تازہ ترین
نشہ آور اور سائیکو ٹراپک ادویات کی فروخت میں برتیں احتیاط،اسسٹنٹ ڈرگ کنٹرولر، سیوان کی صدارت میں منشیات سے نجات کی عوامی بیداری مہم کے تحت میٹنگ منعقد ہوئیخواتین سپروائزرز کی بحالی کے تعلق سے ضلع مجسٹریٹ کی صدارت میں سلیکشن کمیٹی کا اجلاسگنگوہ میں قتل کے بعد سیاسی طوفان ،گرفتاری کیلئے 3 دنوں کا الٹی میٹمعازمین حج و عمرہ کی تربیت انتہائی ضروریالائٹ جونیئر ہائی اسکول میں جشنِ عید میلاد النبی ؐ کے سلسلے میں مقابلہ نعت، تقریر اور کوئز کا انعقاداے ایم یو کے شعبہ علم الامراض میں ٹشو پروسیسنگ آرٹیفیکٹس کے موضوع پر توسیعی خطبہ کا اہتمامکیا اپنے ہی ملک میں ترنگا لہرانا جرم ہے؟:کجریوالگیانیش کمار کے استعفیٰ کامطالبہ کرتے ہوئے یوتھ کانگریس کا مارچ
دیش

بی سی آئی کو قانون کے طلبا کے خلاف کارروائی کا اختیار نہیں

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ بار کونسل آف انڈیا (بی سی آئی) قانون کے طلبہ کو ان کے کالج یا یونیورسٹی کے اندر کیے گئے کسی طرز عمل پر سزا نہیں دے سکتی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ بی سی آئی کے پاس قانون کی تعلیم حاصل کر رہے طلبہ کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ قانون کے طلبہ کے طرز عمل اور ان کے نظم و ضبط سے متعلق فیصلہ ان کی یونیورسٹی یا تعلیمی ادارہ ہی کر سکتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ بی سی آئی نے چیف جسٹس کی کانووکیشن تقریب میں شرکت کی مخالفت کرنے والے نلسار کے طلبہ کے خلاف کارروائی کے لیے جو خطوط بھیجے تھے، وہ اس کے دائرہ اختیار سے باہر تھے۔یہ عرضی نالسار کے سابق طلبہ مہر سود اور ابھشیک تیواری نے دائر کی تھی۔ عرضی میں بی سی آئی کے چیئرمین منن کمار مشرا کے 13 اگست کے اس سرکلر کو چیلنج کیا گیا تھا، جس میں انہوں نے نالسار کے طلبہ کے کسی بھی بار کونسل میں وکیل کی حیثیت سے رجسٹریشن پر پابندی عائد کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم مخالفت کے بعد منن مشرا نے یہ سرکلر واپس لے لیا تھا۔
دراصل نالسار کے طلبہ نے چیف جسٹس سوریہ کانت کے ہاتھوں کانووکیشن تقریب میں ڈگری حاصل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد منن کمار مشرا نے یہ سرکلر جاری کیا تھا۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔