Connect with us

Bihar

بہارپنچایت میں خواتین کے لیے ریزرویشن ملک کیلئےمثال،نائب وزیراعلیٰ کم ضلع انچارج وزیر بیجندر پرساد یادو نے ’پنچایت وکاس دیوس‘ کا کیاافتتاح

Published

on

(پی این این)
دریا پور/سارن؍پٹنہ:بہار نے پنچایتی انتخابات میں خواتین کو 50 فیصد ریزرویشن دے کر ملک کے لئےایک نظیر قائم کی ہے۔ مذکورہ باتیں نائب وزیر اعلیٰ اور ضلع انچارج وزیر بیجندر پرساد یادو نے بلاک کے پرتاپ پور گرام پنچایت میں منعقد پنچایت وکاس دیوس کا افتتاح کرتے ہوئے کہیں۔
انہوں نے کہا کہ بہار حکومت کے ایک اختراعی اقدام کے طور پر ہر مہینے کے آخری اتوار کو تمام گرام پنچایتوں میں پنچایت وکاس دیوس کا اہتمام کیا جائے گا۔پنچایتوں کے ذریعے دیہی ترقی کو نئی رفتار مل رہی ہے۔انہوں نے پنچایتوں کو بااختیار بنانے کے لئے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی طرف سے لاگو کی گئی مختلف اسکیموں اور اقدامات کی تعریف کی۔انہوں نے پنچایت کے نمائندوں اور گاؤں والوں سے ترقیاتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل کی۔ ڈی ایم ویبھو سریواستو نے مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ پنچایت وکاس دیوس عوامی شراکت پر مبنی ترقی کے لیے ایک موثر پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اس مہینے کے پنچایت وکاس دیوس کا تھیم “خواتین دوست گرام پنچایتیں” تھا۔انہوں نے کہا کہ ضلع انتظامیہ کی پہل کی بدولت اس گرام سبھا میں خواتین کی نمایاں اور فعال شرکت واضح ہے۔گرام سبھا سے خطاب کرتے ہوئے ڈی ڈی سی لکشمن تیواری نے گرام پنچایتوں کے حقوق اور فرائض،ترقیاتی منصوبوں کے موثر نفاذ اور تین سطحی پنچایتی راج نظام کے تحت عوامی شراکت کی اہمیت کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔مکھیا کشور کمار سنگھ نے پرتاپ پور گرام پنچایت میں اب تک کئے گئے ترقیاتی کاموں کا تفصیلی بیان پیش کیا اور گرام سبھا کو آئندہ ترقیاتی منصوبوں اور پنچایت کے مستقبل کے ایکشن پلان کے بارے میں آگاہ کیا۔
مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی خواتین نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی طرف سے خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے کی جانے والی کوششوں اور اس سے معاشرے میں ہونے والی مثبت تبدیلیوں کے بارے میں اپنے تجربات کا اشتراک کیا۔گرام سبھا میں وزیر اعظم کے ماہانہ ریڈیو پروگرام من کی بات کا براہ راست نشریات بھی پیش کیا گیا۔اس موقع پر ایس پی دیہی سنجے کمار،اے ڈی ایم محکمانہ تفتیش شیو کمار پنڈت ، ایس ڈی ایم سونپور سنیگدھا نیہا،ڈی سی ایل آر رادھے شیام کمار مشرا،بی ڈی او دریا پور دین بندھو دیواکر،سی او جینت کمار گوتم کے علاوہ بڑی تعداد میں خواتین اور مقامی افراد موجود تھے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Bihar

گستاخ رسولؐ کیخلاف کی جائے سخت کارروائی،نازیہ الہی کے حضو ر ؐ پر دیئے گئے ہتک آمیز بیان پر امیر شریعت کا سخت رد عمل

Published

on

(پی این این)
پھلواری شریف:سوشل میڈیا میں وائرل ایک بدنام زمانہ خاتون نازیہ کے ذریعہ حضورؐ کی حیات طیبہ اور معاشرتی زندگی پر دیے گئے گستاخانہ، نازیبا اورہتک آمیز بیان پرامیر شریعت بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ ومغربی بنگال مفکر ملت حضرت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ العالی نے سخت رد عمل کا اظہارکیا ہے۔
انہوں کہا کہ اللہ تعالی نے پیغمبر اسلام حضرت محمدؐکو پوری انسانیت کے لیے نمونہ بنا کر بھیجا ہے، کیونکہ ان کی سیرت و کردار و عمل کا ایک ایک پل تاریخ انسانی کی ایک زندہ حقیقت ہے جس کی نظیر پیش کرنے سے دنیا کا کوئی مذہب اور تاریخ قاصر ہے ،اسی لیے ملک و بیرون ملک کے معاندینِ اسلام نے بھی حضورؐ کے اخلاق و عادات اور آپ کی انقلاب انگیز تعلیمات کو سراہا ،ایسے محسن انسانیتؐ کے بارے میں گستاخانہ بیان سے نازیہ الہی کی بیمارذہنیت کا اندازہ ہوتا ہے، اسلئے اس طرح کے نازیبا تبصرہ کرنے والی نازیہ الٰہی پر قانونی کاروائی کی جائے، تاکہ دوسروں کے لئے بھی درس عبرت ہو، وہ ایسے اشتعال انگیز بیانوں کے ذریعے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کر کے ملک میں اضطرار کی لہر پیدا کرنا چاہتی ہے۔
ناظم امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ ، جھارکھنڈ ومغربی بنگال مولانامفتی محمد سعید الرحمٰن قاسمی نے نازیہ الٰہی کے گستاخانہ ویڈیوںکلپ اورتبصرے کو ملک کے امن وامان کوبگاڑنےکی سازش قراردیا ، کیوں کہ ہندوستان کا آئین تمام مذاہب کے احترام، سماجی ہم آہنگی ،اور قانون کی حکمرانی کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے، کسی بھی مذہب، عظیم شخصیت یا مذہبی عقیدے کے بارے میں توہین آمیز تبصرے معاشرے میں تناؤ پیدا کر سکتے ہیں، وکالت کےپیشہ سےوابستہ نازیہ الٰہی اکثر اپنے متنازعہ بیانات کے ذریعہ سرخیوں میں رہنا چاہتی ہے اورسربازارتوہین آمیزتبصروں سے دل آزاری کرتی رہتی جوکہ نہایت ہی شرمناک ہے، ایسے گستاخ رسولؐکو دستورکی دفعات 199اور 299کے تحت فوراً گرفتار کر کے سخت سے سخت سزا دی جائے، کیونکہ مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتا ہے، لیکن اپنے نبی کی ہتک عزت کو کبھی برداشت نہیں کر سکتا اس لیے ہمارا حکومت سے پرزورمطالبہ ہے کہ بد امنی پھیلانے والی اس خاتون نازیہ الہی کو سخت سزادی جائے ۔

Continue Reading

Bihar

روٹری گیا سٹی کی جانب سے جدید اے ایل ایس ایمبولینس عوام کیلئے وقف

Published

on

(پی این این)
گیاجی: شہر کے عوام کے لیے ایک بڑی راحت کی خبر ہے۔ سنگین مریضوں کو اسپتال پہنچنے سے قبل ہی جان بچانے والی طبی سہولیات فراہم کرنے کے مقصد سے روٹری گیا سٹی نے تقریباً 40 لاکھ روپے کی لاگت سے تیار کردہ جدید ایڈوانس لائف سپورٹ (ALS) ایمبولینس عوام کے نام وقف کر دی۔ اس ایمبولینس کا افتتاح روٹری 3250 کی ڈسٹرکٹ گورنر نمرتا ناتھ اور سابق ڈسٹرکٹ گورنر ایس۔ پی۔ باگریا نے ربن کاٹ کر کیا۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ گورنر نمرتا ناتھ نے کہا کہ اس جدید ایمبولینس کا بنیادی مقصد معاشی طور پر کمزور اور ضرورت مند مریضوں کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی سنگین مریض کے لیے اسپتال پہنچنے تک کا وقت انتہائی قیمتی ہوتا ہے، ایسے میں یہ ایمبولینس راستے ہی میں ضروری جان بچانے والا علاج فراہم کر کے قیمتی جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
ڈاکٹر رتن کمار نے بتایا کہ اس ایمبولینس کا آپریشن “نو پرافٹ، نو لاس” کی بنیاد پر کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ 5G سے لیس اس جدید اے ایل ایس ایمبولینس میں وینٹی لیٹر، ملٹی پیرامیٹر پیشنٹ مانیٹر، ڈیفبری لیٹر (ہارٹ شاک مشین)، آکسیجن سپورٹ سسٹم، سکشن مشین، انفیوژن پمپ، نیبولائزر، اسپائن بورڈ، اسٹریچر، ہنگامی ادویات اور دیگر جدید لائف سیونگ آلات نصب کیے گئے ہیں۔ ایمبولینس میں تربیت یافتہ پیرا میڈیکل اسٹاف اور ایمرجنسی میڈیکل ٹیکنیشن بھی موجود رہیں گے، جو مریض کو اسپتال پہنچنے تک مسلسل طبی نگہداشت فراہم کریں گے۔
روٹری گیا سٹی کے سابق صدر وجے بھالوٹیا نے بتایا کہ یہ ایمبولینس دل کا دورہ، برین اسٹروک، سڑک حادثات، شدید زخم، سانس لینے میں دشواری، نومولود بچوں اور دیگر نازک حالت کے مریضوں کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ بروقت ابتدائی طبی امداد ملنے سے مریض کی جان بچنے کے امکانات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔انہوں نے اس اہم منصوبے کی تکمیل میں تعاون کرنے والے امریش کمار، نول کشور، بادشاہ ڈالمیہ، شریش پرکاش، ڈاکٹر ٹی۔ شرما، ڈاکٹر نیرج کمار، راج کمار دوبے اور دیگر تمام روٹیرین اراکین کا شکریہ ادا کیا۔
تقریب میں ڈسٹرکٹ گورنر نمرتا ناتھ، سابق ڈسٹرکٹ گورنر ایس۔ پی۔ باگریا، راجیش کمار رائے، روٹری فاؤنڈیشن کے چیئرمین امریش کمار، روٹری گیا سٹی کے صدر کُمُد ورما، سکریٹری راج کمار دوبے، ڈاکٹر اے۔ این۔ رائے، ڈاکٹر رتن کمار، پروفیسر ڈاکٹر ایم۔ این۔ انجم، شیو ارون ڈالمیہ، ریتو ڈالمیہ، ڈاکٹر وی۔ وی۔ سنگھ، ڈاکٹر ڈی۔ کے۔ سہائے، ڈاکٹر ونود سنگھ، دیپک چڈھا، وکاس اگروال، کانتیش سنہا، پونیت کھیتان سمیت بڑی تعداد میں معالجین، روٹری عہدیداران اور اراکین موجود تھے۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر امت کمار سنگھ اور وجے بھالوٹیا نے مشترکہ طور پر انجام دیے۔
مقررین نے اس موقع پر کہا کہ جدید طبی آلات سے آراستہ یہ اے ایل ایس ایمبولینس گیا اور اطراف کے علاقوں میں ہنگامی طبی خدمات کو نئی مضبوطی فراہم کرے گی اور بروقت علاج کی فراہمی کے ذریعے بے شمار قیمتی جانیں بچانے میں معاون ثابت ہوگی۔ انہوں نے روٹری گیا سٹی کی اس کاوش کو صحت عامہ کے میدان میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔

Continue Reading

Bihar

’انصاف کا کوئی مذہب یا ذات نہیں، ہر مظلوم کوملنا چاہیے انصاف‘،بھرت بھوشن تیواری کے پولیس انکاؤنٹر اور محمد فیض کے سفاکانہ قتل کیخلاف جالے میں کینڈل مارچ، غیر جانبدارانہ تحقیقات اور انصاف کا مطالبہ

Published

on

(پی این این)
جالے:بھوجپور کے سماجی کارکن بھرت بھوشن تیواری کے پولیس انکاؤنٹر میں ہلاک ہونے اور دربھنگہ کے رہائشی محمد فیض کے سفاکانہ قتل کے خلاف اتوار کی شام جالے نگر پریشد میں سیکڑوں شہریوں نے کینڈل مارچ نکال کر انصاف کا مطالبہ کیا۔ ساتھی چوک سے شروع ہونے والا یہ پرامن مارچ شنکر چوک سے گزرتا ہوا کھڑکا موڑ پہنچا، جہاں شرکاء نے دونوں واقعات کی غیر جانبدارانہ، شفاف اور وقت مقررہ کے اندر تحقیقات کرانے اور قصورواروں کو قانون کے مطابق سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔
کینڈل مارچ میں شریک سماجی کارکنوں اور شہریوں نے کہا کہ ایک شخص پولیس انکاؤنٹر میں جان سے گیا، جبکہ دوسرے کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا، لیکن دونوں صورتوں میں انصاف کا تقاضا یکساں ہے۔ مقررین نے زور دیتے ہوئے کہا کہ قانون کی نظر میں ہر شہری برابر ہے اور ہر جان کی یکساں اہمیت ہے، اس لیے کسی بھی معاملے میں امتیازی رویہ قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔
سوشل ایکٹوسٹ دھیریندر کمار عرف دھیریندر کپور، سماجی کارکن مکیش کمار پاٹھک، غلام مذکر خان اور دیگر مقررین نے کہا کہ اس مارچ کا مقصد کسی ذات، مذہب یا سیاسی جماعت کی حمایت یا مخالفت نہیں بلکہ انصاف کی بالادستی کا مطالبہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی بے گناہ کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے تو اس کے خلاف آواز اٹھانا ہر باشعور شہری کی ذمہ داری ہے۔
غلام مذکر خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ انصاف کے معاملے میں ذات، مذہب اور برادری کی دیواریں کھڑی کرنا معاشرے کو تقسیم کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھرت بھوشن تیواری ہوں یا محمد فیض، دونوں کے اہل خانہ کو انصاف ملنا چاہیے، کیونکہ ظلم کے خلاف آواز صرف ایک طبقے کی نہیں بلکہ پوری انسانیت کی آواز ہونی چاہیے۔
انیل جھا نے کہا کہ اگر معاشرہ ظلم کے خلاف خاموش رہے تو ناانصافی کو مزید تقویت ملتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دونوں معاملات کی تحقیقات مکمل شفافیت کے ساتھ کرائی جائیں اور جو بھی قانون کا مجرم ثابت ہو، اس کے خلاف بلاامتیاز سخت کارروائی کی جائے تاکہ عوام کا اعتماد نظامِ انصاف پر برقرار رہے۔
مارچ میں مرزا آرزو بیگ، محمد عمران، رام ساگر چودھری، لکشمن نائک، چندن مہتا، محمد آرزو، محمد کالے سمیت سیکڑوں سماجی کارکن، نوجوان اور مقامی شہری شریک ہوئے۔ شرکاء نے ہاتھوں میں شمعیں تھام کر متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کیا اور مطالبہ کیا کہ انصاف میں تاخیر نہ کی جائے، کیونکہ بروقت اور غیر جانبدارانہ انصاف ہی قانون کی بالادستی اور جمہوری نظام کی اصل بنیاد ہے۔کینڈل مارچ کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ہر ایسے واقعے میں، جہاں کسی مظلوم کو انصاف کی ضرورت ہوگی، ذات، مذہب اور سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر اسی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network