Connect with us

Bihar

بغیر رضامندی کے پروفیسروں کی ڈیپوٹیشن منسوخ،پٹنہ ہائی کورٹ کی جانب سے تنخواہ روکنے کا حکم بھی ختم

Published

on

(پی این این)
چھپرا:پٹنہ ہائی کورٹ نے چھپرہ کی جے پرکاش یونیورسٹی سے وابستہ اساتذہ کے ڈیپوٹیشن کے معاملے میں اہم فیصلہ سنایا ہے۔جسٹس ہریش کمار کی ڈویژن بنچ نے یکم ستمبر 2026 کو یونیورسٹی سے متعلق دو رٹ درخواستوں پر ایک حکم جاری کیا. جس میں نئے قائم ہونے والے سرکاری ڈگری کالجوں میں قائم مقام پرنسپل کے طور پر اساتذہ کی تعیناتی ان کی رضامندی کے بغیر منسوخ کردی گئی۔
کیس CWJC نمبر 9715/2026 ڈاکٹر روی پرکاش ببلو بمقابلہ جے پرکاش یونیورسٹی اور دیگر اور CWJC نمبر 9278/2026 پروفیسر رویندر سنگھ اور دیگر بمقابلہ جے پرکاش یونیورسٹی اور دیگر سے متعلق معاملے میں عدالت نے حتمی فیصلہ سنایا۔عدالت کے حکم کے بعد یونیورسٹی کے 27 مئی اور 4 جون 2026 کو جاری کیے گئے ڈیپوٹیشن کے نوٹیفکیشن غیر موثر ہو گئے ہیں۔مزید برآں ڈیپوٹیشن پر عمل نہ کرنے والے اساتذہ کی حاضری اور تنخواہ پر روک بھی ختم کر دی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ بہار حکومت نے 30 اپریل 2026 کی ایک قرارداد کے ذریعے بلاکوں میں 211 نئے سرکاری ڈگری کالج قائم کرنے کا فیصلہ کیا جہاں پہلے ڈگری کالج نہیں تھے۔ہر کالج میں بتیس تدریسی اور بارہ غیر تدریسی عہدے بنائے گئے۔ یونیورسٹیوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ کالجوں کے انتظام کے لیے فوری طور پر قائم مقام پرنسپل فراہم کریں۔اس کے پاداش میں جے پرکاش یونیورسٹی نے 12 مئی 2026 کو اساتذہ سے قائم مقام پرنسپل کے طور پر ڈیپوٹیشن کے لیے اختیارات مانگے۔جس کے بعد تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی اور 27 مئی کو 28 قائم مقام پرنسپلز کی تقرری اور ڈیپوٹیشن کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔اس کے بعد 4 جون کو ایک نظرثانی شدہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔
درخواست گزاروں کا بنیادی اعتراض یہ تھا کہ یونیورسٹی کے مختلف پوسٹ گریجویٹ شعبہ جات اور الحاق شدہ کالجوں میں کام کرنے والے پروفیسرز اور ایسوسی ایٹ پروفیسرز کو ان کی مرضی کے بغیر قائم مقام پرنسپل کے طور پر نئے قائم ہونے والے کالجوں میں بھیجا گیا۔ہائی کورٹ کے فیصلے سے متعلقہ اساتذہ کو اہم راحت ملی ہے۔

Bihar

دینی مدارس کو مٹانے کیلئے پھیلائی جارہی ہیں غلط فہمیاں،امارتِ شرعیہ کی مجلسِ عاملہ کا اہم فیصلہ،موجودہ وقت میںمرکزی اور ریاستی حکومتوں کے نشانے پر ہیں ملک کے بیشتر مدارس و مکاتب ،ان کی قانونی دشواریوں کو حل کرنے کے لیے مرتب کیا جائے گا لائحہ عمل: حضرت امیرشریعت

Published

on

(پی این این)
پھلواری شریف:اس وقت ملک کے بیشتر دینی مدارس و مکاتب مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے نشانے پر ہیں، ان کی تہذیبی اقدار اور ملی شناخت کو مٹانے کے لیے ان کے خلاف ملک میں غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں اور اس کے لیے نت نئے حربے استعمال کیے جا رہے ہیں، جو کہ زمینی حقیقت سے بالکل پرے ہیں، یہ تمام ملی ادارے آئین و دستور کے مطابق قائم ہیں،ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم سب اس کی حفاظت و بقا کے لیے ہر ممکن جدوجہد کریں اور ملکی قانون کی شرائط کے مطابق اس کے معیارِ تعلیم کو بلند کرنے کی کوشش کریں۔
ان خیالات کا اظہار امیرِ شریعت بہار، اڈیشہ ،جھارکھنڈ ومغربی بنگال مفکرِ ملت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی (مدظلہ) نے امارتِ شرعیہ کی مجلسِ عاملہ میں کیا۔ یہ مجلس 3/ستمبر 2026ء کو حضرت امیرِ شریعت کی صدارت میں زوم ایپ ،،(ZOOM) پر منعقد ہوئی، جس میں آن لائن اور آف لائن اراکینِ عاملہ نے شرکت کی اور فیصلہ کیا کہ مدارس و مکاتب کی قانونی دشواریوں کو حل کرنے کے لیے لائحہ عمل مرتب کیا جائے اور وہ تمام مدارس کو فراہم کر دیا جائے،حضرت مولانا محمد شمشاد رحمانی قاسمی (نائب امیرِ شریعت بہار، اڈیشہ ، جھارکھنڈ ومغربی بنگال)نے کہاکہ مدارس کے تعلق سے پورے ملک میں تشویش و بے چینی پھیلی ہوئی ہے،امارتِ شرعیہ ہر مشکل وقت میں امت کی رہنمائی کرتی رہی ہے، اگر اس موضوع پر مدارس کے ذمہ داروں کا اجتماع طلب کر کے ان کی رہنمائی کی جائے تو بہتر رہے گا۔
مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی (ناظم امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ ، جھارکھنڈ ومغربی بنگال ) نے اراکین کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ حضرات نے اپنی مصروفیات سے وقت فارغ کر کے میٹنگ میں شرکت کو ترجیح دی، اس سے آپ کی ملی ہمدردی کا اندازہ ہوتا ہے،ان شاء اللہ، آپ کی قیمتی آراء سے روشنی ملے گی، انہوں نےمدارس کے نظام تعلیم وتربیت بہتر بنانے پرزور دیا اور حساب وکتاب آڈٹ کرانے کی بات کہی ،مولانا مفتی محمد انظار عالم قاسمی (صدر قاضی شریعت مرکزی دارالقضا امارت شرعیہ ) نے کہاکہ اگر مدارس کا تعلیمی معیار بلند ہو اور اس کے کاغذات درست ہوں تو نقطہ چینیوں کی زبانیں خود بخود بند ہو جائیں گی، مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی (نائب ناظم امارت شرعیہ )نے کہا کہ مدارس کے ساتھ دو طرح کی دشواریاں ہیں: ایک داخلی اور دوسری خارجی۔ ہم سب کو ان دونوں محاذوں پر کام کرنا ہوگا،مولانا مفتی محمد سہراب ندوی (نائب ناظم امارت شرعیہ ) نے کہامدارس کا رجسٹریشن کرانے اور قانونی چارہ جوئی کے لیے لیگل کمیٹی تشکیل دینے پر زور دیا۔
مولانا جمیل احمد رحمانی (استاذِ حدیث و فقہ، جامعہ رحمانی مونگیر) نے کہا سیمانچل کے علاقوں میں جو مدارس قائم ہیں، وہاں کے ذمہ دارانِ مدارس زیادہ پریشان ہیں۔ اس علاقے کے اہل ترین لوگوں سے ملاقات کر کے انہیں صحیح رہنمائی فراہم کرنے کی سخت ضرورت ہے ۔
حاجی محمد عارف رحمانی (ناظم جامعہ رحمانی مونگیر)نے کہاسرحدی علاقوں میں قائم مدارس کے منتظمین کی خصوصی میٹنگ طلب کی جائے اوران کے مسائل کو حل کرنے کے لیے حکمتِ عملی بنائی جائے،جناب ذاکر بلیغ ایڈوکیٹ نےکہا چمپارن کے علاقوں کے مدارس میں پیش آنے والی دشواریوں کا تذکرہ کیا کہ سرکاری جانچ کمیٹی مدرسوں کے ذمہ داروں سے لین دین کا معاملہ کرتی ہے، تاہم ہم لوگوں کی جدوجہد سے اس پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے،مولانا ظفر عالم (اڈیشہ)نے کہاکہ ہر مسلم آبادی کے چھوٹے مدارس کو کسی بڑے معیاری مدرسے سے جوڑا جائے اور اس کو مرکزیت کا درجہ دے کر دونوں کو قوت بخشی جائے۔
،اور مولانا مفتی احتکام الحق قاسمی (قائم مقام مفتی دارالافتاء، امارتِ شرعیہ)مولانا مفتی انور قاسمی (قاضی شریعت دارالقضا، رانچی)، جناب عطا اللہ صدیقی (جھارکھنڈ)، جناب ایس ایم شرف، جناب جاوید اقبال ایڈوکیٹ، مولانا صبغت اللہ رحمانی (کٹک)نے مدارس کے معیارِ تعلیم کو بلند کرنے اور سرکاری شرائط کے مطابق کاغذات کو درست رکھنے پر توجہ دلائی۔
مجلسِ عاملہ کی نشست میں امیرشریعت اور ناظم امارتِ شرعیہ کی ہدایت پر جھارکھنڈ میں چلائی گئی ووٹر بیداری تحریک کی ستائش کی گئی،مولانا قیام الدین قاسمی نے تفصیل بیان کرتے ہوئے بتایا کہ جھارکھنڈ کے ۲۴ اضلاع کے ۵۶ مقامات پر اجتماعات ہوئے، اور علماء، سماجی ذمہ داروں و نوجوانوں پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دی گئیں، آسام اور اڈیشہ کے حالیہ تباہ کن سیلاب میں امارتِ شرعیہ نے جنگی پیمانے پر راحت رسانی اور بحالی کا کام کیا، آسام کی امدادی ٹیم کی قیادت مولانا احمد حسین مدنی قاسمی، اور اڈیشہ ٹیم کی قیادت مولانا عبداللہ انس قاسمی نے کی،ان دونوں ٹیموں میں امارت شرعیہ کے کارکنا ن،مبلغین اور جامعہ رحمانی مونگیر کے اساتذہ کرام وفضلاءشامل تھے ، امارتِ شرعیہ نے سینکڑوں خاندانوں کے درمیان خوراک، بستر، کچن سیٹ اور مکانات کی تعمیر کا سامان تقسیم کیا، مجلسِ عاملہ کی کارروائی کا آغاز مولانا احمدحسین مدنی کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا،مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ نے تجویز تعزیت پیش کی، جبکہ مولانا مفتی محمد سہراب ندوی نے اجلاس کی کارروائی بحسن و خوبی چلائی،اجلاس میں جناب حافظ محمداحتشام رحمانی صاحب ، جناب مولانا رضوان احمد ندوی معاون ناظم امارت شرعیہ بھی شریک رہے ،آخر میں یہ اجلاس حضرت امیرِ شریعت مدظلہ کی دعا پر اختتام پذیرہوئی ۔

Continue Reading

Bihar

بھاگلپور:پول نہیں، تاروں کے سہارے چل رہا بجلی کا نظام،

Published

on

(پی این این)
بھاگلپور:شہر سے متصل لودی پور پنچایت کے وارڈ نمبر 8 اور 9 میں بجلی کا نظام لوگوں کے لیے پریشانی اور خطرے کا سبب بنا ہوا ہے۔ بجلی کے کھمبوں کی کمی کے باعث درجنوں صارفین کو 150 سے 200 میٹر دور واقع کھمبے سے تار کھینچ کر اپنے گھروں تک بجلی پہنچانی پڑ رہی ہے۔ طویل فاصلے تک کھینچے گئے تاروں کے باعث آئے دن شارٹ سرکٹ اور کاربن لگنے کی شکایت سامنے آتی رہتی ہے۔ ایسے میں بجلی کی سہولت کے ساتھ صارفین کو حادثے کا خطرہ بھی برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
مقامی صارفین کے مطابق وارڈ 8 میں تقریباً 10 سے 12 گھر اور وارڈ 9 میں بھی اتنے ہی خاندان دور واقع کھمبے سے تار کھینچ کر بجلی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ تاروں میں خرابی آنے یا شارٹ سرکٹ ہونے پر سرکاری مستری کو فون کرنے کے باوجود کئی مرتبہ بروقت مدد نہیں ملتی۔ مجبوری میں پرائیویٹ مستری کو بلا کر تار اور کنکشن کی مرمت کرانی پڑتی ہے، جس کی وجہ سے صارفین کو اپنی جیب سے اضافی خرچ برداشت کرنا پڑتا ہے۔اس مسئلے سے متاثرہ بجلی صارفین میں محمد نجنی، محمد عبد الستار، محمد عتیق، محمد کمرالدین، محمد حسنین، محمد یاشین، محمد یاسین انصاری، محمد انصاری، محمد انیش انصاری، محمد مہتاب، محمد سنو، محمد کوثر انصاری، محمد مدین، محمد بدھی، محمد چاند علی اور محمد مینگو شامل ہیں۔
مقامی صارفین کا کہنا ہے کہ علاقے میں 11 ہزار وولٹ اور 440 وولٹ کے بجلی کے تار کئی مقامات پر ننگے اور جھولتے ہوئے ہیں۔ بارش اور تیز ہوا کے دوران صورت حال مزید خطرناک ہو جاتی ہے۔ لوگوں کو خدشہ ہے کہ اگر بروقت تاروں کو درست نہیں کیا گیا تو کسی بھی وقت تار ٹوٹنے یا شارٹ سرکٹ کی وجہ سے بڑا حادثہ پیش آ سکتا ہے۔دیہی لوگوں نے بجلی محکمہ سے ننگے تاروں کو ہٹا کر کورڈ وائر لگانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کورڈ وائر لگائے جانے سے بجلی کی فراہمی محفوظ ہوگی اور لوگوں کی جان و مال کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے گی۔صارفین کا الزام ہے کہ علاقے میں کافی تعداد میں بجلی کے کھمبے دستیاب ہیں، اس کے باوجود وارڈ 8 اور 9 کے متاثرہ علاقوں میں کھمبے نہیں لگائے جا رہے ہیں۔ دیہی لوگوں کے مطابق پنچایت کے دیگر وارڈوں میں سابق ٹھیکیدار کی جانب سے بجلی کے کھمبے لگائے جا چکے ہیں، لیکن ان دونوں وارڈوں میں کئی گھر اب بھی کھمبوں کی سہولت سے محروم ہیں۔
لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ مقامی عوامی نمائندوں کی جانب سے اس مسئلے کو دور کرانے کے لیے مطلوبہ پہل نہیں کی جا رہی ہے۔ پنچایت کے مکھیا اور متعلقہ وارڈ پارشد سے بھی دیہی لوگوں کو مسئلے کے حل کی امید تھی، لیکن کھمبے لگانے کے معاملے میں سنجیدہ پہل نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں میں عوامی نمائندوں کے تئیں ناراضگی بڑھ رہی ہے۔
اس معاملے کو لے کر علی گنج بجلی سب اسٹیشن کے اسسٹنٹ انجینئر سے موبائل فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن انہوں نے فون ریسیو نہیں کیا۔ اس وجہ سے اس معاملے میں محکمہ کا موقف حاصل نہیں ہو سکا۔مقامی بجلی صارفین نے بجلی محکمہ کے اعلیٰ افسران سے پورے معاملے کا موقع پر معائنہ کرانے، وارڈ 8 اور 9 میں ضرورت کے مطابق بجلی کے کھمبے لگانے، جھولتے اور ننگے تاروں کو درست کرانے اور کورڈ وائر لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ دیہی لوگوں کا کہنا ہے کہ بجلی جیسی بنیادی سہولت کے معاملے میں برتی جا رہی لاپروائی کو بروقت دور نہیں کیا گیا تو یہ کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔

Continue Reading

Bihar

جالے میں 1683 بوتل نیپالی شراب برآمد، ڈرائیورفرار

Published

on

(پی این این)
دربھنگہ:بہار میں مکمل شراب بندی کے باوجود شراب اسمگلنگ کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اسی سلسلے میں جالے تھانہ پولیس نے خفیہ اطلاع کی بنیاد پر شراب لدی ایک پک اَپ گاڑی کا فلمی انداز میں تعاقب کرتے ہوئے اسے جالے نگر پریشد کے گاندھی چوک کے قریب سے ضبط کرلیا۔ تاہم پولیس کو پیچھے آتا دیکھ کر تیز رفتاری سے گاڑی بھگا رہے ڈرائیور کے لیے اس وقت مشکل پیدا ہوگئی جب اچانک پک اَپ کا ایک پہیہ نکل گیا اور گاڑی بے قابو ہوکر رک گئی۔ موقع ملتے ہی ڈرائیور اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر فرار ہوگیا۔
پولیس کے مطابق جالے تھانہ کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ BR 30G 0464 نمبر کی پک اَپ گاڑی پر بھاری مقدار میں نیپالی شراب لاد کر جالے کی طرف لائی جا رہی ہے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے گاڑی کا تعاقب شروع کردیا۔ پولیس گاڑی کو پیچھے آتا دیکھ کر ڈرائیور نے پک اَپ کی رفتار مزید تیز کردی۔ تعاقب کے دوران گاڑی جب جالے گاندھی چوک کے قریب پہنچی تو اچانک اس کا ایک پہیہ نکل گیا، جس کے بعد گاڑی رک گئی۔ ڈرائیور پولیس کو چکمہ دے کر موقع سے فرار ہوگیا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی جالے تھانہ پولیس کے علاوہ ڈائل 112 کی دو گاڑیاں بھی موقع پر پہنچ گئیں اور شراب لدی پک اَپ کو قبضے میں لے لیا۔ جالے تھانہ کے صدرِ تھانہ سندیپ کمار پال نے بتایا کہ گاڑی کی تلاشی کے دوران ’صوفیہ‘ برانڈ کی 1683 بوتل نیپالی شراب برآمد ہوئی ہے۔ شراب کو گاڑی میں چھپا کر لایا جا رہا تھا۔ پولیس نے شراب سمیت پک اَپ کو ضبط کرکے تھانہ منتقل کردیا ہے۔
پولیس فرار ڈرائیور کی شناخت اور گرفتاری کے لیے ممکنہ ٹھکانوں پر چھاپہ ماری کر رہی ہے۔ خبر لکھے جانے تک ضبط شدہ شراب کی مجموعی مقدار اور اس کی بازاری قیمت کا تخمینہ لگایا جا رہا تھا۔ پولیس کی اس کارروائی سے شراب اسمگلنگ میں ملوث عناصر میں ہلچل مچ گئی ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network