Connect with us

uttar pradesh

’مسلم قیادت ورائے دہندگان‘کے عنوان سے تجزیاتی ڈبیٹ کا انعقاد

Published

on

(پی این این)
دیوبند:مظفر نگر کے ہندی اخبار وویدھ وچار اور اردو ڈیجیٹل پیج نقوش عمل کے مشترکہ اہتمام سے شاہ اسلامک اکیڈمی کے ہال میں پانچ ریاستوں کے صوبائی انتخابات کے نتائج اور مسلم قیادت ورائے دہندگان کے وجود وکردار کے عنوان سے ایک تجزیاتی میڈیا ڈبیٹ کا انعقاد کیا گیا ۔
ضلع مظفر نگر میں اپنی نوعیت کا پہلا پروگرام تھا جس میں موجودہ ملکی سیاسی صورتحال اور مسلم سیاسی وملی قیادت کے کردار اور مسلم ووٹرز کے وجود و انتخابات میں کردار اور نتائج پر آزادانہ گفتگو کی گئی ۔ڈبیٹ میں سیاسی وملی اور سماجی شخصیات نے خیالات کے اظہار اور سوالات کے جوابات دیے ۔ڈبیٹ میں گفتگو اور تجزیہ کاروں میں گل بہار ملک ایڈووکیٹ ایم آئی ایم، شاہ فیصل قریشی کانگریس ،دلشاد قریشی سماج وادی، ماسٹر دانش قریشی، محبوب عالم ایڈووکیٹ مفتی عبد الستار قاسمی، ماسٹر اختر خان، نقوش عمل کے ایڈیٹر قاری محمد خالد بشیر قاسمی ،وودھ وچار ہندی کے ایڈیٹر سہیل احمد خان نے بھر پور حصہ لیا ۔
ڈبیٹ میں حصہ لیتے ہوئے کبھی تجزیہ نگاروں وسیاسی جماعتوں کے کارکنان نے انتخابات میں نفرت انگیز تقاریر اور نعروں کے عام استعمال پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا ،نیز قومی وسائل کا بیدریغ استعمال پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا ۔انتخابات میں پرتشدد واقعات کی کمی اور قابو پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ۔ وہیں سبھی سیکولر جماعتوں کے کارکنان آپسی عدم اتحاد پر ایک دوسرے کو موردالزام ٹھہراتے ہوئے نظر آئے ۔
سیاسی جماعتوں کے کارکنان ای وی ایم مشین کے ذریعے شفاف انتخابات پر شکوک وشبہات پر زور دار بحث بھی کرتے نظر آئے ۔پانچ ریاستوں کے حالیہ صوبائی انتخابات کے نتائج خصوصاً مغربی بنگال اور آسام کے انتخابات میں مسلم سیاسی جماعتوں و سیکولر پارٹیوں کے طریقہ کار سے مایوس نظر آئے ۔ملی ذمہ داران نے سیکولر پارٹیوں کے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے اور عام ووٹر کو اپنے رویوں سے مایوس کرنے کا الزام لگایا ۔اسی کے ساتھ مسلم سیاسی جماعتوں کے ایکشن میں حکمت عملی اور محتاط تدابیر کے فقدان کی حد درجہ کمی کو بھی انکی ناکامی کا بڑا سبب قرار دیا۔ بحث میں شریک سماجی نمائندوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک وملت کے انتہائی فیصلہ کن دور اور نازک وقت میں ملی تنظیموں ومذہبی شخصیات کا منظر نامے سے غائب ہو جانا اور عوام الناس کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ دینا مسلم ووٹرز کو تکلیف دہ صورتحال سے دوچار کرناہے ۔
مسلم ووٹرز کی اہمیت اور وجود کو نادان دوست اور دانا دشمنوں نے بے وزن اور پرزہ بے کار پن بنادیا ہے ۔ ڈبیٹ میں انتخابات کے نتائج سے گھٹتی مسلم و سیکولر سیاسی نمائندگی پر انتہائی فکر مند ی کا اظہار کیا گیا اور سبھی شرکاء نے تمام سیکولر پارٹیوں، مسلم سیاسی جماعتوں ،ملی تنظیموں مذہبی شخصیات اور سماجی کارکنوں سے امید ظاہر کی کہ وہ جلد اپنے مفادات سے بالاتر ہو کر ملک اور عوام کی خاطر متحدہ حکمت عملی اور طریقہ کار طے کریں گے۔

uttar pradesh

یوپی پنچایتی انتخاب کے لیے حتمی ووٹر لسٹ جاری، 40 لاکھ سے زائد ووٹروں کا ہوا اضافہ،1.41 کروڑ لوگوں کے نام فہرست سے خارج

Published

on

(پی این این)
لکھنؤ:اتر پردیش میں ہونے والے پنچایتی انتخاب کے لیے ووٹرس کی حتمی لسٹ آج جاری کر دی گئی ہے۔ یہ فہرست ضلعی سطح پر جاری کی گئی ہے، جس میں ووٹرس کو 9 ہندسوں کا شناختی نمبر دیا گیا ہے۔ اس فہرست میں 40.19 لاکھ ووٹرس کا اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ 1.41 کروڑ ووٹرس کے نام فہرست سے خارج کر دیے گئے ہیں۔
ریاستی الیکشن کمیشن نے یوپی میں سہ سطحی پنچایتی انتخاب کے لیے حتمی ووٹر لسٹ جاری کی ہے۔ یہ فہرست تمام دعووں اور اعتراضات کے تصفیے اور تصدیق کے بعد جاری کی گئی ہے۔ یہ فہرست ضلع وار جاری کی گئی ہے لیکن کئی اضلاع سے فہرست کے ڈاؤن لوڈ نہ ہونے کی شکایتیں موصول ہو رہی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ تکنیکی خامی کے باعث فہرست ڈاؤن لوڈ ہونے میں پریشانی ہو رہی ہے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ حتمی ووٹر لسٹ تمام دعووں اور اعتراضات کے تصفیے اور تصدیق کے بعد جاری کی گئی ہے۔ اس سے قبل کمیشن نے 18 دسمبر 2025 کو عبوری ووٹر لسٹ جاری کی تھی۔ رپورٹس کے مطابق حتمی ووٹر لسٹ میں تقریباً 1.81 کروڑ نئے ووٹرس شامل کیے گئے ہیں۔ جبکہ 1.41 کروڑ ووٹرس کے نام فہرست سے ہٹائے گئے ہیں۔ اس طرح سے پنچایتی انتخاب کی ووٹر لسٹ میں تقریباً 40.19 لاکھ ووٹرس کا اضافہ ہوا ہے۔ حتمی ووٹر لسٹ جاری ہونے کے بعد ریاست میں پنچایتی انتخاب کے متعلق آگے کا عمل شروع ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ اس بار الیکشن کمیشن کے ذریعہ ووٹرس کو 9 ہندسوں کا شناختی نمبر دیا گیا ہے، جس سے انتخابی عمل کو مزید شفاف اور منظم طریقے سے مکمل کیا جا سکے گا۔ قابل ذکر ہے کہ یوپی میں فی الحال پنچایتی انتخاب ملتوی کر دیے گئے ہیں۔ پنچایتوں میں او بی سی ریزرویشن کی صورتحال واضح نہ ہونے کی وجہ سے گرام پردھانوں کو 6 ماہ کے لیے ایڈمنسٹریٹر بنا دیا گیا ہے۔ دوسری جانب اس معاملے پر ہائی کورٹ میں بھی سماعت ہو رہی ہے۔

Continue Reading

uttar pradesh

پریاگ راج میں شدید آندھی اور طوفان سے گر گئےکئی درخت، آمدورفت متاثر

Published

on

(پی این این)
پریاگ راج: اتر پردیش میں پریاگ راج کے میجا تحصیل علاقے میں منگل کی رات آنے والے تیز آندھی اور طوفان نے عام زندگی کو درہم برہم کر دیا۔ تیز ہواؤں کی وجہ سے کئی مقامات پر درخت گر گئے، جس سے اہم راستوں پر آمدورفت (ٹریفک) معطل ہو گئی اور لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
وکاس کھنڈ اروا کے سوراؤں گاؤں کے پاس میجا روڈ-بایاں سرسا مارگ پر انڈر پاس پلیا کے قریب ایک بڑا نیم کا درخت سڑک پر گر گیا۔ اس سے یہ راستہ پوری طرح بند ہو گیا۔ راہگیروں اور گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو لمبا چکر لگا کر اپنی منزل تک پہنچنا پڑا، جبکہ کئی گاڑیاں دیر تک جام میں پھنسی رہیں۔ اسی طرح پوسیا چوہان کے پاس بھی درخت گرنے سے آمدورفت متاثر ہوئی۔میجا روڈ ریلوے اسٹیشن محلے کے رہائشی بھولا گپتا کا ٹھیلہ تیز آندھی میں پلٹ گیا، جس سے انہیں معاشی نقصان پہنچا۔ تیز ہواؤں اور دھول بھری آندھی کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں میں ہی قید رہے۔
آندھی اور طوفان کے باعث علاقے میں بجلی کی سپلائی بھی معطل ہو گئی۔ کئی مقامات پر درخت گرنے سے صورتحال مزید سنگین بنی ہوئی ہے۔آندھی کے بعد ہونے والی ہلکی بارش سے حبس والی گرمی سے کچھ راحت ملی۔ موسم میں ٹھنڈک آنے سے لوگوں نے تھوڑا سکون محسوس کیا، لیکن طوفان سے ہونے والے نقصان نے ان کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔

Continue Reading

uttar pradesh

بہرائچ :سڑک حادثہ میں4افراد ہلاک،المناک واقعہ میں10 افرادزخمی،3 کی حالت تشویشناک

Published

on

(پی این این)
بہرائچ:اتر پردیش کے ضلع بہرائچ میں ایک المناک سڑک حادثے کے نتیجے میں چار افراد ہلاک جبکہ دس دیگر زخمی ہو گئے۔ یہ دردناک حادثہ اس وقت پیش آیا جب ایک تیز رفتار ٹرک اور مسافر بس کے درمیان آمنے سامنے شدید تصادم ہو گیا۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق ریاستی ٹرانسپورٹ کی ایک مسافر بس لکھنؤ سے روپئیڈیہا جا رہی تھی۔ بس جب بہرائچ کے بھگوان پور چوراہے کے قریب پہنچی تو سامنے سے آنے والے ایک بے قابو اور تیز رفتار ٹرک نے اسے زور دار ٹکر مار دی۔ حادثے کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ بس اور ٹرک دونوں بری طرح تباہ ہو گئے۔ تصادم کے نتیجے میں بس میں سوار متعدد مسافر شدید زخمی ہو گئے، جبکہ چار افراد موقع پر ہی یا دورانِ علاج جان کی بازی ہار گئے۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی ہرڈی پولیس، ضلعی انتظامیہ اور امدادی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔ ریسکیو کارروائی کے دوران زخمیوں کو گاڑیوں سے نکال کر فوری طبی امداد کے لیے کمیونٹی ہیلتھ سینٹر رمپوروا منتقل کیا گیا۔ اس کے بعد جن افراد کی حالت زیادہ نازک تھی، انہیں بہتر علاج کے لیے ضلع اسپتال اور بہرائچ میڈیکل کالج ریفر کر دیا گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق تین زخمیوں کی حالت انتہائی تشویشناک بنی ہوئی ہے اور انہیں خصوصی طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔
بہرائچ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ وشواجیت چودھری نے حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق چار افراد ہلاک اور دس زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زخمیوں کا علاج بہرائچ میڈیکل کالج میں جاری ہے، جہاں ڈاکٹروں اور طبی عملے کی ٹیمیں انہیں ہر ممکن طبی سہولت فراہم کر رہی ہیں۔ انتظامیہ متاثرہ خاندانوں کی مدد اور زخمیوں کے علاج کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔
بہرائچ پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثے کے فوراً بعد تمام زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی اور سینئر پولیس و انتظامی افسران موقع پر موجود رہ کر صورتحال کی نگرانی کرتے رہے۔ پولیس نے حادثے کے بعد ٹریفک کی روانی بحال کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے اور تباہ شدہ گاڑیوں کو سڑک سے ہٹا دیا گیا تاکہ آمد و رفت متاثر نہ ہو۔
پولیس نے مقدمہ درج کرکے حادثے کی وجوہات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی طور پر ٹرک کی تیز رفتاری اور بے قابو ہونے کو حادثے کی ممکنہ وجہ قرار دیا جا رہا ہے، لیکن حتمی نتیجہ مکمل تحقیقات کے بعد سامنے آئے گا۔ اس افسوسناک حادثے کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا پائی جا رہی ہے، جبکہ مقامی انتظامیہ نے عوام سے ٹریفک قوانین کی پابندی اور محتاط ڈرائیونگ کی اپیل کی ہے تاکہ ایسے جان لیوا حادثات سے بچا جا سکے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network