علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے مختلف شعبوں نے عالمی یومِ دماغی صحت کے موقع پر علمی و بیداری سرگرمیوں کا اہتمام کیا۔
شعبہ تشریح و منافع الاعضاء کے مینٹل ہیلتھ کلب نے پوسٹ گریجویٹ طلبہ کے لیے ”دماغ و جسم کا باہمی تعلق: ذہنی صحت کا فزیالوجیکل نقطہ نظر“ موضوع پر مضمون نویسی مقابلہ منعقد کیا۔ اس میں ایم ڈی سالِ دوم کی ڈاکٹر حنا پروین نے اول انعام، ایم ڈی سالِ اول کی ڈاکٹر نازش نیاز نے دوم انعام اور ایم ڈی سالِ آخر کے ڈاکٹر ممتاز احمد نے سوم انعام حاصل کیا۔ مقابلے کے جج ڈاکٹر عبدالعزیز خان تھے۔
شعبہ کی جانب سے بنارس ہندو یونیورسٹی، وارانسی کے انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، فیکلٹی آف آیوروید کے شعبہ پرسوتی تنتر کی سربراہ پروفیسر دیپا مشرا کا ایک آن لائن لیکچر بھی منعقد کیا گیا۔ ”ذہنی صحت کے فروغ میں آیوش نظام ہائے علاج کا کردار“ موضوع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ذہنی صحت کو بہتر بنانے میں آیوش نظام ہائے علاج کی خدمات پر روشنی ڈالی۔
ایک دیگر لیکچر میں جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، اے ایم یو کے شعبہ کمیونٹی میڈیسن کے ڈاکٹر علی جعفر عابدی نے ”ذہنی بہبود کے لیے اسٹریس مینجمنٹ: روزمرہ کی زندگی کے عملی طریقے“ موضوع پر اظہارِ خیال کیا۔
دوسری جانب، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سنٹر، ملاپورم کے شعبہ تعلیم کے ہیلتھ کلب نے ایک دو روزہ پروگرام منعقد کیا۔ سنٹر کے ڈائریکٹر پروفیسر ایم شاہ الحمید نے پروگرام کا افتتاح کیا اور اساتذہ و طلبہ کے لیے ذہنی صحت کی اہمیت پر زور دیا۔ شعبہ تعلیم کے کورس کوآرڈینیٹر ڈاکٹر عبدالباسط پی پی نے صدارتی خطاب کیا، جبکہ ہیلتھ کلب کے انچارج ڈاکٹر محمد حارث سی نے استقبالیہ کلمات پیش کیے۔ شریک انچارج ڈاکٹر صدف جعفری نے ذہنی صحت سے متعلق شرکاء کو حلف دلایا۔
پروگرام میں ”امید کی کہانیاں“ کے عنوان سے ایک سرگرمی منعقد کی گئی، جس میں طلبہ کو ذہنی دباؤ والے حالات پر قابو پانے کے اپنے تجربات بیان کرنے کی ترغیب دی گئی۔ اس کے علاوہ ذہنی صحت سے متعلق عہد اور ”اسٹریس کا کوڑا دان“ سرگرمی کے ذریعے شرکاء کو اپنی پریشانیوں پر غور کرنے اور علامتی طور پر انہیں ترک کرنے کا موقع فراہم کیا گیا۔
طلبہ نے پوسٹر سازی کے مقابلے میں بھی حصہ لیا، جبکہ ”امید کی دیوار“ پر پیغامات آویزاں کیے گئے جن کے ذریعہ مشکلات کا سامنا کرنے کی صلاحیت، امید اور جذباتی بہبود کو فروغ دینے کا پیغام دیا گیا۔
اے ایم یو کے مختلف شعبوں کےتحت دماغی صحت سے متعلق بیداری پروگرام
