uttar pradesh
سڑک حادثہ میں دیوبند کے ماں بیٹے کی موت
دیوبند:دارالعلوم وقف دیوبند کے متصل کالونی کے رہائشی ایک خاندان کے ماں بیٹے کی سڑک حادثہ میں موت ہوگئی،جبکہ بیٹی شدید طورپر زخمی ہے،جس کا علاج جاری ہے۔حادثہ سے خاندان کے ساتھ ساتھ اہل علاقہ اور پورے دیوبند میں رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔موصولہ اطلاع کے مطابق دارالعلوم وقف دیوبند کے متصل محلہ خانقاہ کے رہائشی مرحوم راشد کی اہلیہ شاہدہ (50) اپنے بیٹے عبد السمیع (18) اور بیٹی زینب (22) کے ہمراہ بدھ کی شام بذریعہ اسکوٹی رشتہ داری میں مظفر نگر کے بڈھانہ جا رہی تھیں۔ بتایا جاتا ہے کہ تاولی اور ہرسولی کے درمیان سامنے سے آنے والی ایک تیز رفتار کار نے ان کی اسکوٹی کو زور دار ٹکر مار دی۔ حادثہ اس قدر شدید تھا کہ اسکوٹی سوار تینوں افراد سڑک پر گر کر شدید زخمی ہوگئے۔ مقامی افراد اور پولیس کی مدد سے زخمیوں کو فوری طور پر شاہ پور کے سرکاری ہسپتال پہنچایا گیا، جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد انہیں ضلع ہسپتال مظفر نگر ریفر کردیا گیا۔ تاہم ڈاکٹروں نے نوجوان عبد السمیع کو مردہ قرار دے دیا، جبکہ ان کی والدہ شاہدہ اور بہن زینب کا علاج جاری رہا۔ جمعرات کی صبح علاج کے دوران شاہدہ کا بھی انتقال ہوگیا۔ جس کے بعد خاندان پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ دوسری جانب شدید زخمی زینب کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے اور وہ ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ حادثے کی اطلاع دیوبند پہنچتے ہی مرحومین کے گھر کہرام مچ گیا۔ اہل خانہ کے ساتھ ساتھ محلہ خانقاہ اور اطراف کے علاقوں میں سوگ کا ماحول چھا گیا۔ جمعرات کی دوپہر جب ماں اور بیٹے کی لاشیں ان کی رہائش گاہ پہنچیں تو کہرام مچ گیا۔بعد ازاں دیر شام انتہائی غمگین فضا میں ماں اور بیٹے کو عابدی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔ نماز جنازہ اور تدفین میں علماء ، سماجی و سیاسی شخصیات، دینی حلقوں سے وابستہ افراد اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ حادثے پر مختلف دینی، سماجی اور سیاسی شخصیات نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحومین کے لیے مغفرت، درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔
uttar pradesh
عشرہ عظمت صحابہ و اہل بیت کا پہلا پروگرام بگھرہ میں منعقد
دیوبند:تحفظ دین ختم نبوت ٹرسٹ اترپردیش کے زیر اہتمام جاری ’’عشرہ عظمت صحابہ و اہل بیت‘‘ کے سلسلہ کا پہلاپروگرام گزشتہ شب مرکزی مسجد بگھرہ میں منعقد ہوا، جس میں علماء کرام، ائمہ مساجد، دینی کارکنان اور عوام الناس کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔پروگرام کی صدارت معروف ڈاکٹر شمیم الحسن کی، جبکہ نظامت کے فرائض مولانا سہیل اختر رحیمی صدر تحفظ دین ختم نبوت ٹرسٹ نے انجام دیے۔ تلاوت کلامِ پاک اور نعت رسول مقبول کے بعد اجلاس کا آغاز ہوا۔ابتدائی نشست میں مولانا مشرف علی قاسمی نے تمہیدی کلمات پیش کرتے ہوئے عشرہ عظمتِ صحابہ و اہل بیت کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔ انہوں نے کہا کہ صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار اسلام کے وہ روشن ستارے ہیں جن کی محبت ایمان کا حصہ اور جن کی سیرت امت کے لیے مشعل راہ ہے۔ موجودہ دور میں ان عظیم ہستیوں کے فضائل و مناقب کو عام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔اجلاس کے خطیب خصوصی مولانا مہتاب عالم قاسمی مہتمم مدرسہ مدینۃ العلوم جولی نے اپنے خطاب میں صحابہ و اہل بیت کی عظمت و فضیلت پر قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل گفتگو کی۔مولانا مہتاب عالم قاسمی نے مزید کہا کہ امتِ مسلمہ کی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ صحابہ کرام اور اہل بیت دونوں سے محبت کا تعلق مضبوط کرے اور ان کی تعلیمات کو اپنی زندگیوں میں نافذ کرے۔ انہوں نے نوجوان نسل کو عقائدِ صحیحہ کی حفاظت اور اکابر امت کے نقشِ قدم پر چلنے کی تلقین کی۔کنوینر پروگرام مولانا مفتی صلاح الدین نے حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام عوام میں صحیح دینی شعور بیدار کرنے اور نسلِ نو کے عقائد کے تحفظ میں اہم کردار ادا کریں گے۔اس موقع پر قاری محمد شاہ نواز، مولانا وقار عالم، مولانا شاہ نواز اور دیگر علماء کرام بھی شریک رہے۔
uttar pradesh
راجیہ سبھا کے نائب چیئرمین ہری ونش نے اے ایم یو میں پیش کیا سرسید میموریل لیکچر
علی گڑھ: راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین، ممتاز صحافی اور مصنف جناب ہری ونش نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)میں سرسید میموریل خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ انسانی تاریخ میں ٹکنالوجی نے سماجی تبدیلی میں اہم کردار ادا کیا اور موجودہ وقت میں ہندوستان ٹکنالوجی کو معاشی تبدیلی اور سماج کے سبھی طبقات، خاص طور پر وسائل سے محروم غریب عوام کو بااختیار بنانے کے لئے استعمال کررہا ہے۔ انھوں نے کہا ”اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ملک کی کثیر اور متنوع آبادی اور بنیادی ڈھانچہ کی کمی کے باعث مختلف قسم کے چیلنجوں کا سامنا ہے، تاہم ان چیلنجوں سے نپٹتے ہوئے حکومت عوام کو بااختیار بنانے اور ملک کو ترقی یافتہ بنانے کی راہ پر مسلسل گامزن ہے“۔
ایڈمنسٹریٹیو بلاک کے کانفرس ہال میں ”سماجی تبدیلی میں ٹکنالوجی کا کردار (ہندوستانی تناظر)“ موضوع پر اپنے خطاب میں جناب ہری ونش نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خاں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے سماجی و تعلیمی ترقی کے لئے سائنسی مزاج اور جدید تعلیم کے فروغ کے اپنے مشن میں تمام چیلنجوں اور مخالفتوں کا سامنا کیا۔”انھوں نے سماجی اصلاح کا ایک خواب دیکھا اور اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے انتھک جدوجہد کی، اسی لئے وہ ملک کے معماروں میں شمار ہوتے ہیں“۔
بابائے قوم مہاتما گاندھی اوردیگر مصلحین و مفکرین کا حوالہ دیتے ہوئے جناب ہری ونش نے سماجی تبدیلی میں آئیڈیاز کے کردار کا تجزیہ کیا اور ڈینئل بیل اور فرانسس فکویاما سمیت متعدد دانشوروں و فلسفیوں کے افکار و نظریات کا تجزیہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ عصر حاضر میں ٹکنالوجی بشمول اے آئی وسیع پیمانے پر تبدیلیاں لارہے ہیں اور ان کی مثبت طاقت کا استعمال کرکے ملکوں اور قوموں کا حال و مستقبل سنوارا جاسکتا ہے۔ اس سلسلہ میں انھوں نے حکومت ہند کے خصوصی اقدامات جیسے کہ ڈیجٹیل انڈیا مشن، ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر، ایگری ڈرون ٹکنالوجی، پی ایم کسان اسکیم، یوپی آئی اور آفات الرٹ نظام وغیرہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ٹکنالوجی کو انکلیوزیو بنایا ہے، بجلی کی پیداوار میں بڑے پیمانے پر اضافہ کیا ہے اور ملک کو دنیا کی چھٹی سب سے بڑی معیشت بنادیا ہے جس کے فوائد عوام کو پہنچ رہے ہیں۔
انھوں نے کووِڈ وبا کے وقت درپیش چیلنجوں کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ کسی کو یہ امید نہیں تھی کہ ہندوستان کووِڈ کی ویکسین بناسکے گا لیکن ملک نے اپنے سائنسدانوں کی بدولت یہ کارنامہ انجام دینے میں کامیابی حاصل کی اور دوسرے ملکوں کو بھی انسانی بنیادوں پر ویکسین بھیجی۔ اسی طرح دریائے چناب پر ایفل ٹاور سے بھی بلند پل تعمیر کرکے ہندوستان نے ٹکنالوجی کی دنیا میں ایک نیا کارنامہ انجام دیا۔ ملک یہ سب اپنے سائنسدانوں اور انجینئروں کی بدولت کرپایا۔
نئی دہلی میں اسی سال منعقدہ انڈیا اے آئی چوٹی کانفرنس کے حوالے سے راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین نے کہاکہ امریکہ جیسے ممالک اے آئی کے فوائد کو خود تک محدود رکھنا چاہتے ہیں جب کہ ہندوستان نے اے آئی کے فوائدسے ہر کس و ناکس کو مستفیض کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ انھوں نے کہاکہ ہمیں خود پر اعتماد کرنا سیکھنا ہوگا۔ جدید ٹکنالوجی اور سائنسی اختراعات کے ساتھ ہم آہنگ ہونے والے اور اعتماد سے لبریز لوگ ہی مستقبل کو بہتر بناسکتے ہیں۔
جناب ہری ونش نے کہاکہ ہندوستان میں ہر سال بڑے پیمانے پر سائنسداں اور انجینئر تیار ہوتے ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خود کفیل بننے پر اپنی توانائی صرف کریں اور ایک متحدہ قوم کی طرح ساتھ مل کر ٹکنالوجی کو اپنے فائدہ کے لئے استعمال کریں تبھی ہم ایک مضبوط ملک بن سکتے ہیں۔
اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے اپنے صدارتی کلمات میں جناب ہری ونش کے پرمغز خطاب کو سراہا۔ انھوں نے کہاکہ تعلیم ہو یا ہیلتھ کیئر، زراعت ہو یا سماجی و اقتصادی اختیار دہی یا سیاسی اقتصادیات ہر محاذ پر ٹکنالوجی نے انقلاب برپا کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اپنے بیش بہا فوائد کے باوجود ٹکنالوجی ایک دو دھاری تلوار ہے۔ غلط معلومات کی ترسیل، آن لائن ہراسانی اور نفرت انگیزی میں بھی ٹکنالوجی کا اپنا کردار رہا ہے، اس لئے ایک ذمہ دار ڈیجیٹل طرز عمل بھی اختیار کرنا ہوگا۔
وائس چانسلر نے کہاکہ پچھلے کچھ برسوں میں مختلف فلاحی منصوبوں اور گوورننس کے لئے حکومت نے ٹکنالوجی کا خاطر خواہ استعمال کیا ہے، جس سے عوام کی زندگی بہتر ہوئی ہے، یہ قابل تعریف ہے۔ انھوں نے سرسید میموریل لیکچر کے لئے اے ایم یو آمد پر جناب ہری ونش کا شکریہ ادا کیا۔
اس سے قبل، سرسید اکیڈمی کے ڈائرکٹر پروفیسر شافع قدوائی نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے جناب ہر ی ونش کا بھرپور تعارف کرایا۔ انھوں نے بتایا کہ سرسید اکیڈمی کی جانب سے 1968 سے سرسید میموریل لیکچر کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ ڈاکٹر تارا چند، شیام بینیگل، رام چندر گُہا، کلدیپ نیّر، پروفیسر شمس الرحمٰن فاروقی، ایم جے اکبر جیسی شخصیات سرسید میموریل لیکچر دے چکی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ علی گڑھ تحریک کے بانی اور سماجی و تعلیمی مصلح کے طور پر سرسید احمد خاں معروف ہیں، البتہ ان کی صحافتی خدمات سے کم لوگ واقف ہیں۔ اسی طرح مقننہ کے رکن کے طور پر عوامی زندگی میں ان کی خدمات سے واقفیت بھی محدود ہے۔ انھوں نے کہا کہ سرسید کی ہمہ جہات خدمات کے مختلف گوشے سامنے لانے کے لئے ہی اس میموریل لیکچر کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان نے جناب ہری ونش کو یادگاری نشان پیش کیا۔
تقریب میں پروفیسر افتخار عالم خاں کی تصنیف کا ڈاکٹر اطہر فاروقی کے ذریعے کئے گئے انگریزی ترجمے ”سرسید احمد خاں: اے پرائیویٹ لائف“ (آکسفورڈ یونیورسٹی پریس) اور ڈاکٹر ارشد مسعود ہاشمی کی تالیف”علی گڑھ کالج اور شیراز“ کا اجراء بھی عمل میں آیا۔
آخر میں اے ایم یو رجسٹرار پروفیسر عاصم ظفر نے شکریہ کے کلمات ادا کئے۔
تقریب کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر سید حسین حیدر نے انجام دئے۔ اس موقع پر یونیورسٹی کے اساتذہ، اہلکار اور طلبہ کثیر تعداد میں موجود تھے۔
سرسید میموریل لیکچر کے بعد جناب ہری ونش نے وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون اور دیگر اہلکاروں کے ہمراہ یونیورسٹی میں جاری ”ایک پیڑ ماں کے نام“ شجرکاری مہم کے تحت اے ایم یو کے گیسٹ ہاؤس احاطہ میں ایک پودا لگایا۔
جناب ہری ونش نے سرسید اکیڈمی کا بھی دورہ کیا جہاں انھوں نے میوزیم کے نوادرات کو دیکھا اور ان کی ستائش کی۔
uttar pradesh
امیرالمؤمنین حضرت عمرؓ رسولؐ کی مخصوص دعا کا ثمرہ :قاری محمّد صدّیق
لکھنؤ: شہر کی تاریخی یکمنارہ مسجد اکبری گیٹ میں مرکزی جمعۃالحفّاظ کی جانب سے حسب دستور قدیم ہونے والے دس روزہ تذکرۂ شہدائے کرام کا پہلا جلسہ یوم عمرؓ استاذ الحفّاظ حافظ عبدالرّشید صدر مرکزی جمعۃالحفّاظ وقاری محمد حزقیل امام مسجد ایکمنارہ کی زیر نگرانی وسیّد محمّد اقبال کے زیر انتظام منعقد ہوا جس کا آغاز مدرسہ عالیہ فرقانیہ چوک کے قاری محمّد یوشع وقاری محمد عبداللہ کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا جلسے کو خطاب کرتے ہوئے ادارۂ دارالمبلّغین ۰۰پاٹانالہ چوک کےسینئر استاذ مولانا قاری محمد صدّیق امام و خطیب مسجد سبحانیہ پاٹانالہ چوک لکھنؤ نے مراد رسولؐ امیرالمؤمنین سیّدنا حضرت عمر ابن الخطّابؓ کی خلافت وشہادت پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حضرت عمرؓ امام الانبیاء حضرت محمّد مصطفٰی ﷺ کی مخصوص دعا کا ثمرہ ہیں۔
حضرت عمر ابن خطابؓ نے اپنی خلافت میں جس قدر خدمت و اشاعت دین کی کیں اور جیسی عظیم الشان فتوحات حاصل کیں ان کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی قاری محمد صدّیق نے کہا کہ حضرت عمر قاروقؓ میں تواضع کی صفت اس قدر تھی کہ جس کا اندازہ کرنے سے عقل عاجز ہے ۔
حضرت عمرؓ کی عبادت کا یہ حال تھا کہ نماز اور جماعت کا بڑا اہتمام کرتے تھے تمام صوبوں کے حکّام کے نام نماز کے متعلّق فرمان بھی جاری کرتے تھے حضرت عمرؓ اپنی خلافت کے زمانے میں رسولؐ کے نواسوں حضرت حسنؓ وحضرت حسینؓ کا بڑا خیال رکھتے تھے امیرالمؤمنین سیّدنا حضرت عمر ؓ اپنی رعایا سے با خبر رہنے کے لئے راتوں کو اٹھ کر گشت بھی کیا کرتے تھے،قاری محمّد صدّیق نے کہا کہ اگر رسول اللہؐ کے بعد نبوّت کا سلسلہ جاری ھوتا تو حضرت عمرؓ نبی ہوتے قاری موصوف نے کہا کہ حضرت عمرؓکی نیکیاں آسمان کے ستاروں کے برابر ہیں۔
حضرت عمرؓ نے دس سال چھ مہینے پانچ لدن تخت خلافت کو زینت بخشی فجر کی نماز میں ابو لولو فیروز مجوسی کے ہاتھ سے شھید ھوے روضۂ نبویؐ میں مدفن پایا یکم محرّم کو مسلمانوں کا اقبال بھی ان کے ساتھ دنیا سے رخصت ہو گیا شاعر نعت ومدح صحابہ خلیل اختر شبو محمّد کیف مدرسہ عالیہ فرقانیہ کے قاری محمّد طہ محمّد وصفی محمّد مذکر نے نعت ومنقبت کا منظوم نذرانۂ عقیدت پیش کیا۔
جلسے میں محمّد معروف خان گہنا پیلس ذیشان جویلرس قاری سیّد افضال وغیرہ موجود تھے جلسے کا اختتام قاری محمّد صدّیق کی دعا پر ھوا *** منجانب اراکین مرکزی جمعۃالحفّاظ اکبری گیٹ چوک لکھنؤ ***
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
بہار7 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
دلی این سی آر10 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
