Connect with us

دیش

اے ایم یو میں ”ما بعد نوآبادیات اور عالمی بین الاقوامی تعلقات“ پر مبنی5 روزہ گیان کورس کا آغاز

Published

on

(پی این این)
علی گڑھ: علیگڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ سیاسیات نے گلوبل انیشیئیٹیو آف اکیڈمک نیٹ ورکس (گیان) پروگرام کے تحت ”مابعد نوآبادیات اور عالمی بین الاقوامی تعلقات“ کے موضوع پر پانچ روزہ کورس کا اہتمام کیا ہے جس کی افتتاحی تقریب، یوجی سی-ایم ایم ٹی ٹی سی میں منعقد ہوئی۔ ورکشاپ کا مقصد بین الاقوامی تعلقات پر غیر مغربی نقطہ نظر سے از سر نو غورو فکر کرنا اور دنیا بھر کے سیاسی مباحث میں تنقیدی مکالمے کو فروغ دینا ہے۔
افتتاحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے کہا، ”یہ کورس بین الاقوامی تعلقات کے مطالعے کو نوآبادیاتی اثرات سے آزاد کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ ہمیں غیر مغربی نقطہ نظر کو فروغ دینا چاہیے جو عالمی جنوب کی زمینی حقیقتوں کی عکاسی کرتا ہو“۔انہوں نے شعبہ سیاسیات کی اس پہل کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بین الاقوامی سطح کے اہم اسکالر کو مدعو کر کے معیاری علمی تجزیہ کا موقع فراہم کیا ہے، جس سے شرکاء کو خاطر خواہ فائدہ ہوگا۔
اس کورس کے بین الاقوامی ماہر، امریکن یونیورسٹی، واشنگٹن ڈی سی میں بین الاقوامی تعلقات کے ممتاز اسکالر پروفیسر امیتو آچاریہ ہیں۔ وہ عالمی بین الاقوامی تعلقات اور مابعد نوآبادیاتی مطالعات کے نمایاں ترین اسکالر ہیں۔ ان کے سیشنز میں عالمی نظام کے متبادل فریم ورک اور غیر مغربی معاشروں کی فکری خدمات جیسے موضوعات شامل ہوں گے۔ فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے ڈین پروفیسر اکرام حسین نے اس موقع پر کہا ”یہ ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے کہ پروفیسر آچاریہ اس علمی گفتگو کی قیادت کر رہے ہیں۔ ان کی علمی خدمات عالمی فکری دھارے میں ایک انقلابی تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہیں“۔
شعبہ سیاسیات کے صدر پروفیسر ایم نفیس انصاری نے مغرب پر مرکوز نظریات سے آگے بڑھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا ”یہ پروگرام نوجوان محققین کو عالمی امور میں تنقیدی فکر اپنانے اور متبادل بیانیے قائم کرنے کی تربیت دے گا“۔ گیان کے مقامی کوآرڈینیٹر پروفیسر جہانگیر وارثی نے ادارہ جاتی تعاون کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ گیان ایک طاقتور پلیٹ فارم ہے جو ہندوستانی اداروں کو عالمی علمی معیارات سے مربوط کرتا ہے۔اس پانچ روزہ کورس کے کوآرڈنیٹر شعبہ سیاسیات کے ڈاکٹر راحت حسن اور پروفیسر اسمر بیگ ہیں۔

دیش

پانچ کلو وزن ہواکم،وانگچک کے بھوک ہڑتال کا ساتواں دن

Published

on

نئی دہلی:جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کا دھرنا جاری ہے۔ ان کے اندولن کے ساتھ معروف سماجی خدمات گار سونم وانگچک بھی شریک ہوچکے ہیں آج ان کے بھوک ہڑتال کا ساتواں دن ہے۔ جس میں ان کا پانچ کلو وزن کم ہوگیا ہے۔ اس دوران سی جے پی نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبہ کو تیز کردیا ہے۔ واضح ہو کہ جنتر منتر پر طلبا نیٹ ، یوجی سمیت مقابلہ جاتی امتحانات میں بدعنوانی کولیکر مظاہرہ کررہے ہیں۔

Continue Reading

دیش

حکومت پر تنقید جمہوریت کا حصہ ، جرم نہیں : بمبئی ہائی کورٹ

Published

on

بمبئی ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ جمہوری نظام میں شہریوں کو حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف کرنے، اپنے خیالات کا اظہار کرنے اور پُرامن احتجاج کرنے کا آئینی حق حاصل ہے۔ صرف حکومت مخالف نعرے لگانے یا احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرنے کی بنیاد پر کسی شہری کو اس کے اپنے شہر سے بے دخل نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے اسی بنیاد پر مہاراشٹر پولیس کی جانب سے جاری ایک سالہ ایکسٹرنمنٹ (شہر بدری) کا حکم منسوخ کر دیا۔
یہ فیصلہ جسٹس مادھو جمدار کی بنچ نے سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے مہاراشٹر کے جنرل سیکریٹری اور سابق لوک سبھا امیدوار سعید احمد عبد الواحد چودھری کی درخواست پر سنایا۔ عدالت نے واضح کیا کہ انتظامی اختیارات کا استعمال شہریوں کے آئینی اور بنیادی حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے نہیں کیا جا سکتا۔
سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کی کارروائی اور اس کے جواز پر کئی اہم سوالات اٹھائے۔ جسٹس مادھو جمدار نے ریمارکس دیے کہ ہر شہری کو حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے، احتجاج کرنے اور اختلاف رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
عدالت نے سوال کیا کہ محض ’’بی جے پی حکومت مردہ باد‘‘ یا ’’امت شاہ مردہ باد‘‘ جیسے نعرے کسی شخص کے خلاف شہر بدری جیسی سخت کارروائی کی بنیاد کیسے بن سکتے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ جمہوریت میں اختلاف رائے کو دبانے کے بجائے اسے برداشت کرنا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔
جسٹس جمدار نے گزشتہ برسوں میں مختلف مسابقتی امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر عوام ایسے معاملات پر احتجاج کریں اور اس کے جواب میں ان پر مقدمات درج کیے جائیں تو یہ جمہوری اقدار کے مطابق نہیں ہوگا۔ عدالت نے واضح کیا کہ پولیس عوام کی خدمت کے لیے ہے اور اس کی جواب دہی شہریوں کے سامنے ہے، نہ کہ کسی سیاسی جماعت یا حکومت کے سامنے۔
اپنے تحریری فیصلے میں ہائی کورٹ نے کہا کہ حکومت کے بعض فیصلوں کی مخالفت کرنا کسی شخص کو اس کے رہائشی علاقے سے بے دخل کرنے کی قانونی بنیاد نہیں بن سکتا۔ عدالت کے مطابق ایسی کارروائی اظہارِ رائے کی آزادی اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔عدالت نے مشاہدہ کیا کہ درخواست گزار کے خلاف جاری کیے گئے ایکسٹرنمنٹ آرڈر کی اصل وجہ مختلف احتجاجی پروگراموں کا انعقاد اور ان میں شرکت تھی۔ عدالت نے کہا کہ صرف اسی بنیاد پر کسی شہری کے خلاف اتنی سخت انتظامی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔
سعید احمد عبد الواحد چودھری شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے)، نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی)، بابری مسجد تنازع، گیان واپی مسجد معاملہ، وقف بورڈ میں مبینہ بدعنوانی اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سمیت کئی عوامی مسائل پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں سرگرم رہے ہیں۔

Continue Reading

دیش

رام مندر کے بعد بدری ناتھ میں چڑھاوا چوری معاملہ ، کرمچاریوں سے جواب طلب

Published

on

نئی دہلیایودھیا کے رام مندر میں چڑھاوا چوری کا معاملہ چل ہی رہا ہے کہ اب معروف کیدار بدری ناتھ چڑھاوا چوری کا معاملہ بھی اجاگر ہوا ہے اس سلسلے میں انتظامیہ نے فوری طور پر کرمچاریوں کو نوٹس دیا ہے اور تین دن میں جواب دینے کو کہا ہے۔ غورطلب ہے کہ شری بدری ناتھ-کیدار ناتھ مندر کمیٹی (بی کے ٹی سی) نے معاملے کی تحقیقات کا حکم جاری کر دیا ہے۔ کمیٹی کے ایک عہدیدارکے مطابق دہرادون واقع ’بھیرو سینا‘ نامی تنظیم نے الزام عائد کیا ہے کہ بدری ناتھ دھام میں تعینات ایک ملازم عطیات اور نذرانوں کی رقم میں گڑبڑی کر رہا ہے۔ حالانکہ انتظامیہ کی جانب سے ان الزامات کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا ہے، لیکن معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے کمیٹی نے تحقیقات شروع کر دی ہے۔ ساتھ ہی عطیات کی رقم کی گنتی سے منسلک ملازمین سے بھی وضاحت طلب کی گئی ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network