Connect with us

uttar pradesh

تعلیم، صحت اور خواتین کے بااختیار ہونے پر زور؛ راجہ مہندر پرتاپ سنگھ یونیورسٹی کے کانووکیشن میں گورنر آنندی بین پٹیل کا اہم خطاب

Published

on

علی گڑھ:راجہ مہندر پرتاپ سنگھ اسٹیٹ یونیورسٹی کے تیسرے جلسۂ تقسیمِ اسناد (کانووکیشن) کا انعقاد پیر کے روز شیلا گوتم لرننگ سینٹر آڈیٹوریم میں نہایت پروقار ماحول میں انجام پایا۔ تقریب کی صدارت اتر پردیش کی گورنر اور یونیورسٹی کی چانسلر آنندی بین پٹیل نے کی، جبکہ ملک کے نامور سائنس داں، ممتاز ماہرِ حیاتیات اور ماہرِ تعلیم پروفیسر شیخر سی مانڈے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ اس موقع پر انہیں یونیورسٹی کی جانب سے اعزازی ڈی لِٹ (ڈی ایل آئی آئی ٹی) کی ڈگری سے سرفراز کیا گیا۔

تقریب کے آغاز میں وائس چانسلر پروفیسر نریندر بہادر سنگھ نے معزز مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے یونیورسٹی کی گزشتہ ایک سال کی تعلیمی، تحقیقی اور انتظامی کامیابیوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا، جبکہ رجسٹرار پربدھ سنگھ نے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کو حلف دلایا۔

اس موقع پر گورنر آنندی بین پٹیل نے بٹن دبا کر 51 ہزار 547 طلبہ کی ڈگریوں کو ڈیجی لاکر سے منسلک کرنے کے عمل کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس جدید سہولت سے طلبہ کو اپنی ڈگریاں اور اسناد حاصل کرنے کے لیے یونیورسٹی کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے بلکہ وہ دنیا کے کسی بھی مقام سے انہیں بآسانی حاصل کر سکیں گے۔

اپنے خطاب میں گورنر نے کہا کہ “حقیقی جدیدیت انسان کے لباس میں نہیں بلکہ اس کے افکار، کردار اور اخلاقی اقدار میں پوشیدہ ہوتی ہے۔” انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنی تہذیب و ثقافت سے وابستہ رہتے ہوئے تعلیم کو قوم کی خدمت اور سماجی ترقی کا ذریعہ بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف ڈگری حاصل کرنا کامیابی نہیں بلکہ معاشرے کے لیے مفید اور باکردار شہری بننا ہی تعلیم کا اصل مقصد ہے۔

انہوں نے کہا کہ راجہ مہندر پرتاپ سنگھ نے آزادی کی جدوجہد اور تعلیم کے فروغ کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں، اس لیے نوجوان نسل کو ان کی زندگی، نظریات اور قومی خدمات سے روشناس کرانا ہر تعلیمی ادارے کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے یونیورسٹیوں میں عظیم شخصیات پر مباحثوں، تقریری مقابلوں اور علمی سرگرمیوں کے انعقاد پر زور دیا۔

گورنر نے کہا کہ اس سال گولڈ میڈل حاصل کرنے والے 50 طلبہ میں 33 طالبات اور 17 طلبہ شامل ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بیٹیاں ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔

انہوں نے صحت کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے 9 سے 14 سال کی بچیوں کے لیے ایچ پی وی ویکسین کو انتہائی ضروری قرار دیا اور کہا کہ بروقت ویکسینیشن کے ذریعے مستقبل میں سروائیکل کینسر جیسے خطرناک مرض سے بچاؤ ممکن ہے۔ انہوں نے اینیمیا کے خاتمے، ٹی بی کے انسداد، خواتین کی تعلیم، کم عمری کی شادی کی روک تھام، معیاری تعلیم، مطالعے کی عادت، شمسی توانائی کے فروغ اور خواتین کو معاشی و سماجی طور پر بااختیار بنانے پر بھی زور دیا۔

تقریب کے دوران آنگن واڑی مراکز کے لیے 200 کھیل اور صحت کٹس تقسیم کی گئیں، جبکہ علی گڑھ، کاس گنج، ہاتھرس اور ایٹہ کی دس آنگن واڑی کارکنان کو علامتی طور پر یہ کٹس پیش کی گئیں۔ گورنر نے ضلع انتظامیہ کی جانب سے ٹی بی کے خاتمے اور دیگر عوامی فلاحی منصوبوں میں انجام دی جانے والی خدمات کو سراہا۔

اس موقع پر دھرم سماج کالج کے ڈاکٹر سریندر پال، ڈاکٹر اجے کمار اور شری وارشنیہ کالج کی پروفیسر گنجن اگروال کو تدریس کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے پر اعزازات سے نوازا گیا۔ گورنر نے انہیں اپنی تصنیف “چیلنجز مجھے پسند ہیں” بھی بطور تحفہ پیش کی۔

تقریب میں یونیورسٹی کے زیرِ سرپرستی گود لیے گئے دیہات کی طالبات نے ماحولیات کے تحفظ اور آبی ذخائر کی حفاظت پر مبنی ثقافتی پروگرام پیش کیا، جبکہ لودھا سنولین ودیالیہ کی طالبہ کشش نے “میری ماں” کے عنوان پر تقریر اور نغمہ پیش کر کے سامعین کی بھرپور داد حاصل کی۔

مختلف شعبوں میں گولڈ میڈل حاصل کرنے والوں میں آفرین خان، پراچی اگروال، پریانشی اپادھیائے، شلپی، شروتی گوئل، پرشانت راجپوت، کشاگر گپتا، تیج پال سنگھ، سیا، انوج کمار، شریا مہیشوری، انشیکا وارشنیہ، سوربھی چودھری، کرن شرما، بھونیش تیواری، ابھیشیک تالان، عدنان احمد، انو کماری، ببلی سینگر، دیپالی وارشنیہ، گریما سنگھ، خوشی گپتا، غزل خان، اماں شی شرما، مانوی پاراشر، مسویٰ علی، نیہا چودھری، پرتیبھا، پریانکا بھاردواج، رچا گرگ، شالوی بالیان، شکھر یادو، اُدتیش کماری، یوگیتا سنگھ، سواتی، منجول چودھری، آدرش پرتاپ پنڈیر، مونا، عارف خان، نیتو ورما، انجلی شاکیہ، لَوی مہاجن، انکیتا سنگھ، ایشوریہ سنگھ، ستوتی پرساد، بھوپیندر، جتیندر یادو، وجے کمار مینا اور دیپک ناگر شامل ہیں، جبکہ بی اے کے طالب علم نتن کمار کو گولڈ میڈل کے ساتھ چانسلر میڈل سے بھی نوازا گیا۔

گورنر آنندی بین پٹیل نے گولڈ میڈل حاصل کرنے والے تمام طلبہ کے والدین اور متعلقہ کالجوں کے پرنسپلز کو بھی اسٹیج پر مدعو کیا اور ان کی کامیابی کو سراہتے ہوئے کہا کہ طلبہ کی اس کامیابی میں والدین اور اساتذہ کا کردار بھی قابلِ تحسین ہے۔

اس تقریب میں رکنِ پارلیمنٹ ستیش گوتم، ضلع پنچایت کی چیئرپرسن وجئے سنگھ، رکن اسمبلی انل پراشر، ایم ایل سی ڈاکٹر مانویندر سنگھ، میئر پرشانت سنگھل، بی جے پی ضلع صدر کرشن پال سنگھ، ضلع جنرل سکریٹری شیو نارائن شرما، محکمہ پرچارک گووند جی، ضلع مجسٹریٹ اونیناش کمار، ایس ایس پی نیرج کمار جادون، چیف ڈیولپمنٹ آفیسر یوگیندر کمار، رجسٹرار پربدھ سنگھ، فائنانس کنٹرولر دھیریندر سنگھ، اساتذۂ کرام، انتظامی افسران، عوامی نمائندوں اور طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

uttar pradesh

اردو ادب سوسائٹی نے مختلف اشخاص کو پیش کی مبارک باد

Published

on

امروہہ:اپنی سماجی اور ادبی سرگرمیوں کے ایک حصے کے طور پر، اردو ادب سوسائٹی کے ایک وفد نے شہر کی ممتاز شخصیات اور ہونہار نوجوانوں سے ملاقات کی اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔
سوسائٹی کے ارکان نے سب سے پہلے سابق میونسپل صدر ڈاکٹر افسر پرویز کی رہائش گاہ پر ان کی خیریت دریافت کی۔ قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر افسر پرویز کا حال ہی میں دل کا آپریشن ہوا ہے۔ اراکین نے ان کی جلد صحت یابی اور درازی عمر کے لیے دعا کی۔
اس کے بعد، سوسائٹی نے تعلیم کے میدان میں شہر کا نام روشن کرنے والی طوبہ جاوید کے گھر کا دورہ کیا اور انہیں NEET کے امتحان میں شاندار کامیابی پر مبارکباد دی۔ سوسائٹی کے اراکین نے طوبہ اور اس کے والد فیصل جاوید کو مبارکباد دی اور ان کے روشن مستقبل کی خواہش کی۔
اس سلسلے میں سوسائٹی نے ڈاکٹر سراج ہاشمی کو قانون کی ڈگری حاصل کرنے پر خصوصی طور پر مبارکباد پیش کی اور ان کی نئی تعلیمی کامیابی کو سراہا۔
اس موقع پر سوسائٹی کے صدر کوثر علی عباسی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔اگرچہ بیماروں اور بوڑھوں کی خیریت دریافت کرنا ہماری روایت کا حصہ ہے، لیکن یہ ہمارا اخلاقی فرض ہے کہ ہم ہونہار نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کریں۔ جب ہماری نئی نسل تعلیم اور مختلف شعبوں میں کامیابیاں حاصل کرتی ہے تو اس سے پورے معاشرے کا نام روشن ہوتا ہے۔ اردو ادب سوسائٹی ہمیشہ ایسے باصلاحیت نوجوانوں کے ساتھ کھڑی رہے گی۔
اس موقع پر حاجی نسیم احمد خان، خالد صدیقی، قیصر علی عباسی، حمزہ عباسی اور سوسائٹی کے دیگر عہدیداران اور معززین موجود تھے۔

Continue Reading

uttar pradesh

منوج سنگھل قدیم ٹھاکر دوارہ مندر سمیتی کے صدر منتخب

Published

on

دیوبند:دیوبندکے مشہور ومعروف سماجی خدمتگار منوج سنگھل کو قدیم شری ٹھاکر دوارہ مندر سمیتی کا صدر منتخب کیا گیا ہے ۔ان کے ساتھ ساتھ آشوتوش گپتا کو جنرل سکریٹری ،اجے کمار بٹو کو خازن اور راکیش اگروال کو نائب صدر مقرر کیا گیا ہے ۔ان سبھی عہدیداران کا انتخاب اتفاق رائے سے کیا گیا ہے ۔
تفصیل کے مطابق جمعہ کے روز مندر کے احاطہ میں برہم سنگھ پنڈیر ایڈوکیٹ کی صدارت میں سمیتی کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی ۔ سالہاسال سے چلے آرہے عہدیداران کے استعفیٰ کے بعد نئی مجلس عاملہ تشکیل دی گئی ۔میٹنگ کے دوران شری کرشن شوبھا یاترا کی تیاریوں اور مندر کی دوسری سرگرمیوں سے متعلق بھی تبادلۂ خیال کیا گیا ۔
واضح ہوکہ منوج سنگھل دیوبند کے مشہور ومعروف فینسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں وہ پہلے سے ہی نگر ادیوگ ویاپار منڈل پریس ایسوسی ایشن دیوبند اور اگر وال سماج کے صدر ہیں ۔اس کے علاوہ منوج سنگھل قدیم شیو ششو مندر کے صدر اور دیوبند میونسپل بورڈ کے سینئر رکن بھی ہیں ۔اس کے علاوہ مختلف سماجی اور مذہبی تنظیموں میں بھی وہ سرگرم رول ادا کررہے ہیں ۔نومنتخب صد رمنوج سنگھل نے کہا کہ نئی مجلس عاملہ کی تشکیل کامقصد مندر کی زیادہ سے زیادہ خدمات انجام دینا اورسمیتی کی سرگرمیوں کوآگے بڑھانا ہے ۔انہوںنے بتایا کہ سمیتی کی جانب سے چلائے جانے والے آنکھوں کے اسپتال میںبہت جلد جدید قسم کی مشینیں لگائی جائیں گی ۔تاکہ آنکھوںکے مریضوںکو بہتر علاج مہیاکرائے جاسکے ۔
میٹنگ میںونود پرکاش گپتا ،اشوک گپتا ،شروند سنگھل ،رادھے شیام گر گ ،مکیش گرگ ،رشی پال کشیپ ،پون دھیمان سشیل منگل ،پون ہری ،راجیو گپتا ،اجے گپتا ،ورون گرگ اور ابھینائو گوئیل سمیت بڑی تعداد میںسمیتی کے ارکان موجود رہے ۔

Continue Reading

uttar pradesh

قرآن نے انسانیت کو دی سب سے بڑی بریکنگ نیوز : خطیب محمد اقبال

Published

on

آگرہ: مسجد نہر والی، سکندرا کے خطیب محمد اقبال نے آج خطبۂ جمعہ میں نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قرآنِ کریم نے پوری انسانیت کو سب سے بڑی بریکنگ نیوز قیامت کی خبر کی صورت میں دی ہے، تاکہ انسان اس عظیم دن کی تیاری کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ انسان کے لیے اس سے بڑی اور اہم خبر کوئی نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے بتایا کہ قرآنِ کریم میں قیامت کا لفظ تقریباً 70 مرتبہ آیا ہے، جبکہ مختلف دیگر ناموں جیسے الساعۃ، یوم الدین، یوم الفصل، یوم البعث، یوم الخروج، یوم الجمع، یوم الحساب، الطامۃ الکبریٰ، الواقعۃ، الحاقۃ اور القارعۃ کے ساتھ مجموعی طور پر تقریباً 250 مرتبہ اس دن کا ذکر کیا گیا ہے، جو اس کی غیر معمولی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔
محمد اقبال نے کہا کہ قرآنِ مجید نے قیامت کے مناظر اس انداز میں بیان کیے ہیں کہ گویا انسان اپنی آنکھوں سے انہیں دیکھ رہا ہو۔ لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں مصروف ہوں گے، کوئی گھر میں، کوئی بازار میں اور کوئی مجلس میں، مگر اچانک اللہ تعالیٰ کے حکم سے دنیا کا نظام ختم ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ قرآن نے واضح کر دیا ہے کہ یہ دنیا عارضی ہے اور ایک دن ضرور فنا ہو جائے گی۔ قیامت کی جو نشانیاں بیان کی گئی ہیں، وہ دراصل انسانیت کے لیے الارم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نبی اکرم ﷺ کی بعثت بھی قیامت کے قریب ہونے کی ایک بڑی علامت تھی، جسے تقریباً پندرہ سو سال گزر چکے ہیں، تاہم قیامت کا حقیقی وقت صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اور وہی اس کا علم رکھتا ہے۔
خطیب نے کہا کہ قیامت پر ایمان اسلام کے بنیادی عقائد میں شامل ہے، اسی لیے قرآنِ کریم بار بار آخرت کی یاد دلاتا ہے تاکہ انسان دنیا کی غفلت میں مبتلا نہ ہو۔ دنیا کی یہی زندگی آخرت کی دائمی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کرے گی۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ قرآنِ کریم کی اس عظیم خبر پر سنجیدگی سے غور کریں، اپنی زندگیوں کا محاسبہ کریں اور آخرت کی تیاری میں لگ جائیں۔
انہوں نے کہا کہ اب وحی نازل نہیں ہوگی اور نہ ہی حضرت جبرئیلؑ خبر لے کر آئیں گے، قرآنِ کریم ہمارے درمیان موجود ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسے سمجھیں، اس پر غور کریں اور اس کی تعلیمات پر عمل کریں۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network