تازہ ترین
جامعہ رحمانی تعلیم و تربیت اور اصلاح و تزکیہ کا روشن مرکز، مولانا عبداللہ سالم چترویدی کی جامعہ رحمانی مونگیر آمد، طلبہ و اساتذہ سے خطاب،فکر و نظر ٹی وی اسٹوڈیو کا کیامعائنہسیمانچل کے تعلیمی، سماجی اور معاشی ترقی کیلئے ہمیں متحدہ طور پرکرنی ہوگی کوشش : منوج وشواشآفات سے ہونے والی اموات پرملے گادوگنا معاوضہ، ایسے معاملات میںاب 8لاکھ روپے دے گی ریاستی حکومت ،وزیراعلیٰ نے فصلوں اور مویشیوں کے نقصان پر امدادی رقم میں بھی کیا اضافہجعلی نوٹ چھاپنے کی فیکٹری کا پردہ فاش، چاول مل میں چھاپے جارہے تھے جعلی نوٹ، چھاپہ ماری میں 100، 200 اور 500 روپے کے نوٹ بڑی مقدار میں برآمداذان اور بھجن کے لیے لاؤڈ اسپیکر کی اجازت کا مطالبہ، مرزاپور سمیت متعدد دیہی علاقوں کے وفد نے ڈی ایم سے کی ملاقاتایک ادیب، ناقد، افسانہ نگار کے ساتھ ساتھ ایک اچھا انسان ہم سےہوگیا جدا :پروفیسر ارتضیٰ کریم، شعبہ اردو سی سی ایس یونیورسٹی میرٹھ میں ”صبا اکرام: تعزیتی جلسہ“ پر آن لائن پرو گرام کا انعقادمانو ایوننگ کالج میںنئے یو جی کورسز کے ساتھ پی جی کورس بھی ہوں گےشروع : پروفیسر سید عین الحسنانجمن اسلام آلانا انگلش ہائی اسکول نے 130ویں ہیرس شیلڈ مسلسل تیسری مرتبہ درج کی جیت
uttar pradesh

سڑک حادثہ میں دیوبند کے ماں بیٹے کی موت

دیوبند:دارالعلوم وقف دیوبند کے متصل کالونی کے رہائشی ایک خاندان کے ماں بیٹے کی سڑک حادثہ میں موت ہوگئی،جبکہ بیٹی شدید طورپر زخمی ہے،جس کا علاج جاری ہے۔حادثہ سے خاندان کے ساتھ ساتھ اہل علاقہ اور پورے دیوبند میں رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔موصولہ اطلاع کے مطابق دارالعلوم وقف دیوبند کے متصل محلہ خانقاہ کے رہائشی مرحوم راشد کی اہلیہ شاہدہ (50) اپنے بیٹے عبد السمیع (18) اور بیٹی زینب (22) کے ہمراہ بدھ کی شام بذریعہ اسکوٹی رشتہ داری میں مظفر نگر کے بڈھانہ جا رہی تھیں۔ بتایا جاتا ہے کہ تاولی اور ہرسولی کے درمیان سامنے سے آنے والی ایک تیز رفتار کار نے ان کی اسکوٹی کو زور دار ٹکر مار دی۔ حادثہ اس قدر شدید تھا کہ اسکوٹی سوار تینوں افراد سڑک پر گر کر شدید زخمی ہوگئے۔ مقامی افراد اور پولیس کی مدد سے زخمیوں کو فوری طور پر شاہ پور کے سرکاری ہسپتال پہنچایا گیا، جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد انہیں ضلع ہسپتال مظفر نگر ریفر کردیا گیا۔ تاہم ڈاکٹروں نے نوجوان عبد السمیع کو مردہ قرار دے دیا، جبکہ ان کی والدہ شاہدہ اور بہن زینب کا علاج جاری رہا۔ جمعرات کی صبح علاج کے دوران شاہدہ کا بھی انتقال ہوگیا۔ جس کے بعد خاندان پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ دوسری جانب شدید زخمی زینب کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے اور وہ ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ حادثے کی اطلاع دیوبند پہنچتے ہی مرحومین کے گھر کہرام مچ گیا۔ اہل خانہ کے ساتھ ساتھ محلہ خانقاہ اور اطراف کے علاقوں میں سوگ کا ماحول چھا گیا۔ جمعرات کی دوپہر جب ماں اور بیٹے کی لاشیں ان کی رہائش گاہ پہنچیں تو کہرام مچ گیا۔بعد ازاں دیر شام انتہائی غمگین فضا میں ماں اور بیٹے کو عابدی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔ نماز جنازہ اور تدفین میں علماء ، سماجی و سیاسی شخصیات، دینی حلقوں سے وابستہ افراد اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ حادثے پر مختلف دینی، سماجی اور سیاسی شخصیات نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحومین کے لیے مغفرت، درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔