تازہ ترین
تیج پرتاپ کے گھر پہنچے والد لالوپرساد یادو، بہن میساا ورر وہنی، نوراتری کے موقع پر مہا اشٹمی پرکیا پوجا پاٹھ کا اہتمامانتخاب میں ہر ووٹر کو ہےووٹ دینے کا حق حاصل، کوسی گریجویٹ انتخابی حلقہ میں 20 ہزار ووٹروں کے اتحاد سے بی جے پی کودیا جاسکتا ہے سخت چیلنج: پرشانت کشورنوادہ میں پولیس ٹیم پر اینٹ اور پتھرسے حملہ، خاتون سپاہی کی ویڈیو بنانے پر بڑھا تنازع، 11 افراد گرفتارتعلیم کے بغیر ترقی کا تصور بھی ممکن نہیں:ڈی ای اوپٹنہ میں پی اے سی ایس صدر کا گولی مار کر قتل، فائرنگ کے بعد دسہرہ میلے میں بھگدڑ، بلاک پرمکھ بھی زخمینیہا بورا نے پولیس نوٹس کو ہائی کورٹ میں کیا چیلنجسوربھ داس اور رنکا کی عدالتی حراست میں توسیع’نکاح کو آسان اورفضول رسموں کا کریں خاتمہ‘، جمعیۃ علماء میرٹھ کی آسان نکاح مہم کے تحت اصلاحِ معاشرہ پروگرام
Bihar

انتخاب میں ہر ووٹر کو ہےووٹ دینے کا حق حاصل، کوسی گریجویٹ انتخابی حلقہ میں 20 ہزار ووٹروں کے اتحاد سے بی جے پی کودیا جاسکتا ہے سخت چیلنج: پرشانت کشور

(پی این این)
ارریہ: کوسی گریجویٹ انتخابی حلقہ کے انتخابات کے پیش نظر ارریہ میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ پیر کے روز سابق رکن پارلیمنٹ سرفراز عالم کی رہائش گاہ پر جن سوراج پارٹی کے بانی پرشانت کشور نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انتخابی حکمت عملی، گریجویٹ ووٹروں کی اہمیت اور علاقائی نمائندگی کے مسائل پر اپنی بات رکھی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر 20 ہزار ووٹر متحد ہوکر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں تو بی جے پی کے دو دہائیوں پرانے سیاسی اثر و رسوخ کو چیلنج کیا جاسکتا ہے۔ پریس کانفرنس کی صدارت سابق رکن پارلیمنٹ سرفراز عالم نے کی۔ اس موقع پر جن سوراج پارٹی کے قانون ساز کونسل امیدوار رجنیش رنجن سنگھ سمیت پارٹی کے متعدد حامی موجود تھے۔ پریس کانفرنس کے آغاز میں پرشانت کشور نے مہانومی کے موقع پر ہندو برادری کو مبارک باد پیش کی۔ اس کے بعد انہوں نے قانون ساز کونسل اور گریجویٹ انتخابی حلقہ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ریاست میں قانون سازی کے عمل میں قانون ساز کونسل کا بھی اہم کردار ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ماضی میں کوسی گریجویٹ انتخابی حلقہ کے انتخابات محدود دائرے میں سمٹے رہتے تھے۔ ان کے مطابق، بااثر سیاسی افراد اپنے حامیوں کے نام ووٹر فہرست میں درج کراتے تھے اور مالی وسائل کے ذریعے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے، جبکہ عام گریجویٹ ووٹروں میں اس انتخاب کے تئیں خاطر خواہ بیداری نہیں تھی۔ پرشانت کشور نے بتایا کہ کوسی گریجویٹ انتخابی حلقہ میں 14 اضلاع شامل ہیں اور یہاں تقریباً ایک لاکھ 36 ہزار گریجویٹ ووٹر ہیں۔ ان کے مطابق، ارریہ ضلع میں اب تک صرف 9 سے 10 ہزار ووٹروں کا اندراج ہوا ہے، حالانکہ ضلع میں اقلیتی آبادی کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹروں کی زیادہ سے زیادہ شرکت انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کوسی اور سیمانچل کے علاقے کو مناسب سیاسی نمائندگی نہ ملنے کا معاملہ بھی اٹھایا۔ پرشانت کشور کے مطابق، اس انتخابی حلقہ سے طویل عرصے تک بھاگلپور کے امیدوار کامیاب ہوتے رہے ہیں، اس لیے اب کوسی خطے کو بھی نمائندگی ملنی چاہیے۔
انہوں نے جن سوراج کے امیدوار رجنیش رنجن سنگھ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ سہرسہ کے رہنے والے ہیں اور اس مرتبہ کوسی علاقے سے امیدوار کی کامیابی کے لیے ووٹروں کو اپنی رائے کا استعمال کرنا چاہیے۔ انہوں نے سیمانچل کے اقلیتی ووٹروں سے انتخاب میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے اور متحد ہوکر ووٹ ڈالنے کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ووٹروں کی اجتماعی شرکت سے بی جے پی کو سیاسی چیلنج دیا جاسکتا ہے اور اس کا پیغام بہار سے لے کر دہلی تک پہنچ سکتا ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے ووٹنگ کے طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس انتخاب میں ہر ووٹر کو دو ووٹ دینے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے ووٹروں سے اپیل کی کہ وہ اپنی ترجیحات کے مطابق جن سوراج اور آر جے ڈی کے امیدواروں کو ترجیحی ترتیب میں ووٹ دیں۔ ان کے مطابق، دونوں امیدواروں کو ترجیح دینے سے بی جے پی کو چیلنج دینے کی حکمت عملی کو تقویت مل سکتی ہے۔
پرشانت کشور نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کوئی بھی ووٹ ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے ووٹر فہرست میں شامل افراد سے اپنے دونوں ووٹوں کا استعمال کرنے اور گاؤں و پنچایت کے دیگر اہل ووٹروں کو بھی ووٹ ڈالنے کے لیے بیدار کرنے کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابی عمل میں ہر ووٹ اہمیت رکھتا ہے۔
پریس کانفرنس کے اختتام کے بعد سابق رکن پارلیمنٹ سرفراز عالم، پرشانت کشور اور جن سوراج کے امیدوار رجنیش رنجن سنگھ مہادیو چوک واقع ایک ہوٹل پہنچے۔ وہاں انہوں نے اساتذہ ووٹروں سے خطاب کیا اور انتخاب سے متعلق اپنی باتیں ان کے سامنے رکھیں۔

متعلقہ خبریں