تازہ ترین
جامعہ رحمانی تعلیم و تربیت اور اصلاح و تزکیہ کا روشن مرکز، مولانا عبداللہ سالم چترویدی کی جامعہ رحمانی مونگیر آمد، طلبہ و اساتذہ سے خطاب،فکر و نظر ٹی وی اسٹوڈیو کا کیامعائنہسیمانچل کے تعلیمی، سماجی اور معاشی ترقی کیلئے ہمیں متحدہ طور پرکرنی ہوگی کوشش : منوج وشواشآفات سے ہونے والی اموات پرملے گادوگنا معاوضہ، ایسے معاملات میںاب 8لاکھ روپے دے گی ریاستی حکومت ،وزیراعلیٰ نے فصلوں اور مویشیوں کے نقصان پر امدادی رقم میں بھی کیا اضافہجعلی نوٹ چھاپنے کی فیکٹری کا پردہ فاش، چاول مل میں چھاپے جارہے تھے جعلی نوٹ، چھاپہ ماری میں 100، 200 اور 500 روپے کے نوٹ بڑی مقدار میں برآمداذان اور بھجن کے لیے لاؤڈ اسپیکر کی اجازت کا مطالبہ، مرزاپور سمیت متعدد دیہی علاقوں کے وفد نے ڈی ایم سے کی ملاقاتایک ادیب، ناقد، افسانہ نگار کے ساتھ ساتھ ایک اچھا انسان ہم سےہوگیا جدا :پروفیسر ارتضیٰ کریم، شعبہ اردو سی سی ایس یونیورسٹی میرٹھ میں ”صبا اکرام: تعزیتی جلسہ“ پر آن لائن پرو گرام کا انعقادمانو ایوننگ کالج میںنئے یو جی کورسز کے ساتھ پی جی کورس بھی ہوں گےشروع : پروفیسر سید عین الحسنانجمن اسلام آلانا انگلش ہائی اسکول نے 130ویں ہیرس شیلڈ مسلسل تیسری مرتبہ درج کی جیت
Bihar

’مہاتما گاندھی ہندوستان کی روح اور گنگا جمنی تہذیب کے روشن مینار‘

(پی این این)
پٹنہ: گاندھی شانتی پرتشٹھان سے وابستہ سینئرماہرین تعلیم اورعہدیداروں کے ایک وفد نے ہفتہ کے روزخانقاہ پیردمڑیا شاہ پہنچ کر سجادہ نشیں سید شاہ فخرعالم حسن سے ملاقات کی۔ اس موقع پرانہیں بھاگلپورکی روایتی منجوشا آرٹ سے مزین کپڑے پیش کرکے اعزازسے نوازا گیا۔ ملاقات کے دوران مہاتما گاندھی کے نظریات، سچائی،عدم تشدد، ہندومسلم اتحاد اورقومی یکجہتی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سید شاہ فخرعالم حسن نے کہا کہ مہاتما گاندھی محض ایک شخصیت یا کسی مخصوص دور کے مفکر نہیں تھے، بلکہ وہ ہندوستان کی روح، بھارتی تہذیب کے اخلاقی شعور اور کروڑوں ہم وطنوں کے دلوں کی دھڑکن ہیں۔ ان کی شخصیت ملک کی گنگا جمنی تہذیب، باہمی بھائی چارے اور مذہبی رواداری کی ایسی روشن مثال ہے، جس سے آنے والی نسلیں بھی رہنمائی حاصل کرتی رہیں گی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ دورمیں سماج کو محبت، بھائی چارے اور قومی اتحاد کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ گاندھی جی کے نظریات کو صرف کتابوں اور سیمیناروں تک محدود رکھنے کے بجائے تعلیمی نظام اور روزمرہ کی سماجی زندگی کا حصہ بنایا جانا چاہیے، تاکہ ان کے پیغام کو عملی طور پر اپنایا جا سکے۔سجادہ نشیں نے خانقاہ پیر دمڑیا شاہ اور مہاتما گاندھی کے تاریخی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ جب گاندھی جی بھاگلپور آئے تھے، اس وقت ان کی ملاقات خانقاہ کے بزرگوں، حضرت سید شاہ فخر عالم اور حضرت سید شاہ شرف عالم سے ہوئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ یہ تعلق تحریک آزادی اور سماجی ہم آہنگی کی ایک اہم مثال ہے۔ تقریباً دو سال قبل مہاتما گاندھی کے پڑپوتے تشار گاندھی بھی خانقاہ تشریف لائے تھے، جس سے اس تاریخی اور قلبی رشتے کی روایت آج بھی برقرار ہے۔
واضح رہے کہ 30 ستمبر سے 2 اکتوبر تک ’’علم، ہنر اور روایت: گاندھیائی فکر کا معاصر تناظر‘‘ کے موضوع پر تین روزہ بین الاقوامی سیمینار منعقد کیا گیا تھا۔ اس میں سید شاہ فخر عالم حسن کو خصوصی مہمان کی حیثیت سے مدعو کیا گیا تھا، لیکن مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے مذہبی سفر پر ہونے کی وجہ سے وہ ذاتی طور پر شرکت نہیں کر سکے تھے۔سید شاہ فخر عالم حسن نے سیمینار کے کامیاب انعقاد پر گاندھی شانتی پرتشٹھان اور منتظمین کو مبارک باد پیش کی۔ اس موقع پر پروفیسر منوج کمار، تقی جاوید، ڈاکٹر امیش پرساد نیرج سجاد خان، ڈاکٹر روی شنکر کمار چودھری، سید محمد کاشف اور محمد احمد سمیت دیگر افراد موجود تھے۔

متعلقہ خبریں