Connect with us

Bihar

مودی-نتیش کے خوابوں کوپوراکرنے کیلئے ہم مل کر کریں گے کام

Published

on

(پی این این)
پٹنہ: وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کل مظفر پور ضلع کے موتی پور بلاک اپ گریڈ شدہ ہائر سیکنڈری اسکول، گوسائی پور میں منعقدہ سہیوگ کیمپ میں میں شامل ہوئے۔ وزیر اعلیٰ سہیوگ کیمپ میں اپنے مسائل اور شکایات کے حل کے لیے آئے عام لوگوں سے ملاقات کی۔ وزیر اعلیٰ نے درخواستوں کا جائزہ لیا اور پڑھا، لوگوں کے مسائل سنے اور حل کے لیے ہدایات دیں۔ سہیوگ کیمپ کے معائنہ کے دوران لوگوں سے بات کی، ان کی خیریت دریافت کی، اور مقامی مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔وزیراعلیٰ نے پروگرام کے مقام سے مظفر پور ضلع کے لیے 288.16 کروڑ کے 109 منصوبوں کا ریمورٹ کے توسط سے افتتاح اور سنگ بنیاد رکھا۔
وزیر اعلیٰ نے 6733سیلف ہیلپ گروپ کی جیویکا دیدیوں کو گزر بسر کے لیے 101 کروڑ روپے کا علامتی چیک دیا۔ساتھ ہی وزیر اعلیٰ نے وزیر اعلیٰ ادیمی منصوبہ، واسگیت گریہہ استھل پرچہ، آیوشمان کارڈ، سماجی تحفظ پنشن، پی ایم سوریہ گھر منصوبہ، منریگا بکری شیڈ، لیبر کارڈ، راشن کارڈ، اور پیدائش کا سرٹیفکیٹ کے مستفیدوں کو سرٹیفکیٹ دیا۔ پروگرام کے دوران وزیر اعلیٰ کو ڈی ایم سبز پودااور عوامی نمائندوں نے مومنٹو، شال اور پھولوں کا ایک بڑا ہار پہنا کر پرتپاک خیر مقدم کیا۔وزیر اعلیٰ نے شمع روشن کرکے پروگرام کا افتتاح کرنے کے بعد اپنے خطاب میں کہا کہ آپ کے ضلع کے موتی پور بلاک کے پرسونی پنچایت میں منعقدہ سہیوگ شیویر میں آپ کے درمیان ہونے کا موقع ملا۔ اس کیمپ میں مسائل کے حل کے لیے آئے لوگوں کی درخواستوں کو میں نے دیکھااور انہیں حل کرنے کی ہدایت کی۔سہیوگ کیمپ میں مظفر پور ضلع میں اب تک 10ہزار درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جن میں سے تقریباً 90 فیصد کا ضلع انتظامیہ نے تصفیہ کر دیا ہے۔ یہ بڑی خوشی کی بات ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سہیوگ شیویر ایک عوامی پروگرام ہے۔ ہمارا مقصد مسائل کو حل کرنا ہے۔ ہمیں تمام حلقوں سے معلومات موصول ہو رہی ہیں کہ اب تک موصول ہونے والی تمام درخواستوں پر کارروائی ہو چکی ہے، اور کچھ پر کارروائی کے لیے کام تیزی سے جاری ہے۔ ہم نے مسائل کے حل کے لیے ٹائم فریم مقرر کیا ہے۔ اگر 10 دن میں مسائل حل کرنے کے لیے کچھ نہ کیا گیا تو 11 ویں دن وزیراعلیٰ آفس سے پہلا نوٹس بھیجا جائے گا۔ 20 دن تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی تو 21 ویں دن دوسرا نوٹس بھیجا جائے گا۔ اگر 25 دنوں کے اندر کوئی کارروائی نہیں کی گئی تو 26 ویں دن تیسرا نوٹس بھیجا جائے گا۔ اگر 30 ویں دن تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی تو 31 ویں دن وزیراعلیٰ کے دفتر سے متعلقہ آفیسر کو معطلی کا نوٹس بھیجا جائے گا۔ پوری انتظامی مشینری کو اس کی اطلاع دے دی گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ترقی یافتہ ہندوستان کا خواب دیکھا اور سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے خوشحال بہار کا خواب دیکھا۔ اس خواب کو پورا کرنے کے لیے ہم سب مل کر کام کریں گے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مظفر پور میں ایئر پورٹ کی تعمیر کے تمام عمل مکمل ہو چکاہے اور جلد ہی اس کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تین چینی ملوں کوکھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چوتھی چینی مل کھلے گی تو موتی پور میں کھولی جائے گی۔ 2030 تک بہار میں 25 شوگر ملیں شروع ہوں گی۔ ریاستی حکومت نے 3لاکھ 47ہزار کروڑ روپے کا بجٹ تیار کیا ہے۔ بہار خوشحالی کی راہ پر گامزن ہے۔ مرکزی حکومت بھی مکمل تعاون فراہم کر رہی ہے۔ خوشحال اور شاندار بہار کی تعمیر کے لیے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہے۔ کابینہ نے 11 سیٹلائٹ ٹاؤن شپ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ 22ہزار ایکڑ اراضی پر’تر ہت‘ کے نام سے ایک نئی سیٹلائٹ ٹاؤن شپ تعمیر کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ مظفر پور شہر کو مزید منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ ریپڈ ریل شروع کرنے کاہم لوگوں کا منصوبہ ہے۔ ریپڈ ریل جب شروع ہو جائے گا تو مظفر پور لوگ 30 سے 40 منٹ میں پہنچ سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام عوامی نمائندوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ سہیوگ شیویر کا دورہ جاری رکھیں۔ عوام سے ملیں اور ان کے مسائل کو سمجھیں۔ ان کے مسائل کے حل کے حوالے سے ان سے فیڈ بیک حاصل کریں اور مجھے آگاہ کریں۔ ہر ایک کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ لوگ سہیوگ شیویر سے مستفید ہوں۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ بہار کے لوگ خوشحال ہوں، اس کے لیے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

Bihar

ٹرین کے اے سی کوچ سے نوجوان لڑکی 15.8 کلو گاگانجے کے ساتھ گرفتار

Published

on

(پی این این)
گیا جی: ٹرین میں سفر، اے سی-2 کوچ اور بیگ میں 15 کلو 800 گرام گانجا! گیا جنکشن پر پیر کی رات منشیات کی اسمگلنگ کے ایک ایسے معاملے نے ریلوے پولیس کو چونکا دیا، جس میں ایک نوجوان لڑکی کو مبینہ طور پر گانجے کی بڑی کھیپ کے ساتھ گرفتار کیا گیا۔ برآمد گانجے کی قیمت تقریباً سات لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔ بھونیشور تیجس راجدھانی ایکسپریس کے اے سی-2 ٹائر کوچ میں مشتبہ انداز میں سفر کر رہی لڑکی پر خفیہ اطلاع کے بعد آر پی ایف، سی آئی بی اور جی آر پی کی مشترکہ ٹیم کی نظر پڑی۔ تلاشی کے دوران اس کے بیگ سے گانجے کی بھاری مقدار برآمد ہوتے ہی ٹرین میں ہلچل مچ گئی۔ پولیس نے گانجا ضبط کرکے لڑکی کو گرفتار کرلیا۔
آر پی ایف انسپکٹر بنارسی یادو کے مطابق گرفتار لڑکی جھاج پور سے نئی دہلی جا رہی تھی اور وہ گیا کی رہنے والی بتائی گئی ہے۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ 15.8 کلو گانجا کہاں سے آیا؟ کس نے دیا؟ دہلی میں کس کے حوالے ہونا تھا؟ اور اس پوری کھیپ کے پیچھے کون ہے؟ریلوے پولیس ان سوالات کے جواب تلاش کرنے میں مصروف ہے۔ گرفتار لڑکی سے پوچھ گچھ کے دوران ملنے والی معلومات کی بنیاد پر اسمگلنگ کے پورے نیٹ ورک تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس گرفتاری نے منشیات اسمگلنگ کے بدلتے انداز پر بڑا سوال کھڑا کردیا ہے۔ کیا اسمگلر اب عام کوچوں کے بجائے اے سی کوچ کو محفوظ راستہ سمجھنے لگے ہیں؟ کیا خواتین اور لڑکیوں کو پولیس کی نظروں سے بچنے کے لیے کوریئر کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے؟ گیا کی اس کارروائی نے ان سوالات کو مزید گہرا کردیا ہے۔حالیہ دنوں میں پٹنہ اور سمستی پور میں خواتین کے ذریعے شراب کی اسمگلنگ کے معاملات سامنے آ چکے ہیں۔ سمستی پور میں اے سی فرسٹ کلاس سے غیر ملکی شراب کے ساتھ ایک لڑکی اور اس کے بہنوئی کی گرفتاری، جبکہ پٹنہ جنکشن پر ایک طالبہ کے شراب کے ساتھ پکڑے جانے کے بعد اب گیا میں لڑکی کے ذریعے گانجے کی اتنی بڑی کھیپ پکڑے جانے سے خواتین کو ’کوریئر‘ بنانے کے ممکنہ رجحان پر تفتیشی ایجنسیوں کی نظر ٹک گئی ہے۔
15.8 کلو گانجا برآمد ہونا محض ایک گرفتاری نہیں، بلکہ اس کے پیچھے موجود سپلائی چین کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ ریلوے پولیس اب یہ جاننے میں مصروف ہے کہ اس کھیپ کا اصل سپلائر کون تھا، اسے کس نے لڑکی کے حوالے کیا اور دہلی میں اسے کس کے حوالے کیا جانا تھا۔گیا جنکشن پر سات لاکھ روپے کی گانجے کی کھیپ کے ساتھ لڑکی کی گرفتاری نے ریلوے میں منشیات کی اسمگلنگ کے نئے راستوں، اے سی کوچ کے ممکنہ استعمال اور خواتین کو کوریئر بنائے جانے کے خدشے پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

Continue Reading

Bihar

گیاجی: شبھ کامنا اسپتال پر علاج میں غفلت کا الزام

Published

on

(پی این این)
گیا جی: شہر کے شبھ کامنا ہارٹ ہاسپٹل اینڈ میٹرنٹی سینٹر میں مریض کی موت کے بعد مبینہ طبی غفلت کو لے کر اہل خانہ کا غصہ پھوٹ پڑا۔ اہل خانہ نے ہاسپٹل کے ڈاکٹر پر علاج میں لاپروائی، غلط دوا دینے اور مبینہ طور پر اوور ڈوز کے باعث مریض کی حالت بگاڑنے جیسے سنگین الزامات عائد کئے۔ موت کے بعد اہل خانہ نے ہاسپٹل کے باہر زبردست ہنگامہ کیا۔ اطلاع ملنے پر رام پور تھانہ کی پولیس موقع پر پہنچی اور کافی مشقت کے بعد حالات کو قابو میں کیا۔ پولیس پورے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
موصولہ اطلاع کے مطابق مانپور بلاک کے نارائن نگر کے رہنے والے سابق پنچایت سکریٹری سدھیشور پرساد کی طبیعت تقریباً 20 روز قبل اچانک خراب ہوئی تھی۔ ان کے بیٹے وپن کمار نے انہیں شبھ کامنا ہارٹ ہاسپٹل اینڈ میٹرنٹی سینٹر میں داخل کرایا۔ اہل خانہ کے مطابق جانچ کے دوران دل میں بلاکیج کی بات سامنے آئی، جس کے بعد ڈاکٹروں نے آپریشن کرکے دو اسٹنٹ لگائے۔اہل خانہ کا الزام ہے کہ اسٹنٹ لگانے کے بعد ڈاکٹر امن سنہا نے اسٹنٹ صحیح طریقے سے لگ جانے کی بات کہتے ہوئے مریض کو گھر لے جانے کا مشورہ دیا اور تقریباً ایک ماہ بعد دوبارہ مشورے کے لئے بلایا۔ اس کے بعد مریض کی طبیعت مسلسل بگڑتی رہی۔ اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ وہ کئی مرتبہ ہاسپٹل پہنچے اور مریض کی حالت کے بارے میں معلومات لینے کے ساتھ بہتر علاج کے لئے دوسرے ہاسپٹل لے جانے کی اجازت بھی مانگی، لیکن انہیں مسلسل یہ کہہ کر مطمئن کیا جاتا رہا کہ اسٹنٹ لگ چکا ہے اور اب کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔
متوفی کے بیٹے وپن کمار نے الزام لگایا کہ ان کے والد کو ضرورت سے زیادہ دوائیں دی گئیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ دل کے مرض کے علاج کے لئے ضروری دواؤں کے بجائے دوسری دوائیں دی گئیں اور مبینہ اوور ڈوز کی وجہ سے مریض کی حالت مسلسل خراب ہوتی چلی گئی۔ اہل خانہ کے مطابق علاج کے نام پر اب تک تقریباً چار لاکھ روپے خرچ ہو چکے تھے، اس کے باوجود مریض کی حالت میں کوئی بہتری نہیں آئی۔
وپن کمار کے مطابق موت سے ایک روز قبل بھی وہ اپنے والد کو لے کر ہاسپٹل پہنچے تھے اور ان کی سنگین حالت کو دیکھتے ہوئے داخل کرنے کی درخواست کی تھی۔ الزام ہے کہ اس وقت بھی مریض کو داخل نہیں کیا گیا۔ اگلے ہی روز مریض کی موت ہوگئی۔ موت کی خبر ملتے ہی اہل خانہ مشتعل ہوگئے اور ہاسپٹل کے باہر ہنگامہ شروع کردیا۔
اہل خانہ نے محکمہ صحت سے پورے معاملے کی غیر جانب دار میڈیکل جانچ کرانے، علاج کے دوران دی گئی دواؤں اور ان کی مقدار کی جانچ کرنے اور اگر طبی غفلت ثابت ہو تو ہاسپٹل اور متعلقہ ڈاکٹروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ادھر ڈاکٹر امن سنہا کا موقف جاننے کے لئے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن ان کا فون نہیں لگا۔ ان کی بہن ڈاکٹر میگھا سنہا نے کہا کہ یہ ایمرجنسی ہاسپٹل ہے اور یہاں مریضوں کی اموات ہوتی رہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاملہ اب پُرسکون ہوچکا ہے اور اہل خانہ لاش لے کر چلے گئے ہیں۔رام پور تھانہ کے تھانیدار دنیش بہادر سنگھ نے بتایا کہ مریض کی موت کے بعد ہاسپٹل کے باہر اہل خانہ کے ہنگامے کی اطلاع ملی تھی۔ پولیس موقع پر پہنچی اور حالات کو پُرسکون کرایا۔ انہوں نے کہا کہ پورے معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔

Continue Reading

Bihar

تنظیمی قوت سے ہی مسائل و مشکلات کا حل ممکن:مفتی محمد سہراب ندوی،تنظیم امارت ضلع شیوہر کے عہدہ داران و ارکان کو اسناد کی تفویض اور ہدایات و اختیارات سے آگاہی

Published

on

(پی این این)
پھلواری شریف:اس وقت بدلتے ہوئے حالات نے ملت کے سامنے جتنے مسائل و مشکلات کھڑے کر دئیے ہیں قریب کی تاریخوں میں اس کی نظیر کم ملتی ہے ،بات صرف شہریت کے تحفظ و بقاء کی نہیں ؛بلکہ ایمان اور ایمان کے بنیادی تقاضوں پر عمل اور ایمانی شناخت کی حفاظت بھی سنگین خطرات کے گھیرے میں ہے ، دن کے اجالے میں جس طرح دستور کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور بنیادی حقوق کی پامالی کی جا رہی ہے وہ ہر حساس صاحب ایمان کو بے چین کر دینے کے لئے کافی ہے۔
حالات کی تفصیلات آپ حضرات سے مخفی نہی ہیں ،کیا ایسی صورت حال میں باعزت ،باضمیر اور مومنانہ شناخت کے ساتھ زندگی گذارنے کے لئے فکرمند ہونا ہم سب کی ذمہ داری نہیں ہے ؟مشکلات سے گھبرانا اور حالات کے سامنے بلا سوچے سمجھے سرنگوں ہو جانا نہ ایمان کا تقاضہ ہے اور نہ انصاف کا ،ضرورت ہے کہ ملک کے دستور و آئین کو سامنے رکھتے ہوئے قدم کو آگے بڑھایا جائے اور حوصلہ مندی کے ساتھ حسن تدبیر کو کام میں لایا جائے ،حالات سے مایوسی اگر کفر ہے تو خوف و ہراس میں مبتلا ہونا بھی ایمان کے منافی ہے ،امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ پھلواری شریف ،پٹنہ نے ہمیشہ ایسے مواقع پر مختلف پہلوؤں سے ملت کو بیدار رکھنے اور ملی وجود کی بقاء کے لئے جدوجہد کرنے کے سلسلہ میں عملی کردار نبھایا ہے ،آج بھی مختلف تدبیروں کو رو بہ عمل لانے کے ساتھ امارت شرعیہ چاہتی ہے کہ کلمہ گو افراد نظم و اتحاد کی ایسی راہ اختیار کریں جس سے نہ صرف اندرونی استحکام حاصل ہو ؛بلکہ اس کے ذریعہ مسائل و مشکلات حل ہو سکیں ۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ تنظیمی قوت سے ہی مسائل ومشکلات حل ہوئے ہیں اور آج بھی اسی راہ سے مشکلات کے حل کی امید کی جا سکتی ہے ،امارت شرعیہ کے تحت بہار،اڈیشہ ،جھارکھنڈ و مغربی بنگال چاروں صوبوں کی اکثر مسلم آبادیوں میں تنظیم امارت قائم ہے ،ضرورت تھی کہ اس تنظیمی ڈھانچہ کو ان چاروں صوبوں میں گاؤں سے لے کر پنچایت ،پنچایت سے لے کر بلاک اور بلاک سے لے کر ضلع کی سطح پر تنظیمی کڑی کے ذریعہ منظم کیا جائے،چنانچہ اس تنظیمی کڑی کو مکمل کرنے کا کام جاری ہے ،ضلع شیوہر میں ضلع کمیٹی کی تشکیل کے بعد اسناد کی تفویض اور ہدایات و اختیارات سے آگاہی کے لئے منعقد یہ میٹنگ در اصل اسی سرگرمی کا ایک اہم حصہ ہے ،ان خیالات کا اظہار امارت شرعیہ کے نائب ناظم جناب مولانا مفتی محمد سہراب ندوی قاسمی انچارج شعبۂ تبلیغ و تنظیم امارت شرعیہ نے مدرسہ اسلامیہ عربیہ ڈومری شیوہر کے وسیع جامع مسجد میں منعقد تنظیم امارت شرعیہ ضلع شیو ہر کے عہدہ داران و ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے صدارتی گفتگو میں کیا۔
واضح رہے مورخہ ۱۳؍ستمبر ۲۰۲۶ ء کو امیر شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ کی ہدایت اور ناظم امارت شرعیہ جناب مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی صاحب کے مشورہ سے تقسیم اسناد اور تفویض اختیارات کے عنوان سے تنظیم امارت ضلع شیوہر کے عہدہ داران و ارکان کی باوقار تقریب اور شاندار میٹنگ منعقد ہوئی ،ضلع تنظیم شیوہر میں مختلف طبقے سے تعلق رکھنے والے ایک سو چھیاسٹھ (۱۶۶) افراد کو شامل کیا گیا ہے ،میٹنگ میں شریک تمام عہدہ دران و ذمہ داران کو محترم نائب ناظم مولانا مفتی محمد سہراب ندوی ،مولانا قمر انیس قاسمی معاون ناظم اور قاضی شریعت شیوہر مولانا فخرالدین قاسمی کے ہاتھوں حضرت امیر شریعت مدظلہ کی طرف سے جاری عہدے کی سند دی گئی اور ہدایات و اختیارات پر مشتمل تحریر سپرد کی گئی ۔جناب ماسٹر فخرالحسن صاحب ڈومری شیوہر کو بحیثیت صدر اور جناب مولانا مفتی اعجاز احمد قاسمی صاحب سوگیا کو بحیثیت سکریٹری سند سے نوازا گیا۔ایسے تمام اضلاع جہاں تنظیمی ڈھانچے کی تکمیل یا تجدید کی ضرورت ہے اسے پورا کیا جا رہا ہے اور ان اضلاع میں بھی اس طرح کی میٹنگوں کے انعقاد کی تیاری جاری ہے ،حضرت امیر شریعت مدظلہ اور ناظم امارت شرعیہ بھی اس سلسلہ میں بے حد فکر مند ہیں اور ان کی منشاء ہے کہ ہر ضلع میں ایسے متحرک افراد کی ٹیم تیار ہو جو ہر وقت ملی خدمت کے لئے مستعد و تیار رہے ،اس میٹنگ کو خطاب کرتے ہوئے معاون ناظم امارت شرعیہ جناب مولاناقمر انیس قاسمی صاحب نے کہاکہ امارت شرعیہ کی سو سالہ روشن تاریخ گواہ ہے کہ ہر مشکل موقع پر امارت شرعیہ کی طرف سے فکری اور عملی رہنمائی ملت کو حاصل رہی ہے ،انہوں نے امارت شرعیہ کی فکر اور اس کی تحریکی سرگرمیوں پر بھی روشنی ڈالی ،قاضی شریعت جناب مولانا فخرالدین قاسمی صاحب نے میٹنگ کی نظامت کی اور افتتاحی خطاب کیا،میٹنگ کا آغاز مفتی فیاض قاسمی کی تلاوت سے ہوا ،نعت پاک مولانا جلال الدین ندوی نے پیش کی ،نومنتخب صدر ماسٹر فخرالحسن صاحب نے اپنے تأثرات کے اظہار کے ساتھ شکریہ کے کلمات کہے ، مولانا محمد نوشاد عالم مظاہری اور مولانا احمد حسین قاسمی مبلغین امارت شرعیہ نے قاضی صاحب کے تعاون سے میٹنگ کو کامیاب بنایا ،میٹنگ میں شریک تمام عہدہ داران و ارکان نے حضرت امیر شریعت کی ہدایات اور مفوضہ ذمہ داریوں کو نبھانے کے سلسلے میں مضبوط عزم کا اظہار کیا ۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network