دلی این سی آر
یکم جنوری 2025 تک قائم ہونے والی تمام کچی آبادیوں کوکیا جائے گا بحال:ریکھا
نئ دہلی:دہلی کی کچی آبادیوں میں رہنے والوں کے لیے بڑی خوشخبری ہے۔ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کچی آبادیوں کی بحالی کے سلسلے میں ایک بڑا فیصلہ لیا ہے۔ اس فیصلے کے مطابق یکم جنوری 2025 تک قائم ہونے والی تمام کچی آبادیوں کے رہائشیوں کو بحالی کے فوائد حاصل ہوں گے۔ یہ فیصلہ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی صدارت میں دہلی اربن شیلٹر امپروومنٹ بورڈ (DUSIB) کی 36ویں بورڈ میٹنگ میں لیا گیا۔ یہ فیصلہ دریائے جمنا کے کنارے 91 کالونیوں میں رہنے والے لاکھوں لوگوں کے لیے اہم راحت پہنچاتا ہے، جنہیں بلڈوزر کارروائی کے خطرے کا سامنا تھا۔
یہ کالونیاں جمنا کے سیلابی میدان میں واقع ہیں۔ مرکزی حکومت نے 31 دسمبر 2026 تک انہدام پر روک لگا دی تھی۔ اسی دوران، دہلی ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ جمنا کے سیلابی میدان میں، یعنی زون او میں کوئی رہائشی کالونی منظور نہیں کی جا سکتی ہے۔ نتیجتاً، عدالت نے مرکزی حکومت کی شہری ترقی اور ہاؤسنگ کی وزارت سے کہا کہ وہ فوری طور پر اس کے تحفظ کا فیصلہ کرے۔ عدالت نے ڈی ڈی اے کو یہ بھی ہدایت دی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ وہاں کوئی غیر قانونی تعمیر نہ ہو۔اس سے قبل، دہلی سلم اور جھگی جھوپڑی کی بحالی اور آباد کاری کی پالیسی، 2026 کو مرکزی اور دہلی حکومتوں کے درمیان میٹنگ میں حتمی شکل دی گئی تھی۔ اس کے تحت پہلے مرحلے میں پانچ کچی آبادیوں کی بحالی کے لیے منصوبہ بنایا گیا تھا۔ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا کہ پہلے مرحلے میں، پالیسی کے تحت پانچ جے جے کلسٹروں کے لیے بحالی کے منصوبے شروع کیے جائیں گے اور انہیں بنیادی شہری سہولیات جیسے کہ اسکول، صحت کے مراکز، کھیل کے میدان اور آنگن واڑی مراکز فراہم کیے جائیں گے۔
ایک اہلکار نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں جن کلسٹروں کی نشاندہی کی گئی ہے وہ مشرقی دہلی کے میور وہار، شمال مشرقی دہلی میں سیلم پور، شمال مغربی دہلی میں سلطان پوری، جنوب مشرقی دہلی میں لاجپت نگر اور شمالی دہلی کے پتم پورہ میں واقع ہیں۔سی ایم ریکھا گپتا نے اعلان کیا تھا کہ دہلی حکومت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) پر مبنی کم از کم پانچ بحالی پروجیکٹوں کے لیے ہر ماہ ٹینڈر بھی جاری کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ بحالی کالونیاں بنیادی شہری سہولیات سے آراستہ ہوں گی جن میں اسکول، صحت کے مراکز، کھیل کے میدان اور آنگن واڑی مراکز شامل ہیں۔
دلی این سی آر
رام مندر میں چڑھاوے کی مبینہ چوری سے ہر سناتنی انتہائی دکھی: اروند کیجریوال
نئی دہلی:عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال آئندہ جمعہ کو رام للا کے درشن کے لیے ایودھیا جائیں گے۔ رام مندر کے چڑھاوے میں مبینہ چوری کا معاملہ سامنے آنے کے بعد اروند کیجریوال کا یہ پہلا دورۂ ایودھیا ہوگا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر اس سلسلے میں جانکاری شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ایودھیا واقع شری رام مندر میں چڑھاوے کی مبینہ چوری سے ہر سناتنی بہت زیادہ دکھی ہے، لہٰذا وہ جمعہ کو شری رام مندر جا کر درشن کریں گے۔ اتوار کو بھی اروند کیجریوال نے رام مندر کے چڑھاوے میں کروڑوں روپے کی مبینہ چوری پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے اس واقعے کو کروڑوں ہندوؤں کے عقیدے اور مذہبی جذبات پر ضرب قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایودھیا کے رام مندر سے کروڑوں روپے کے چڑھاوے کی چوری کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق تقریباً 200 کروڑ روپے نقد رقم مبینہ طور پر چوری ہوئی ہے، جبکہ ہیرے اور جواہرات سے بھرے کئی صندوق بھی غائب بتائے جا رہے ہیں۔ اس کے باوجود اب تک اس معاملے میں کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔ نہ اتر پردیش پولیس نے کوئی مقدمہ درج کیا ہے اور نہ ہی ای ڈی یا سی بی آئی نے اس سلسلے میں کوئی کارروائی کی ہے۔اروند کیجریوال نے مزید کہا تھا کہ لوگ بتا رہے ہیں کہ اس معاملے میں بہت بڑے بڑے نام شامل ہیں اور اگر غیر جانبدارانہ اور صحیح طریقے سے کارروائی کی گئی تو حکومت بھی گر سکتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ملک کی عوام فیصلہ کرے کہ کسے بچایا جانا چاہیے، حکومت کو یا کروڑوں لوگوں کے عقیدے اور آستھا کو؟
دلی این سی آر
میناکشی شرما کی جے ای کے ساتھ بدتمیزی ، بی جے پی حکومت کی کارروائی محض دکھاوا:انکش نارنگ
نئی دہلی: دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) میں عام آدمی پارٹی کے قائد حزبِ اختلاف انکش نارنگ نے شاہدرہ ساؤتھ زون کے بلڈنگ ڈپارٹمنٹ میں تعینات جونیئر انجینئر (جے ای) روہت ناگپال کے ساتھ بی جے پی کونسلر میناکشی شرما کی جانب سے مبینہ بدتمیزی اور دباؤ ڈالنے کے واقعے کو انتہائی سنگین قرار دیا ہے۔انہوں نے بی جے پی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کرنے والے افسران کو سیاسی دباؤ، دھمکیوں اور مداخلت کا سامنا کرنا پڑے گا تو دہلی میں قانون کی حکمرانی کیسے قائم ہوگی؟ انکش نارنگ نے کہا کہ ایک طرف بی جے پی غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کے بڑے بڑے دعوے کرتی ہے، جبکہ دوسری طرف اس کے عوامی نمائندوں پر انہی افسران کو ڈرانے اور ان پر دباؤ ڈالنے کے الزامات لگ رہے ہیں جو غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔ یہ نہایت تشویشناک صورتحال ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں غیر قانونی تعمیرات کی وجہ سے مسلسل حادثات پیش آ رہے ہیں۔متعدد افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں اور بے شمار خاندان متاثر ہوئے ہیں۔ ایسے وقت میں ضرورت اس بات کی ہے کہ افسران کو غیر جانبدارانہ اور آزادانہ انداز میں کام کرنے دیا جائے، نہ کہ انہیں سیاسی دباؤ کے تحت لانے کی کوشش کی جائے۔ انکش نارنگ نے کہا کہ بی جے پی کی حکمرانی والی ایم سی ڈی میں بدعنوانی اور غیر قانونی تعمیرات کے حوالے سے مسلسل سوالات اٹھتے رہے ہیں۔
اگر کوئی افسر قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی کرتا ہے اور اسی کو ہراساں کیا جاتا ہے تو اس سے یہ پیغام جاتا ہے کہ بی جے پی غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ انہیں تحفظ فراہم کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے میونسپل کمشنر سے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور اگر کسی عوامی نمائندے نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے کسی افسر پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی ہے تو اس کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے۔ ساتھ ہی ایم سی ڈی انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے کہ تمام افسران کسی بھی سیاسی مداخلت کے بغیر قانون اور ضابطوں کے مطابق اپنے فرائض انجام دے سکیں۔ انکش نارنگ نے کہا کہ عام آدمی پارٹی دہلی میں شفاف، جوابدہ اور بدعنوانی سے پاک انتظامیہ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور غیر قانونی تعمیرات کو تحفظ فراہم کرنے والی کسی بھی سیاست کی مخالفت کرتی رہے گی۔
دلی این سی آر
لائسنس اور این او سی کیلئے نہیں لگانے پڑیں گے دفاتر کے چکر:ریکھا
(پی این این)
نئی دہلی:دہلی حکومت نے گڈ گورننس، شفافیت اور عوامی سہولیات کو مضبوط کرنے کی سمت میں اہم قدم اٹھاتے ہوئے 23 نئی خدمات کو دہلی رائٹ آف سٹیزن ٹو ٹائم باؤنڈ ڈیلیوری آف سروسز ایکٹ، 2011کے تحت مقررہ وقت میں خدمات کی فراہمی کے نظام میں شامل کیا ہے۔وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے پیر کو کہا کہ اس فیصلے سے عام شہریوں کے ساتھ ساتھ صنعت، تجارت، ہوٹل، سیاحت، تعمیرات اور سروس سیکٹر سے جڑے کاروباریوں اور عام لوگوں کو براہ راست فائدہ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ دہلی حکومت کا مقصد شہریوں اور کاروباریوں کو سرکاری خدمات مقررہ وقت کے اندر فراہم کرنا ہے۔ اب مختلف محکموں سے ملنے والی اہم اجازت، لائسنس، رجسٹریشن اور نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) طے شدہ وقت کے اندر جاری کیے جائیں گے۔ اس سے غیر ضروری تاخیر اور دفاتر کے چکر لگانے کے مسئلے میں کمی آئے گی۔ حکومت ملک کے دارالحکومت دہلی کو سرمایہ کاری، تجارت اور روزگار کے لیے مزید سازگار بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ مقررہ وقت میں خدمات کی فراہمی کا یہ نظام نہ صرف شہریوں کے حقوق کو یقینی بنائے گا بلکہ انتظامی جوابدہی کو بھی مضبوط کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک میں ایز آف ڈوئنگ بزنس کو فروغ دینے کے لیے مسلسل اصلاحات کی گئی ہیں۔ مرکزی حکومت کی اسی سوچ کو آگے بڑھاتے ہوئے دہلی حکومت بھی ایسے نظام تیار کر رہی ہے جس سے صنعتوں، تجارتی اداروں، اسٹارٹ اپس اور سروس سیکٹر کو زیادہ آسان ماحول مل سکے۔اب نئے نظام کے تحت محکمہ محنت میں فیکٹری پلان کی منظوری 15 دنوں میں اور شاپ اینڈ اسٹیبلشمنٹ ایکٹ کے تحت رجسٹریشن صرف ایک دن میں کیا جائے گا۔ دہلی جل بورڈ کے ذریعہ سیوریج کنکشن 15 دنوں میں فراہم کیا جائے گا، جبکہ دہلی ٹورازم اینڈ ٹرانسپورٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ذریعہ فلم کی شوٹنگ کی اجازت 15 دنوں کے اندر دی جائے گی۔ اس کے علاوہ محکمہ توانائی کے تحت بجلی کے میٹر سے متعلق درخواست اور کنکشن کے معاہدے کا عمل 60 دنوں میں مکمل کیا جائے گا۔ لیگل میٹرولوجی کے تحت دکانوں، صنعتوں اور تجارتی اداروں میں استعمال ہونے والے ناپ تول کے آلات کی رجسٹریشن کا کام 45 دنوں میں پورا کیا جائے گا۔ دہلی پلوشن کنٹرول کمیٹی (ڈی پی سی سی) کے ذریعہ بیٹری ویسٹ مینجمنٹ قوانین کے تحت بیٹری کے فضلے کو جمع کرنے، ذخیرہ کرنے، ٹرانسپورٹیشن اور ری سائیکلنگ سے متعلق سرگرمیوں کے لیے ضروری اجازت نامہ (آتھرائزیشن) 15 دنوں میں جاری کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ میونسپل کارپوریشن سے متعلق خدمات میں واٹر اسپورٹس اور ایڈونچر اسپورٹس آپریٹرز کی رجسٹریشن اور ایموزمنٹ پارک چلانے کی منظوری 60 دنوں میں، فوڈ بزنس کے لیے اسٹیٹ لائسنس کے واسطے مقامی ادارے کا این او سی 60 دنوں میں، ہوٹل رجسٹریشن یا آپریشن کی اجازت 60 دنوں میں اور مذبح کا لائسنس 60 دنوں میں جاری کیا جائے گا۔ موبائل ٹاور لگانے کی اجازت 30 دنوں میں اور تعمیراتی مواد کو جمع کرنے کی منظوری صرف ایک دن میں دستیاب کرائی جائے گی۔ محکمہ زراعت کے ذریعہ کیڑے مار دوا کنٹرول آپریشن لائسنس، فروخت کی رجسٹریشن اور بیج کے لائسنس کے عمل 21-21 دنوں میں مکمل کیے جائیں گے۔
محکمہ آبکاری کے تحت بار لائسنس 30 دنوں میں، آئی ایم ایف ایل کیٹیگری کے برانڈ؍لیبل کی رجسٹریشن 42 دنوں میں اور ایف ایل کیٹیگری کے برانڈ؍لیبل کی رجسٹریشن 42 دنوں میں کی جائے گی۔انہوں نے معلومات دی کہ محکمہ جنگلات اور جنگلی حیات کے ذریعہ دہلی پریزرویشن آف ٹریز ایکٹ کے تحت درختوں کی کٹائی سے متعلق اجازت کی درخواستوں پر 60 دنوں کے اندر فیصلہ کیا جائے گا۔ محکمہ پبلک ورکس (پی ڈبلیو ڈی) کے ذریعہ روڈ کٹنگ اور اس سے جڑے دیگر کاموں سے متعلق اجازت 45 دنوں میں فراہم کی جائے گی۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
بہار7 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
دلی این سی آر10 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
