(پی این این)
لکھنؤ:اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی تبھی انسانیت کے لیے کارآمد ثابت ہو سکتی ہیں، جب وہ ہندوستانی دانش، عقل اور عوامی فلاح و بہبود کے جذبے کی نمائندگی کریں۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) ہمارے لیے فوری فیصلے کرنے اور مسائل کے حل میں معاون ثابت ہو سکتی ہے، لیکن اسے ہمارا فیصلہ کن (حتمی فیصلہ کرنے والا) نہیں بننا چاہیے۔ اے آئی کا آپریشن ہمارے عقل و شعور کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ ہمیں اس کے فیصلوں کے بھروسے ہو جانا چاہیے۔ ٹیکنالوجی کا مقصد انسانی زندگی کو بہتر بنانا، انصاف کے نظام کو مضبوط کرنا اور معاشرے کو محفوظ بنانا ہونا چاہیے۔
وزیر اعلیٰ نے اتوار کے روز اتر پردیش اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف فارنسک سائنسز میں ٹیک سنگم-2026 بین الاقوامی کانفرنس کے دوسرے دن کے افتتاحی سیشن سے خطاب کیا۔ انہوں نے کوانٹم فارنسک اور قانونی تعمیل پر مبنی ‘لیکس کیو سینٹر آف ایکسیلنس‘ اور’کنسنٹ مینجمنٹ پورٹل‘ کا بھی افتتاح کیا۔
وزیر اعلیٰ نے’اے آئی ان کنسٹرکشن‘ کتاب کا رسمِ اجراء کیا اور’ابھید‘ پہل کا سنگِ بنیاد رکھا۔ وزیر اعلیٰ کے سامنے تعلیم، ٹیکنالوجی، فارنسک سائنس اور مہارت کی ترقی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے یو پی ایس آئی ایف ایس اور 10 ممتاز قومی و بین الاقوامی اداروں کے درمیان ایم او یو کا تبادلہ کیا گیا۔ پروگرام کے دوران یو پی ایس آئی ایف ایس کے تصور، پیش رفت اور عزم پر مبنی ایک مختصر فلم بھی دکھائی گئی۔
واضح رہے کہ تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس’ٹیک سنگم-2026‘ اے آئی، سائبر فارنسک، کوانٹم ٹیکنالوجی، ڈیٹا کے تحفظ اور قانونی تعمیل کے مدغم کے موضوع پر مبنی ہے۔
