تازہ ترین
خواتین کے وقار کے معاملے پر کانگریس کا دوہرا معیار: بانسری سوراجپٹنہ میں 11 تھانوں کے 72 پولیس اہلکاروں کی تنخواہیں روکنے کا حکم، مقررہ ہدف پورا نہ کرنے پر ایس پی کی بڑی کارروائیاےایم یو الومنائی ایسوسی ایشن، ارریہ کے زیرِ اہتمام منعقدہ مقابلہ میں ضلع کے 18اسکول کے طلبہ اور طالبات نے لیا حصہمجلس شعرادب کشن گنج کے زیرِ اہتمام تقریب تقسیم ایوارڈ کا انعقاد,پروفیسر انور ایرج، رضی احمد تنہا اور رضوان ندوی ایوارڈ سے سرفرازجنتر منتر اب ہوا خاموش،نہیں کر سکیں گے احتجاجدہلی ہائی کورٹ کا پولیس سے سوال، اے پی سی آر کے سکریٹری ندیم خان کی مبینہ حراست پر نوٹسجیور ہوائی اڈے سے بین الاقوامی پروازیںہوں گی شروعطالبات کی شکایات کا موثر ازالہ بنانا حکومت کی اولین ترجیح: ریکھا
uttar pradesh

’مسلم قیادت ورائے دہندگان‘کے عنوان سے تجزیاتی ڈبیٹ کا انعقاد

(پی این این)
دیوبند:مظفر نگر کے ہندی اخبار وویدھ وچار اور اردو ڈیجیٹل پیج نقوش عمل کے مشترکہ اہتمام سے شاہ اسلامک اکیڈمی کے ہال میں پانچ ریاستوں کے صوبائی انتخابات کے نتائج اور مسلم قیادت ورائے دہندگان کے وجود وکردار کے عنوان سے ایک تجزیاتی میڈیا ڈبیٹ کا انعقاد کیا گیا ۔
ضلع مظفر نگر میں اپنی نوعیت کا پہلا پروگرام تھا جس میں موجودہ ملکی سیاسی صورتحال اور مسلم سیاسی وملی قیادت کے کردار اور مسلم ووٹرز کے وجود و انتخابات میں کردار اور نتائج پر آزادانہ گفتگو کی گئی ۔ڈبیٹ میں سیاسی وملی اور سماجی شخصیات نے خیالات کے اظہار اور سوالات کے جوابات دیے ۔ڈبیٹ میں گفتگو اور تجزیہ کاروں میں گل بہار ملک ایڈووکیٹ ایم آئی ایم، شاہ فیصل قریشی کانگریس ،دلشاد قریشی سماج وادی، ماسٹر دانش قریشی، محبوب عالم ایڈووکیٹ مفتی عبد الستار قاسمی، ماسٹر اختر خان، نقوش عمل کے ایڈیٹر قاری محمد خالد بشیر قاسمی ،وودھ وچار ہندی کے ایڈیٹر سہیل احمد خان نے بھر پور حصہ لیا ۔
ڈبیٹ میں حصہ لیتے ہوئے کبھی تجزیہ نگاروں وسیاسی جماعتوں کے کارکنان نے انتخابات میں نفرت انگیز تقاریر اور نعروں کے عام استعمال پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا ،نیز قومی وسائل کا بیدریغ استعمال پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا ۔انتخابات میں پرتشدد واقعات کی کمی اور قابو پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ۔ وہیں سبھی سیکولر جماعتوں کے کارکنان آپسی عدم اتحاد پر ایک دوسرے کو موردالزام ٹھہراتے ہوئے نظر آئے ۔
سیاسی جماعتوں کے کارکنان ای وی ایم مشین کے ذریعے شفاف انتخابات پر شکوک وشبہات پر زور دار بحث بھی کرتے نظر آئے ۔پانچ ریاستوں کے حالیہ صوبائی انتخابات کے نتائج خصوصاً مغربی بنگال اور آسام کے انتخابات میں مسلم سیاسی جماعتوں و سیکولر پارٹیوں کے طریقہ کار سے مایوس نظر آئے ۔ملی ذمہ داران نے سیکولر پارٹیوں کے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے اور عام ووٹر کو اپنے رویوں سے مایوس کرنے کا الزام لگایا ۔اسی کے ساتھ مسلم سیاسی جماعتوں کے ایکشن میں حکمت عملی اور محتاط تدابیر کے فقدان کی حد درجہ کمی کو بھی انکی ناکامی کا بڑا سبب قرار دیا۔ بحث میں شریک سماجی نمائندوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک وملت کے انتہائی فیصلہ کن دور اور نازک وقت میں ملی تنظیموں ومذہبی شخصیات کا منظر نامے سے غائب ہو جانا اور عوام الناس کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ دینا مسلم ووٹرز کو تکلیف دہ صورتحال سے دوچار کرناہے ۔
مسلم ووٹرز کی اہمیت اور وجود کو نادان دوست اور دانا دشمنوں نے بے وزن اور پرزہ بے کار پن بنادیا ہے ۔ ڈبیٹ میں انتخابات کے نتائج سے گھٹتی مسلم و سیکولر سیاسی نمائندگی پر انتہائی فکر مند ی کا اظہار کیا گیا اور سبھی شرکاء نے تمام سیکولر پارٹیوں، مسلم سیاسی جماعتوں ،ملی تنظیموں مذہبی شخصیات اور سماجی کارکنوں سے امید ظاہر کی کہ وہ جلد اپنے مفادات سے بالاتر ہو کر ملک اور عوام کی خاطر متحدہ حکمت عملی اور طریقہ کار طے کریں گے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔