تازہ ترین
نیو نوئیڈا کو350 کسان دیں گے اپنی زمینرجیم چینج کی بات کرنے میں کچھ غلط نہیں،نیہا بورا کی دہلی ہائی کورٹ میں دلیلاین ڈی اے اقتدار والی ریاستوں میں کیوں بڑھ رہا ہےنشہ؟،بی جے پی حکومت والے صوبے میں نشہ ختم کرنے کی تاریخ کریں مقرر، وزیر داخلہ امت شاہ پر اروند کجریوال کا سخت حملہبامبے ہائی کورٹ نے مولانا حلیم اللہ قاسمی کو دوبارہ پٹیشن داخل کرنے کی دی ہدایتایک ساتھ رہ سکتے ہیں سیاسی مقابلہ اور ثقافتی تعامل،دکن کی مسلم سلطنتوں میں غیر مسلموں کے ساتھ سلوک کے موضوع پرپروفیسر سید شاہ وحیداللہ کا خطاباے ایم یو کے ویمنس کالج میں سوچھتا پکھواڑہ کے تحت شجرکاری مہمجامعہ امام محمد انور شاہ دیوبند میں سالانہ انعامی اجلاستیج پرتاپ کے گھر پہنچے والد لالوپرساد یادو، بہن میساا ورر وہنی، نوراتری کے موقع پر مہا اشٹمی پرکیا پوجا پاٹھ کا اہتمام
دیش

اے ایم یو میں ”ما بعد نوآبادیات اور عالمی بین الاقوامی تعلقات“ پر مبنی5 روزہ گیان کورس کا آغاز

(پی این این)
علی گڑھ: علیگڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ سیاسیات نے گلوبل انیشیئیٹیو آف اکیڈمک نیٹ ورکس (گیان) پروگرام کے تحت ”مابعد نوآبادیات اور عالمی بین الاقوامی تعلقات“ کے موضوع پر پانچ روزہ کورس کا اہتمام کیا ہے جس کی افتتاحی تقریب، یوجی سی-ایم ایم ٹی ٹی سی میں منعقد ہوئی۔ ورکشاپ کا مقصد بین الاقوامی تعلقات پر غیر مغربی نقطہ نظر سے از سر نو غورو فکر کرنا اور دنیا بھر کے سیاسی مباحث میں تنقیدی مکالمے کو فروغ دینا ہے۔
افتتاحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے کہا، ”یہ کورس بین الاقوامی تعلقات کے مطالعے کو نوآبادیاتی اثرات سے آزاد کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ ہمیں غیر مغربی نقطہ نظر کو فروغ دینا چاہیے جو عالمی جنوب کی زمینی حقیقتوں کی عکاسی کرتا ہو“۔انہوں نے شعبہ سیاسیات کی اس پہل کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بین الاقوامی سطح کے اہم اسکالر کو مدعو کر کے معیاری علمی تجزیہ کا موقع فراہم کیا ہے، جس سے شرکاء کو خاطر خواہ فائدہ ہوگا۔
اس کورس کے بین الاقوامی ماہر، امریکن یونیورسٹی، واشنگٹن ڈی سی میں بین الاقوامی تعلقات کے ممتاز اسکالر پروفیسر امیتو آچاریہ ہیں۔ وہ عالمی بین الاقوامی تعلقات اور مابعد نوآبادیاتی مطالعات کے نمایاں ترین اسکالر ہیں۔ ان کے سیشنز میں عالمی نظام کے متبادل فریم ورک اور غیر مغربی معاشروں کی فکری خدمات جیسے موضوعات شامل ہوں گے۔ فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے ڈین پروفیسر اکرام حسین نے اس موقع پر کہا ”یہ ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے کہ پروفیسر آچاریہ اس علمی گفتگو کی قیادت کر رہے ہیں۔ ان کی علمی خدمات عالمی فکری دھارے میں ایک انقلابی تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہیں“۔
شعبہ سیاسیات کے صدر پروفیسر ایم نفیس انصاری نے مغرب پر مرکوز نظریات سے آگے بڑھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا ”یہ پروگرام نوجوان محققین کو عالمی امور میں تنقیدی فکر اپنانے اور متبادل بیانیے قائم کرنے کی تربیت دے گا“۔ گیان کے مقامی کوآرڈینیٹر پروفیسر جہانگیر وارثی نے ادارہ جاتی تعاون کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ گیان ایک طاقتور پلیٹ فارم ہے جو ہندوستانی اداروں کو عالمی علمی معیارات سے مربوط کرتا ہے۔اس پانچ روزہ کورس کے کوآرڈنیٹر شعبہ سیاسیات کے ڈاکٹر راحت حسن اور پروفیسر اسمر بیگ ہیں۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔