تازہ ترین
ضلع انتظامیہ کا صدر اسپتال کے باہر کھڑی نجی ایمبولینسوں پر چھاپہ، ڈی ایم ارریہ کی ہدایت پر کی گئی کارروائی، قانونی دائرے کے تحت تھانہ بھجوائی گئیں2 ایمبولینسسیتامڑھی:معمولی رقم کے تنازعہ میں معذور شخص کا پیٹ پیٹ کرقتل، گاؤں میں ہرطرف سنسنی، ملزم کے گھر کے سامنے لاش رکھ کر مشتعل گاؤں والوں نے کیا سڑک جام، ایف ایس ایل ٹیم نے شواہد جمع کیے، ایک خاتون زیر حراستمیرٹھ کے ’سدبھاؤنا سمیلن‘ میں امن، بھائی چارے اور مذہبی رواداری کا پیغام، ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی طبقوں کی سرکردہ شخصیات کی شرکت، چھ ماہ میں 200 نکڑ میٹنگیں منعقد کرنے کا فیصلہسیدالبشر چریٹیبل ٹرسٹ کے زیراہتمام نعتیہ مشاعرہ پروگرام کا انعقاد، مولانا خالد رشید فرنگی محلی ’’ مولانا محمد علی جوہری ایوارڈ‘‘ سےسرفرازحیاتیاتی تنوع کا تحفظ پائیدار مستقبل کے لیے ناگزیر: پروفیسر سوچت سوروپ، لینگویج یونیورسٹی کے شعبۂ ہوم سائنس میں ایک تربیتی پروگرام کا انعقادبدلتے وقت کا وہ بھی کمال دیکھے گاالیکشن کمیشن کی کاکردگی کی جانچ کیلئے نئی عرضی داخل،کسی ریاست کے سابق چیف جسٹس یا جج کی قیادت میں کمیٹی بنانے کا سپریم کورٹ سےمطالبہضمانت کی درخواست پر 2 ماہ کے اندر کریں فیصلہ، نہیں تو ججوں کوبتانی ہوگی وجہ، پٹنہ ہائی کورٹ نے بہار کی تمام سول عدالتوں کیلئے معیاری طریقۂ کار (ایس او پی) سے متعلق جاری کی رہنما ہدایات
Bihar

چونتیس سالہ پرانے معاملے میں 85 سالہ بزرگ کو 3 سال کی قید

Oplus_131072

(پی این این)
حاجی پور: ضلع عدالت ویشالی میں شدید گہما گہمی کے درمیان 34 سال پرانے ایک نہایت مشہور اور جان لیوا حملے کے مقدمے میں آخری فیصلہ سنا دیا گیا۔ عدالت نے اس مقدمے کے مرکزی اور سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکے 85 سالہ بزرگ ملزم دیپا رائے کو ان کی زیادہ عمر اور صحت کی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے 3 سال قید کی سزا سنائی۔ جبکہ اس سنگین جرم میں ملوث دیگر چار ملزمان کے خلاف سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے انہیں 10، 10 سال قیدِ با مشقت کی سزا سنائی گئی۔
عدالتی فیصلہ آنے کے بعد 85 سالہ بزرگ دیپا رائے کو ایک اہم قانونی راحت بھی حاصل ہوئی۔ سزا سنائے جانے کے فوراً بعد عدالت نے ضابطۂ فوجداری (CrPC) کی متعلقہ دفعات کے تحت انہیں عبوری (پروویژنل) ضمانت دے دی۔ اس کے نتیجے میں انہیں فی الحال جیل نہیں جانا پڑے گا اور وہ اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے لیے آزاد ہیں۔ اس راحت کے بعد ان کے اہل خانہ نے کسی حد تک اطمینان کا اظہار کیا۔ جہاں ایک طرف بزرگ ملزم کو راحت ملی، وہیں دیگر چار مجرموں پر قانون کا شکنجہ مکمل طور پر کس گیا۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (اے ڈی جے-1) منوج کمار تیواری کی عدالت نے چاروں مجرموں کو 10، 10 سال قیدِ با مشقت کے ساتھ 25، 25 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں انہیں اضافی سزا بھگتنی ہوگی۔
سزا سنائے جانے کے فوراً بعد پولیس نے چاروں مجرموں کو حراست میں لے کر قانونی کارروائی مکمل کی اور جیل بھیج دیا۔ 1992 میں راگھوپور میں فائرنگ اور جان لیوا حملہ اس تاریخی مقدمے کے پس منظر کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے ایڈیشنل پبلک پراسیکیوٹر نے بتایا کہ یہ تنازعہ سال 1992 کا ہے۔ راگھوپور کے جڑاون پور تھانہ علاقے میں ملزمان نے متاثرہ شخص عدالت رائے اور ان کی اہلیہ پر اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے جان لیوا حملہ کیا تھا۔ اس سلسلے میں عدالت رائے نے مجموعی طور پر 9 افراد کے خلاف نامزد ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ تاہم، انصاف کی اس طویل جدوجہد اور مقدمے کی سماعت کے دوران 4 ملزمان کا انتقال ہو چکا تھا، جس کے بعد باقی 5 ملزمان کے خلاف مقدمہ جاری رہا۔
عدالت نے 26 مئی کو ان پانچوں کو قصوروار قرار دیا تھا۔ معاشرے کے لیے سخت پیغام اس فیصلے کے بعد ویشالی ضلع عدالت کے سرکاری وکیل (لوک ابھیوجک) نے کہا کہ اگرچہ اس مقدمے میں انصاف ملنے میں 34 سال کا طویل عرصہ لگ گیا، لیکن آج کا یہ فیصلہ پورے معاشرے کے لیے ایک مضبوط پیغام ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ قانون کے ہاتھ بہت لمبے ہوتے ہیں اور اگر کوئی شخص غلط کام کرے گا تو آج نہیں تو کل، اسے سزا ضرور بھگتنا پڑے گی۔ اس فیصلے کو عدالتی عمل اور انصاف کی ایک اہم کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔