Connect with us

uttar pradesh

اے ایم یو میں جوش و خروش کے ساتھ منایا گیاانٹرنیشنل یوگا ڈے

Published

on

علی گڑھ:صحت، تندرستی اور اجتماعی ہم آہنگی کے جذبے سے سرشار علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بارہواں بین الاقوامی یومِ یوگ، شعبہ فزیکل ایجوکیشن کے زیر اہتمام نہایت جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا۔ ”صحت مند بڑھاپے کے لیے یوگ“ موضوع پر منعقدہ اس تقریب میں 800سے زائد طلبہ، اساتذہ، افسران، ملازمین اور یوگ سے شغف رکھنے والے افراد نے شرکت کی اور ذہنی یکسوئی و مجموعی صحت کے مشترکہ مقصد کو فروغ دیا۔
تقریب کی مہمان خصوصی اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے شعبہ فزیکل ایجوکیشن کی جانب سے پروگرام کے کامیاب انعقاد کو سراہا اور کہا کہ یوگ ایک ہمہ جہت طرزِ حیات ہے جو جسم، ذہن اور روح کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے اپنے ذاتی تجربات کا ذکر کرتے ہوئے جذباتی استحکام اور مجموعی صحت میں یوگ کے کردار پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اس سال کا موضوع، صحت کی دیکھ بھال اور صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دینے میں نہایت اہمیت رکھتا ہے۔
یہ پروگرام وائس چانسلر کی سرپرستی میں منعقد کیا گیا، جبکہ پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خاں شریک سرپرست تھے۔ رجسٹرار پروفیسر عاصم ظفر کنوینر تھے، جبکہ شعبہ فزیکل ایجوکیشن کے چیئرمین، فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے ڈین اور بین الاقوامی یوم یوگ 2026کے نوڈل افسر پروفیسر اکرام حسین پروگرام کے رابطہ کار تھے۔ پروفیسر برج بھوشن سنگھ نے کامن یوگ پروٹوکول کے اجتماعی مظاہرے کی قیادت کی۔
شرکاء کا خیر مقدم کرتے ہوئے پروفیسر اکرام حسین نے بین الاقوامی یومِ یوگ کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور جسمانی صحت، ذہنی سکون اور سماجی ہم آہنگی کے لیے یوگ کو طرزِ زندگی کا حصہ بنانے پر زور دیا۔پروگرام میں تربیت یافتہ انسٹرکٹرز کی نگرانی میں کامن یوگ پروٹوکول کی اجتماعی پیشکش نے نظم و ضبط اور صحت مندانہ طرزِ زندگی کی دلکش فضا پیدا کی۔
اس موقع پر پروفیسر نعیمہ خاتون نے یومِ یوگ کی تقریبات کے سلسلے میں منعقدہ پوسٹر پرزنٹیشن اور مضمون نویسی کے مقابلوں کے کامیاب شرکاء میں انعامات اور اسناد تقسیم کیں۔ یونیورسٹی سطح پر عفیفہ وحید انصاری، عدنان خاں اور شکھر بھدوریا نے بالترتیب پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کی۔
اسکولی سطح پر انعمت خاں نے پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ احتشام علی اور یاسمین دوسرے اور تیسرے مقام پر رہے۔ مضمون نویسی کے مقابلے میں یاسمین رحمن نے اوّل، جوہر رضا نے دوئم اور عائشہ فاطمہ نے سوئم انعام حاصل کیا۔ علاوہ ازیں 14 سے 20 جون تک منعقد ہونے والی سات روزہ یوگ ورکشاپ کامیابی سے مکمل کرنے والے شرکاء میں اسناد تقسیم کی گئیں۔
اس موقع پر ڈین اسٹوڈنٹس ویلفیئر پروفیسر ایم اطہر انصاری، پراکٹر پروفیسر محمد نوید خاں، یونیورسٹی لائبریرین پروفیسر نشاط فاطمہ، کوآرڈینیٹر سی ای سی پروفیسر محمد رضوان خاں، پرنسپل ڈاکٹر زیڈ اے ڈینٹل کالج پروفیسر این ڈی گپتا، ممبر انچارج لینڈ اینڈ گارڈنز پروفیسر انور شہزاد، ممبر انچارج دفتر رابطہ عامہ پروفیسر وبھا شرما، یونیورسٹی ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر علی جعفر عابدی، ڈپٹی پراکٹر پروفیسر عفت اصغر اور رابطہ عامہ افسر عمر پیرزادہ سمیت متعدد شخصیات موجود تھیں۔
پروگرام کا اختتام ڈاکٹر محمد ارشد باری کے کلمات تشکر کے ساتھ ہوا۔

uttar pradesh

متاثرین کو فوری طور پر فراہم کیا جائے مناسب معاوضہ اور پکی چھت

Published

on

دیوبند:بڈھانہ کوتوالی علاقے کے گاؤں حبیب پور میں شدید بارش کے باعث ایک خستہ حال مکان گرنے سے دل دہلا دینے والا حادثہ پیش آیا۔ اس حادثے میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد ملبے تلے دب کر ہلاک ہو گئے۔ اس دردناک واقعے کے بعد پورے علاقے میں کہرام مچ گیا اور ماحول انتہائی غمگین ہے۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی کی ہدایت پر ایک وفد نے متاثرہ گاؤں کا دورہ کیا اور پسماندگان سے ملاقات کر کے تعزیت کا اظہار کیا۔ذرائع کے مطابق، حبیب پور گاؤں میں مسلسل ہونے والی بارش کی وجہ سے اسلام الدین نامی شخص کا مکان اچانک زمین دوز ہو گیا۔ جاں بحق ہونے والے بچوں میں رخسار (عمر 11 سال)، شفاء (عمر 6 سال)، عبد الاحد (عمر 4 سال) اور محض 10 ماہ کا معصوم ذیشان شامل ہیں۔
جمعیۃ علماء کا ایک وفد حبیب پور پہنچا۔ وفد کی قیادت جمعیۃ علماء کے صوبائی نائب صدر مفتی بن یامین قاسمی نے کی۔ انہوں نے متاثرہ خاندان سے گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک انتہائی المناک اور ناقابل تلافی نقصان ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ جمعیۃ علماء اس دکھ کی گھڑی میں متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے۔ہمارا وفد یہاں صرف تعزیت کے لیے نہیں، بلکہ انسانی ہمدردی کے ناطے اس غمزدہ خاندان کا سہارا بننے آیا ہے۔ ہم پسماندگان کو یقین دلاتے ہیں کہ جمعیۃ علماء اس کڑے وقت میں ہر سطح پر ان کے ساتھ کھڑی ہے اور انہیں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔مولانا موسیٰ قاسمی سکریٹری، جمعیۃ علماء مغربی اتر پردیش نے کہا کہ بارش کی وجہ سے غریب کا مکان گرنا اور ایک ہنستا کھیلتا خاندان ملبے تلے دب کر ختم ہو جانا ایک بہت بڑا المیہ ہے۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ کاغذی کارروائیوں سے اوپر اٹھ کر متاثرہ خاندان کی فوری اور ٹھوس مالی امداد کرے۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ متاثرین کو فوری طور پر مناسب معاوضہ اور پکی چھت فراہم کی جائے تاکہ بچ جانے والے افراد اپنی زندگی کو دوبارہ پٹری پر لا سکیں۔ جمعیۃ علماء اس مطالبے کو انتظامیہ کے سامنے مضبوطی سے اٹھائے گی۔مفتی عبدالقادر (نائب صدرجمعیۃ علماء ضلع مظفر نگر) ،مفتی اقبال قاسمی متاثرہ خاندان سے ملاقات کرنے والے وفد میں،مولانا احسان قاسمی، قاری محمد عمر، قاری عبدالرحمان، مولانا نظر، قاری شعیب موجودرہے۔

Continue Reading

uttar pradesh

پولیس نے دہلی جانے والے کانگریس لیڈران کو گھروں میں کیا نظر بند

Published

on

دیوبند:راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کی حمایت میں دہلی جانے والے کانگریس لیڈران کے خلاف پولیس کی کارروائی ضلع سہارنپور کانگریس کے ضلع صدر سندیپ رانا کو پولیس نے راستہ میں روک کرحراست میں لیا ۔
تفصیل کے مطابق دہلی کے جنتر منتر پر کانگریس لیڈران راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی ودیگر سینئر کانگریسی لیڈران کے دھرنے کی حمایت میں جانے کی تیاری کرنے والے سہارنپور کے کانگریس پارٹی کے لیڈران کو پولیس نے ان کے گھروں میں نظر بند کردیا ۔جبکہ ضلع کانگریس صدر سندیپ سنگھ رانا کو دہلی جاتے ہوئے ٹول پلازہ پر پولیس نے حراست میں لے لیا ۔
پولیس نے اس سلسلہ میں مزید کارروائی کرتے ہوئے سابق اسمبلی رکن مسعود اختر ،ضلع صدر چودھری مظفر علی ،منیش تیاگی اورایم پی کے نمائندہ ڈاکٹر مجید کو ان کے گھروں پر نظر بند کردیا گیا ۔اس کے علاوہ ضلع نائب صدر اور انچارج نتن شرما ،کانگریس اقلیتی سیل کے سونو پٹھان ،سابق شہر صدر ورون شرما ،ہری او م مشرا ،اور سردار چندر جیت سنگھ سمیت دیگر کئی کانگریس لیڈران کو بھی پولیس نے گھر وں سے باہر نکلنے نہیں دیا ۔کانگریس کے ضلع ترجمان گنیش دت شرما نے پولیس کارروائی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پر امن طریقہ سے احتجاج کرنا سب کا حمہوری حق ہے ۔
انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس لیڈران کو دہلی جانے سے روکنے کے لئے پولیس کی جانب سے اپنا یا جانے والا طریقہ جمہوری حقوق کے خلاف ہے بلکہ یہ غیر اعلانیہ ایمرجنسی ہے ۔وہیں دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ قانونی نظم ونسق کو قائم رکھنے اور کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار حالات سے بچنے کے لئے احتیاط کے طور پر یہ کارروائی کی گئی ۔لیکن پولیس کی اس کارروائی کے بعدپورے ضلع میں سیاسی ہلچل تیز ہوگئی ہے ۔
پولیس وانتظامیہ کے ان اقدامات سے کانگریس کا رکنان میں انتظامیہ کے تئیں سخت ناراضگی ہے ۔

Continue Reading

uttar pradesh

کانوڑ یاترا میں ڈی جے چلانے والوں کیلئے انتظامیہ کی سخت وارننگ

Published

on

دیوبند:کانوڑ یاتر ا 2026کو محفوظ ،پرامن اور منظم طریقہ سے منعقد کرانے کے مقصد سے ریزرو پولیس لائن میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور ایس ایس پی کی مشترکہ صدارت میں ڈی جے چلانے والوں کے ساتھ ایک میٹنگ کا انعقاد کیا گیا ۔اس میٹنگ میں سہارنپور کے علاوہ یمنانگر ،کرنال اور آس پاس کے علاقوں اور صوبوں سے آنے والے ڈی جے چلانے والوں اور تیارکرنے والوں نے شرکت کی ۔میٹنگ کے دوران انتظامیہ اور افسران نے واضح کیا کہ کانوڑ یاتر ا کے دوران ڈی جے ٹرکوں اور دیگر گاڑیوں کی اونچائی نیز ان کی صوتی سطح انتظامیہ کی جانب سے طے شدہ ضابطوں کے مطابق ہی رکھی جائے ۔افسران نے کہا کہ ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔ضلع انتظامیہ نے احکامات دیتے ہوئے کہا کہ ڈی جے کے ذریعہ بجائے جانے والے گیتوں اور بھجنوں کی پین ڈرائیوتیار کرکے پہلے متعلقہ تھانہ انچارج کے پاس جمع کرانی ہوگی اور پولیس کی جانب سے گانوں اور بھجنوں کو صحیح قرار دینے اور اجازت دینے کے بعد ہی ڈی جے کے ذریعہ بجایا جاسکے گا ۔افسران کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ایسے گیتوں پر پابندی عائد کرنا ہے جن گائوں اور بھجنوں سے سماجی ہم آہنگی متاثر ہوتی ہوں یا کسی کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہوں ۔اس کے علاوہ ڈی جے والی گاڑیوں کو پولیس وانتظامیہ کی جانب سے طے شدہ راستوں پر چلائے جانے کی اجازت ہوگی ۔ اسی کے ساتھ ساتھ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کچے یا غیر منظور شدہ راستوں سے آمد ورفت مکمل طور پر بند رہے گی ۔میٹنگ کے دوران افسران نے بتایا کہ کانوڑی جانے کے راستوں پر وسیع پیمانہ پر حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں ۔ان راستوں کی سیکٹر مجسٹریٹ پولیس افسران اور پیٹرولنگ کرنے والی ٹیمیں مسلسل نگرانی کررہی ہے ۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ضابطوں پر عمل کرنے والے ڈی جے چلانے والوں اور کانوڑ میں جانے والے عقیدت مندوں کو پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے آمد ورفت کے انتظامات کے علاوہ حفاظت اور دیگر ضروری سہولیات مہیا کرائی جائے گی ۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network