خطیب محمد اقبال
آگرہ: مسجد نہر والی سکندرا کے خطیب مولانا محمد اقبال نے جمعہ کے خطبہ میں مسلمانوں کو اپنی خوشیوں اور تقریبات کو اللہ تعالیٰ کی رضا اور شکر گزاری کا ذریعہ بنانے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ آج معاشرے میں بہت سی ایسی رسمیں رائج ہو چکی ہیں جنہیں لوگ بغیر سوچے سمجھے اختیار کر رہے ہیں، حالانکہ ایک مومن کی زندگی کا ہر عمل اللہ کی خوشنودی کے تابع ہونا چاہیے۔
انہوں نے خصوصی طور پر سالگرہ (برتھ ڈے) کی تقریبات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ والدین اپنے بچوں کی سالگرہ بڑے اہتمام اور خوشی سے مناتے ہیں، لیکن اس موقع پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے بجائے محض رسموں اور ظاہری مظاہروں پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیک پر موم بتیاں روشن کرکے پھر خود ہی انہیں بجھا دینا ایک ایسی روایت بن چکی ہے جس پر لوگ غور و فکر کرنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے۔مولانا محمد اقبال نے قرآن کریم کی سورۂ الدہر (الانسان) کی پہلی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ انسان کو اس کی حقیقت یاد دلاتے ہوئے فرماتا ہے: “کیا انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت بھی نہیں گزرا جب وہ کوئی قابلِ ذکر چیز نہ تھا؟” انہوں نے کہا کہ یہ آیت انسان کو اپنی حقیقت، عاجزی اور اپنے رب کی نعمتوں کا احساس دلاتی ہے۔ انسان اس دنیا میں اپنے اختیار سے نہیں آیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے عدم سے وجود بخشا اور بے شمار نعمتوں سے نوازا۔انہوں نے کہا کہ جس بچے کی سالگرہ منائی جا رہی ہوتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت اور امانت ہے۔ یہ بھی ممکن تھا کہ وہ کسی جسمانی یا ذہنی معذوری کے ساتھ پیدا ہوتا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے صحت، قوت، سماعت، بصارت اور محبت کرنے والا خاندان عطا فرمایا۔ ایسی بے شمار نعمتوں کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے رب کا شکر گزار بنے اور اپنی اولاد کو بھی شکر گزاری کا سبق سکھائے۔
خطیب مسجد نہر والی نے والدین کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ سالگرہ اور دیگر خوشی کے مواقع کو محض تفریح اور نمود و نمائش تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ان مواقع پر بچوں کو دعاؤں، اچھے اخلاق، دینی تعلیمات اور زندگی کے مثبت پیغامات سے آراستہ کیا جائے تاکہ نئی نسل اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور بندگی کے مطابق گزارنے کی کوشش کرے۔انہوں نے کہا کہ آج کے ڈیجیٹل دور میں والدین کے پاس اپنی اولاد کی صحیح رہنمائی کے بے شمار ذرائع موجود ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ اپنی ترجیحات کا جائزہ لیں اور یہ سوچیں کہ ان کی تقریبات اور خوشیاں اللہ تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ بن رہی ہیں یا محض رسم و رواج کی پیروی کا۔
آخر میں مولانا محمد اقبال نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو دین کی صحیح سمجھ، اپنی نعمتوں کی قدر اور ہر حال میں شکر گزار بننے کی توفیق عطا فرمائے، تاکہ ہماری زندگی کا ہر لمحہ اور ہر خوشی اس کی رضا کے حصول کا ذریعہ بن سکے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
بہار7 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
دلی این سی آر10 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
