Connect with us

دلی این سی آر

E-20 فیصد ایتھنول ملا ہوا پٹرول پرکجریوال کا ملک کی 29 آٹو موبائل کمپنیوں کولکھا خط

Published

on

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے ملک کی 29 آٹو موبائل کمپنیوں کو خط لکھ کر ایک ہفتے کے اندر یہ واضح کرنے کا مطالبہ کیا ہے کہ آیا 2023 سے پہلے تیار ہونے والی پرانی گاڑیوں میں E-20 (20 فیصد ایتھنول ملا ہوا پٹرول) کا استعمال محفوظ ہے یا نہیں۔ انہوں نے ٹویوٹا، ہیرو اور ماروتی سوزوکی کو الگ سے خط لکھا ہے، کیونکہ ان کمپنیوں نے 4 جولائی کو ایک سرکاری پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ پرانی گاڑیوں میں E-20 کا استعمال محفوظ ہے۔ کیجریوال نے سوال اٹھایا کہ ان کمپنیوں کی اونر مینول تو واضح طور پر کہتی ہے کہ 2023 سے پہلے تیار ہونے والی گاڑیوں میں 10 فیصد سے زیادہ ایتھنول ملا ہوا پٹرول استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ ایسے میں کمپنیاں تحریری طور پر ملک کو بتائیں کہ آیا واقعی E-20 محفوظ ہے اور کیا اس سے مائلیج صرف 4 سے 5 فیصد ہی کم ہوتی ہے؟ انہوں نے مزید سوال کیا کہ اگر E-20 کے استعمال سے کسی صارف کی گاڑی کی مائلیج 5 سے 10 فیصد سے زیادہ کم ہو جائے یا گاڑی کا کوئی پرزہ خراب ہو جائے تو کیا یہ کمپنیاں صارف کو اس کا معاوضہ دیں گی؟ اروند کیجریوال نے باقی 26 آٹو موبائل کمپنیوں کو بھی الگ خط لکھ کر ان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنا مؤقف واضح کریں کہ آیا ان کی 2023 سے پہلے تیار شدہ گاڑیوں میں E-20 استعمال کیا جا سکتا ہے؟ اگر ہاں، تو اس سے مائلیج کتنی کم ہوگی، گاڑی کو کیا نقصان پہنچ سکتا ہے، اور اگر کسی صارف کو نقصان ہوا تو کیا کمپنی اس کی تلافی کرے گی؟ بدھ کو عام آدمی پارٹی کے ہیڈکوارٹر میں دہلی ریاستی صدر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے کہا کہ انہوں نے منگل کو اعلان کیا تھا کہ وہ ملک کی تمام پٹرول سے چلنے والی دو پہیہ اور چار پہیہ گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کو خط لکھیں گے تاکہ وہ E-20 کے بارے میں اپنا واضح مؤقف عوام کے سامنے رکھیں۔ اسی سلسلے میں آج 29 کمپنیوں کو خطوط بھیجے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان 29 کمپنیوں میں سے تین کمپنیوں، ماروتی سوزوکی، ٹویوٹا کرلوسکر اور ہیرو کو الگ خط لکھا گیا ہے، کیونکہ انہوں نے 4 جولائی کی سرکاری پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ پرانی گاڑیوں میں E-20 استعمال کرنا محفوظ ہے اور اس سے صرف 3 سے 5 فیصد مائلیج کم ہوتی ہے، جبکہ گاڑی کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔کیجریوال نے کہا کہ ان کمپنیوں کی سرکاری پریس کانفرنس میں دی گئی باتوں اور ان کی اپنی اونر مینول کے درمیان واضح تضاد موجود ہے۔ ایک طرف کمپنی کی اونر مینول صارف اور کمپنی کے درمیان معاہدے کی حیثیت رکھتی ہے، جو 10 فیصد سے زیادہ ایتھنول والے پٹرول کی اجازت نہیں دیتی، جبکہ دوسری طرف کمپنی کے نمائندے عوامی سطح پر E-20 کو محفوظ قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی معمولی غلطی یا تکنیکی تضاد نہیں بلکہ ایک انتہائی اہم معاملہ ہے، اس لیے کمپنیاں ایک ہفتے کے اندر تحریری طور پر عوام کو بتائیں کہ آیا پرانی گاڑیوں میں E-20 استعمال کیا جا سکتا ہے؟ کیا اس سے صرف 4 سے 5 فیصد ہی مائلیج کم ہوتی ہے؟ اور کیا گاڑی کے کسی پرزے کو نقصان نہیں پہنچتا؟ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی صارف کی گاڑی کی مائلیج 5 سے 10 فیصد سے زیادہ کم ہو جائے یا E-20 کے استعمال سے کوئی پرزہ خراب ہو جائے تو کیا کمپنیاں اس صارف کو مکمل معاوضہ دیں گی؟ اروند کیجریوال نے بتایا کہ باقی 26 کمپنیوں کو بھی ایک عمومی خط بھیجا گیا ہے، جس میں ان سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ E-20 کے معاملے پر اپنا واضح مؤقف عوام کے سامنے رکھیں، کیونکہ اس وقت ملک بھر میں اس حوالے سے شدید بحث جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کمپنیاں یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ E-20 مکمل طور پر محفوظ ہے، تو کیا وہ مائلیج میں کمی یا گاڑی کے پرزوں کو ہونے والے نقصان کی ذمہ داری بھی قبول کریں گی؟ مجھے امید ہے کہ تمام کمپنیاں ایک ہفتے کے اندر اس کا واضح جواب دیں گی، کیونکہ یہ ملک کے کروڑوں صارفین سے متعلق انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔ اروند کیجریوال نے اعلان کیا کہ جمعرات کو وہ مختلف پٹرول پمپوں، سروس سینٹروں اور مکینکوں سے ملاقات کریں گے اور عام صارفین کی رائے جانیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت E-20 کو ہر حال میں نافذ کرنے پر بضد ہے اور دعویٰ کر رہی ہے کہ اس سے گاڑیوں کو کوئی نقصان نہیں ہوتا، صرف معمولی مائلیج کم ہوتی ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ عوام کا تجربہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ جب عوام اس فیصلے پر سوال اٹھاتے ہیں تو انہیں کبھی اینٹی نیشنل اور کبھی کسی لابی کا حصہ قرار دیا جاتا ہے، جبکہ اب خود بڑے آٹو بلاگرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز بھی اس پالیسی پر تنقید کر رہے ہیں۔ ملک کے 140 کروڑ عوام کو غدار یا دہشت گرد کہنا مناسب نہیں۔ اگر مختلف سیاسی نظریات رکھنے والے لوگ بھی اس فیصلے سے پریشان ہیں تو ایک ذمہ دار حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی آواز سنے۔اروند کیجریوال نے آخر میں کہا کہ حکومت کا یہ فیصلہ سائنس، منطق اور انجینئرنگ کے اصولوں کے خلاف دکھائی دیتا ہے۔ بظاہر یہ عوامی مفاد میں نظر نہیں آتا، البتہ یہ کس کے مفاد میں ہے، اس کا جواب ابھی تک عوام کو نہیں ملا ہے۔

 

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

دلی این سی آر

چنار بک فیسٹیول میں قومی تعلیمی پالیسی پر مذاکرہ اور مشاعرے کا انعقاد

Published

on

(پی این این)
سری نگر: چنار بک فیسٹیول 2026 کے تیسرے دن بھی مختلف علمی اور ادبی سرگرمیاں انجام دی گئیں جن میں ’قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تحت سہ لسانی فارمولہ او رکثیر لسانی تعلیم‘ کے عنوان سے آتھر کارنر میں ایک اہم مذاکرے کا انعقاد کیا گیا ۔ اس مذاکرے میں پروفیسر افشار عالم (سابق وائس چانسلر، جامعہ ہمدرد، نئی دہلی)، پروفیسر نصیر اقبال (رجسٹرار، یونیورسٹی آف کشمیر) نے بطور پینلسٹ اور پروفیسر اعجاز محمد شیخ (ماہر لسانیات و سابق صدر شعبۂ لسانیات، کشمیر یونیورسٹی) نے موڈریٹر کے طور پر شرکت کی۔
موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے پر وفیسر افشار عالم نے ہندوستان میں نافذ کی جانے والی پرانی قومی تعلیمی پالیسیوں اور نئی تعلیمی پالیسی 2020 کے درمیان مطابقت اور تبدیلیوں کو واضح کیا۔ انھوں نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے نفاذ سے طالب علموں کے لیے زبانوں کے انتخاب کا پیٹرن تبدیل ہوگیا ہے۔ اس پالیسی میں مادری زبان کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ لسانیات اور انڈین نالج سسٹم پر بھی خاصی توجہ دی گئی ہے۔ انھوں نے نئی تعلیمی پالیسی اور انڈین نالج سسٹم کے درمیان ربط پر بھی اظہار خیال کیا۔انھوں نے کہا کہ ہندوستان میں حکومتی سطح پر مختلف غیرملکی یونیورسٹیوں کو جگہ دی جارہی ہے تاکہ دیگر زبانوں سے ہندوستانی زبانوں کا رشتہ مضبوط ہوسکے اور انگریزی کے ساتھ علاقائی زبانیں بھی ترقی کرسکیں۔ NEP 2020نے مادری زبان میں لکھنے پڑھنے کی جھجک کو دور کیا ہے۔ البتہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر زبان کے اساتذہ کی مناسب ٹریننگ دی جائے تاکہ اس پالیسی کا نفاذ بہتر طور پر ہوسکے۔
آج کے دوسرے مہمان مقرر پروفیسر نصیر اقبال نے کشمیر یونیورسٹی میں نئی تعلیمی پالیسی کے اطلاق کے حوالے سے کئی کارآمد نکات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی نافذکرنے والے اداروں میں کشمیر یونیورسٹی کو اولیت حاصل ہے۔ اس یونیورسٹی میں نئی تعلیمی پالیسی کے مطابق ایک سال کا پی جی کورس بھی شروع کیا جارہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی کی وجہ سے مقامی زبانوں پر توجہ دی جانے لگی ہے اور یونیورسٹی بھی اس کے لیے بھرپور کوشش کررہی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی کے نفاذ میں چیلنجز ضرور ہیں لیکن اگر منظم طریقے سے کوشش کی جائے تو یہ ایک بہتر تبدیلی ثابت ہوگی۔
مذاکرے کے اختتام سے قبل قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے کنکلوڈنگ ریمارک دیتے ہوئے کہا کہ ہر ادارے کی سرگرمیاں ایک خاص تقاضے کے مطابق سامنے آتی ہیں۔ قومی اردو کونسل نے تعلیم کے میدان میں نئی تعلیمی پالیسی 2020 کے تقاضوں کے تحت کئی اہم خدمات انجام دی ہیں اور اس بات پر خاص توجہ دی ہے کہ اردو کا رشتہ ہندوستان کی دیگر زبانوں سے مضبوط کیا جاسکے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کی تمام زبانیں ہماری اپنی زبانیں ہیں اور اردو کے تئیں انھیں کشمیر سے بہت امیدیں ہیں۔اردو زبان پر کیسی ہی دشواری کیوں نہ آجائے لیکن کشمیر اسے بچا لے گا۔ انھوں نے اس ا ہم مذاکرے میں شریک ہونے والے تمام مہمانوں کا شال پوشی کے ذریعے استقبال کیا اور ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔
اس مذاکرے کو پروفیسر اعجاز محمد شیخ نے موڈریٹ کرتے ہوئے اس کا تعارف بھی پیش کیا اور کئی اہم سوالات قائم کیے جن کی روشنی میں مہمان مقررین سے قومی تعلیمی پالیسی کے تحت سہ لسانی فارمولہ اور کثیر لسانی تعلیم کے متعلق معلومات حاصل کرنے میں آسانی ہوئی۔ انھوں نے اس پالیسی کے اطلاق اور نفاذ کے متعلق بھی استفسار کیا جن کے تحت اہم تجاویز منظرعام پر آئیں۔
اس مذاکرے میں یونیورسٹی اور کالجز کے طلبا اور طالبات کے علاوہ بڑی تعداد میں دانشو ر اور قلمکار موجود رہے جنھوں نے انٹریکٹو سیشن میں موضوع سے متعلق کئی اہم سوالات بھی کیے جن کا مہمان مقررین نے تسلی بخش جواب دیا۔
مذاکرے کے بعد شام چار بجے کلچرل اسٹیج پر ایک شاندار مشاعرے کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک کے مختلف حصوں سے تشریف لانے والے معروف و معزز شعرائے کرام نے اپنے خوبصورت کلام سے نوازا۔ اس موقعے پر سامعین کا جم غفیر موجودرہا۔ مشاعرے میں شریک ہونے والے شعرا میں جناب رفیق راز، جناب پاپولر میرٹھی، محترمہ رخسانہ جبیں، پروفیسر شفق سوپوری، جناب نعمان شوق، پروفیسر احمد محفوظ، پروفیسر ستیش ومل کے نام قابل ذکر ہیں۔ مشاعرے کی نظامت ڈاکٹر شفیع ایوب نے کی۔ شعرائے کرام نے مختلف موضوعات و مسائل سے متعلق غزلیں پیش کیں، بطور نمونہ یہاں ان کا ایک ایک شعرپیش کیا جارہا ہے:
گلے پہ خاک تمھارے سر اور تال پہ خاک
غزل پہ خاک مضامین پائمال پہ خاک
(رفیق راز)
کتنی کنجوسی پہ آمادہ ہے سسرال مری
راز کی بات بتاتے ہوئے ڈر لگتا ہے
ایسے کمرے میں سلا دیتے ہیں سالے میرے
پاؤں پھیلاؤں تو دیوار میں سر لگتا ہے
(پاپولر میرٹھی)
کٹا تو سکتے ہیں اس کو جھکا نہیں سکتے
تمام جسم میں سر کے سوا کچھ اور نہیں
(رخسانہ جبیں)
سنو یہ نالے سنو دشت آشنائی کے
اتر رہے ہیں کہیں قافلے جدائی کے
(شفق سوپوری)
ریل دیکھی ہے کبھی سینے پہ چلنے والی
یاد تو ہوں گے تجھے ہاتھ ہلاتے ہوئے ہم
(نعمان شوق)
جانے ہم کس خیال میں گم تھے
آنکھ اٹھی تو سامنے تم تھے
(احمد محفوظ)
پیش منظر سے جدا شور تماشا سے الگ
سر بکف بیٹھے رہے ہم تیری دنیا سے الگ
(ستیش ومل)

Continue Reading

دلی این سی آر

پی ایم شری کیندریہ ودیالیہ اینڈریوز گنج عالمی تعلیمی قیادت کابناگواہ

Published

on

نئی دہلی: پی ایم شری کیندریہ ودیالیہ اینڈریوز گنج کو اس وقت ایک ممتاز بین الاقوامی تعلیمی پلیٹ فارم بننے کا اعزاز حاصل ہوا، جب نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشنل پلاننگ اینڈ ایڈمنسٹریشن (NIEPA)، نئی دہلی کے زیرِ اہتمام انٹرنیشنل پروگرام آن لیڈرشپ فار اسکول ہیڈز (IPLSH) کے تحت مختلف ممالک سے آئے اسکول سربراہان اور ماہرینِ تعلیم کے ایک باوقار بین الاقوامی وفد نے اسکول کا دورہ کیا۔
اس موقع پر وفد کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور انہیں اسکول کی تعلیمی کامیابیوں، اختراعی اقدامات اور پی ایم شری اسکیم کے مؤثر نفاذ سے آگاہ کیا گیا۔وفد کا استقبال نائب پرنسپل محترمہ ریتو شرما نے کیا۔ انہوں نے اسکول کی کامیابیوں، وژن اور کیندریہ ودیالیہ سنگٹھن (KVS) کی رہنمائی میں پی ایم شری اسکیم کے مؤثر نفاذ کے بارے میں تفصیلی معلومات پیش کیں۔ انہوں نے قومی تعلیمی پالیسی (NEP) 2020 کے مطابق طلبہ پر مبنی، مہارت پر مبنی اور تجرباتی تدریسی طریقوں کے ذریعے طلبہ کی ہمہ جہت ترقی کے لیے اسکول کے عزم کو اجاگر کیا۔پروگرام کے دوران پی ایم شری پہل پر ایک پریزنٹیشن پیش کی گئی، جبکہ ڈاکٹر سیدہ ایمن ہاشمی نے فنون سے مربوط تدریسی سرگرمی “کاوڑ واچن” کا عملی مظاہرہ کیا۔ تبادلۂ خیال کے سیشن میں وفد نے تعلیمی قیادت، جدید تدریسی و تعلیمی طریقوں، نظامِ جانچ میں اصلاحات، جامع تعلیم اور قومی تعلیمی پالیسی 2020 سے متعلق مختلف موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا۔ وفد نے اسکول کی بہترین تعلیمی سرگرمیوں میں خصوصی دلچسپی ظاہر کی، جبکہ ان کے سوالات کے تفصیلی جوابات دونوں نائب پرنسپلز نے دیے۔
وفد نے طلبہ کے اعتماد، تجسس اور مؤثر اظہارِ خیال کی بھی بھرپور ستائش کی۔بعد ازاں وفد نے تجرباتی تعلیم کی نمائش، رہنمائی و مشاورت مرکز، جمنازیم اور سوئمنگ پول کا معائنہ کیا۔ انہوں نے بالخصوص تشکر کا درخت (Gratitude Tree)، تشکر صندوق (Gratitude Box) اور تجاویز کی صندوق (Suggestion Box) کو طلبہ کی ذہنی صحت اور مثبت تعلیمی ماحول کے فروغ کے لیے ایک منفرد اور قابلِ تقلید اقدام قرار دیتے ہوئے اس کی تعریف کی۔
وفد نے اسکول کے اختراعی اقدامات، حوصلہ افزا تعلیمی ماحول اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ طلبہ کی تیاری کے عزم کو سراہا۔پروگرام کا اختتام نائب پرنسپل (دوسری شفٹ) ارون کمار سنگھ کے اظہارِ تشکر کے ساتھ ہوا۔ اس کے بعد طلبہ کے تیار کردہ یادگاری تحائف وفد کو پیش کیے گئے، اجتماعی تصویر لی گئی اور پُرخلوص الوداع کے ساتھ اس بامقصد تعلیمی تبادلۂ خیال کا کامیاب اختتام ہوا۔

Continue Reading

دلی این سی آر

ممنوعہ علاقے میں بنی ہیں 5000 غیر قانونی عمارتیں: میونسپل کارپوریشن

Published

on

گروگرام:گروگرام میں آرڈیننس ڈپو کے ممنوعہ علاقے میں گزشتہ پانچ سالوں میں تقریباً 5000 غیر قانونی عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں۔ یہ چونکا دینے والا انکشاف گروگرام میونسپل کارپوریشن کی داخلی رپورٹ میں ہوا ہے۔ پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے سیکورٹی وجوہات کی بنا پر آرڈیننس ڈپو کے 900 میٹر کے دائرے میں کسی بھی نئی تعمیر یا تجارتی سرگرمی پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ اس کے باوجود تعمیرات بلا روک ٹوک جاری ہیں۔
شہر کے کچھ بااثر افراد اور حکمراں جماعت سے وابستہ رہنما قواعد کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اس محدود علاقے میں غیر قانونی کالونیاں قائم کر کے لوگوں کو دھوکہ دے رہے ہیں اور کروڑوں روپے کی زمین فروخت کر رہے ہیں۔ میونسپل حکام کی لاپرواہی اس وقت ہے کہ آرڈیننس ڈپو کے محدود علاقے میں 190 سے زائد مقامات پر اس وقت غیر قانونی تعمیرات عروج پر ہیں۔
سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں میونسپل کارپوریشن کے انفورسمنٹ ونگ نے اس ممنوعہ علاقے میں انہدام کی کوئی بڑی کارروائی نہیں کی۔ بعض عمارتوں کو محض رسمی طور پر سیل کر دیا گیا تھا لیکن لینڈ مافیا نے بغیر کسی خوف کے سیل توڑ کر وہاں دوبارہ تعمیرات شروع کر دی ہیں۔
میونسپل کارپوریشن کے ریکارڈ میں جن عمارتوں کو غیر قانونی قرار دے کر سیل کیا گیا تھا ان کی حقیقت چونکا دینے والی ہے۔ مافیا نے اہلکاروں کی ملی بھگت سے راتوں رات سرکاری مہریں توڑ دیں اور اندرونی حصوں پر تعمیراتی کام مکمل کر لیا۔ ان عمارتوں میں نہ صرف رہائشی فلیٹس بنائے جا رہے ہیں بلکہ کمرشل دکانیں بھی بلاامتیاز کھولی جا رہی ہیں۔ مہر توڑنا خلاف ضابطہ ہے، ابھی تک کسی ملزم کے خلاف پولیس مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔
آرڈیننس ڈپو کی سیکورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک کی عدلیہ نے واضح ہدایات جاری کی تھیں کہ 900 میٹر کے اندر ایک اینٹ بھی نہ رکھی جائے۔ اگر کوئی تعمیر ہوتی ہے تو اسے فوری طور پر گرایا جائے۔ میونسپل کارپوریشن کی داخلی رپورٹ نے ثابت کیا ہے کہ افسران محض کاغذ پر ہائی کورٹ کے احکامات کی تعمیل کر رہے ہیں۔ پانچ سالوں سے آنکھیں بند کرنے والے اہلکاروں کی اس غفلت کے باعث اب اس متنازعہ علاقے میں ہزاروں افراد نے اپنے گھر بنا لیے ہیں، جو کہ انتظامیہ کے لیے مستقبل میں ایکشن لینا بڑا دردِ سر بنا ہوا ہے۔
میونسپل کارپوریشن کی اندرونی رپورٹ کے مطابق اس وقت سب سے زیادہ غیر قانونی تعمیرات شیتلا کالونی اور دھرم کالونی میں ہو رہی ہیں جو کہ ممنوعہ علاقے میں آتی ہیں۔ مزید برآں، لینڈ مافیا کارٹر پوری روڈ پر تیزی سے نئی کالونیاں بنا رہے ہیں۔ الزام ہے کہ غیر قانونی تعمیرات کو فروغ دینے کی اس اسکیم میں حکمران سیاستدان اور اعلیٰ عہدیدار ملوث ہیں۔
میونسپل کارپوریشن کا متعلقہ ونگ پورے علاقے میں غیر قانونی تعمیرات کو روکنے اور ہائی کورٹ کے احکامات کی تعمیل کو یقینی بنانے کا براہ راست ذمہ دار ہے۔ اس وقت جے ای موہت رانا علاقے کے ذمہ دار افسر کے طور پر تعینات ہیں جن کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ رہا ہے۔ مقامی آر ڈبلیو اے اور سماجی کارکنوں کا الزام ہے کہ ان کی ملی بھگت سے تعمیراتی کام جاری ہے۔گروگرام کے ایڈیشنل میونسپل کمشنر جیبیر یادو نے کہا، “اگر مہر توڑنے کے باوجود آرڈیننس ڈپو میں غیر قانونی تعمیرات جاری رہتی ہیں، تو ان کے خلاف پولیس میں شکایت درج کروائی جائے گی۔ ممنوعہ علاقے میں غیر قانونی تعمیرات کو گرانے کی مہم شروع کی جائے گی۔”

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network