Bihar
بہار کی یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی داخلہ عمل میںاہم تبدیلی، پی ایچ ڈی داخلے میں اب نیٹ-یوجی سی اسکور ہوگا بنیاد،پیٹ امتحان نہیں کیا جائے گا منعقد
(ایس ایم عالم؍پی این این)
بہارشریف:ریاست کی یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی داخلہ عمل میں ایک اہم تبدیلی کی گئی ہے۔ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (UGC) کی تازہ ترین ہدایات کے مطابق اب پی ایچ ڈی پروگراموں میں داخلے کے لیے پری پی ایچ ڈی ایڈمیشن ٹیسٹ (PAT) منعقد نہیں کیا جائے گا، بلکہ امیدواروں کے انتخاب اور داخلے کی بنیاد UGC-NET اسکور ہوگا۔
چانسلر سیکریٹریٹ کی جانب سے ریاست کی تمام یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کو جاری ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ تعلیمی سیشن 2024 اور 2025 کے لیے کسی بھی یونیورسٹی کی جانب سے PAT کا اشتہار جاری نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی یہ امتحان منعقد کیا جائے گا۔ جن یونیورسٹیوں نے PAT کے ذریعے داخلے کے لیے اشتہار جاری کر دیا ہے لیکن امتحان منعقد نہیں کیا ہے، انہیں ایسی تمام کارروائیاں فوری طور پر منسوخ کرنی ہوں گی اور امیدواروں سے وصول کی گئی درخواست فیس واپس کرنی ہوگی۔
پاٹلی پتر یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر ابو بکر رضوی نے بتایا کہ یونیورسٹی کی جانب سے پہلے ہی PAT کے ذریعے پی ایچ ڈی داخلہ عمل مکمل کیا جا چکا ہے اور ریسرچ اسکالرز کا کورس ورک بھی مکمل ہو چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پہلے سے داخلہ حاصل کر چکے ریسرچ اسکالرز کی تعلیم اور تحقیقی سرگرمیوں پر اس فیصلے کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔رجسٹرار نے کہا کہ پاتلی پتر یونیورسٹی آئندہ پی ایچ ڈی داخلوں کے لیے UGC اور چانسلر سیکریٹریٹ کی ہدایات پر مکمل طور پر عمل کرے گی اور داخلہ عمل صرف UGC-NET اسکور کی بنیاد پر ہی انجام دیا جائے گا۔
Bihar
گیا جی میں بینک فراڈ کابڑا معاملہ،ای ڈی جانچ میں مصروف
(پی این این)
گیاجی: 85 کروڑ روپے کا بینک لون، تقریباً 58 کروڑ روپے کی مبینہ ڈائیورژن اور پہلے سے رہن رکھی پانچ جائیدادوں کی فروخت، گیا میں جمعہ کے روز انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)، پٹنہ کی کارروائی کے بعد بینک فراڈ کا یہ معاملہ ایک بار پھر سرخیوں میں آ گیا۔ ای ڈی کی پٹنہ ٹیم نے پی ایم ایل اے کی دفعہ 17 کے تحت رام نندی ہوٹلس اینڈ ریزورٹس لمیٹڈ (آر ایچ آر ایل) سے وابستہ کئی ٹھکانوں پر بیک وقت سرچ آپریشن شروع کیا۔ دیر شام تک تلاشی کی کارروائی جاری رہی۔
ای ڈی کی تحقیقات کے مطابق کمپنی نے بینکوں کے کنسورشیم سے تقریباً 85 کروڑ روپے کا قرض حاصل کیا تھا۔ الزام ہے کہ اس رقم میں سے تقریباً 58 کروڑ روپے مبینہ طور پر دوسری جگہ منتقل کیے گئے۔ تفتیشی ایجنسی کو شبہ ہے کہ بینک قرض حاصل کرنے کے لیے فرضی یا جعلی پروجیکٹ کمپلیشن رپورٹ کا استعمال کیا گیا۔ اب ای ڈی یہ پتہ لگانے میں مصروف ہے کہ بینک سے حاصل کروڑوں روپے آخر کن کھاتوں میں گئے اور کن کاروباری سرگرمیوں میں استعمال ہوئے۔
اس معاملے میں پانچ جائیدادیں بھی ای ڈی کی جانچ کے مرکز میں ہیں۔ ای ڈی کے مطابق ان جائیدادوں کو ٹاٹا موٹرس سے متعلق بقایا جات کے عوض رہن یا مارگیج کیا گیا تھا۔ الزام ہے کہ بعد میں ان جائیدادوں کو مبینہ طور پر کم قیمت پر فروخت کر دیا گیا۔ اب ای ڈی یہ جانچ کر رہی ہے کہ پہلے سے ذمہ داری والی ان جائیدادوں کی فروخت کس طرح، کن حالات میں اور کن لوگوں کے درمیان ہوئی۔
ای ڈی کو بعض خریداروں کے مبینہ طور پر بے نامی یا پراکسی ہونے کا بھی شبہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تحقیقات اب صرف کمپنی اور اس کے ذمہ داران تک محدود نہیں ہے، بلکہ جائیدادوں کی خرید و فروخت سے وابستہ افراد، رقم کی منتقلی اور پورے لین دین کی کڑی کو بھی کھنگالا جا رہا ہے۔
ای ڈی کی تحقیقات میں کمپنی کا کنٹرول اکھوری گوپال اور ان کے بیٹوں نشانت اور نتیش کے پاس ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ بینک قرض کے عوض اکھوری گوپال اور ان کے خاندان کے افراد کی جانب سے ذاتی گارنٹی بھی دی گئی تھی۔ ایسے میں تفتیشی ایجنسی قرض سے متعلق دستاویزات، گارنٹی اور کمپنی کے مالی معاملات میں ان کے کردار کی بھی جانچ کر رہی ہے۔
ای ڈی کی ٹیم متعلقہ احاطوں میں دستاویزات، بینک ریکارڈ اور جائیدادوں سے متعلق کاغذات کی باریک بینی سے جانچ کر رہی ہے۔ تلاشی کے دوران برآمد ہونے والے دستاویز ات سے مبینہ 58 کروڑ روپے کی ڈائیورژن اور جائیدادوں کی فروخت سے متعلق کئی اہم راز کھل سکتے ہیں۔ فی الحال سرچ آپریشن جاری ہے اور تلاشی مکمل ہونے کے بعد ای ڈی کی جانب سے مزید تفصیلات سامنے آنے کی امید ہے۔
Bihar
حاجی پورمیں ویرعبدالحمیدکی یاد میں پروگرام کا انعقاد
(پی این این)
حاجی پور:1965ء کی پاک بھارت جنگ میں شجاعت اور سرفروشی کی بے مثال تاریخ رقم کرنے والے، ملک کے اعلیٰ ترین فوجی اعزاز ’پرم ویر چکر‘ سے سرفراز شہید حوالدار عبدالحمید کا یومِ شہادت پر”اسٹار کڈز انٹرنیشنل اسکول، کمال پور” میں ایک باوقار پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس میں اسکول کے اساتذہ اور بچوں نے شہید موصوف کو خراجِ عقیدت پیش کر کے انہیں یاد کیا۔ پروگرام کی صدارت اسکول کے ڈائریکٹر اسامہ فاروقی نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض اسکول کے سینئر استاد محمد علیم الدین انصاری نے اپنے مخصوص، سنجیدہ اور دلکش انداز میں انجام دیے۔
تقریب میں بطورِ مہمانِ خصوصی محترمہ صابیہ پروین تشریف فرما تھیں، جبکہ اسکول کی پرنسپل سایکا پروین کے علاوہ دیگر اساتذہ سونی کماری، سادیہ پروین اور پرینکا کماری نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے شہید عبدالحمید کی حیات، جنگی مہارت اور بے مثال قربانی پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔اس موقع پر اسکول کے بچوں کو’اسمارٹ کلاس‘ کے ذریعے ویڈیو اور نمائش دکھا کر شہید عبدالحمید کی حیات، ان کی جنگی مہارت کو تفصیل کے ساتھ روشناس کرایا گیا۔
پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے اسکول کے ڈائریکٹر اسامہ فاروقی نے شہید عبدالحمید کے تاریخی کارناموں اور 1965ء کے معرکے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ: “ویر عبدالحمید کی ولادت 1 جولائی 1933ء کو اتر پردیش کے ضلع غازی پور کے دھام پور گاؤں میں ہوئی تھی۔ وہ بھارتی فوج کے ایک ایسے بہادر سپاہی تھے جنہوں نے 1965ء کی جنگ میں پڑوسی ملک پاکستان کے دانت کھٹے کر دیے تھے۔
اس ہند کے ویر سپوت کی بہادری کی کہانی آج اتنے سالوں بعد بھی جب کوئی سنتا ہے تو اس کا سینہ فخر سے چوڑا ہو جاتا ہے۔ 1965ء کی اس جنگ میں ان کے جذبے اور کبھی نہ ہار ماننے والی ہمت نے ہی بھارت کو تاریخی جیت دلائی تھی۔” انہوں نے مزید بتایا کہ اپنی جان کی پروا کیے بغیر انہوں نے اپنے بہترین جنگی ہنر سے پاکستانی فوج کے تقریباً 7 ٹینکوں کو تباہ کر دیا۔
آخر میں جب وہ 8ویں ٹینک کو نشانہ بنا رہے تھے، تبھی اچانک دشمن کا ایک گولا ان کی جیپ کے پاس آ کر پھٹا اور وہ شہید ہو گئے۔ تاہم، اپنی آخری سانس لینے سے پہلے بھی وہ اس 8ویں ٹینک کو تباہ کر چکے تھے۔ ان کی اس بے مثال بہادری پر انہیں بعد از شہادت ملک کا سب سے بڑا فوجی اعزاز ‘پرم ویر چکر’ دیا گیا۔ اسکول کی پرنسپل سایکا پروین نے اپنے خطاب میں شہید کے نقشِ قدم پر چلنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ان کی حیات سے وطن پر مٹ مٹنے کا سبق حاصل کرنا چاہیے اور جب کبھی ملک کی سرحدیں یا بقا ہمیں پکارے، تو ہمیں بھی ایسی ہی سرفروشی اور شہادت کی تمنا دل میں رکھنی چاہیے۔ استاد محمد علیم الدین انصاری نے کہا کہ عبدالحمید نے محدود وسائل میں جس عظیم الشان بہادری کا مظاہرہ کیا، اسے ملکی تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔
استاد سونی کماری نے کہا کہ عبدالحمید نے بے حد معمولی گاڑی اور محدود وسائل کے باوجود امریکہ کے بنے ہوئے طاقتور ٹینکوں کا غرور خاک میں ملا دیا اور ثابت کر دیا کہ معرکے محض جدید ترین اسلحوں سے نہیں بلکہ فولادی حوصلوں اور حبِ وطنی سے جیتے جاتے ہیں۔ پروگرام کے آخر میں طلبہ و طالبات نے شہید عبدالحمید کو خراجِ عقیدت پیش کیا، جس کے بعد پروگرام کا اختتام ہوا۔
Bihar
نتیش کمار کی پارٹی جے ڈی یو کا نام بدلنے کی تیاری،سنجے جھا نے رہنماؤں سے کی بڑی اپیل،پارٹی کا نام ’جنتا دل نتیش‘ رکھنے کی پیش کی تجویز
(پی این این)
پٹنہ:جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے قومی کارگزار صدر اور راجیہ سبھا کے رکن سنجے جھا نے پارٹی کے رہنماؤں سے پارٹی کا نام تبدیل کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے جے ڈی یو کا نام تبدیل کرکے جنتا دل نتیش رکھنے کی تجویز پیش کی ہے۔کھگڑیا میں منعقدہ نتیش سنواد پروگرام کے دوران اپنی تقریر میں انہوں نے یہ بات کہی۔
انہوں نے کہا کہ بہار کی ترقی اور پارٹی کے فروغ کے لیے انہوں نے پوری طاقت اور خلوص کے ساتھ کام کیا ہے۔ ان کے کام اور خدمات کے اعتراف اور احترام میں پارٹی کا نام ان کے نام پر رکھا جانا چاہیے۔کھگڑیا میں پارٹی کے ریاستی صدر امیش کشواہا سے خطاب کرتے ہوئے سنجے جھا نے کہا کہ اب جے ڈی یو کو جنتا دل نتیش کے نام سے جانا جانا چاہیے۔دراصل سنجے جھا ان دنوں بنگلہ دیش کے ساتھ فرکا پانی معاہدے کو لے کر مختلف اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے نتیش سنواد پروگرام منعقد کر رہے ہیں۔ وہ گنگا ندی کے کنارے واقع 12 اضلاع کا دورہ کر رہے ہیں، جس کا آغاز بکسر سے کیا گیا ہے اور اختتام کٹیہار میں ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ بہار کے ساتھ ناانصافی ہے، کیونکہ ہمیں اپنے حصے کا پانی دوسرے ملک کو دینا پڑتا ہے۔ وہ فرکا پانی معاہدے کی تجدید کے حق میں نہیں ہیں۔اسی سلسلے میں بدھ کے روز سنجے جھا کھگڑیا میں موجود تھے۔
پروگرام کے دوران انہوں نے نتیش کمار کے کاموں کا ذکر کیا۔ سنجے جھا نے یہ اپیل ایسے وقت میں کی ہے جب نتیش کمار کی جائے پیدائش بختیارپور کا نام بدل کر نتیش پور رکھنے کا مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے۔ بدھ کے روز ہندوستانی عوام مورچہ کے صدر سنتوش کمار سمن نے کہا کہ بختیارپور کا نام تبدیل کرکے نتیش پورم کیا جانا چاہیے۔
سنجے جھا نے کہا کہ جب بھی بہار کی ترقی کی بات ہوتی ہے تو نتیش کمار کا نام سامنے آتا ہے۔ فرکا پانی معاہدے کو آگے نہ بڑھانے کی آواز بھی نتیش کمار نے ہی اٹھائی تھی۔ جمعرات کو جے ڈی یو کے ریاستی دفتر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کے ساتھ پانی کے معاہدے میں بہار کے مفادات کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔جھا نے کہا کہ فرکا بیراج کی وجہ سے بہار میں سیلاب کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ گنگا میں گاد جمع ہونے کے سبب پانی کے بہاؤ اور ذخیرہ کرنے کی صلاحیت مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں پانی پھیل رہا ہے اور سیلاب کی صورتحال سنگین ہوتی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بہار کے حصے کا تعین کرنے کے بعد ہی بنگلہ دیش کے ساتھ گنگا کے پانی کی تقسیم کا معاہدہ کیا جائے۔ بہار کو سال 2050 تک پانی کی کتنی ضرورت ہوگی، اس کا اندازہ لگاتے ہوئے پانی میں ریاست کی حصہ داری طے کی جانی چاہیے۔
سنجے جھا نے کہا کہ گزشتہ 30 برسوں سے بہار کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بہار گزشتہ 30 برس سے جاری اس ناانصافی کو اب مزید برداشت نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی بھی اس ناانصافی کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔انہوں نے اس معاملے کو لے کر عوام کے درمیان جانے کا بھی اعلان کیا۔
-
بہار10 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
