تازہ ترین
’مہاتما گاندھی ہندوستان کی روح اور گنگا جمنی تہذیب کے روشن مینار‘ارریہ میں مضمون نویسی مقابلے کا انعقاد، ہندوستان کی علمی، سیاسی وملی شخصیات نے ملک ہندوستان کو بام عروج تک پہنچانے میں اداکیا اہم کردار: مقررینپریہار میں اقلیتی ووٹر ملن تقریب کاپروقار انعقاد، جے ڈی یو رہنماؤں اور تعلیم یافتہ ووٹروں نے کی ابھشیک جھا کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنانے کی اپیلیاترا پر پابندی اور قابل اعتراض نعرے لگانے والوں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ،مسلم سیوا سنگٹھن کے وفد نے ایس پی سے کی ملاقات،ظاہر کیافرقہ وارانہ کشیدگی کا خدشہ، کارروائی نہ ہونے پر دہرادون سے سہارنپور تک ’جمہوریت بچاؤ یاترا‘ نکالنے کی وارننگ’اردو اشعار سے ہم زبان کیساتھ ادب، سلیقہ اور تربیت بھی سیکھتے ہیں‘میرٹھ میں سہ روزہ جشن سر سید کا مقابلہ بیت بازی سے شاندار اختتاماسلامیہ انٹر کالج دیوبند کی طالبہ صوفیہ ایک دن کے لئے پرنسپل بنائی گئیںپتھروں کو دے رہے ہیں آئینے کھل کر جوابسی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے کو ضمانت، نیہا بورا بھی رہا،رات بھر حراست سے رہائی کے بعد نیہا نے قانون اور انتظامیہ پر اٹھائے سوال
uttar pradesh

سڑک حادثہ میں دیوبند کے ماں بیٹے کی موت

دیوبند:دارالعلوم وقف دیوبند کے متصل کالونی کے رہائشی ایک خاندان کے ماں بیٹے کی سڑک حادثہ میں موت ہوگئی،جبکہ بیٹی شدید طورپر زخمی ہے،جس کا علاج جاری ہے۔حادثہ سے خاندان کے ساتھ ساتھ اہل علاقہ اور پورے دیوبند میں رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔موصولہ اطلاع کے مطابق دارالعلوم وقف دیوبند کے متصل محلہ خانقاہ کے رہائشی مرحوم راشد کی اہلیہ شاہدہ (50) اپنے بیٹے عبد السمیع (18) اور بیٹی زینب (22) کے ہمراہ بدھ کی شام بذریعہ اسکوٹی رشتہ داری میں مظفر نگر کے بڈھانہ جا رہی تھیں۔ بتایا جاتا ہے کہ تاولی اور ہرسولی کے درمیان سامنے سے آنے والی ایک تیز رفتار کار نے ان کی اسکوٹی کو زور دار ٹکر مار دی۔ حادثہ اس قدر شدید تھا کہ اسکوٹی سوار تینوں افراد سڑک پر گر کر شدید زخمی ہوگئے۔ مقامی افراد اور پولیس کی مدد سے زخمیوں کو فوری طور پر شاہ پور کے سرکاری ہسپتال پہنچایا گیا، جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد انہیں ضلع ہسپتال مظفر نگر ریفر کردیا گیا۔ تاہم ڈاکٹروں نے نوجوان عبد السمیع کو مردہ قرار دے دیا، جبکہ ان کی والدہ شاہدہ اور بہن زینب کا علاج جاری رہا۔ جمعرات کی صبح علاج کے دوران شاہدہ کا بھی انتقال ہوگیا۔ جس کے بعد خاندان پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ دوسری جانب شدید زخمی زینب کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے اور وہ ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ حادثے کی اطلاع دیوبند پہنچتے ہی مرحومین کے گھر کہرام مچ گیا۔ اہل خانہ کے ساتھ ساتھ محلہ خانقاہ اور اطراف کے علاقوں میں سوگ کا ماحول چھا گیا۔ جمعرات کی دوپہر جب ماں اور بیٹے کی لاشیں ان کی رہائش گاہ پہنچیں تو کہرام مچ گیا۔بعد ازاں دیر شام انتہائی غمگین فضا میں ماں اور بیٹے کو عابدی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔ نماز جنازہ اور تدفین میں علماء ، سماجی و سیاسی شخصیات، دینی حلقوں سے وابستہ افراد اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ حادثے پر مختلف دینی، سماجی اور سیاسی شخصیات نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحومین کے لیے مغفرت، درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔