تازہ ترین
ضلع انتظامیہ کا صدر اسپتال کے باہر کھڑی نجی ایمبولینسوں پر چھاپہ، ڈی ایم ارریہ کی ہدایت پر کی گئی کارروائی، قانونی دائرے کے تحت تھانہ بھجوائی گئیں2 ایمبولینسسیتامڑھی:معمولی رقم کے تنازعہ میں معذور شخص کا پیٹ پیٹ کرقتل، گاؤں میں ہرطرف سنسنی، ملزم کے گھر کے سامنے لاش رکھ کر مشتعل گاؤں والوں نے کیا سڑک جام، ایف ایس ایل ٹیم نے شواہد جمع کیے، ایک خاتون زیر حراستمیرٹھ کے ’سدبھاؤنا سمیلن‘ میں امن، بھائی چارے اور مذہبی رواداری کا پیغام، ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی طبقوں کی سرکردہ شخصیات کی شرکت، چھ ماہ میں 200 نکڑ میٹنگیں منعقد کرنے کا فیصلہسیدالبشر چریٹیبل ٹرسٹ کے زیراہتمام نعتیہ مشاعرہ پروگرام کا انعقاد، مولانا خالد رشید فرنگی محلی ’’ مولانا محمد علی جوہری ایوارڈ‘‘ سےسرفرازحیاتیاتی تنوع کا تحفظ پائیدار مستقبل کے لیے ناگزیر: پروفیسر سوچت سوروپ، لینگویج یونیورسٹی کے شعبۂ ہوم سائنس میں ایک تربیتی پروگرام کا انعقادبدلتے وقت کا وہ بھی کمال دیکھے گاالیکشن کمیشن کی کاکردگی کی جانچ کیلئے نئی عرضی داخل،کسی ریاست کے سابق چیف جسٹس یا جج کی قیادت میں کمیٹی بنانے کا سپریم کورٹ سےمطالبہضمانت کی درخواست پر 2 ماہ کے اندر کریں فیصلہ، نہیں تو ججوں کوبتانی ہوگی وجہ، پٹنہ ہائی کورٹ نے بہار کی تمام سول عدالتوں کیلئے معیاری طریقۂ کار (ایس او پی) سے متعلق جاری کی رہنما ہدایات
اتر پردیش

خاموشی کے ساتھ بڑھنے والی مہنگائی نے عوام کا بگاڑا بجٹ

Oplus_131072

دیوبند:عوام ان دنوں مہنگائی کی وجہ سے بڑھتے ہوئے گھریلو اخراجات سے پریشان ہیں، گزشتہ چند ماہ میں کچن سے لے کر روزمرہ کی استعمال کی چیزوں کی قیمتیں مسلسل بڑھتی جارہی ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ اضافہ اچانک نہیں بلکہ آہستہ آہستہ ہوا ہے جس کی وجہ سے اب ماہانہ گھریلو بجٹ متأثر ہونے شروع ہوگئے ہیں۔
اقتصادیات کے ماہرین کا ماننا ہے کہ مغربی ایشیاء میں بڑھنے والی کشیدگی اورعالمی سطح پر کچے تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کا اثر راست طو رپر ہندوستانی بازاروں پر بھی پڑا ہے۔تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے آمد و رفت کے ذرائع بھی مہنگے ہوئے ہیں جس کے اثرات اشیائے خوردنی اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں پر بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ مارچ ماہ کے بعد سے کمپنیوں نے بھی اپنے پروڈکٹ کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے، کچھ کمپنیوں نے قیمتیں زیادہ کردی ہیں ، جب کہ کچھ کمپنیوں نے اپنے سامان کے پیکٹ کے سائز اوروزن کو کم کردیا ہے اور پرانی قیمتیں بحال رکھی ہیں۔مثلاً پہلے ایک لیٹر سرسوں کے تیل کی قیمت 180روپے تھی ، اب اس کا وزن 825گرام کرکے تقریباً 175روپے میں فروخت کیا جارہا ہے۔ اسی طرح پیلی سرسوں کے تیل کی قیمت بھی 170روپے فی لیٹر سے بڑھاکر 220روپے کردی گئی ہے۔ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ کچے مال کی قیمتوں میں اضافہ مال کی ڈھلائی کے اخراجات کے اضافے میں اس مہنگائی کی اصل وجوہات ہیں۔اسی طرح مارچ مہینے کے بعد ایندھن کی قیمتوں میں بھی قابل ذکر اضافہ درج کیاگیا۔ گھریلو گیس کی قیمتوںمیں بھی تقریباً 10فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور کمرشیل گیس سیلنڈروں میں بھی کافی زیادہ قیمتیں بڑھائی گئی ہیں۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات صرف گاڑی ڈرائیوروں تک ہی محدودنہیں رہے بلکہ ایندھن کی قیمتوں کے اثرات سامان ڈھلائی پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔ جس کا سیدھااثر بازاروں میں فروخت ہونے والے ہر پروڈکٹ پرپڑتا نظر آرہا ہے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔