Connect with us

uttar pradesh

ہما ری یونیورسٹی ملک میں رکھتی ہے اپنی ممتاز شناخت:پروفیسر اسلم جمشیدپوری

Published

on

(پی این این)
میرٹھ:اپنے ملک کی یونیورسٹیز کی لایبریریوں میں جب ہم دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان کے مقابلے میں اس یونیورسٹی کی خصوصیات اپنے آپ میں بڑی اہم ہیں۔ اس پروگرام میں شامل تمام مہمانان کا میں استقبال کرتا ہوں۔ اسلم صاحب کے یہاں اچھے پروگرام ہوتے رہتے ہیں۔ جب یہ یونیورسٹی بنی اور یہاں تحقیقی کام شروع ہوئے تو یہ طے کیا گیا کہ اچھے ریسرچ اسکالر یہاں سے نکلیں۔ میں جب اس یونیورسٹی میں آ یا تو اس وقت یہاں 400 کے قریب طالب علم تھے اب یہ تعداد بڑھ کر تقریباً سات ہزار ہو گئی ہے۔
یہاں بہت سے پروفیشنل کورس چل رہے ہیں روز بروز ترقی ہو رہی ہے۔ چوبیس گھنٹے بجلی اور پانی کی سہولیات موجود ہیں۔ ہمارے المنائی دیش کے ٹاپ نمبر پر ہیں۔ یہاں سے نکلنے والے طالب علم اور اسکالر کا کام دیگر ممالک میں بڑا مشہور ہے۔ میرٹھ یو نیورسٹی کے آس پاس سے تقریباً چار یا پانچ ہزار لوگ مارننگ واک کے لیے آ تے ہیں جو یہاں کی ہریالی اور خوش حال ماحول میں گھومتے ہیں۔یہ الفاظ تھے ڈین فیکلٹی آف آرٹس سی سی ایس یو کے پروفیسر اتویر سنگھ کے جو شعبہئ اردو اور ایو ساکے زیر اہتمام منعقد ”چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی کی تعلیمی خدمات“ موضوع پراپنی صدارتی تقریر کے دوران ادا کررہے تھے۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغازسعید احمد نے تلا وت کلام پاک سے کیا۔پروگرام کی سرپرستی بین الاقوامی شہرت یافتہ ناقدڈاکٹر تقی عابدی(کناڈا)، معروف ناقد و افسانہ نگار اور صدر شعبہئ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری اور پروفیسر صغیر افراہیم نے فرمائی اور صدارت کے فرائض ڈین فیکلٹی آف آرٹس،سی سی ایس یونیورسٹی پروفیسر اتویر سنگھ نے انجام دیے۔ مہمان ِ اعزازی کے بطور صدر شعبہئ لائبریری سائنس پروفیسر جمال احمد صدیقی اور معروف فکشن نگار امیر مہدی،انگلینڈ، نے آن لائن شرکت کی۔مقرر کے بطور معروف تاریخ داں اور صدر شعبہئ تاریخ پروفیسر کے کے شرمانے شرکت فرمائی۔
موضوع کا تعارف کراتے ہوئے ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے کہا کہ آج کا پروگرام چودھری چرن سنگھ یو نیورسٹی کی تعلیمی خدمات پر مشتمل ہے۔ اس یونیورسٹی کو اونچائیوں تک لے جانے میں یہاں کی موجودہ وائس چانسلر پروفیسر سنگیتا شکلا ف،یکلٹیز ڈین صاحبان،سینیئر پروفیسر اور افسران اپنے فرائض عمدہ طریقے سے نبھا کر یونیورسٹی کی تعلیمی خدمات میں چار چاند لگا رہے ہیں۔ اسی محنت کا نتیجہ ہے کہ یو نیورسٹی کو اے پلس پلس رینک ملا ہوا ہے۔ یہ سبھی حضرات مبارک باد کے مستحق ہیں۔
معروف ادیب و ناقد پروفیسر اسلم جمشید پوری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہما ری یونیورسٹی آج پو رے ہندوستان میں اپنی شناخت رکھتی ہے۔ ہمارے یہاں کے بہت سے پروفیسر آج کے موضوع پر گفتگو کریں گے۔ ہما ری وائس چانسلر کی تحقیق بڑی اہم ہے۔ ہمارے بہت سے شعبے ایسے ہیں جن کی پہچان دور دور تک ہے۔ یو نیورسٹی کی ترقی میں ہماری وائس چانسلر نے اہم کردار ادا کیا ہے اور202ایکڑ میں پھیلی یہ یونیورسٹی اپنے اہم کارناموں کی وجہ سے جانی جارہی ہے۔
کناڈا سے ڈاکٹر تقی عابدی نے کہا کہ آج کے اس دور میں جب اردو کانوں کی زبان بنتی جارہی ہے اردو کا مسئلہ آ نکھوں کی زبان بنانے کے لیے یونیورسٹی کا کنٹری بیوشن ضروری ہے۔ اردو کو تہذیب اور کلچر سے جوڑتا ہے۔ آج کے دور میں ہمیں سخت مزاج نہیں ہونا چاہئے بلکہ سب کو قبول کرنا چاہئے۔ سب کو مل کر اردو ادب کی خد مت کرنا ہے۔یونیورسٹی کے کاموں کو دیکھ کر لگتا ہے یہ اپنی نوعیت کی اہم یونیورسٹی ہے۔پروگرام سے ڈاکٹر آصف علی، سیدہ مریم الٰہی،شاہِ زمن، اور دیگر طلبہ و طالبات جڑے رہے۔

 

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

uttar pradesh

اردو ادب سوسائٹی نے مختلف اشخاص کو پیش کی مبارک باد

Published

on

امروہہ:اپنی سماجی اور ادبی سرگرمیوں کے ایک حصے کے طور پر، اردو ادب سوسائٹی کے ایک وفد نے شہر کی ممتاز شخصیات اور ہونہار نوجوانوں سے ملاقات کی اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔
سوسائٹی کے ارکان نے سب سے پہلے سابق میونسپل صدر ڈاکٹر افسر پرویز کی رہائش گاہ پر ان کی خیریت دریافت کی۔ قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر افسر پرویز کا حال ہی میں دل کا آپریشن ہوا ہے۔ اراکین نے ان کی جلد صحت یابی اور درازی عمر کے لیے دعا کی۔
اس کے بعد، سوسائٹی نے تعلیم کے میدان میں شہر کا نام روشن کرنے والی طوبہ جاوید کے گھر کا دورہ کیا اور انہیں NEET کے امتحان میں شاندار کامیابی پر مبارکباد دی۔ سوسائٹی کے اراکین نے طوبہ اور اس کے والد فیصل جاوید کو مبارکباد دی اور ان کے روشن مستقبل کی خواہش کی۔
اس سلسلے میں سوسائٹی نے ڈاکٹر سراج ہاشمی کو قانون کی ڈگری حاصل کرنے پر خصوصی طور پر مبارکباد پیش کی اور ان کی نئی تعلیمی کامیابی کو سراہا۔
اس موقع پر سوسائٹی کے صدر کوثر علی عباسی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔اگرچہ بیماروں اور بوڑھوں کی خیریت دریافت کرنا ہماری روایت کا حصہ ہے، لیکن یہ ہمارا اخلاقی فرض ہے کہ ہم ہونہار نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کریں۔ جب ہماری نئی نسل تعلیم اور مختلف شعبوں میں کامیابیاں حاصل کرتی ہے تو اس سے پورے معاشرے کا نام روشن ہوتا ہے۔ اردو ادب سوسائٹی ہمیشہ ایسے باصلاحیت نوجوانوں کے ساتھ کھڑی رہے گی۔
اس موقع پر حاجی نسیم احمد خان، خالد صدیقی، قیصر علی عباسی، حمزہ عباسی اور سوسائٹی کے دیگر عہدیداران اور معززین موجود تھے۔

Continue Reading

uttar pradesh

منوج سنگھل قدیم ٹھاکر دوارہ مندر سمیتی کے صدر منتخب

Published

on

دیوبند:دیوبندکے مشہور ومعروف سماجی خدمتگار منوج سنگھل کو قدیم شری ٹھاکر دوارہ مندر سمیتی کا صدر منتخب کیا گیا ہے ۔ان کے ساتھ ساتھ آشوتوش گپتا کو جنرل سکریٹری ،اجے کمار بٹو کو خازن اور راکیش اگروال کو نائب صدر مقرر کیا گیا ہے ۔ان سبھی عہدیداران کا انتخاب اتفاق رائے سے کیا گیا ہے ۔
تفصیل کے مطابق جمعہ کے روز مندر کے احاطہ میں برہم سنگھ پنڈیر ایڈوکیٹ کی صدارت میں سمیتی کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی ۔ سالہاسال سے چلے آرہے عہدیداران کے استعفیٰ کے بعد نئی مجلس عاملہ تشکیل دی گئی ۔میٹنگ کے دوران شری کرشن شوبھا یاترا کی تیاریوں اور مندر کی دوسری سرگرمیوں سے متعلق بھی تبادلۂ خیال کیا گیا ۔
واضح ہوکہ منوج سنگھل دیوبند کے مشہور ومعروف فینسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں وہ پہلے سے ہی نگر ادیوگ ویاپار منڈل پریس ایسوسی ایشن دیوبند اور اگر وال سماج کے صدر ہیں ۔اس کے علاوہ منوج سنگھل قدیم شیو ششو مندر کے صدر اور دیوبند میونسپل بورڈ کے سینئر رکن بھی ہیں ۔اس کے علاوہ مختلف سماجی اور مذہبی تنظیموں میں بھی وہ سرگرم رول ادا کررہے ہیں ۔نومنتخب صد رمنوج سنگھل نے کہا کہ نئی مجلس عاملہ کی تشکیل کامقصد مندر کی زیادہ سے زیادہ خدمات انجام دینا اورسمیتی کی سرگرمیوں کوآگے بڑھانا ہے ۔انہوںنے بتایا کہ سمیتی کی جانب سے چلائے جانے والے آنکھوں کے اسپتال میںبہت جلد جدید قسم کی مشینیں لگائی جائیں گی ۔تاکہ آنکھوںکے مریضوںکو بہتر علاج مہیاکرائے جاسکے ۔
میٹنگ میںونود پرکاش گپتا ،اشوک گپتا ،شروند سنگھل ،رادھے شیام گر گ ،مکیش گرگ ،رشی پال کشیپ ،پون دھیمان سشیل منگل ،پون ہری ،راجیو گپتا ،اجے گپتا ،ورون گرگ اور ابھینائو گوئیل سمیت بڑی تعداد میںسمیتی کے ارکان موجود رہے ۔

Continue Reading

uttar pradesh

قرآن نے انسانیت کو دی سب سے بڑی بریکنگ نیوز : خطیب محمد اقبال

Published

on

آگرہ: مسجد نہر والی، سکندرا کے خطیب محمد اقبال نے آج خطبۂ جمعہ میں نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قرآنِ کریم نے پوری انسانیت کو سب سے بڑی بریکنگ نیوز قیامت کی خبر کی صورت میں دی ہے، تاکہ انسان اس عظیم دن کی تیاری کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ انسان کے لیے اس سے بڑی اور اہم خبر کوئی نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے بتایا کہ قرآنِ کریم میں قیامت کا لفظ تقریباً 70 مرتبہ آیا ہے، جبکہ مختلف دیگر ناموں جیسے الساعۃ، یوم الدین، یوم الفصل، یوم البعث، یوم الخروج، یوم الجمع، یوم الحساب، الطامۃ الکبریٰ، الواقعۃ، الحاقۃ اور القارعۃ کے ساتھ مجموعی طور پر تقریباً 250 مرتبہ اس دن کا ذکر کیا گیا ہے، جو اس کی غیر معمولی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔
محمد اقبال نے کہا کہ قرآنِ مجید نے قیامت کے مناظر اس انداز میں بیان کیے ہیں کہ گویا انسان اپنی آنکھوں سے انہیں دیکھ رہا ہو۔ لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں مصروف ہوں گے، کوئی گھر میں، کوئی بازار میں اور کوئی مجلس میں، مگر اچانک اللہ تعالیٰ کے حکم سے دنیا کا نظام ختم ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ قرآن نے واضح کر دیا ہے کہ یہ دنیا عارضی ہے اور ایک دن ضرور فنا ہو جائے گی۔ قیامت کی جو نشانیاں بیان کی گئی ہیں، وہ دراصل انسانیت کے لیے الارم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نبی اکرم ﷺ کی بعثت بھی قیامت کے قریب ہونے کی ایک بڑی علامت تھی، جسے تقریباً پندرہ سو سال گزر چکے ہیں، تاہم قیامت کا حقیقی وقت صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اور وہی اس کا علم رکھتا ہے۔
خطیب نے کہا کہ قیامت پر ایمان اسلام کے بنیادی عقائد میں شامل ہے، اسی لیے قرآنِ کریم بار بار آخرت کی یاد دلاتا ہے تاکہ انسان دنیا کی غفلت میں مبتلا نہ ہو۔ دنیا کی یہی زندگی آخرت کی دائمی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کرے گی۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ قرآنِ کریم کی اس عظیم خبر پر سنجیدگی سے غور کریں، اپنی زندگیوں کا محاسبہ کریں اور آخرت کی تیاری میں لگ جائیں۔
انہوں نے کہا کہ اب وحی نازل نہیں ہوگی اور نہ ہی حضرت جبرئیلؑ خبر لے کر آئیں گے، قرآنِ کریم ہمارے درمیان موجود ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسے سمجھیں، اس پر غور کریں اور اس کی تعلیمات پر عمل کریں۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network