(پی این این)
ارریہ:گزشتہ کل یومِ سرسید احمد خان کی یومِ پیدائش کے موقع پر دینی وعصری تعلیم گاہ”کلیتہ الصالحات” ارریہ میں سرسید احمد خان، مہاتما گاندھی اور لال بہادر شاستری کی علمی، سیاسی وملی خدمات پر مضمون نویسی مقابلے کا انعقاد مولانا ڈاکٹر ضیاء الرحمن ضیاء مدنی، ادیب وپروفیسر توحید انصاری اور وائس پرنسپل احتشام کی نگرانی میں ہوا، اس مضمون نویسی مقابلہ میں دوگروپ درجہ سوئم سے درجہ ششم اور درجہ ہفتم سے درجہ دہم تک کی تقریباً پچاس طالبات نے حصہ لیا اور مذکورہ بالا شخصیات کی علمی، ادبی، مذہبی اور قومی وملی خدمات پر تحریری طور پر طبع آزمائی کیں، کیوں کہ مذکورہ شخصیات نے ملک ہندوستان کی تعلیمی، تہذیبی اور تمدنی معیار کو بام عروج تک پہنچانے اور عالمی سطح پر ملک ہندوستان کو ایک باوقار مقام حاصل کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جن کو آنے والی نسل کبھی بھی فراموش نہیں کرسکتی ہے بلکہ ان کی ہر طرح کی خدمات ہمارے لئے مشعل راہ ہیں اور اس پر چل کر اور اسے عملی جامہ پہنا کر ہم اپنے ملک ہندوستان کا نام ایک ترقی یافتہ ملک کی فہرست میں درج کرا سکتے ہیں۔ مضمون نویسی کے اختتام پر ان کے نگران حضرات نے انہیں خطاب بھی کیا۔
اس موقع پر مولانا ڈاکٹر ضیاء الرحمن ضیاء نے بچیوں سے کہا کہ سرسید احمد خان، مہاتما گاندھی، اور لال بہادر شاستری ہندوستان کی تاریخ کی وہ عظیم شخصیات ہیں جنہوں نے اپنی قومی، تعلیمی اور علمی خدمات سے برصغیر کے سماجی اور سیاسی منظر نامے کو یکسر بدل دیا۔ سرسید احمد خان برصغیر کے مسلمانوں کے ایک عظیم مصلح، فلسفی اور ماہرِ تعلیم تھے۔ مہاتما گاندھی نے خود سرسید کو “تعلیم کا پیغمبر” قرار دیا تھا، انہوں نے مسلمانوں کو جدید انگریزی علوم کی طرف راغب کرنے کے لیے “علی گڑھ تحریک” کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے 1859ء میں مراد آباد میں گلشن اسکول، 1863ء میں غازی پور میں وکٹوریہ اسکول اور 1875ء میں ایم اے او (MAO) کالج قائم کیا، جو بعد میں 1920ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بنا۔
انہوں نے 1864ء کو”سائنٹیفک سوسائٹی بنائی، اس سوسائٹی کا مقصد مغربی علوم کی اہم کتابوں کا اردو میں ترجمہ کرنا تھا تاکہ عام لوگ بھی جدید سائنس سے روشناس ہو سکیںں، انہوں نے معاشرتی اصلاح کے لئے رسالہ “تہذیب الاخلاق” جاری کیا اور 1857ء کی جنگِ آزادی کے پس منظر میں مشہور کتاب “اسبابِ بغاوتِ ہند” لکھی۔ انہوں نے جنگِ آزادی کے بعد کسمپرسی کا شکار مسلم قوم کو مایوسی سے نکالا اور انہیں جدید تعلیم کے ذریعے سیاسی و معاشی طور پر مستحکم کرنے کی بنیاد فراہم کی۔ اس موقع پر پروفیسر توحید انصاری نے بچیوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بابائے قوم موہن داس کرم چند گاندھی ہندوستان کی تحریکِ آزادی کے سب سے اہم ترین سیاسی اور روحانی قائد تھے، آپ نے برطانوی راج کے خلاف سچائی (ستیہ گرہ) اور عدم تشدد (Ahinsa) کو اپنا سب سے بڑا ہتھیار بنایا۔ آپ نے تحریکِ عدم تعاون (Non-Cooperation Movement)، نمک ستیہ گرہ (Dandi March)، اور ہندوستان چھوڑ دو تحریک (Quit India Movement) جیسی تاریخی تحریکوں کی قیادت کر کے انگریزوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کیا۔ بابائے قوم مہاتما گاندھی نے چھوا چھوت کے خاتمے، دلتوں کے حقوق اور ہندو مسلم اتحاد کے لئے زندگی بھر کام کیا۔ آپ نے بچیوں سے کہا کہ مہاتما گاندھی نے ہی “بنیادی تعلیم” کا تصور پیش کیا، جس کا مقصد بچوں کو دستکاری اور ہنر سکھا کر خود انحصار بنانا تھا اور سرسید ڈے پر یہاں کے وائس پرنسپل محمد احتشام صاحب نے بچیوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لال بہادر شاستری ہندوستان کے دوسرے وزیر اعظم اور تحریکِ آزادی کے ایک انتہائی ایماندار اور نڈر رہنما تھے۔ شاستری جی محض 16 برس کی عمر میں گاندھی جی کی آواز پر اپنی تعلیم ترک کر کے تحریکِ عدم تعاؤن میں کود پڑے اور متعدد بار جیل گئے، انہوں نے ہی 1965ء کی پاک بھارت جنگ اور ملک میں اناج کی شدید قلت کے دوران “جے جوان، جے کسان” کا تاریخی نعرہ دیا تھا۔ انہوں نے فوجیوں کا حوصلہ بڑھانے کے ساتھ ساتھ کسانوں کو اناج کی پیداوار بڑھانے کے لئے متحرک کیا۔ انہوں نے امریکہ کی جانب سے اناج کی سپلائی روکنے کی دھمکی پر ملک کو خود کفیل بنانے کے لئے اقدامات کئے اور عوام سے ہفتے میں ایک وقت بھوکا رہنےکی اپیل کی۔ آپ نے مزید کہا کہ شاستری جی نے کاشی ودیا پیٹھ سے شاستری (اسکالر) کی علمی ڈگری حاصل کی، جو بعد میں ان کے نام کا حصہ بن گئی۔ آخر میں وائس پرنسپل موصوف نے بچیوں کو مطلع کیا کہ ازیں قبل ہمارے ادارہ میں ایک تقریری مقابلہ ہوا تھا اور آج مضمون نویسی کا مقابلہ عمل میں آیا، جس پر آپ نے ان شخصیات پر اپنا قلمبند کیا ہے، ان دونوں مقابلے میں کامیاب ہونے والے اور پوزیشن لانے والی طالبات انعامات اور اعزازات سے نوازے جائیں گے۔
ارریہ میں مضمون نویسی مقابلے کا انعقاد، ہندوستان کی علمی، سیاسی وملی شخصیات نے ملک ہندوستان کو بام عروج تک پہنچانے میں اداکیا اہم کردار: مقررین
