Connect with us

Bihar

نالندہ:ضلع انتظامیہ نےملماس میلہ کی سہولیات کا کیامعائنہ

Published

on

(پی این این)
بہار شریف:بجیندر پرساد یادو، نائب وزیر اعلیٰ، بہار کے دورہ پروگرام کے دوران راجکیہ راجگیر ملماس میلہ 2026 کے موقع پر ضلع انتظامیہ نالندہ کے ذریعے عقیدت مندوں کے لیے دستیاب سہولیات، امن و امان، سیکیورٹی انتظام کا میدانی معائنہ کیا گیا۔
ضلع مجسٹریٹ نے محترم وزیر موصوف کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ راجکیہ ملماس میلہ 2026 کے دوران عقیدت مندوں کی سہولت، حفاظت اور امن و امان کے سلسلے میں ضلع انتظامیہ مکمل طور پر چوکنا اور متحرک ہے۔معائنہ کے دوران ضلع مجسٹریٹ موصوف نے بتایا کہ ملماس میلے میں لاکھوں عقیدت مندوں کی آمد کو دیکھتے ہوئے ضلع انتظامیہ کے ذریعے سیکیورٹی اور سہولیات کا وسیع انتظام کیا گیا ہے۔ برہم کنڈ کے علاقے سمیت پورے میلہ احاطے میں چپے چپے پر پولیس فورس اور مجسٹریٹوں کی تعیناتی کی گئی ہے تاکہ عقیدت مندوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ضلع انتظامیہ کے ذریعے مختلف رہائشی مقامات پر عقیدت مندوں کی مدد کے لیے ٹھہرنے/سونے/صفائی/بیت الخلا/پینے کے پانی وغیرہ کا مفت انتظام یقینی بنایا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ مل ماس میلے میں عقیدت مندوں کی مدد کے لیے آفت کے دوستوں کا کردار خصوصی طور پر قابل ستائش ہے۔ بزرگ اور بے سہارا عقیدت مندوں کو وہیل چیئر کے ذریعے برہم کنڈ تک پہنچا کر وکاس متر کے ذریعے غسل کرانے کا انتظام کیا گیا ہے۔ برہم کنڈ میں غسل کے دوران عقیدت مندوں کو سیڑھیوں سے محفوظ طریقے سے اترنے اور غسل کے بعد واپس لوٹنے میں آفت کے دوست، پولیس فورس اور مجسٹریٹ خدمت کے جذبے سے مدد کر رہے ہیں۔
اس موقع پر ضلع مجسٹریٹ، نالندہ، پولیس سپرنٹنڈنٹ، نالندہ، سب ڈویژنل افسر، راجگیر، سب ڈویژنل پولیس افسر، راجگیر سمیت کئی سینئر مجسٹریٹ اور پولیس افسران موجود تھے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Bihar

اوپیندر کشواہا کے بیٹے دیپک کی وزارت خطرے میں؟، آخر وہ کس بنیاد پر وزیر بنے ہوئے ہیں وزیر؟سپریم کورٹ نے سمراٹ حکومت سے طلب کیا جواب

Published

on

پٹنہ؍نئی دہلی:(پی این این)سمراٹ چودھری کابینہ کے وزیر اور نیشنل لوک مورچہ کے سربراہ، سابق وزیر اوپیندر کشواہا کے بیٹے دیپک پرکاش کی وزارت قانونی پیچیدگی میں پھنس گئی ہے۔ ان کی بطور وزیر تقرری کو چیلنج کرنے والی عرضی پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے بہار حکومت سے سوال کیا کہ آخر دیپک پرکاش اب تک کس بنیاد پر وزیر کے عہدے پر برقرار ہیں، جبکہ حلف لینے کے چھ ماہ گزر جانے کے باوجود وہ نہ تو بہار اسمبلی کے رکن بن سکے ہیں اور نہ ہی قانون ساز کونسل کے۔سپریم کورٹ کے اس سخت موقف کے بعد دیپک پرکاش کی وزارت پر خطرے کے بادل منڈلاتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس عرضی کی سماعت چیف جسٹس سوریا کانت کی سربراہی والی بنچ نے کی۔چیف جسٹس جسٹس سوریا کانت نے ریمارکس دیے کہ یہ مکمل طور پر قانون کا معاملہ ہے۔ ریاستی حکومت کو عدالت کو یہ بتانا ہوگا کہ آخر کوئی شخص منتخب ہوئے بغیر چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک وزیر کے عہدے پر کیسے برقرار رہ سکتا ہے۔اس پر ریاستی حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے کی آئندہ سماعت 27 اگست کو مقرر ہے۔
عدالت جو بھی حکم صادر کرے گی، ریاستی حکومت اس پر مکمل طور پر عمل کرے گی۔2025 کے اسمبلی انتخابات کے بعد نتیش کمار کی کابینہ میں دیپک پرکاش کو پہلی مرتبہ پنچایتی راج محکمہ کا وزیر بنایا گیا تھا۔ اس وقت وہ بہار مقننہ کے کسی بھی ایوان کے رکن نہیں تھے اور نہ ہی انہوں نے اسمبلی کا انتخاب لڑا تھا۔اگرچہ نیشنل لوک مورچہ (رالومو) کے چار ارکانِ اسمبلی موجود تھے، اس کے باوجود اوپیندر کشواہا نے وزارت کیلئے اپنے بیٹے دیپک پرکاش کا نام آگے بڑھایا۔ بعد میں جب سمراٹ چودھری وزیرِ اعلیٰ بنے تو انہیں دوبارہ اسی محکمے کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔دو مرتبہ وزیر کے عہدے کا حلف لینے کے باوجود دیپک پرکاش اب تک بہار مقننہ کے کسی بھی ایوان کے رکن نہیں بن سکے ہیں۔

Continue Reading

Bihar

میاں بیوی کے تنازع پرپٹنہ ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ

Published

on

(پی این این)
پٹنہ: پٹنہ ہائی کورٹ نے میاں بیوی کے باہمی تنازع میں گھرے ایک معصوم بچے کی دیکھ بھال سے متعلق اہم عبوری فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے عبوری حکم جاری کرتے ہوئے بچے کے والدین کو ضروری ہدایات دی ہیں۔ہائی کورٹ نے ایسا انتظام کیا ہے کہ نہ تو بچے کو ماں کی شفقت سے محروم ہونا پڑے اور نہ ہی باپ کی رفاقت سے۔ عدالت کے حکم کے مطابق چھ سالہ معصوم بیٹا فی الحال اپنی والدہ کے ساتھ رہے گا، تاہم اس کی روزمرہ کی زندگی اور پرورش میں والد کا کردار بھی برابر برقرار رہے گا۔
یہ معاملہ پٹنہ کا ہے، جہاں میاں بیوی دونوں پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں اور ان کے درمیان ازدواجی تنازع کا مقدمہ فیملی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔اس جوڑے کے دو بیٹے ہیں، جن میں بڑا بیٹا 12 سال جبکہ چھوٹا بیٹا 6 سال کا ہے۔ والدہ نے اپنے چھوٹے بیٹے کی تحویل (کسٹڈی) حاصل کرنے کے لیے پٹنہ ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی تھی۔پٹنہ ہائی کورٹ کے جسٹس راجیو رنجن پرساد اور جسٹس آلوک کمار سنہا پر مشتمل دو رکنی بنچ نے والدہ کی عرضی پر سماعت کی۔ عدالت نے دونوں فریقین، ان کے اہلِ خانہ اور دونوں بچوں سے اپنے چیمبر میں طویل گفتگو کے بعد یہ عبوری انتظام طے کیا۔
پٹنہ ہائی کورٹ نے اپنے عبوری حکم میں کہا ہے کہ چھوٹا بیٹا اپنی والدہ کے ساتھ رہے گا۔ اسکول کے دنوں میں والد ہر صبح بچے کو والدہ کے گھر سے لے کر اسکول چھوڑنے جائیں گے۔ اسکول کی چھٹی کے بعد بھی والد ہی بچے کو واپس لے کر والدہ کے گھر پہنچائیں گے۔عدالت نے مزید ہدایت دی ہے کہ شام کے وقت والد اور دادا دادی کو بچے سے ملاقات کی اجازت ہوگی، اور اس سلسلے میں والدہ کسی بھی قسم کی رکاوٹ پیدا نہیں کریں گی۔
عدالت نے اپنے عبوری حکم میں کہا کہ والد اور والدہ دونوں پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں اور بچے کی مناسب دیکھ بھال کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ فی الحال معصوم بچہ اپنی والدہ کے ساتھ رہے گا، تاہم اسکول کی فیس، تعلیم سے متعلق تمام اخراجات اور آمدورفت (گاڑی) کے خرچ دونوں والدین مشترکہ طور پر برابر برابر برداشت کریں گے۔پٹنہ ہائی کورٹ نے اپنے عبوری حکم میں کہا ہے کہ ہر ہفتے ہفتہ کی صبح 10 بجے سے اتوار کی صبح 10 بجے تک بچہ اپنے والد کے ساتھ رہے گا۔ طویل تعطیلات کے دوران والدہ اور والد دونوں بچے کو برابر برابر مدت تک اپنے پاس رکھ سکیں گے۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ تعطیلات کے دوران والد اپنے بیٹے کو ملک کے کسی بھی حصے کی سیر کے لیے لے جا سکتے ہیں، تاہم اسکول کھلنے سے پہلے بچے کو والدہ کے حوالے کرنا لازمی ہوگا۔ نیز پٹنہ سے باہر لے جانے سے قبل فیملی کورٹ کو پیشگی اطلاع دینا ضروری ہوگا۔پٹنہ ہائی کورٹ نے میاں بیوی دونوں کو ایک دوسرے کے خلاف کوئی نیا فوجداری مقدمہ درج نہ کرانے کی ہدایت بھی دی۔ ساتھ ہی عدالت نے فیملی کورٹ کو حکم دیا کہ وہ اس مقدمے کا فیصلہ چھ ماہ کے اندر مکمل کرے۔

Continue Reading

Bihar

سمراٹ حکومت کا ٹرانس جینڈر برادری کے حق میں بڑافیصلہ،سرکاری ملازمتوں میں ہر 500 آسامیوں پر ایک عہدہ خواجہ سراؤں کے لیے محفوظ

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:سمراٹ چودھری حکومت نے بہار میں ٹرانس جینڈر برادری کے لیے ایک بڑا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت ریاستی حکومت کے مختلف محکموں میں ہونے والی بھرتیوں میں ہر 500 آسامیوں میں سے ایک آسامی ٹرانس جینڈر (خواجہ سرا) افراد کے لیے محفوظ رکھی جائے گی۔ ٹرانس جینڈر زمرے کے لیے مختص آسامیوں کی تعداد بھرتی کے اشتہار میں علیحدہ طور پر درج کی جائے گی۔
بہار حکومت نے تمام متعلقہ محکموں اور تقرری کرنے والی امتحانی ایجنسیوں کو اس فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔اس فیصلے کے بعد محکمۂ تعلیم، بہار پولیس، محکمۂ محصولات و اراضی اصلاحات اور محکمۂ صحت سمیت مختلف محکموں میں آئندہ ہونے والی تقرریوں میں خواجہ سرا برادری کے لیے مناسب تعداد میں ملازمتوں کے مواقع دستیاب ہوں گے۔محکمۂ عمومی انتظامیہ نے اس سلسلے میں ریاست کے تمام محکموں کے سیکریٹریوں، محکمہ جاتی سربراہان، ڈویژنل کمشنروں، ضلع مجسٹریٹوں کے علاوہ تقرری کرنے والی ایجنسیوں، یعنی بی پی ایس سی، بی ایس ایس سی، بی پی ایس ایس سی، بی ٹی ایس سی، بی سی ای سی ای اور سی ایس بی سی کو ہدایت نامہ جاری کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ پٹنہ ہائی کورٹ کے حکم کی تعمیل میں چیف سیکریٹری کی صدارت میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں لیا گیا۔ اجلاس میں محکمۂ عمومی انتظامیہ اور محکمۂ سماجی بہبود کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری، محکمۂ تعلیم کے سیکریٹری، نیز محکمۂ صحت اور محکمۂ داخلہ کے خصوصی سیکریٹری نے اس فیصلے سے اتفاق کیا۔حکومت نے خواجہ سرا، کوتھی اور ٹرانس جینڈر افراد کو تھرڈ جینڈر (تیسری جنس) کے زمرے میں شامل کیا ہے۔امتحانی و تقرری ایجنسیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ مختلف محکموں کی آسامیوں کو ہر 500 عہدوں کے ایک گروپ میں تقسیم کرتے ہوئے ہر گروپ میں ایک عہدہ ٹرانس جینڈر امیدواروں کے لیے مخصوص رکھا جائے۔اگر کسی 500 آسامیوں کے گروپ میں ٹرانس جینڈر امیدوار اپنی عمومی میرٹ پر منتخب نہیں ہو پاتے، تو پسماندہ طبقہ (او بی سی) کے آخری روسٹر پوائنٹ پر ایک ٹرانس جینڈر امیدوار کی تقرری کی جائے گی۔
البتہ اگر کسی گروپ میں اہل ٹرانس جینڈر امیدوار دستیاب نہ ہوں، تو اس مخصوص آسامی کو آئندہ بھرتیوں کے لیے محفوظ (کیری فارورڈ) نہیں رکھا جائے گا، بلکہ اسے پسماندہ طبقہ کے عمومی زمرے کے اہل امیدوار سے پُر کیا جائے گا۔مزید یہ کہ خواجہ سرا (ٹرانس جینڈر) امیدواروں کو زیادہ سے زیادہ عمر کی حد میں درج فہرست ذات (ایس سی) اور درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کے امیدواروں کے مساوی عمر میں رعایت فراہم کی جائے گی۔
بہار پولیس میں سپاہی اور پولیس سب انسپکٹر کے عہدوں پر ٹرانس جینڈر امیدواروں کی تقرری کے لیے بھی یہی ضوابط نافذ ہوں گے۔ بہار پولیس میں ٹرانس جینڈر امیدواروں کے جسمانی پیمانوں اور جسمانی اہلیت (فزیکل ایفیشنسی) کے امتحان کے معیار متعلقہ شعبے کی خواتین امیدواروں کے لیے مقررہ معیار کے مطابق ہوں گے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network