تازہ ترین
چھوٹی صنعتوںکو فروغ دینے کیلئے حکومت کی نئی پالیسی،بہار کے اگلے بجٹ میں سرمایہ کاری پر ہوگی دولت کی بارش، نتیش کمار کی تشکیل کردہ کمیٹی نے سمراٹ حکومت کوسونپی رپورٹمدارس کی تعلیمی صورتحال اور ملحقہ کنونشن کیلئے میٹنگ منعقد، مدرسہ ایجوکیشن بورڈکا قیام اور ملحقہ مدارس، مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ کی مرہون منتافسران سے ملی بھگت کے ذریعہ فرضی رجسٹری کراکر زمین پر قبضہ کر رہے ہیں ’زمین مافیا‘چھپرا : 6 ماہ پرانے تنازع پر ہوا خونی تصادم، چاقو زنی سے 3 افراد ہلاکیوپی میںچیف الیکشن کمشنر کے خلاف ایس پی کا احتجاج،غازی آباد،میرٹھ،رائے بریلی، باغپت اور مظفر نگرمیں سڑکوں پر اترےسماجوادی پارٹی کے کارکنان ،نکالاپیدل مارچ،ای سی آئی کا پتلا نذر آتشپارٹی کی توقعات پوری کرنے کی کروں گاکوشش ،صوبہ کا ر گزار صد منتخب ہونے کے بعد عمران مسعود کی میڈیا سے گفتگوجمعیۃ علماء کی میٹنگ میں اصلاح معاشرہ، مردم شماری اور ہندو- مسلم اتحاد کی حکمت عملی طےرام لیلا بھگوان شری رام کی اقدار کی زندہ روایت :ریکھا
Bihar

چونتیس سالہ پرانے معاملے میں 85 سالہ بزرگ کو 3 سال کی قید

Oplus_131072

(پی این این)
حاجی پور: ضلع عدالت ویشالی میں شدید گہما گہمی کے درمیان 34 سال پرانے ایک نہایت مشہور اور جان لیوا حملے کے مقدمے میں آخری فیصلہ سنا دیا گیا۔ عدالت نے اس مقدمے کے مرکزی اور سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکے 85 سالہ بزرگ ملزم دیپا رائے کو ان کی زیادہ عمر اور صحت کی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے 3 سال قید کی سزا سنائی۔ جبکہ اس سنگین جرم میں ملوث دیگر چار ملزمان کے خلاف سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے انہیں 10، 10 سال قیدِ با مشقت کی سزا سنائی گئی۔
عدالتی فیصلہ آنے کے بعد 85 سالہ بزرگ دیپا رائے کو ایک اہم قانونی راحت بھی حاصل ہوئی۔ سزا سنائے جانے کے فوراً بعد عدالت نے ضابطۂ فوجداری (CrPC) کی متعلقہ دفعات کے تحت انہیں عبوری (پروویژنل) ضمانت دے دی۔ اس کے نتیجے میں انہیں فی الحال جیل نہیں جانا پڑے گا اور وہ اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے لیے آزاد ہیں۔ اس راحت کے بعد ان کے اہل خانہ نے کسی حد تک اطمینان کا اظہار کیا۔ جہاں ایک طرف بزرگ ملزم کو راحت ملی، وہیں دیگر چار مجرموں پر قانون کا شکنجہ مکمل طور پر کس گیا۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (اے ڈی جے-1) منوج کمار تیواری کی عدالت نے چاروں مجرموں کو 10، 10 سال قیدِ با مشقت کے ساتھ 25، 25 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں انہیں اضافی سزا بھگتنی ہوگی۔
سزا سنائے جانے کے فوراً بعد پولیس نے چاروں مجرموں کو حراست میں لے کر قانونی کارروائی مکمل کی اور جیل بھیج دیا۔ 1992 میں راگھوپور میں فائرنگ اور جان لیوا حملہ اس تاریخی مقدمے کے پس منظر کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے ایڈیشنل پبلک پراسیکیوٹر نے بتایا کہ یہ تنازعہ سال 1992 کا ہے۔ راگھوپور کے جڑاون پور تھانہ علاقے میں ملزمان نے متاثرہ شخص عدالت رائے اور ان کی اہلیہ پر اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے جان لیوا حملہ کیا تھا۔ اس سلسلے میں عدالت رائے نے مجموعی طور پر 9 افراد کے خلاف نامزد ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ تاہم، انصاف کی اس طویل جدوجہد اور مقدمے کی سماعت کے دوران 4 ملزمان کا انتقال ہو چکا تھا، جس کے بعد باقی 5 ملزمان کے خلاف مقدمہ جاری رہا۔
عدالت نے 26 مئی کو ان پانچوں کو قصوروار قرار دیا تھا۔ معاشرے کے لیے سخت پیغام اس فیصلے کے بعد ویشالی ضلع عدالت کے سرکاری وکیل (لوک ابھیوجک) نے کہا کہ اگرچہ اس مقدمے میں انصاف ملنے میں 34 سال کا طویل عرصہ لگ گیا، لیکن آج کا یہ فیصلہ پورے معاشرے کے لیے ایک مضبوط پیغام ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ قانون کے ہاتھ بہت لمبے ہوتے ہیں اور اگر کوئی شخص غلط کام کرے گا تو آج نہیں تو کل، اسے سزا ضرور بھگتنا پڑے گی۔ اس فیصلے کو عدالتی عمل اور انصاف کی ایک اہم کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔