Connect with us

uttar pradesh

گنگا ایکسپریس وے پرایک اور المناک سڑک حادثہ، باپ- بیٹی کی دردناک موت،ایک ہی خاندان کے متعددافراد زخمی

Published

on

امروہہ:(پی این این) اتر پردیش کے امروہہ میں گنگا ایکسپریس وے پر اتوار کی علی الصبح ایک دل دہلا دینے والا سڑک حادثہ پیش آیا، جس میں پنجاب کے موہالی کے رہنے والے ایک ہی خاندان کے آٹھ زخمیوں میں سے باپ بیٹی سمیت دو افراد کی دردناک موت ہو گئی، جبکہ چار دیگر شدید طور پر زخمی ہو گئے۔
موصولہ معلومات کے مطابق، سید نگلی تھانہ علاقے کے تحت ترارا گاؤں کے قریب بریلی کے ’منونا دھام‘ سے درشن کر کے چنڈی گڑھ لوٹ رہے عقیدت مندوں کی تیز رفتار میجک پک اپ گاڑی اچانک بے قابو ہو کر سڑک پر پلٹ گئی، جس کے بعد ایکسپریس وے پر چیخ و پکار مچ گئی۔ بدقسمتی سے، گاڑیوں کے ٹکرانے کی آواز سن کر مقامی لوگ جب تک بچاؤ اور مدد کے لیے دوڑے، پیچھے سے آنے والی ایک تیز رفتار کار اور ٹیمپو ٹریولر سڑک پر تڑپتے ہوئے زخمیوں کو روندتے ہوئے نکل گئیں۔ اس کے بعد ایک کے بعد ایک کئی گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں، جس سے چیخ و پکار کے بیچ ایکسپریس وے پر صورتحال مزید خوفناک ہو گئی۔
پک اپ گاڑی کو پیچھے سے ٹکر مارنے والے ٹیمپو ٹریولر میں مدھیہ پردیش کے ضلع جھابوا کے رانا پور گاؤں کے 18 لوگ سوار تھے، جو ایودھیا سے درشن کر کے ہری دوار جا رہے تھے اور وہ بھی اس حادثے کا شکار ہو گئے۔
اس حادثے میں پنجاب کے موہالی کے رہنے والے لکشمن (30) اور ان کی بیٹی آشا کی ہسپتال لے جاتے وقت راستے میں ہی موت ہو گئی۔ جاں بحق لکشمن کی بیوی سریتا، دیپک، دیپیکا، راہل، پانچ سالہ پری، ساڑھے تین سالہ نیتک اور چار سالہ خوشپریت سمیت کئی دیگر لوگ اس حادثے میں شدید زخمی ہوئے ہیں۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس فورس فوری طور پر موقع پر پہنچی اور ایمبولینس کی مدد سے تمام زخمیوں کو قریبی کمیونٹی ہیلتھ سنٹر میں داخل کرایا، جہاں سے شدید زخمی سریتا سمیت دیگر کو بہتر علاج کے لیے ہائر سینٹر ریفر کر دیا گیا ہے۔
پولیس نے لاشوں کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے اور حادثے کی اطلاع پنجاب کے موہالی میں ان کے رشتہ داروں کو دے دی ہے۔ ایکسپریس وے پر ٹریفک کو بحال کرنے کے لیے گاڑیوں کو کرین کی مدد سے جے پال سنگھ بابو جی چوک کے پاس منگرولہ ٹول پلازہ پر کھڑا کرا دیا گیا ہے۔ معاملے میں مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

uttar pradesh

سماجی انصاف اور آئین کے تحفظ کی جدوجہد کو مزید مضبوط کرنے کا عزم

Published

on

سنبھل:آل انڈیا اقلیتی کانگریس کے زیراہتمام ترین کیمپس میں ایک اہم ضلعی سطحی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ یہ کانفرنس 27 جولائی 2026 کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر دلت اور اقلیتی کانگریس کی طرف سے منعقد ہونے والے زبردست احتجاج کی تیاری اور کارکنوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنانے کے لیے منعقد کی گئی تھی۔اس تقریب کے مہمان خصوصی اتر پردیش اقلیتی کانگریس کے ریاستی جنرل سکریٹری ناصر چودھری تھے۔
پروگرام کی صدارت ضلع کانگریس کمیٹی سنبھل کے صدر محمد عارف پردھان نے کی اور نظامت عارف خان تنویر نے کی۔مہمان خصوصی جناب ناصر چوہدری نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج ملک میں آئین، جمہوریت، سماجی انصاف اور دلتوں، اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کے حقوق پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں۔ کانگریس پارٹی نے ہمیشہ ملک کے اتحاد، بھائی چارے اور آئینی اقدار کے تحفظ کی کوشش کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 27 جولائی کو جنتر منتر پر ہونے والا احتجاج عوامی مفاد، سماجی انصاف اور آئین کے تحفظ کے عزم کی علامت ہوگا۔ انہوں نے اس تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے سنبھل ضلع کے تمام کانگریس اراکین اور اقلیتی کانگریس کارکنوں سے بڑی تعداد میں دہلی پہنچنے کی اپیل کی۔اپنے صدارتی خطاب میں ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر جناب محمد عارف ترکی نے کہا کہ کانگریس پارٹی سماج کے ہر طبقے کی آواز کو مضبوطی سے بلند کرنے کا کام کر رہی ہے۔
کانگریس نے ہمیشہ دلتوں، اقلیتوں، کسانوں، نوجوانوں، خواتین اور سماج کے پسماندہ طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کی ہے اور لڑتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ تنظیمی طاقت کانگریس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ انہوں نے تمام عہدیداروں اور کارکنوں پر زور دیا کہ وہ تنظیم کو بوتھ کی سطح تک مضبوط کریں اور 27 جولائی کو جنتر منتر کے احتجاج میں بڑی تعداد میں پہنچ کر کامیاب بنائیں۔
کانفرنس میں تنظیم کی مضبوطی، آئندہ سیاسی پروگرام، عوامی رابطہ مہم اور دلت اور اقلیتی برادریوں سے متعلق مختلف مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ تمام کارکنوں نے متحد ہو کر کانگریس پارٹی کے نظریہ کو عوام تک پہنچانے اور سماجی انصاف اور آئین کے تحفظ کی جدوجہد کو مزید مضبوط کرنے کا عزم کیا۔اس موقع پر ضلع کانگریس کمیٹی سنبھل کے صدر محمد عارف ترکئی، مشیر خان ترین ،عارف خان تنویر، ضلع صدر اقلیتی، ضلع نائب صدر سنیل یادو، ضلع نائب صدر اشرف انصاری، سابق سٹی صدر توقیر احمد، ضلع نائب صدر ڈی کے۔ والمیکی، سلیم سیفی، سٹی صدر چندوسی سنجیو ساہو، پروشوتم پال، یوتھ کانگریس کے ضلع نائب صدر امت کمار، ریاستی نائب صدر آر ٹی آئی ڈپارٹمنٹ اٹھاول، راشد سیفی، محمد ارشاد، نعمان حیدر، تحصیل سیفی، راحت جان، تابن خان، سرفراز سیفی، نعیم انصاری، نعیم انصاری، عرفان خان اور دیگر موجود تھے۔
کسان مورچہ کے ضلع صدر عقیل احمد، حاجی مرغوب عالم، سٹی صدر شیوکشور گوتم، قاسم خان، ڈاکٹر مرغوب کے علاوہ کانگریسی عہدیداران، اقلیتی کانگریس کارکنان اور سینئر کانگریسی بڑی تعداد میں موجود تھے۔

Continue Reading

uttar pradesh

انصاف اور حقوق کے لیے اپنا پرچم اور اپنی آزاد قیادت کو مضبوط کریں

Published

on

دیوبند: مجلس اتحاد المسلمین کے قومی صدر اسد الدین اویسی نے ہفتہ کی شام سہارنپور منعقدہ مجلس کے ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اتر پردیش اسمبلی انتخابات2027 کے لیے اپنی جماعت کی انتخابی مہم کا باضابطہ آغاز کر دیا۔ اس موقع پر ہزاروں کارکنان اور حامی موجود تھے، جبکہ پارٹی نے بی جے پی کو روکنے کے لیے ہم خیال جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے بھی واضح اشارے دیے۔اپنے خطاب میں اسد الدین اویسی نے محمد علی جوہر یونیورسٹی کے خلاف مجوزہ کارروائی پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اگر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کیا جاتا ہے تو اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نہیں چاہتی کہ مسلمان تعلیم یافتہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اتر پردیش ملک کی سب سے بڑی ریاست ضرور ہے، لیکن یہاں شرح خواندگی سب سے کم ہے، جبکہ مسلمانوں میں گریجویٹ افراد کی تعداد صرف تقریباً ساڑھے تین سے ۵ فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے تعلیمی اداروں کو منہدم کرنے کے بجائے انہیں قانونی طور پر باقاعدہ (ریگولرائز) کیا جانا چاہیے، کیونکہ ان اداروں کے بند ہونے کا سب سے زیادہ نقصان طلبہ کو ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ محمد علی جوہر یونیورسٹی میں اس وقت تقریباً تین ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ اگرچہ اعظم خان اور ان کے بیٹے انتخابات نہیں لڑ سکتے، لیکن حکومت کو وہاں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے مستقبل کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ اویسی نے اپنی تقریر میں کہا کہ کسی بھی قوم کو انصاف اسی وقت ملتا ہے جب اس کا اپنا پرچم اور اپنی آزاد قیادت ہو۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ صرف نمائندوں کی تعداد نہیں بلکہ ایسے نمائندوں کا ہونا ہے جو اپنے ضمیر کے مطابق آواز بلند کر سکیں۔ انہوں نے اس موقع پر ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کا بھی ذکر کرتے ہوئے آزاد سیاسی قیادت کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی آبادی ملک میں تقریباً 19 فیصد ہے، لیکن شرح تعلیم انتہائی کم ہے، خصوصاً مسلم خواتین کی شرح خواندگی سب سے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے بغیر کسی بھی قوم کی ترقی ممکن نہیں اور اسی لیے تعلیمی اداروں کا تحفظ ناگزیر ہے۔اپنے خطاب میں اویسی نے تعلیم، روزگار، سیاسی نمائندگی، آئینی حقوق اور سماجی انصاف جیسے موضوعات پر بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت اتر پردیش میں ایک خودمختار اور بااختیار سیاسی قیادت تیار کرنا چاہتی ہے، تاکہ محروم طبقات کی آواز مؤثر انداز میں ایوانوں تک پہنچ سکے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنی سیاسی طاقت کو پہچانیں، تعلیم کو ترجیح دیں اور ایسے نمائندوں کا انتخاب کریں جو بے خوف ہو کر ان کے حقوق کی بات کر سکیں۔ اسد الدین اویسی نے اپنے انداز میں تقریر کرتے ہوئے سماجوادی پارٹی کانگریس کے ساتھ ساتھ دیگر جماعتوں کو بھی نشانے پر لیا، ساتھ ہی انہوں نے مقامی سیاستدانوں پر بھی سخت تنقید کی۔ جلسے کے دوران اے آئی ایم آئی ایم کے مغربی اتر پردیش کے صدر مہتاب چوہان نے بھی خطاب کیا۔ اسد الدین اویسی کے انتخاب جلسے میں زبردست بھیڑ رہی اور بے قابو بھیڑ کو کنٹرول کرنے کے لیے پولیس کو لاٹھی کا سہارا لینا۔ یہاں کارکنان کی بھاری تعداد موجود تھی اور بھیڑ بے قابو ہو گئی اور حامی اپنے لیڈر کو دیکھنے کے لیے بے قابو ہو گئے، حالانکہ بعد میں پروگرام بحسن خوبی اختتام کو پہنچا۔

Continue Reading

uttar pradesh

لوک جن شکتی پارٹی (پاسوان ) اسمبلی الیکشن میں اتارے گی امیدوار

Published

on

دیوبند:اترپردیش میں آئندہ سال ہونے والے اسمبلی الیکشن کے مدنظر لوک جن شکتی پارٹی (پاسوان ) نے اپنی تیاریوں کو تیز کردیا ہے۔
پارٹی کے قومی صدر اور مرکزی وزیر چراغ پاسوان نے اترپردیش کے پارٹی انچارج اور ایم پی ارون بھارتی کے ساتھ ملاقات کرکے الیکشن کی پالیسی سے متعلق کافی غور وفکر کیا ۔
اس میٹنگ میں شرکت کرنے کے بعد جمعہ کے روز دیوبند واپس آنے پر لوک جن شکتی پارٹی کی خواتین سیل کی صوبائی صدر پوجا گرگ نے بتایا کہ قومی صدر چراغ پاسوان نے پارٹی کے سبھی عہدیداران سے اپنے اپنے اسمبلی حلقوں میں پارٹی کی تشہیر کرنے اور عوامی بہبود کی پالیسیوں کو لوگوں تک پہنچانے کی اپیل کی ہے ۔پوجا گرگ نے بتایا کہ منعقدہ میٹنگ میں آنے والی اسمبلی الیکشن میں لوک جن شکتی پارٹی کی بہتر کارکردگی کے لئے سبھی 403؍ سیٹوں پر سیاسی بساط بچھانے کی تیاری کے لئے ہدایات دی گئیں ہیں ۔
انہوں نے بتایا کہ گفتگو کے دوران قومی صدر نے واضح کیا کہ لوک جن شکتی پارٹی اترپردیش میں پوری قوت کے ساتھ الیکشن لڑے گی انہوں نے کہا کہ پارٹی چاہے اپنے دم پر تنہا الیکشن لڑے یا کسی کے ساتھ اتحاد کرکے الیکشن کے میدان میں اترے دونوں صورتوں میں ان کا مقصد اترپردیش میں اپنی پہچان بنانا اور تنظیم کو مضبوط کرنا ہے ۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network