uttar pradesh
اپنی خوشیوں اور تقریبات کو اللہ کی رضا کا ذریعہ بنائیں: خطیب محمد اقبال
آگرہ: مسجد نہر والی سکندرا کے خطیب مولانا محمد اقبال نے جمعہ کے خطبہ میں مسلمانوں کو اپنی خوشیوں اور تقریبات کو اللہ تعالیٰ کی رضا اور شکر گزاری کا ذریعہ بنانے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ آج معاشرے میں بہت سی ایسی رسمیں رائج ہو چکی ہیں جنہیں لوگ بغیر سوچے سمجھے اختیار کر رہے ہیں، حالانکہ ایک مومن کی زندگی کا ہر عمل اللہ کی خوشنودی کے تابع ہونا چاہیے۔
انہوں نے خصوصی طور پر سالگرہ (برتھ ڈے) کی تقریبات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ والدین اپنے بچوں کی سالگرہ بڑے اہتمام اور خوشی سے مناتے ہیں، لیکن اس موقع پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے بجائے محض رسموں اور ظاہری مظاہروں پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیک پر موم بتیاں روشن کرکے پھر خود ہی انہیں بجھا دینا ایک ایسی روایت بن چکی ہے جس پر لوگ غور و فکر کرنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے۔مولانا محمد اقبال نے قرآن کریم کی سورۂ الدہر (الانسان) کی پہلی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ انسان کو اس کی حقیقت یاد دلاتے ہوئے فرماتا ہے: “کیا انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت بھی نہیں گزرا جب وہ کوئی قابلِ ذکر چیز نہ تھا؟” انہوں نے کہا کہ یہ آیت انسان کو اپنی حقیقت، عاجزی اور اپنے رب کی نعمتوں کا احساس دلاتی ہے۔ انسان اس دنیا میں اپنے اختیار سے نہیں آیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے عدم سے وجود بخشا اور بے شمار نعمتوں سے نوازا۔انہوں نے کہا کہ جس بچے کی سالگرہ منائی جا رہی ہوتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت اور امانت ہے۔ یہ بھی ممکن تھا کہ وہ کسی جسمانی یا ذہنی معذوری کے ساتھ پیدا ہوتا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے صحت، قوت، سماعت، بصارت اور محبت کرنے والا خاندان عطا فرمایا۔ ایسی بے شمار نعمتوں کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے رب کا شکر گزار بنے اور اپنی اولاد کو بھی شکر گزاری کا سبق سکھائے۔
خطیب مسجد نہر والی نے والدین کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ سالگرہ اور دیگر خوشی کے مواقع کو محض تفریح اور نمود و نمائش تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ان مواقع پر بچوں کو دعاؤں، اچھے اخلاق، دینی تعلیمات اور زندگی کے مثبت پیغامات سے آراستہ کیا جائے تاکہ نئی نسل اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور بندگی کے مطابق گزارنے کی کوشش کرے۔انہوں نے کہا کہ آج کے ڈیجیٹل دور میں والدین کے پاس اپنی اولاد کی صحیح رہنمائی کے بے شمار ذرائع موجود ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ اپنی ترجیحات کا جائزہ لیں اور یہ سوچیں کہ ان کی تقریبات اور خوشیاں اللہ تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ بن رہی ہیں یا محض رسم و رواج کی پیروی کا۔
آخر میں مولانا محمد اقبال نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو دین کی صحیح سمجھ، اپنی نعمتوں کی قدر اور ہر حال میں شکر گزار بننے کی توفیق عطا فرمائے، تاکہ ہماری زندگی کا ہر لمحہ اور ہر خوشی اس کی رضا کے حصول کا ذریعہ بن سکے۔
uttar pradesh
لوک جن شکتی پارٹی (پاسوان ) اسمبلی الیکشن میں اتارے گی امیدوار
دیوبند:اترپردیش میں آئندہ سال ہونے والے اسمبلی الیکشن کے مدنظر لوک جن شکتی پارٹی (پاسوان ) نے اپنی تیاریوں کو تیز کردیا ہے۔
پارٹی کے قومی صدر اور مرکزی وزیر چراغ پاسوان نے اترپردیش کے پارٹی انچارج اور ایم پی ارون بھارتی کے ساتھ ملاقات کرکے الیکشن کی پالیسی سے متعلق کافی غور وفکر کیا ۔
اس میٹنگ میں شرکت کرنے کے بعد جمعہ کے روز دیوبند واپس آنے پر لوک جن شکتی پارٹی کی خواتین سیل کی صوبائی صدر پوجا گرگ نے بتایا کہ قومی صدر چراغ پاسوان نے پارٹی کے سبھی عہدیداران سے اپنے اپنے اسمبلی حلقوں میں پارٹی کی تشہیر کرنے اور عوامی بہبود کی پالیسیوں کو لوگوں تک پہنچانے کی اپیل کی ہے ۔پوجا گرگ نے بتایا کہ منعقدہ میٹنگ میں آنے والی اسمبلی الیکشن میں لوک جن شکتی پارٹی کی بہتر کارکردگی کے لئے سبھی 403؍ سیٹوں پر سیاسی بساط بچھانے کی تیاری کے لئے ہدایات دی گئیں ہیں ۔
انہوں نے بتایا کہ گفتگو کے دوران قومی صدر نے واضح کیا کہ لوک جن شکتی پارٹی اترپردیش میں پوری قوت کے ساتھ الیکشن لڑے گی انہوں نے کہا کہ پارٹی چاہے اپنے دم پر تنہا الیکشن لڑے یا کسی کے ساتھ اتحاد کرکے الیکشن کے میدان میں اترے دونوں صورتوں میں ان کا مقصد اترپردیش میں اپنی پہچان بنانا اور تنظیم کو مضبوط کرنا ہے ۔
uttar pradesh
سید محمد فقیہ الدین چشتی کا عرس مکمل
رام پور:قدیم روایت کے مطابق اس سال بھی بریلی دروازہ پر حضرت سید محمد جمال الدین چشتی فخری کے صاحبزادے اور مشہور بزرگ حضرت مولانا سیدمحمد فقیہ الدین چشتی نظامی عرف صاحبزادے صاحب کا تین روزہ عرس آج مکمل ہوگیا۔
آخری دن سرکاری چادر شریف کی رسم متولی و سجادہ نشین مزار ہذا حافظ سید آفاق شاہ عرف فہد میاں نظامی کے دست اطہر سے ادا کی گئ۔یہ سرکاری چادر پوشی ہمیشہ سے صاحب سجادہ کی نسل سے ہی چلی آرہی ہے۔قل شریف کی محفل سے خطاب کرتے ہوئے حافظ آفاق شاہ عرف فہد میاں نظامی چشتی نے کہا کہ مولوی سید فقیہ الدین میاں چشتی نے رام پورمیں دین اسلام کو زبردست فروغ بخشا۔مزید کہا کہ اسلام میں بزرگوں کا مقام بہت بلند ہے۔
ان کا احترام اللہ کی عبادت کا حصہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایابرکت ہمارے بڑوں کے ساتھ ہے۔ ان کی خدمت اور عزت کرنے سے گھروں میں سکون آتا ہے، جبکہ ان کی بددعا سے بچنا بھی لازم ہے۔آخر میں انہوں نے ملک کی سلامتی اور امن و امان کے لئے دعا فرمائی۔بڑی تعداد میں زائرین موجود تھے۔
uttar pradesh
اے ایم یو کے شعبہ پلاسٹک سرجری کے زیر اہتمام منایا گیاعالمی پلاسٹک سرجری ویک
علی گڑھ:جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ پلاسٹک سرجری نے عالمی یوم پلاسٹک سرجری کے موقع پر پلاسٹک سرجری ہفتہ منایا اور متعدد علمی و بیداری سرگرمیوں کا اہتمام کیا۔ اس کا مقصد پلاسٹک سرجری کے وسیع دائرہ کار کے بارے میں بیداری پیدا کرنا اور اس شعبہ میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کو نمایاں کرنا تھا۔
افتتاحی سیشن میں فیکلٹی آف میڈیسن کے ڈین پروفیسر محمد خالد اور جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج و اسپتال کے پرنسپل وسی ایم ایس پروفیسر انجم پرویز نے شرکت کی۔
شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے شعبہ پلاسٹک سرجری کے چیئرپرسن پروفیسر ایم ایف خرم نے کہا کہ پلاسٹک سرجری محض حسن افزائی تک محدود نہیں ہے بلکہ حادثاتی زخموں کی بحالی، برن کیئر، پیدائشی نقائص، سرطان کے بعد بحالی، ہاتھوں کی سرجری، مائیکرو سرجری اور دیرینہ زخموں کے علاج میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
اکیڈمک پروگرام میں دہلی کے میٹرو ہاسپٹلس کی ڈاکٹر رچا کمار نے مہمانِ خصوصی کے طور پر شرکت کی اور پلاسٹک سرجری میں حالیہ پیش رفت پر ایک لیکچر دیا۔ انھوں نے فریکشنل سی او ٹو لیزر ٹکنالوجی پر عملی تربیتی ورکشاپ بھی منعقد کی، جس کے ذریعہ ریزیڈنٹس کو داغوں کے علاج اور حسن افزا بحالی کے سلسلے میں عملی تربیت فراہم کی گئی۔
اس کے علاوہ ڈاکٹر سدرشن تومر نے پلاسٹک سرجری کی تاریخ پر خطبہ دیا اور ریکانسٹرکشن سرجری کے میدان میں آچاریہ سشروت کی خدمات کو اجاگر کیا۔ شعبہ کی ڈاکٹر آکانشا نے دیرینہ زخموں کے علاج پر اظہارِ خیال کیا، جبکہ ڈاکٹر کنن نے داغوں کے علاج کے عصری طریقوں پر گفتگو کی۔
پروفیسر محمد خالد نے شعبہ کے علمی اقدامات کو سراہا اور فیکلٹی اراکین اور ریزیڈنٹس کو تحقیق اور جدید سرجری تکنیکوں میں اعلیٰ معیار کے حصول کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھنے کی ترغیب دی۔ پروفیسر انجم پرویز نے علمی برتری، جدت طرازی اور مختلف شعبوں کے باہمی تعاون پر مبنی مریضوں کی نگہداشت کو فروغ دینے کے لیے شعبہ کی کاوشوں کی تعریف کی۔
سینئر پلاسٹک سرجن پروفیسر عمران احمد نے پلاسٹک سرجری کو ”تمام سُپر اسپیشلٹیزکی ماں“ قرار دیتے ہوئے اعضاء کو بچانے اور پیچیدہ بافتوں کی بحالی میں مائیکروویسکیولر سرجری کے انقلابی کردار کو اجاگر کیا۔
پروگرام کا اختتام ڈاکٹر سرفراز کے کلمات تشکر کے ساتھ ہوا، جبکہ ڈاکٹر کریتی شیکھر نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
