تازہ ترین
ریاستی محکمۂ تعلیم میں بڑی بدعنوانی، کلرک نے ڈیجیٹل ریکارڈ میں جعل سازی کے ذریعہ کیا 76 لاکھ کا غبن،انتظامیہ نے کیا معطلامارت شرعیہ میں مولانا ابو نصر فاروق و شہاب الدین سمیت دیگر کئی شخصیات کے لئے تعزیتی نشست کا انعقادڈاکٹر شعیب راہی کی ادبی خدمات پر کامیاب سیمینارمنعقد،پروفیسر احمد بدر سند اعزاز سے سرفرازسیوان:جیویکا گتھنی نے کامیابی سے’یوتھ موبلائزیشن مہم‘ کاکیا انعقاد،روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے تحت 10 نوجوانوں کو سیکیورٹی گارڈ کے عہدوں کے لیے کیاگیا منتخبسر سید احمد خان کے یومِ پیدائش کے موقع پر سینٹ جانس کالج میں مضمون نویسی کا مقابلہ’تعلیم کے ساتھ ساتھ اچھی تربیت اور اعلیٰ انسانی اقدار بھی ضروری‘،شعبہ اردو،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ میں جشن سر سید تقریبات کا آغاز’گنے کی قیمت 700 روپے نہیں تو بی جے پی کو ووٹ نہیں‘ ،کسانوں کی میٹنگ میں بھارتیہ کسان یونین کے قومی صدر بھگت سنگھ ورما کا اعلانسپریم کورٹ مارچ پر راہل گاندھی کو سمن،ہمیں کوئی دھمکا نہیں سکتا،ہم جانتے ہیں کہ عدالت کے اندر اور باہر کون کیا کہہ رہا ہے،چیف جسٹس کا تبصرہ
Bihar

بھاگلپور:پول نہیں، تاروں کے سہارے چل رہا بجلی کا نظام،

(پی این این)
بھاگلپور:شہر سے متصل لودی پور پنچایت کے وارڈ نمبر 8 اور 9 میں بجلی کا نظام لوگوں کے لیے پریشانی اور خطرے کا سبب بنا ہوا ہے۔ بجلی کے کھمبوں کی کمی کے باعث درجنوں صارفین کو 150 سے 200 میٹر دور واقع کھمبے سے تار کھینچ کر اپنے گھروں تک بجلی پہنچانی پڑ رہی ہے۔ طویل فاصلے تک کھینچے گئے تاروں کے باعث آئے دن شارٹ سرکٹ اور کاربن لگنے کی شکایت سامنے آتی رہتی ہے۔ ایسے میں بجلی کی سہولت کے ساتھ صارفین کو حادثے کا خطرہ بھی برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
مقامی صارفین کے مطابق وارڈ 8 میں تقریباً 10 سے 12 گھر اور وارڈ 9 میں بھی اتنے ہی خاندان دور واقع کھمبے سے تار کھینچ کر بجلی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ تاروں میں خرابی آنے یا شارٹ سرکٹ ہونے پر سرکاری مستری کو فون کرنے کے باوجود کئی مرتبہ بروقت مدد نہیں ملتی۔ مجبوری میں پرائیویٹ مستری کو بلا کر تار اور کنکشن کی مرمت کرانی پڑتی ہے، جس کی وجہ سے صارفین کو اپنی جیب سے اضافی خرچ برداشت کرنا پڑتا ہے۔اس مسئلے سے متاثرہ بجلی صارفین میں محمد نجنی، محمد عبد الستار، محمد عتیق، محمد کمرالدین، محمد حسنین، محمد یاشین، محمد یاسین انصاری، محمد انصاری، محمد انیش انصاری، محمد مہتاب، محمد سنو، محمد کوثر انصاری، محمد مدین، محمد بدھی، محمد چاند علی اور محمد مینگو شامل ہیں۔
مقامی صارفین کا کہنا ہے کہ علاقے میں 11 ہزار وولٹ اور 440 وولٹ کے بجلی کے تار کئی مقامات پر ننگے اور جھولتے ہوئے ہیں۔ بارش اور تیز ہوا کے دوران صورت حال مزید خطرناک ہو جاتی ہے۔ لوگوں کو خدشہ ہے کہ اگر بروقت تاروں کو درست نہیں کیا گیا تو کسی بھی وقت تار ٹوٹنے یا شارٹ سرکٹ کی وجہ سے بڑا حادثہ پیش آ سکتا ہے۔دیہی لوگوں نے بجلی محکمہ سے ننگے تاروں کو ہٹا کر کورڈ وائر لگانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کورڈ وائر لگائے جانے سے بجلی کی فراہمی محفوظ ہوگی اور لوگوں کی جان و مال کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے گی۔صارفین کا الزام ہے کہ علاقے میں کافی تعداد میں بجلی کے کھمبے دستیاب ہیں، اس کے باوجود وارڈ 8 اور 9 کے متاثرہ علاقوں میں کھمبے نہیں لگائے جا رہے ہیں۔ دیہی لوگوں کے مطابق پنچایت کے دیگر وارڈوں میں سابق ٹھیکیدار کی جانب سے بجلی کے کھمبے لگائے جا چکے ہیں، لیکن ان دونوں وارڈوں میں کئی گھر اب بھی کھمبوں کی سہولت سے محروم ہیں۔
لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ مقامی عوامی نمائندوں کی جانب سے اس مسئلے کو دور کرانے کے لیے مطلوبہ پہل نہیں کی جا رہی ہے۔ پنچایت کے مکھیا اور متعلقہ وارڈ پارشد سے بھی دیہی لوگوں کو مسئلے کے حل کی امید تھی، لیکن کھمبے لگانے کے معاملے میں سنجیدہ پہل نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں میں عوامی نمائندوں کے تئیں ناراضگی بڑھ رہی ہے۔
اس معاملے کو لے کر علی گنج بجلی سب اسٹیشن کے اسسٹنٹ انجینئر سے موبائل فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن انہوں نے فون ریسیو نہیں کیا۔ اس وجہ سے اس معاملے میں محکمہ کا موقف حاصل نہیں ہو سکا۔مقامی بجلی صارفین نے بجلی محکمہ کے اعلیٰ افسران سے پورے معاملے کا موقع پر معائنہ کرانے، وارڈ 8 اور 9 میں ضرورت کے مطابق بجلی کے کھمبے لگانے، جھولتے اور ننگے تاروں کو درست کرانے اور کورڈ وائر لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ دیہی لوگوں کا کہنا ہے کہ بجلی جیسی بنیادی سہولت کے معاملے میں برتی جا رہی لاپروائی کو بروقت دور نہیں کیا گیا تو یہ کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔