Connect with us

uttar pradesh

راجیہ سبھا کے نائب چیئرمین ہری ونش نے اے ایم یو میں پیش کیا سرسید میموریل لیکچر

Published

on

علی گڑھ: راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین، ممتاز صحافی اور مصنف جناب ہری ونش نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)میں سرسید میموریل خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ انسانی تاریخ میں ٹکنالوجی نے سماجی تبدیلی میں اہم کردار ادا کیا اور موجودہ وقت میں ہندوستان ٹکنالوجی کو معاشی تبدیلی اور سماج کے سبھی طبقات، خاص طور پر وسائل سے محروم غریب عوام کو بااختیار بنانے کے لئے استعمال کررہا ہے۔ انھوں نے کہا ”اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ملک کی کثیر اور متنوع آبادی اور بنیادی ڈھانچہ کی کمی کے باعث مختلف قسم کے چیلنجوں کا سامنا ہے، تاہم ان چیلنجوں سے نپٹتے ہوئے حکومت عوام کو بااختیار بنانے اور ملک کو ترقی یافتہ بنانے کی راہ پر مسلسل گامزن ہے“۔
ایڈمنسٹریٹیو بلاک کے کانفرس ہال میں ”سماجی تبدیلی میں ٹکنالوجی کا کردار (ہندوستانی تناظر)“ موضوع پر اپنے خطاب میں جناب ہری ونش نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خاں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے سماجی و تعلیمی ترقی کے لئے سائنسی مزاج اور جدید تعلیم کے فروغ کے اپنے مشن میں تمام چیلنجوں اور مخالفتوں کا سامنا کیا۔”انھوں نے سماجی اصلاح کا ایک خواب دیکھا اور اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے انتھک جدوجہد کی، اسی لئے وہ ملک کے معماروں میں شمار ہوتے ہیں“۔
بابائے قوم مہاتما گاندھی اوردیگر مصلحین و مفکرین کا حوالہ دیتے ہوئے جناب ہری ونش نے سماجی تبدیلی میں آئیڈیاز کے کردار کا تجزیہ کیا اور ڈینئل بیل اور فرانسس فکویاما سمیت متعدد دانشوروں و فلسفیوں کے افکار و نظریات کا تجزیہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ عصر حاضر میں ٹکنالوجی بشمول اے آئی وسیع پیمانے پر تبدیلیاں لارہے ہیں اور ان کی مثبت طاقت کا استعمال کرکے ملکوں اور قوموں کا حال و مستقبل سنوارا جاسکتا ہے۔ اس سلسلہ میں انھوں نے حکومت ہند کے خصوصی اقدامات جیسے کہ ڈیجٹیل انڈیا مشن، ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر، ایگری ڈرون ٹکنالوجی، پی ایم کسان اسکیم، یوپی آئی اور آفات الرٹ نظام وغیرہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ٹکنالوجی کو انکلیوزیو بنایا ہے، بجلی کی پیداوار میں بڑے پیمانے پر اضافہ کیا ہے اور ملک کو دنیا کی چھٹی سب سے بڑی معیشت بنادیا ہے جس کے فوائد عوام کو پہنچ رہے ہیں۔
انھوں نے کووِڈ وبا کے وقت درپیش چیلنجوں کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ کسی کو یہ امید نہیں تھی کہ ہندوستان کووِڈ کی ویکسین بناسکے گا لیکن ملک نے اپنے سائنسدانوں کی بدولت یہ کارنامہ انجام دینے میں کامیابی حاصل کی اور دوسرے ملکوں کو بھی انسانی بنیادوں پر ویکسین بھیجی۔ اسی طرح دریائے چناب پر ایفل ٹاور سے بھی بلند پل تعمیر کرکے ہندوستان نے ٹکنالوجی کی دنیا میں ایک نیا کارنامہ انجام دیا۔ ملک یہ سب اپنے سائنسدانوں اور انجینئروں کی بدولت کرپایا۔
نئی دہلی میں اسی سال منعقدہ انڈیا اے آئی چوٹی کانفرنس کے حوالے سے راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین نے کہاکہ امریکہ جیسے ممالک اے آئی کے فوائد کو خود تک محدود رکھنا چاہتے ہیں جب کہ ہندوستان نے اے آئی کے فوائدسے ہر کس و ناکس کو مستفیض کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ انھوں نے کہاکہ ہمیں خود پر اعتماد کرنا سیکھنا ہوگا۔ جدید ٹکنالوجی اور سائنسی اختراعات کے ساتھ ہم آہنگ ہونے والے اور اعتماد سے لبریز لوگ ہی مستقبل کو بہتر بناسکتے ہیں۔
جناب ہری ونش نے کہاکہ ہندوستان میں ہر سال بڑے پیمانے پر سائنسداں اور انجینئر تیار ہوتے ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خود کفیل بننے پر اپنی توانائی صرف کریں اور ایک متحدہ قوم کی طرح ساتھ مل کر ٹکنالوجی کو اپنے فائدہ کے لئے استعمال کریں تبھی ہم ایک مضبوط ملک بن سکتے ہیں۔
اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے اپنے صدارتی کلمات میں جناب ہری ونش کے پرمغز خطاب کو سراہا۔ انھوں نے کہاکہ تعلیم ہو یا ہیلتھ کیئر، زراعت ہو یا سماجی و اقتصادی اختیار دہی یا سیاسی اقتصادیات ہر محاذ پر ٹکنالوجی نے انقلاب برپا کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اپنے بیش بہا فوائد کے باوجود ٹکنالوجی ایک دو دھاری تلوار ہے۔ غلط معلومات کی ترسیل، آن لائن ہراسانی اور نفرت انگیزی میں بھی ٹکنالوجی کا اپنا کردار رہا ہے، اس لئے ایک ذمہ دار ڈیجیٹل طرز عمل بھی اختیار کرنا ہوگا۔
وائس چانسلر نے کہاکہ پچھلے کچھ برسوں میں مختلف فلاحی منصوبوں اور گوورننس کے لئے حکومت نے ٹکنالوجی کا خاطر خواہ استعمال کیا ہے، جس سے عوام کی زندگی بہتر ہوئی ہے، یہ قابل تعریف ہے۔ انھوں نے سرسید میموریل لیکچر کے لئے اے ایم یو آمد پر جناب ہری ونش کا شکریہ ادا کیا۔
اس سے قبل، سرسید اکیڈمی کے ڈائرکٹر پروفیسر شافع قدوائی نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے جناب ہر ی ونش کا بھرپور تعارف کرایا۔ انھوں نے بتایا کہ سرسید اکیڈمی کی جانب سے 1968 سے سرسید میموریل لیکچر کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ ڈاکٹر تارا چند، شیام بینیگل، رام چندر گُہا، کلدیپ نیّر، پروفیسر شمس الرحمٰن فاروقی، ایم جے اکبر جیسی شخصیات سرسید میموریل لیکچر دے چکی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ علی گڑھ تحریک کے بانی اور سماجی و تعلیمی مصلح کے طور پر سرسید احمد خاں معروف ہیں، البتہ ان کی صحافتی خدمات سے کم لوگ واقف ہیں۔ اسی طرح مقننہ کے رکن کے طور پر عوامی زندگی میں ان کی خدمات سے واقفیت بھی محدود ہے۔ انھوں نے کہا کہ سرسید کی ہمہ جہات خدمات کے مختلف گوشے سامنے لانے کے لئے ہی اس میموریل لیکچر کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان نے جناب ہری ونش کو یادگاری نشان پیش کیا۔
تقریب میں پروفیسر افتخار عالم خاں کی تصنیف کا ڈاکٹر اطہر فاروقی کے ذریعے کئے گئے انگریزی ترجمے ”سرسید احمد خاں: اے پرائیویٹ لائف“ (آکسفورڈ یونیورسٹی پریس) اور ڈاکٹر ارشد مسعود ہاشمی کی تالیف”علی گڑھ کالج اور شیراز“ کا اجراء بھی عمل میں آیا۔
آخر میں اے ایم یو رجسٹرار پروفیسر عاصم ظفر نے شکریہ کے کلمات ادا کئے۔
تقریب کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر سید حسین حیدر نے انجام دئے۔ اس موقع پر یونیورسٹی کے اساتذہ، اہلکار اور طلبہ کثیر تعداد میں موجود تھے۔
سرسید میموریل لیکچر کے بعد جناب ہری ونش نے وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون اور دیگر اہلکاروں کے ہمراہ یونیورسٹی میں جاری ”ایک پیڑ ماں کے نام“ شجرکاری مہم کے تحت اے ایم یو کے گیسٹ ہاؤس احاطہ میں ایک پودا لگایا۔
جناب ہری ونش نے سرسید اکیڈمی کا بھی دورہ کیا جہاں انھوں نے میوزیم کے نوادرات کو دیکھا اور ان کی ستائش کی۔

uttar pradesh

ملا رونق لکھنوی کے شاگرد تھےجسٹس آنند نرائن : رضوان احمد فاروقی

Published

on

لکھنؤ:رنج وغم کی کیفیت ایک فطری اور شدید انسانی ردعمل ہے۔ جو کسی بڑے نقصان، صدمے یا عزیزواقارب کی جدائی پر ہر کسی ہوتاہے۔ اس کیفیت حساس دل انسان شدید اداسی، ذہنی کش مکش، تناؤ اور دلی تکلیف محسوس کرتا ہے۔ لکھنؤ کے حساس دل شعراء نے ” رنج وغم” کو بطور ردیف برتا، تو رنج وغم کی تاریخی حقیقت بشکل اشعار سامنے آئی ۔ خوب خوب اشعار سننے میں آئے۔
موقع تھا ” مسرور ایجوکیشنل سوسائٹی کے ماہانہ مشاعرے کا، جو ہمیشہ کی طرح سینٹ روز پبلک اسکول گڑھی پیر خاں، میں ہوا۔ نظامت رضوان احمد فاروقی نے کی بحثیت صدر ممتاز صحافی وافسانہ نگار احمد ابراہیم علوی نے شرکت فرمائی اور اپنے پرجوش خطاب میں کہا۔ نوجوان شاعری کے ذریعے اردو میں دلچسپی لے رہے ہیں ۔ اچھے اشعار کہہ رہے ہیں ۔ انھیں دوسری زبانوں کے مطالعے کے ساتھ دنیا کے حالات کا بعینہ مشاہدہ کرنا چاہئے۔ بطور سرپرست محمد فاروق جاذب لکھنوی شریک مشاعرہ رہے۔ مہمانان خصوصی کی حیثیت سے مرزا شارق لاہر پوری اور محسن قدوائی نے شرکت کی اور مہمان اعزازی کے طور پر نجمی لکھنوی مشاعرے کا حصہ رہے ۔ جسٹس آنند نرائن کے استاد لکشمی نرائن رونق لکھنوی کے شعری مجموعے کا رسم اجراء بدست احمد ابراہیم علوی ہوا۔
واضح رہے کتاب کے مرتب بزرگ شاعر نجمی لکھنوی ہیں، جنھیں سبھی نے مبارک باد پیش کی۔ ڈاکٹر منصور حسن خاں نے ان کے جذبے کو سراہا۔ رضوان احمد فاروقی نے کہا۔ 99 برس عمر پانے والے تعلیم یافتہ شاعر کا شعری اثاثہ شائع کرنے والا شخص بجا طور پر لائق تحسین و ستائش ہے۔
انھوں نے مزید کہا۔ لکشمی نرائن رونق لکھنوی جیسے بے لوث خادمین ادب پر تحقیقی مقالات لکھے جانے چاہئے۔
مشاعرے میں پڑھا گیا منتخب کلام درج ذیل ہے :
پیار جب اس کا اس سے سنبھلتا نہیں
کیسے دیکھے گی بیٹے کی ماں رنج وغم
جاذب لکھنوی
دوستوں کی محفل میں جب بھی مسکراتا ہوں
مجھ پہ ٹوٹ پڑتا ہے آسمان رنج وغم
مرزا شارق لاہر پوری
ہر حقیقت کے ہیں ترجماں رنج وغم
یوں ہی جاتے نہیں رائیگاں رنج وغم
نجمی لکھنوی
تونے چاہا بہت زیر کرلے ہمیں
سر نہ ہونے دیا ہم نے خم رنج وغم
محسن قدوائی
اٹھ گیا ہے زمانے سے میرا بھرم
رنج وغم رنج وغم رنج وغم رنج وغم
شیدا صدیقی
مسرور اس خیال سے مغموم ہے بہت
لائے کہاں سے ڈھونڈکے اشعار رنج وغم
مسرور شاہ جہاں پوری
جب سے ہوا ہے باعث عرفان رنج وغم
میرے لئے ہے عیش کا سامان رنج وغم
اشعر علیگ
ایک دل سیکڑوں ہیں الم، رنج وغم
تیری زلفوں کے ہیں پیچ سخن، رنج وغم
حیدر علوی
روپڑیں جو بیاں کردیں ہم
رنج وغم، رنج وغم، رنج وغم
رضوان احمد فاروقی
ہمارے حوصلوں کو یہ نئی پرواز دیتے ہیں
سبق دیتے ہیں ہم کو اک نیا ہربار رنج وغم
ناظم بریلوی
مولا کبھی تو بھیج مسرت کی بارشیں
بڑھتے ہی جارہے ہیں غریبوں کے رنج وغم
ڈاکٹر اقبال حسین
لے جاتے ہیں یہ اوج ثریا سے بھی پرے
فکر بشر کو دیتے ہیں رفتار رنج وغم
کاوش شوکتی
دشمنوں نے سازشیں ایسی بنی ہیں ہر طرف
زندگانی ہوگئی ہے کربلائے رنج وغم
ڈاکٹر منصور حسن خاں
سرخی چشم فلک یہ کہہ رہی ہے بار بار
سن رہے ہیں عرش والے بھی صدائے رنج وغم
ضیا تقوی
حساب رکھیں گے کب تک فضول باتوں کا
یہ زندگی ہے ملیں گے تمام رنج وغم
سریواستوا باہم
مذکورہ شعراء کے علاوہ ڈاکٹر عتیق فاروقی، نیلو فر، اعظم قریشی، ڈاکٹر عرش لکھنوی، فیضان خان وغیرہ مشاعرے کا کردار رہے۔ نجمی لکھنوی نے ڈاکٹر منصور حسن خاں کاشکریہ ادا کیا اور منصور خاں نے جملہ شعراء کا۔ نیز آئندہ ردیف ” مسرت” کا اعلان کیا ۔ یہ مشاعرہ اگست کے تیسرے ہفتے ہوگا۔ ان شااللہ

Continue Reading

uttar pradesh

بڈھانہ علاقہ میں مکان منہدم ہونے سے چار بچوں سمیت 5کی موت

Published

on

دیوبند:مظفرنگر ضلع کے بڈھانہ علاقے کے گاؤں حبیب پور سیکری میں مسلسل بارش کے باعث ایک مکان منہدم ہونے سے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد جاں بحق ہونے کے المناک واقعہ پر جمعیۃ علماء ہند بڈھانہ نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
جمعیۃ علماء ہند بڈھانہ کے ذمہ داران نے سینئر ضلع نائب صدر محمد آصف قریشی بڑھانوی کے ہمراہ گاؤں حبیب پور سیکری پہنچ کر جائے حادثہ کا معائنہ کیا اور مرحومین کے اہل خانہ سے ملاقات کرکے تعزیت و ہمدردی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ یہ حادثہ نہایت دردناک اور دل دہلا دینے والا ہے۔ مکان کے مالک اسلام الدین اور ان کے چار معصوم بچوں کی المناک وفات سے پورا علاقہ سوگوار ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کے ذمہ داران نے مرحومین کی مغفرت، درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔
جمعیۃ علماء ہند بڈھانہ نے حادثے میں زخمی بچوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کرتے ہوئے ضلع انتظامیہ، پولیس اور محکمہ صحت کی جانب سے فوری راحت و بچاؤ کے کام شروع کرنے اور زخمیوں کو بروقت اسپتال منتقل کرکے علاج فراہم کرنے کے اقدامات کو سراہا۔ ساتھ ہی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ زخمیوں کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے اور انہیں بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔وفد نے حکومت اور ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاندان کو حکومت کی جانب سے مقررہ مالی امداد، رہائشی سہولت اور دیگر تمام ضروری امدادی وسائل بلا تاخیر فراہم کیے جائیں۔اس موقع پر حافظ عبدالغفار، حافظ تحسین، مولانا عمر، شاہد قریشی، قاری قطب الدین سمیت دیگر ذمہ داران بھی موجود رہے۔

Continue Reading

uttar pradesh

ٹریکٹر ٹرالی کی زد میں آکر بائک سوار صفائی ملازم کی دردناک موت

Published

on

دیوبند:دیوبند تحصیل کے تحت آنے والے گائوں مرگ پور ۔دودھلی کے ایک بے قابو تیز رفتار ٹریکٹر ٹرالی کی زد میں آکر ایک صفائی ملازم کی موقع پر ہی دردناک موت ہوگئی جبکہ اس کا دوسرا ساتھی شدید طور پرزخمی ہوگیا ۔
فوت ہوجانے والا صفائی ملازم پیر کے روز صبح کے وقت اپنے ساتھی کے ساتھ کانوڑ گزرنے والی سڑکوں کی صفائی کرنے کے لئے جارہا تھا ۔تفصیل کے مطابق مظفر نگر کے گائوں ریتا نگلی کا باشندہ 37سالہ سنجیو کمار تیگھری گائوں میں بطور صفائی ملازم تعینات تھا ۔پیر کی صبح سنجیو کمار کانوڑ گزرنے والے راستوں کی صفائی کرنے کے لئے اپنے ساتھی وریرندر کے ساتھ بذریعہ بائک مرگ پور دودھلی روڑ سے ہوتے ہوئے جارہا تھا ۔
اسی دوران جب وہ راجباہے کے قریب پہنچا تو سامنے سے آنے والی ایک تیز رفتار اور بے قابو ٹریکٹر ٹرالی نے اس کی بائک کو اپنی زد میں لے لیا اس حادثہ میں سنجیو کمار کی موقع پر ہی دردناک موت ہوگئی جبکہ اس کا ساتھی وریرند شدید طور پر زخمی ہوگیا ۔حادثہ کی اطلاع ملتے ہی گائوں کے باشندہ موقع پر جمع ہوگئے انہوں نے سنجیو کمار اور وریرندر کو دیوبند کے سرکاری اسپتال پہنچایا ۔جہاں ڈاکٹر وں نے سنجیو کمار کو مردہ قرار دیدیا ۔
اس کے اہل خانہ کے آنے کے بعد پولیس نے لاش کا پنچنامہ کرنے کے بعد پوسٹ مارٹم کے لئے بھیجدیا ۔اس دوران اسپتال میں اے ڈی او پنچایت سمیت علاقائی ترقیاتی بلاک آفس کے دیگر افسران اور ملازمین موجود رہے ۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network