تازہ ترین
جامعہ رحمانی تعلیم و تربیت اور اصلاح و تزکیہ کا روشن مرکز، مولانا عبداللہ سالم چترویدی کی جامعہ رحمانی مونگیر آمد، طلبہ و اساتذہ سے خطاب،فکر و نظر ٹی وی اسٹوڈیو کا کیامعائنہسیمانچل کے تعلیمی، سماجی اور معاشی ترقی کیلئے ہمیں متحدہ طور پرکرنی ہوگی کوشش : منوج وشواشآفات سے ہونے والی اموات پرملے گادوگنا معاوضہ، ایسے معاملات میںاب 8لاکھ روپے دے گی ریاستی حکومت ،وزیراعلیٰ نے فصلوں اور مویشیوں کے نقصان پر امدادی رقم میں بھی کیا اضافہجعلی نوٹ چھاپنے کی فیکٹری کا پردہ فاش، چاول مل میں چھاپے جارہے تھے جعلی نوٹ، چھاپہ ماری میں 100، 200 اور 500 روپے کے نوٹ بڑی مقدار میں برآمداذان اور بھجن کے لیے لاؤڈ اسپیکر کی اجازت کا مطالبہ، مرزاپور سمیت متعدد دیہی علاقوں کے وفد نے ڈی ایم سے کی ملاقاتایک ادیب، ناقد، افسانہ نگار کے ساتھ ساتھ ایک اچھا انسان ہم سےہوگیا جدا :پروفیسر ارتضیٰ کریم، شعبہ اردو سی سی ایس یونیورسٹی میرٹھ میں ”صبا اکرام: تعزیتی جلسہ“ پر آن لائن پرو گرام کا انعقادمانو ایوننگ کالج میںنئے یو جی کورسز کے ساتھ پی جی کورس بھی ہوں گےشروع : پروفیسر سید عین الحسنانجمن اسلام آلانا انگلش ہائی اسکول نے 130ویں ہیرس شیلڈ مسلسل تیسری مرتبہ درج کی جیت
دلی این سی آر

تہاڑ جیل کے 3 جیل سپرنٹنڈنٹ سمیت 18 افسران کا تبادلہ

(پی این این)
نئی دہلی :دہلی کی تہاڑ جیل انتظامیہ نے ایک بار پھر بڑے پیمانے پر افسران اور ملازمین کے تبادلے کیے ہیں۔ اس کارروائی میں تین جیل سپرنٹنڈنٹ سمیت 18 افسران اور ملازمین کو تبدیل کیا گیا ہے۔ ان میں جیل نمبر 8 میں تعینات چھ افسران بھی شامل ہیں جہاں حال ہی میں قیدیوں سے ملی بھگت کے الزام میں 9 افسران کو معطل کیا گیا تھا۔ سبھی کو مختلف جیلوں اور مراکز میں بھیج دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سپرنٹنڈنٹ اوم پرکاش نیموریا کو جیل نمبر 2 سے ہیڈ کوارٹر بھیج دیا گیا ہے جبکہ ہیڈ کوارٹر میں تعینات پرمود کمار گپتا کو جیل نمبر 3 کی کمان سونپی گئی ہے۔ پون کمار جو جیل نمبر 3 میں تھے اب جیل نمبر 2 کا چارج سنبھالیں گے۔اس کے علاوہ تین اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ اور تین اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ کے بھی تبادلے کیے گئے ہیں۔جیل نمبر 5 کے وارڈن کو لامپور حراستی مرکز بھیج دیا گیا ہے جبکہ ہیڈ کوارٹر کے سات ملازمین میں سے پانچ کو جیل نمبر 8 اور دو کو جیل نمبر 5 میں تعینات کیا گیا ہے۔
جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین ماہ میں تہاڑ میں سو سے زائد افسران اور ملازمین کے تبادلے کیے گئے ہیں۔ سرکاری طور پر اسے معمول کا عمل قرار دیا جا رہا ہے لیکن اس کے پیچھے افسران کی قیدیوں کے ساتھ ملی بھگت کا شبہ سمجھا جاتا ہے۔تہاڑ جیل میں قیدیوں کے پاس موبائل فون، منشیات اور دیگر ممنوعہ اشیاء کے ساتھ ساتھ جیل کے اندر سے بدمعاشوں کے ذریعہ قتل اور بھتہ خوری جیسے جرائم کے واقعات بھی باقاعدگی سے رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔ تحقیقات میں اکثر جیل اہلکاروں کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ تاہم بار بار تبادلوں اور معطلی کے باوجود اس ملی بھگت کو روکنا مشکل ثابت ہو رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔