تازہ ترین
محکمے سڑک کے سپرنٹنڈنگ انجینئر کے گھر پرچھاپے، پٹنہ سمیت 4 مقامات پر تلاشی، 10 لاکھ روپے نقد برآمدپٹنہ: ڈاک بنگلہ سے رُکن پورا تک چوڑی کی جائے گی سڑک ،توسیع کاری میں گرائی جائیں گی موریہ لوک اور کوتوالی تھانے کی دیواریںٹرین میں پیسے نہ دینے پر خواجہ سراؤں نے مسافرکو پیٹاجامعہ رحمانی کی علمی و دینی ساکھ کی حفاظت سب کی ذمہ داری، حضرت مولانا قاری سید حبیب احمد باندوی کی خانقاہ رحمانی، مونگیر حاضری، طلبہ و اساتذہ سے خصوصی خطابسہرسہ کے میونسپل کمشنر پربھات جھا معطل، بغیرکسی ٹینڈر کے کرا دیئے 8 کروڑ روپے کے کامیوپی کے مذہبی اقدار کو کچلنے کی ہورہی ہے سازش، مذہبی توہین کرنے والوں کا اتر پردیش کی سرزمین پرکوئی جگہ نہیں، باگیشور دھام کے بہانے اکھلیش یادو کاریاستی حکومت پر حملہرابطہ مدارس کے اجلاس میں منظور قرار دادیں مدارس کے لئے انتہائی اہمغیر ملکی ایپ کے ذریعے حوالہ کاری کا کاروبار، ٹھکانے لگائی گئی کروڑوں روپے کی کالی کمائی ، 15 افراد پولیس کی گرفت میں
اتر پردیش

خاموشی کے ساتھ بڑھنے والی مہنگائی نے عوام کا بگاڑا بجٹ

Oplus_131072

دیوبند:عوام ان دنوں مہنگائی کی وجہ سے بڑھتے ہوئے گھریلو اخراجات سے پریشان ہیں، گزشتہ چند ماہ میں کچن سے لے کر روزمرہ کی استعمال کی چیزوں کی قیمتیں مسلسل بڑھتی جارہی ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ اضافہ اچانک نہیں بلکہ آہستہ آہستہ ہوا ہے جس کی وجہ سے اب ماہانہ گھریلو بجٹ متأثر ہونے شروع ہوگئے ہیں۔
اقتصادیات کے ماہرین کا ماننا ہے کہ مغربی ایشیاء میں بڑھنے والی کشیدگی اورعالمی سطح پر کچے تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کا اثر راست طو رپر ہندوستانی بازاروں پر بھی پڑا ہے۔تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے آمد و رفت کے ذرائع بھی مہنگے ہوئے ہیں جس کے اثرات اشیائے خوردنی اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں پر بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ مارچ ماہ کے بعد سے کمپنیوں نے بھی اپنے پروڈکٹ کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے، کچھ کمپنیوں نے قیمتیں زیادہ کردی ہیں ، جب کہ کچھ کمپنیوں نے اپنے سامان کے پیکٹ کے سائز اوروزن کو کم کردیا ہے اور پرانی قیمتیں بحال رکھی ہیں۔مثلاً پہلے ایک لیٹر سرسوں کے تیل کی قیمت 180روپے تھی ، اب اس کا وزن 825گرام کرکے تقریباً 175روپے میں فروخت کیا جارہا ہے۔ اسی طرح پیلی سرسوں کے تیل کی قیمت بھی 170روپے فی لیٹر سے بڑھاکر 220روپے کردی گئی ہے۔ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ کچے مال کی قیمتوں میں اضافہ مال کی ڈھلائی کے اخراجات کے اضافے میں اس مہنگائی کی اصل وجوہات ہیں۔اسی طرح مارچ مہینے کے بعد ایندھن کی قیمتوں میں بھی قابل ذکر اضافہ درج کیاگیا۔ گھریلو گیس کی قیمتوںمیں بھی تقریباً 10فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور کمرشیل گیس سیلنڈروں میں بھی کافی زیادہ قیمتیں بڑھائی گئی ہیں۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات صرف گاڑی ڈرائیوروں تک ہی محدودنہیں رہے بلکہ ایندھن کی قیمتوں کے اثرات سامان ڈھلائی پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔ جس کا سیدھااثر بازاروں میں فروخت ہونے والے ہر پروڈکٹ پرپڑتا نظر آرہا ہے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔