دلی این سی آر
نوئیڈا میں الیکٹرک اور ہائیڈروجن بسوں کویوگی نےدکھائی جھنڈی
نوئیڈا : سی ایم یوگی نے نوئیڈا، گریٹر نوئیڈا، اور یمنا اتھارٹی کو نئی الیکٹرک بسیں تحفے میں دیں۔ یہ پہلی بار یوپی میں ہائیڈروجن بس آپریشن کے آغاز کا بھی نشان ہے۔ یمنا اتھارٹی کے تحت تین ہائیڈروجن بسیں چلیں گی۔ سی ایم یوگی نے لکھنؤ میں اپنی رہائش گاہ سے بسوں کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ ان میں سے 45 بسیں نوئیڈا، گریٹر نوئیڈا اور یمنا اتھارٹی میں چلیں گی۔ یہ بسیں جیور ہوائی اڈے پر آنے اور جانے کو آسان بنائیں گی۔ہائیڈروجن بسوں کے بارے میں بتاتے ہوئے سی ایم یوگی نے کہا کہ این ٹی پی سی نے یمنا اتھارٹی کو تین ہائیڈروجن بسیں فراہم کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گرین ہائیڈروجن موبلٹی اب ایک نیا تصور بن چکا ہے۔ یہ بسیں ایک عمل کے بعد پانی سے ہائیڈروجن نکال کر چلیں گی۔ پانی میں دو ہائیڈروجن ایٹم اور ایک آکسیجن ہوتا ہے۔ یہ دونوں عناصر پانی سے الگ ہو جائیں گے۔ پانی گٹروں سے لیا جائے گا، زمینی یا سطحی پانی سے نہیں۔گٹر کے پانی کو ٹریٹ کرکے استعمال کیا جائے گا۔ اس پانی سے آکسیجن نکال کر فضا میں چھوڑی جائے گی اور ہائیڈروجن کو کمپریس کرکے سلنڈروں میں بھر کر بسوں کو بجلی فراہم کی جائے گی۔ یہ بسیں جیور ہوائی اڈے کے قریب چلیں گی۔ اس سے وہاں کی فضائی آلودگی میں بھی کمی آئے گی۔ یہ معاشرے کو زہریلے ماحول سے بچانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔انہوں نے کہا کہ نوئیڈا کا سب سے بڑا ہوائی اڈہ 15 جون کو کھل رہا ہے۔ تب تک بسوں کی تعداد بڑھا کر 110 کر دی جائے گی۔ مستقبل میں یہ تعداد 500 تک بڑھا دی جائے گی۔ یہ الیکٹرک بسیں ضلع کے تینوں اتھارٹی علاقوں میں ماحول کو برقرار رکھنے کے لیے متعارف کرائی گئی ہیں۔ ہوائی اڈے تک میٹرو سروس کھلنے تک بسیں مسافروں کے سفر میں آسانی پیدا کریں گی۔ مستقبل میں میٹرو بھی ایئرپورٹ پہنچ جائے گی۔افتتاح کے موقع پر سی ایم یوگی نے پچھلی حکومتوں پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ 2017 سے پہلے ریاست ٹوٹی ہوئی سڑکوں اور افراتفری سے دوچار تھی۔ لوگوں کو شناخت کے بحران کا سامنا تھا اور وہ یہاں سرمایہ کاری کرنے سے خوفزدہ تھے۔ آج عالمی سطح کے رابطوں نے ترقی کو تیز کر دیا ہے۔ ڈبل انجن والی حکومت کے تحت 4 لاکھ کلومیٹر سڑکوں کا جال بچھایا گیا ہے۔آج، یوپی میں سب سے زیادہ ایکسپریس وے اور بین الاقوامی ہوائی اڈے ہیں۔ بھگوان شری رام ایک پشپک ویمان میں لنکا سے ایودھیا پہنچے، لیکن وہاں کے لوگ ہوائی اڈے کے لیے ترس گئے۔ آزادی کے اتنے سال بعد بھی ایودھیا کی تذلیل ہورہی تھی۔ آج، مہارشی والمیکی کے نام پر ایک بین الاقوامی ہوائی اڈہ ہے۔
دلی این سی آر
آسام کے کالج میں اے بی وی پی کا مسلم طالبات پر مبینہ حملہ ناقابل برداشت :مفتی مکرم
(پی این این)
نئی دہلی :شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مفکر ملت مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد صاحب نے جمعہ کی نماز سے قبل خطاب میںمسلمانوں سے اپیل کی کہ پنج وقتہ نمازوں کی پابندی کریں اور نوجوانوں کو بھی اس کا پابند بنائیں چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔
انہوں نے مہاراشٹر میں نئے انسداد تبدیلی مذہب قانون کے نفاذ پر گہری تشویش کا اظہار کیا انہوں نے کہا کہ حکومت نے ریاست میں جبری یا دھوکے سے مذہب تبدیلی کے بڑے پیمانے پر ہونے کے دعوے کی تائید میں شواہد پیش نہیں کیے۔ مہاراشٹر حکومت نے یہ قانون بنانے میں آئینی حقوق کے تحفظ کاخیال نہیں رکھا انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس قانون کے ذریعے شہریوں کی نجی زندگی، مذہبی عقیدے اور ذاتی فیصلوں میں مداخلت کا دروازہ کھل سکتا ہے بظاہر یہ قانون آئین کی بعض دفعات کے خلاف ہے۔
مفتی مکرم احمد نے آسام کے ضلع سلچر میں واقع کچھار کالج میں مسلم طالبات کے خلاف قابل اعتراض اور نفرت انگیز مہم کی شدید مذمت کی۔ مسلم طالبات ہر مبینہ حملے کے بعد طلبہ کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی اے بی وی پی کے کچھ ارکان نے این ایس یو آئی کے کیمپ میں حجاب پہننے والی مسلم طالبات کی موجودگی پر اعتراض کیا اور طرح طرح کے الزامات لگائے ۔ مفتی مکرم نے کہا کہ اگر کچھ طالبات حجاب پہنتی ہیں تو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے یہ مذہب اور عقیدے سے جڑا ہوا مسئلہ ہے جس کا احترام ہونا چاہیے۔
آئین نے اس کی اجازت دی ہے۔ مفتی مکرم نے غزہ میں صہیونی اہلکاروں کی طرف سے مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کے متعدد مقامات پر اسرائیلی فوج کے حملے نہتے فلسطینیوں پر ہوتے رہتے ہیں یو این او اور عالمی برادری اسرائیل کو جنگ بندی قانون کا پابند بنائیں ورنہ اس کے خلاف ایکشن لیا جائے۔
دلی این سی آر
راہل کا پدرشاہی کو ختم کرو کا نعرہ محض ایک کھوکھلی بات: بانسری
نئی دہلی:بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) رکن پارلیمنٹ بانسری سوراج نے کونڈا سریکھا کو تلنگانہ کابینہ سے برطرف کیے جانے پر کانگریس لیڈر راہل گاندھی کو نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ مسٹر گاندھی کا پدرشاہی کو ختم کروکا نعرہ محض ایک کھوکھلی بات ہے۔ بانسری سوراج نے جمعہ کو یہاں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کے قائد راہل گاندھی کا پدرشاہی کو ختم کرو نعرہ صرف کھوکھلی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماچل پردیش اور کرناٹک میں، جہاں کانگریس کی حکومتیں ہیں، وہاں پر ایک بھی خاتون کو وزرات کا عہدہ نہیں دیا گیا ہے۔ اب تلنگانہ میں جمعرات کو کانگریس کی سینئر لیڈر کو وہاں کی حکومت نے مبینہ طور پر ذلیل کیا اور ریاستی کابینہ سے ہٹا دیا۔ محترمہ سریکھا نے تلنگانہ کی کانگریس حکومت اور وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی پر بہت سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے کہا، “میں پوچھنا چاہتی ہوں… ان کے لگائے گئے ناانصافی اور بلیک میلنگ کے الزامات پر مسٹر گاندھی ابھی بھی خاموش کیوں ہیں؟ شاید اس لیے کیونکہ ان کے لیے پدرشاہی کو ختم کرو انتخابی نعرے اور سیاسی بیان بازی سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔
اصل میں مسٹر گاندھی اور کانگریس کی سوچ یہ ہے کہ اگر خواتین ترقی پسند ہیں، تو ان کے امکانات کو ختم کر دو۔”
دلی این سی آر
خاتون صحافیوں پر مبینہ حملہ پریس کی آزادی پر سنگین حملہ: شائستہ اختر
سری نگر:جموں و کشمیر میں نیشنل لوک تانترک پارٹی (NLP) کی مہیلا مورچہ کی ریاستی صدر، شائستہ اختر نے نئی دہلی کے ساکیت پولیس اسٹیشن میں دو مسلم خاتون صحافیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور ہراسانی کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے اس واقعے کو انتہائی تشویشناک اور جمہوری معاشرے میں ناقابلِ قبول قرار دیا۔شائستہ اختر نے ان اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا جن کے مطابق دہلی پولیس کے اہلکاروں نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھانے والی دو خاتون صحافیوں پر مبینہ طور پر تشدد کیا اور ان کے ساتھ بدسلوکی کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کا ایسا رویہ ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا اور اس معاملے کی غیر جانبدارانہ اور مقررہ مدت میں تحقیقات ہونی چاہئیں۔شائستہ اختر نے کہا، “پولیس کی ذمہ داری شہریوں کا تحفظ کرنا ہے، نہ کہ انہیں ڈرانا دھمکانا یا ان پر حملہ کرنا۔ صحافیوں کو بغیر کسی خوف، دباؤ، دھمکی یا امتیازی سلوک کے اپنے فرائض کی انجام دہی کی اجازت ہونی چاہیے۔ اگر پولیس اسٹیشن کے اندر دو خاتون صحافیوں کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، تو یہ انتہائی تشویشناک معاملہ ہے جس میں احتساب ناگزیر ہے۔”انہوں نے مزید زور دیا کہ کسی صحافی کی شناخت یا مذہب کبھی بھی امتیازی سلوک کی بنیاد نہیں بننا چاہیے۔ پریس کی آزادی جمہوریت کا بنیادی ستون ہے، اور صحافیوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ انتقامی کارروائی کے خوف کے بغیر سوالات پوچھیں اور حقائق کی رپورٹنگ کریں۔شائستہ اختر نے دہلی پولیس کے حکام اور متعلقہ اعلیٰ افسران پر زور دیا کہ وہ ان الزامات کی فوری طور پر آزادانہ تحقیقات کریں، اگر بدسلوکی ثابت ہو تو ذمہ داروں کی نشاندہی کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ متاثرہ صحافیوں کو انصاف ملے۔انہوں نے صحافتی برادری اور سول سوسائٹی سے بھی اپیل کی کہ وہ پریس کی آزادی، خواتین کے وقار اور قانون کی حکمرانی کے تحفظ کے لیے متحد رہیں۔
انہوں نے کہا، “ایک جمہوری حکومت کو سوالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ایک جمہوری پولیس فورس کو صحافیوں کا احترام کرنا چاہیے۔ اور ہر شہری—قطع نظر اس کے مذہب، جنس یا پیشے کے—قانون کے تحت وقار اور تحفظ کا حقدار ہے۔”شائستہ اختر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ نیشنل لوک تانترک پارٹی (NLP) آئینی اقدار، اظہارِ رائے کی آزادی، خواتین کے وقار اور آزاد میڈیا کے تحفظ کے لیے مضبوطی سے کھڑی ہے
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
بہار9 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
