Connect with us

Bihar

بنکروں کی ترقی کیلئے ریاستی حکومت پُرعزم ،نالندہ کی باون بوٹی دستکاری ملک کی میراث، اسے بچانا اور بڑھانا ہم سب کی ذمہ داری: وزیر شراون کمار

Published

on

(پی این این)
نالندہ:جے ڈی یو قانون ساز پارٹی کے رہنما، بہار حکومت کے دیہی ترقی اور اطلاعات و عام رابطہ محکمہ کے وزیر شراون کمارنے آج بہار شریف کے بَسوان بگہا میں باون بوٹی کی آرائشی اشیاء بنانے میں مصروف بنکروں سے ملاقات کی۔
انہوں نے کہا کہ یہ جی آئی ٹیگ نالندہ کی پہچان اور بنکروں کی محنت کا اعزاز ہے۔ اب نالندہ کی باون بوٹی ساڑی ملک و دنیا میں اپنی خاص شناخت کے ساتھ فروخت ہوگی۔ جِیوِکا کے ذریعے تمام سرکاری پروگراموں میں انگوتر کے طور پر استعمال کر کے اس کا پرچار و نشر کر کے ترقی دی جائے گی۔ گرام شری میلوں میں دیہی ترقی کے ذریعے اسٹال لگا کر باون بوٹی کے فن کو وسعت دی جائے گی۔
باون بوٹی کی کاریگری صدیوں پرانی ہے۔ ہر ایک ساڑی میں بنکروں کی کلا اور روایت نظر آتی ہے۔ جی آئی ٹیگ ملنے سے نقل پر روک لگے گی اور بنکروں کو ان کے مصنوعات کی مناسب قیمت ملے گی۔ انہوں نے بنکروں کو یقین دلایا کہ ریاستی حکومت ان کی ترقی کے لیے پُرعزم ہے۔ مارکیٹنگ، ڈیزائن کی ترقی اور تربیت میں ہر مدد دی جائے گی۔ ای-کامرس پلیٹ فارم سے جوڑ کر ان ساڑیوں کی فروخت بڑھائی جائے گی تاکہ بنکروں کی آمدنی دوگنی ہو سکے۔
بہار کی دستکاری ہماری دھروہر(میراث، ثقافتی سرمایہ، قومی ورثہ) ہے۔ اسے بچانا اور بڑھانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ بَسوان بگہا اور نیپورہ گاؤں کے بنکر بہار کا فخر ہیں۔ حکومت ان کے ہنر کو نئی بلندیوں تک لے جائے گی۔ سابق وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار نے اس کلا کو بڑھانے اور سنوارنے کا کام کیا ہے۔ بہار کی حکومت ہر ممکن مدد کرتی رہی ہے اور آگے بھی کرتی رہے گی۔ دھروہر کو بچانے اور سنوارنے کے لیے ہماری حکومت پُرعزم ہے۔قومی سطح پر باون بوٹی کی آرائشی اشیاء کی وجہ سے ہی بَسوان بگہا کو پہچان اور عزت ملی، جس میں پدم شری مرحوم کپل دیو کامت کی سخت محنت اور لگن کا نتیجہ ہے۔
رکنِ پارلیمنٹ کوشلندر کمار نے کہا کہ یہاں کے بنکر خود کفیل بن رہے ہیں۔ حکومت کے ذریعے ہر ممکن مدد پہنچا کر بنکروں کی معاشی حالت کو مضبوط اور مستحکم کیا جائے گا۔ پارلیمنٹ میں باون بوٹی کی ترقی کی بات مضبوطی سے اٹھاؤں گا۔لاکھوں دیوی نے کہا کہ باون بوٹی کی کلا کا آغاز مرحوم کپل بابو نے کیا تھا، جس کی وجہ سے انہیں محترم صدرِ جمہوریہ کے ہاتھوں پدم شری اعزاز سے نوازا گیا۔ اب باون بوٹی کے فن کو جی آئی ٹیگ دیا گیا ہے، جس سے بنکروں کے دن پھریں گے اور ان کا خواب ساکار ہوتا نظر آ رہا ہے۔اس موقع پر بڑی تعداد میں بنکر، خواتین خود امدادی گروہ کی رکنیں، گلریز انصاری، ضلع ترجمان، ڈاکٹر دھننجے کمار، دیو کمار منگلم، رِکی کمار، پشپ راج پانڈے، سچیدانند پرساد وغیرہ موجود تھے۔

 

Bihar

دربھنگہ:وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے سیلاب متاثرہ علاقوں کا کیا دورہ

Published

on

بھاگلپور:بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے ہفتہ کے روز نوگچھیا علاقے کے راگھوپور میں واقع کوجی کورئیا بانڈھ کا دورہ کر کے سیلاب کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے لیے جاری راحت اور بچاؤ کے کاموں کا زمینی معائنہ بھی کیا۔
وزیر اعلیٰ کے بھاگلپور ہوائی اڈے پہنچنے پر جنتا دل (یونائیٹڈ) کے ضلعی صدر وویکانند گپتا کی قیادت میں پارٹی کے عہدیداران اور کارکنان نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر ریاست کے توانائی وزیر شیلیش کمار عرف بولو منڈل، رکن پارلیمنٹ اجے منڈل اور رکن اسمبلی پروفیسر للت نارائن منڈل بھی موجود تھے۔ جے ڈی یو کارکنان کی جانب سے وزیر اعلیٰ کو انگ وسترا اور گلدستہ پیش کر کے اعزاز سے نوازا گیا۔
اس موقع پر جے ڈی یو ضلعی صدر وویکانند گپتا نے کہا کہ ریاستی حکومت سیلاب متاثرین کی حفاظت، راحت اور بچاؤ کے لیے پوری سنجیدگی کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں تک بروقت ضروری امداد اور سہولیات پہنچائی جائیں۔
جے ڈی یو کے سینئر لیڈر سڈو سائیں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں تک ترجیحی بنیاد پر راحت پہنچانے کا کام جاری ہے۔ مشکل کی اس گھڑی میں حکومت اور انتظامیہ متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے سرگرم ہے۔
وزیر اعلیٰ کے استقبال کے موقع پر کہکشاں پروین، سینئر لیڈر سڈو سائیں، سینئر لیڈر اشوک کمار آلوک، شبانہ داؤد، سنجیو چندرونشی، وبھوتی گوسوامی، شیکھر پانڈے، پردیپ کشواہا، شیلیندر تومر، انوج سنگھ، شعبان خان اور اوچت لال سنگھ سمیت جے ڈی یو کے بڑی تعداد میں عہدیداران، کارکنان اور حامی موجود رہے۔

Continue Reading

Bihar

بہار میںتیزی سے پاؤں پھیلا رہا ہے ٹائیفائڈ ،ریاست بھر میں ایک ماہ کے دوران 4 ہزارسے زائد مریض سامنے آنے سے محکمۂ صحت میں ہلچل

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار میں ٹائیفائڈ کا قہر بڑھتا جا رہا ہے۔ اگست کے مہینے میں سرکاری اسپتالوں میں جانچ کے دوران 4,102 مریضوں میں اس بیماری کی تصدیق ہوئی ہے۔ وہیں ستمبر کے ابتدائی چار دنوں کے دوران مزید 250 افراد میں ٹائیفائڈ کی تشخیص ہوئی ہے۔
مظفرپور میں اگست کے دوران ٹائیفائڈ کے 161 مریض سامنے آئے، جبکہ یکم سے 3 ستمبر کے درمیان مزید 36 افراد میں اس بیماری کی تصدیق ہوئی۔ ٹائیفائڈ کے شبہے کے پیش نظر اگست میں ریاست کے سرکاری اسپتالوں میں تقریباً 15 ہزار مریضوں کی جانچ کرائی گئی تھی۔ اس دوران صرف مظفرپور میں بھی 353 افراد کا ٹائیفائڈ ٹیسٹ کیا گیا۔
مظفرپور واقع ایس کے ایم سی ایچ کے شعبۂ طب کے سربراہ ڈاکٹر امت کمار نے بتایا کہ ٹائیفائڈ کے مریض مسلسل اسپتال پہنچ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر روز ٹائیفائڈ کی علامات کے حامل 20 سے 30 مریض ایس کے ایم سی ایچ آ رہے ہیں، جن کا جانچ رپورٹ کی بنیاد پر علاج کیا جا رہا ہے۔سرکاری اسپتالوں کے ساتھ ساتھ نجی اسپتالوں کی او پی ڈی میں بھی ٹائیفائڈ کی علامات والے مریض بڑی تعداد میں پہنچ رہے ہیں۔
سرکاری اسپتالوں کے علاوہ نجی لیبارٹریوں میں بھی روزانہ اوسطاً تقریباً 100 مریضوں میں ٹائیفائڈ کی تصدیق ہو رہی ہے۔ بیماری کے علاج کے اخراجات کے باعث غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے مریضوں کی مالی حالت بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
جورن چھپرا واقع ایک نجی لیبارٹری کے منتظم نے بتایا کہ ہر روز بڑی تعداد میں مریض وائیڈل ٹیسٹ کرانے کے لیے پہنچ رہے ہیں اور ان میں سے بیشتر میں ٹائیفائڈ کی تصدیق ہو رہی ہے۔ شہر کے ہر علاقے سے مریض وائیڈل جانچ کے لیے نمونے دینے آ رہے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ٹائیفائڈ کس تیزی کے ساتھ اپنے پاؤں پھیلا رہا ہے۔
ٹائیفائڈ کے علاج کے لیے مریضوں کو ہائی ڈوز اینٹی بایوٹک اور دیگر ادویات دینی پڑ رہی ہیں۔ ہائی ڈوز ادویات دینے کے باوجود ٹائیفائڈ کو ٹھیک ہونے میں 20 دن تک کا وقت لگ رہا ہے۔ اس کے بعد بھی مریضوں میں کافی کمزوری برقرار رہ رہی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق وائرل بخار اور ٹائیفائڈ میں مبتلا ہونے کے بعد کئی مریضوں میں پلیٹ لیٹس کی تعداد بھی کم ہو رہی ہے۔
بہار میں صحت کی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کی سطح پر کوششیں جاری ہیں۔ وزیرِ صحت نشانت کمار نے دو روز قبل مظفرپور کے ایس کے ایم سی ایچ کا دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے 30 بستروں پر مشتمل آئی سی یو کا افتتاح کیا۔
انہوں نے ایس کے ایم سی ایچ احاطے میں واقع ہومی بھابھا کینسر ہاسپٹل اینڈ ریسرچ سینٹر میں علاج کے انتظامات اور دستیاب سہولیات کا بھی جائزہ لیا۔ریاست میں گھر گھر جا کر لوگوں کی صحت کی جانچ کے لیے مہم بھی چلائی گئی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری نے دو روز قبل بیداری رتھ کو روانہ کیا۔

 

Continue Reading

Bihar

مولانا امین احمد خان چترویدی اپنی ذات میں ایک انجمن تھے، امیرشریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی نے مولانا امین احمد خان کے انتقال پرکیادلی صدمے کا اظہار

Published

on

(پی این این)
پھلواری شریف:بہار کے مشہور و معروف عالمِ دین اور مایہ ناز شیریں خطیب و مقرر حضرت مولانا امین احمد خان چترویدی طویل علالت کے بعد3/ستمبر 2026ءکو اپنے رفیقِ اعلیٰ سے جا ملے، إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَيْہِ رَاجِعُونَ۔
ان کے وصال پر امارتِ شرعیہ ،بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کے امیرِ شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی مد ظلہ نے دلی صدمے کا اظہار کرتے ہوئے اپنے تعزیتی پیغام میں فرمایا کہ مولانا اپنی ذات میں ایک انجمن تھے، ان کا دینی اداروں، ملی جماعتوں اور خانقاہوں سے بڑا گہرا قلبی تعلق تھا، وہ ایک بلند پایہ خطیب بھی تھے، ان کی تقریریں شگفتگی اور چاشنی سے لبریز ہوتیں، اس کے ذریعے وہ اصلاحِ باطن بھی فرمایا کرتے تھے، آپ کا امارتِ شرعیہ اور خانقاہ رحمانی مونگیر سے عقیدت مندانہ تعلق بھی تھا، جس کو انہوں نے زندگی بھر سنبھال کر رکھا،ان کی وفات سے ایک بڑا خلا پیدا ہوا ہے، اللہ تعالیٰ مولانا کی نیکیوں کو قبول فرمائے اور جنت الفردوس میں جگہ عنایت فرمائے۔
مولانا کے سانحۂ ارتحال پر نائب امیرشریعت امارتِ شرعیہ ،بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ مولانا محمدشمشاد رحمانی قاسمی نے کہا کہ مولانا کی زندگی تکلف و تصنع اور ظاہرداری سے پاک تھی، سادگی، زہدداری اور قناعت ان کی زندگی کا امتیازی وصف تھا، ان سے میری متعدد ملاقاتیں رہی ہیں، ان کے لہجے میں شائستگی اور مسکراہٹ میں دلکشی اور معنویت تھی، جس سے اپنائیت کا احساس ابھرتا تھا، اللہ انہیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عنایت فرمائے۔
ناظم اعلی امارتِ شرعیہ ،بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ مفتی محمد سعید الرحمٰن قاسمی نے کہا کہ مولانا کا امارتِ شرعیہ اور یہاں کے اکابر سے بڑا گہرا تعلق تھا،یہی وجہ ہے کہ دورۂ وفد امارتِ شرعیہ میںآپ شریک ہوکر امارت شرعیہ کےپیغام کو لوگوں تک پہونچاتے ،یہ ان کے اخلاص و للہیت کا ثمرہ تھا، امارتِ شرعیہ کے سبھی اصحاب اس سانحے پر سوگوار ہیں اور اس غمناک حادثے پر اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت کرتے ہیں،حضرت مولانا کی پیدائش 1938ءمیں بیگوسرائے میں ہوئی، ابتدائی تعلیم مدرسہ بدر الاسلام میں پائی اور مظاہر العلوم سہارنپور سے فضیلت حاصل کی، پھر اصلاحی تحریکات سے وابستہ ہو گئے، عرصہ تک حاجی پور میں دعوتی کام انجام دیتے رہے اور اصلاح وتنظیم سے جڑے رہے، ایسی شخصیت کا اٹھ جاناایک علمی خسارہ ہے۔
قاضی شریعت مرکزی دارالقضاء امارت شرعیہ جناب مولانا محمدانظار عالم قاسمی نےکہاکہ مولانا مرحوم علاقہ اور بہار کے اکثر اصلاحِ معاشرہ کے جلسوں میں شرکت فرماتے، مدرسوں کی تعلیمی کانفرنسوں کو زینت بخشتے اور اردو میں تقریریں کرتے، سنسکرت زبان میں بھی اللہ کی وحدانیت اور رسول کی رسالت کے دلائل پیش کرتے، جس سے لوگ بے حد متاثر ہوتے،ایسی جامع شخصیت کا اٹھ جانا ایک علمی خسارہ ہے،اللہ تعالیٰ ان کی نیکیوں کو شرفِ قبولیت بخشے۔
، قارئینِ کرام سے دعائے مغفرت کی درخواست ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network