(پی این این)
ارریہ:اے، ایم، یو ایلومنائی ارریہ چیپٹر” نے عظیم مفکر، مصلح قوم وملت اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی، عظیم ماہر تعلیم سرسید احمد خان کی 209 ویں’’یوم سر سید تقریب‘‘ آدرش مڈل اسکول ککوڑوا مڈل اسکول کے جاذب نظر اور دلکش کیمپس میں بڑے تزک و احتشام کے ساتھ منایا، جس میں الکریم یونیورسٹی کٹیہار کے وائس چانسلر ڈاکٹر سید معید عالم مہمان خصوصی کی حیثیت سے اور ارریہ کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر صاحب عالم مہمان اعزازی کے طور پر شروع سے آخر تک موجود رہے۔
اس موقع پر ایلومنائی ارریہ چپٹر کے صدر ذوالنون مصری، سکریٹری سینئر ایڈوکیٹ زیڈ اے مجاہد اور دیگر ایلومنائی کے ساتھیوں نے دونوں مہمانوں کی شال پوشی کرکے، گلدستے، مومنٹو اور پیکر ( تصویر/شبیہ) سر سید احمد خان دے کر انہیں اعزاز سے نوازا۔”
یومِ سرسید تقریب”کی نظامت کی ذمہداری کو ارریہ کے بہترین اناؤنسر اور ٹیچر ماسٹر مشیر عالم نے بحسن وخوبی انجام دیتے ہوئے کہا کہ:- علی گڑھ کے بچے یہ جدھر سے گزرتے ہیں سلیقہ چھوڑ جاتے ہیں۔ یومِ سر سید کے موقع پر روز ویلی اسکول اور کیرئیر گائیڈ اکیڈمی میں منعقدہ تقریری اور مباحثہ مقابلے کے کامیاب طلبہ اور طالبات کو مہمانوں نے انعامات سے نوازا۔
یومِ سرسید تقریب کا بابرکت آغاز مولانا ڈاکٹر علاء الدین کی تلاوت قرآن اور اردو ترجمہ سے کیا گیا اس موقع پر علی گڑھ کا ترانہ اور قومی ترانہ پیش کیا گیا۔ اس موقع پر مہمان خصوصی ڈاکٹر معید احمد نے کہا کہ سرسید احمد ان کی پوری زندگی ایک پیغام ہے۔ انہوں نے کہا کہ علی گڑھ یونیورسٹی کے قیام کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے بچے مذہب کے ساتھ ساتھ انگریزی، سائنس اور ریاضی جیسی جدید تعلیم بھی حاصل کریں، تبھی آنے والے دنوں میں ہم علم کی بنیاد پر کسی سے بھی مقابلہ کر سکتے ہیں۔
اس موقع پر مہمان خصوصی ارریہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر صاحب عالم نے کہا کہ علی گڑھ صرف تعلیم کا مرکز نہیں ہے بلکہ یہ ایک تحریک کا نام ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں ہم تعلیم کے بغیر ترقی کا تصور بھی نہیں کر سکتے اس لئے ہمیں اپنے بچوں کو بہترین تعلیم فراہم کرنی چاہیے۔
اس موقع پر سیکرٹری Z.A. مجاہد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سرسید احمد خان کے تعلیمی مشن کو دیکھتے ہوئے انہیں بعد از مرگ”بھارت رتن ایوارڈ” دیا جائے اور ملک میں کھولی گئی علی گڑھ کی تین شاخوں کو فنڈ فراہم کرکے کام کو آگے بڑھایا جائے جبکہ ڈاکٹر آصف رشید نے کہا کہ علی گڑھ کی تہذیب پوری دنیا میں پائی جاتی ہے اپ نے وی سی کٹیہار سے مطالبہ کیا کہ ارریہ میں صحیح ماہر امراض نسواں ایک بھی ڈاکٹر نہیں ہے اس لئے ارریہ کو کم از کم ایک ماہر امراض نسواں ( Gynecologist ) یعنی (خواتین کے امراض کے ڈاکٹر) یا گائناکالوجسٹ کی سخت ضرورت ہے، اس لئے کٹیہار میڈیکل کالج کو اس جانب پہل کرنی چاہئے۔ ارریہ عدالت میں بحال ڈاکٹر عمران احمد نے حاضرین اور خاص کر علی برادران سے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فارغین ہر فلڈ میں اپنا نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں مگر عدالتوں میں ان کی تعداد بہت ہی کم ہے اس لئے اس محکمے میں بھی بچے آئیں اور بچوں کے سرپرست بھی اپنے پڑھنے والے بچوں کو عدالتی محکمے میں آنے کے لئے انہیں رغبت دلائیں۔ آپ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالتوں میں زیادہ مقدمات اور معاملے مسلم برادریوں کے ہیں، جو بہت ہی تشویشناک ہے، مسلم تنظیموں کو اس جانب توجہ دینے کی بہت ضرورت ہے۔ڈاکٹر شہزاد شمس نے اپنے اظہار خیال میں سر سید احمد خان کی دینی اور ملی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی اور آپ نے کہا تعلیمی تحریک کے ساتھ ادبی تحریک پر بھی سر سید نے کام کیا تھا، لہذا اس جانب بھی ہمیں توجہ دینے کی ضرورت ہے، اگر ہم نے اس جانب توجہ نہیں دی تو سر سید کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا بلکہ ان کا خواب ادھورا رہ جائے گا جبکہ ڈاکٹر کمال حسن ماہر امراض دندان نے اپنے اظہار خیال میں کہا کہ جب سر سید کا دور شروع ہوا تھا تو مغلیہ سلطنت کا خاتمہ ہو چکا تھا سر سید نے اپنی پوری زندگی میں اپنے اپ کو ری ایکشن یعنی رد عمل سے بچایا، اس لئے ہمیں بھی ری ایکشن اور لوگوں کے اعتراض سے بچنا چاہیئے آپ نے یہ بھی کہا سر سید نے جدید تعلیم پر بہت زیادہ زور دیا تھا اور جدید تعلیم میں بہتری لانے کے لئے آپ نے غیر ممالک کا دورہ کیا اور اس وقت کے بڑے بڑے تعلیم گاہوں میں جا کر وہاں کے انتظامات اور وہاں کی ہر چیز کو دیکھا، پرکھا، اس کا مطالعہ کیا اور ان چیزوں کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لاگو کیا اسی وجہ سے آج پوری دنیا میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی معروف و مشہور ہے۔آپ نے مزید کہا کہ ہر بڑے کام کے لئے آپ کو اعتراض کا سامنا کرنا پڑے گا، اس کا سامنا کیجئے! جواب مت دیجئے! “ہم تو بات کرتے رہ گئے اور سر سید کام کر گئے” تو جس طرح سر سید کام کر گئے ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہم بھی اقدامات کرتے رہیں!، ری ایکشن سے بچیں! کسی بھی رد عمل سے اجتناب کریں! کیوںکہ دین کی اشاعت کے لئے ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی گالیوں اور اعتراضات کا سامنا کرنا پڑا تھا، مگر آپؐ نے کبھی بھی گالیوں کا جواب گالی سے نہیں دیا، آپؐ اپنا کام کرتے رہے اور دین اسلام پھیلتا رہا۔ سر سید ڈے کے اسٹیج پر پہلی بار تشریف فرما ڈاکٹر معیز احمد ماہر امراض اطفال نے اپنے اظہار خیال میں کہا کہ اے ایم یو ایلو منائی کے اسٹیج تک پہنچنے میں مجھے 30 سال کا ایک لمبا عرصہ لگا، مگر خوشی ہے “دیر آید درست آید” آپ نے کٹیہار میڈیکل کالج کے وائس چانسلرکو مطلع کیاکہ فی الوقت ارریہ میں بہت سے فکلٹیز کے ڈاکٹرز نہیں ہیں۔ آپ نے یہ بھی مطالبہ کیا یہ علاقہ بہت ہی پسماندہ علاقہ ہے اس لئے یہاں ہر دو تین ماہ میں ہیلتھ کیمپ لگنا چاہیے تاکہ غریبوں کا کلیان ہو سکے۔ آپ نے بھی کہا کہ تعلیمی بیداری صرف شہر میں پیدا کرنے سے کام نہیں بن سکتا ہے بلکہ ضلع کے ہر کونے اور ہر گاؤں گاؤں تک تعلیمی بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے اورآپ نے خاص کر تعلیم نسواں پر زیادہ زور دیا اور کہا اچھی بہن، اچھی بیٹی اور اچھی ماں بننے کے لئے تعلیم نہایت ہی ضروری ہے۔ ارریہ ضلع کے سنیئر ٹیچراور ماہر تعلیم الحاج ماسٹر محمد محسن نے اپنے اظہار خیال میں کہا جو قوم تعلیم کے میدان میں آتی ہے وہ طاقتور بن جاتی ہے اس لئے ہر اعتبار سے مضبوط ہونے کے لئے اور اپنا ملک ہندوستان کا نام روشن کرنے کے لئے محنت اورپوری لگن کے ساتھ حصول تعلیم میں لگے رہیں! اگر ایسا کریں گے تو آپ کی زندگی بھی خوشحال اور مرفہ ہو جائے گی اور آپ کا ملک ہندوستان بام عروج کو پہنچے گا۔ آخر میں تقریب کےاور ایلومنائی ارریہ چیپٹر کے صدر ماسٹر ذوالنون مصری نے اپنے صدارتی کلام میں کہا حصول تعلیم میں محنت اور لگن نہایت ہی ضروری ہے، بغیر اس کے اس مقابلہ جاتی دور میں کامیابی ممکن نہیں ہے۔ آپ نے کہا حصول تعلیم میں غریب کے ذہین بچوں کو اعلیٰ تعلیم اورآگے پڑھنے کے لئے ان کا بھرپور تعاؤن کریں، انشاءاللہ یہ آپ کے لئے صدقہ جاریہ بنے گا۔ اس موقع پر نوشاد عالم، آصف الرحمن، شہزادی سعیدہ، سرور عالم، افتخار عالم، عمران عظیم کے علاوہ درجنوں مقررین نے سرسید احمد کی سوانح حیات اور ان کی تعلیمی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی اور سنیئر علیگ جناب جمشید صاحب کے اظہارِ تشکر پر یومِ سر سید تقریب اپنے اختتام کو پہنچی پھر تمام مہمانانِ گرامی کے ساتھ اے ایم یو ایلو منائی ارریہ چیپٹر نے پرتکلف عشائیہ کالطف اٹھایا۔ اس تقریب کو کامیاب بنانے میں ایلومنائی کے تمام اراکین سمیت خاص کر چیپٹر کے سکریٹری ظہیر انور مجاہد اور ضلع صدر ذوالنون مصری نے رات دن ایک کرتے ہوئے اہم کردار ادا کیا، جس کی ستائش تمام سامعین نے کیں اور ایلومنائی چیپٹر ارریہ کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
