نئی دہلی:عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈر اور دہلی کے سابق وزیر تعلیم منیش سسودیا نے کرشنا نگر کے ایک اسکول میں ذہنی دباؤ کا شکار 12ویں جماعت کی ایک طالبہ کی خودکشی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی پارٹی سے سیاسی دشمنی کا بدلہ بی جے پی حکومت اسکول کے بچوں سے کیوں لے رہی ہے؟
اگر بی جے پی حکومت ہیپی نیس کلاس بند نہ کرتی تو شاید 12ویں جماعت کی طالبہ خودکشی کرنے کے بجائے ذہنی دباؤ سے لڑ رہی ہوتی۔ آپ حکومت نے اسکول کے بچوں کو ذہنی دباؤ سے آزاد رکھنے کے لیے ہی ہیپی نیس کلاس شروع کی تھی۔ پوری دنیا نے اس پروگرام کو سراہا تھا اور کئی بین الاقوامی اسکالرز اس پر تحقیق کر رہے تھے۔ اس کے باوجود بی جے پی حکومت نے سیاسی تنگ نظری کے باعث اسے بند کر دیا۔منیش سسودیا نے کہا کہ اس بچی کی موت کی خبر پڑھ کر دل بہت دکھی ہے۔ ایک بچی کا اس طرح ہمت ہار جانا ہم سب کے لیے ایک سنگین سوال ہے۔
ہم نے دہلی کے سرکاری اسکولوں میں ہیپی نیس کلاس اس لیے شروع کی تھی تاکہ بچے ذہنی اور جذباتی طور پر مضبوط بن سکیں۔ اس کلاس میں ہر بچہ روزانہ مراقبہ کرتا تھا، اپنے ذہن اور خیالات کا جائزہ لیتا تھا، شکرگزاری کی مشق کرتا تھا اور مشکل حالات کا سامنا کرنا سیکھتا تھا۔منیش سسودیا نے کہا کہ ہیپی نیس کلاس کے اثرات بچوں کی ذہنی دباؤ سے نمٹنے کی صلاحیت اور اسکول سے گھر تک ان کے تعلقات میں نظر آنے لگے تھے۔ اس کے نتائج کو دیکھتے ہوئے نہ صرف ملک بلکہ پوری دنیا میں اس کی ستائش کی گئی۔ کئی بین الاقوامی اسکالرز اس پر تحقیق کر رہے تھے۔ لیکن بی جے پی حکومت نے اپنی محدود سیاسی سوچ کے باعث ہیپی نیس کلاس بند کر دی۔ افسران، پرنسپلوں اور اساتذہ کو دھمکایا گیا کہ اگر انہوں نے ہیپی نیس کلاس کا ذکر بھی کیا تو انہیں آپ کا حامی سمجھ لیا جائے گا۔
منیش سسودیا نے کہا کہ بچوں کی ذہنی صحت کے لیے شروع کیے گئے نصاب کو سیاسی تنگ نظری کی وجہ سے بند کر دیا گیا۔ بی جے پی کو مجھ سے اور عام آدمی پارٹی سے دشمنی ہو سکتی ہے، لیکن اس کا بدلہ دہلی کے بچوں سے کیوں لیا جا رہا ہے؟ یاد رکھیے کہ بچوں کی ذہنی صحت ہماری سیاسی لڑائیوں سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ دوسری جانب، کونڈلی سے آپ کے رکن اسمبلی کلدیپ کمار نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد سرکاری اسکولوں کی صورت حال مسلسل تشویش ناک ہوتی جا رہی ہے۔
کہیں بچوں کے ساتھ مارپیٹ کے واقعات سامنے آ رہے ہیں، کہیں پرتشدد واقعات پیش آ رہے ہیں، تو کہیں بچیوں کی جان تک جا رہی ہے۔ آخر اسکولوں میں بچے کتنے محفوظ ہیں؟ انہوں نے کہا کہ منیش سسودیا نے وزیر تعلیم رہتے ہوئے دہلی کے سرکاری اسکولوں میں ہیپی نیس کلاسز شروع کی تھیں، تاکہ بچوں میں مثبت سوچ، خود اعتمادی اور ذہنی مضبوطی پیدا ہو۔ لیکن آج ان کلاسز کو بند کیے جانے اور بچوں کی ذہنی صحت کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔کلدیپ کمار نے کہا کہ آج اسکولوں میں نہ تو پہلے کی طرح تعلیم پر گفتگو ہو رہی ہے، نہ ہی حفاظت کی ضمانت ہے اور نہ ہی بچوں کی ذہنی صحت پر خاطر خواہ توجہ دی جا رہی ہے۔ بچوں کا مستقبل خدا کے بھروسے نہیں چھوڑا جا سکتا۔ دہلی حکومت کو جواب دینا ہوگا کہ سرکاری اسکولوں میں تعلیم، تحفظ اور بچوں کی ذہنی صحت کو بہتر بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟
سیاسی دشمنی کا بدلہ بچوں سے لے رہی ہےبی جے پی: منیش سسودیا
