uttar pradesh
قانون کے تحت پولیس کو ذاتی معلومات طلب کرنےکا کوئی حق نہیں، سی اے اے-این آر سی مظاہروں سے متعلق ایک معاملےکےملزمین کو مقامی پولیس انتظامیہ کے ذریعہ مبینہ طور پر ہراساں کرنے کے خلاف امروہہ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو سونپاگیا میمورنڈم
(؍پی این این)
امروہہ: شہرمیں2019کے سی اے اے-این آر سی مظاہروں سے متعلق ایک معاملےکےملزمین کو مقامی پولیس انتظامیہ تصدیق کےنام پرمبینہ طور پر ہراساں کررہی ہے جس کی وجہ سے ملزمین اورانکے اہل خانہ میں خوف ہراس ہے۔ اس معاملے کو لیکر جمعرات کو ملزمین کےوکیل مراد عارف ایڈوکیٹ نےجمعرات کو امروہہ کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کوایک میمورنڈم پیش کرتے ہوے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی پولیس کو ہدایت کریں کہ وہ ملزمین کو غیر ضروری طور پر ہراساں نہ کرے جس میں ان کی مداخلت بہت ضروری ہے تاکہ لوگوں کی بے چینی کم ہو سکے- شہرکےمحلہ چاہ غوری کے رہائشی سینیر ایڈوکیٹ مراد عارف دیگر وکلاء کے ساتھ جمعرات کی دوپہر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے دفتر پہنچے۔
انہوں نے بتایا کہ امروہہ سٹی پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر نمبر ٨١٤/٢٠١٩ کے تحت تقریباً ٨٥ مظاہرین کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس کیس کے تقریباً تمام ملزمین ضمانت پر باہر ہیں اور یہ مقدمہ فی الحال ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ( فرسٹ) ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی عدالت میں زیر التوا ہے۔
وکلاء کا الزام ہے کہ چارج شیٹ داخل کرنے اور مقدمے کی سماعت شروع ہونے کے باوجود امروہہ سٹی پولیس اسٹیشن ملزمین کے گھر-گھرجاکرتصدیق کے نام پر ذاتی معلومات جیسے بینک اسٹیٹمنٹس، جائیداد کی تفصیلات، پین کارڈ اور پاسپورٹ مانگ رہی ہےاب تک کہاں خان کا سفر کیا کاروبار کیا ہے اور کس پارٹی سے تعلق ہےجیسے سوالات بھی کے جا رہے ہیں۔
میمورسنڈم میں کہا گیا ہے کہ قانون کے تحت پولیس کو کسی بھی فرد یا کسی ملزم سے اس طریقے سے ذاتی معلومات طلب کرنےکا کوئی حق نہیں ہے۔
ایڈوکیٹ مراد عارف نےسپرنٹنڈنٹ آف پولیس پر زور دیا کہ وہ امروہہ سٹی پولیس اسٹیشن کو ہدایت دیں کہ وہ تصدیق کےنام پرملزمین کو ہراساں کرنےسے بازرہیں، اوریہ کہ اگر کوئی تصدیق ضروری ہے تواسےقانونی دائرے میں رہ کر کرایا جائےجس کی اطلاع پیشگی دی جائے اور ملزمین کو پریشان نہ کیا جائے-ایس پی نے وکلاء کےوفد کو یقین دلایا کہ وہ اس معاملے میں منصفانہ کا روائی کریں گیں اورکسی کو بے وجہ ہراساں نہیں کیا جاےگا ۔
فوٹو -وکلاء کے ساتھ ایس پی کو میمورنڈم دینے جاتے ایڈوکیٹ مراد عارف ۔
uttar pradesh
ہماری پہچان صرف ہندوستانی: پروفیسرصغیر افراہیم،شعبۂ اردو سی سی ایس یونیورسٹی میں آزادی کے موقع پرآن لائن مشاعرہ و قوی سمیلن کا انعقاد
میرٹھ:آج کے پروگرام میں اردو کی نفاست اور ہندی کی لطافت ہے۔ مشاعرہ اور کوی سمیلن میں مسکرا ہٹ بھی ہے اور طنز بھی، خوشی بھی ہے اور سنجیدگی بھی۔ یہاں پر جنگ آزادی نے ہمیں یہی بتایا ہے کہ ہندی اور اردو کو ہم الگ نہیں کرسکتے۔ اومان، لندن،ماریشس وغیرہ دوسرے ممالک میں جہاں ہندوستانی بستے ہیں وہاں ملک کی آزادی کو لوگ بڑی خوشی سے مناتے ہیں۔ایسٹ انڈیا کمپنی نے زبردست دھوکہ دیا اور ہمارے گھر، مذہب، مسلک، تیوہار وغیرہ پر حملہ کیا۔جنگ آزادی ہندو،مسلمان کی جنگ نہیں بلکہ ہند کے ہر باشندے کی جنگ تھی۔یہ ترنگا ہم سے امن اور بھائی چارے کی بات کرتا ہے۔ آج بسمل،حسرت،رواں،جوش،ٹیگور، نذر الاسلام وغیرہ نے آزادی کا جوبیج بویا تھا وہ انسانیت اور بھائی چارے کا بیج تھا۔ اشفاق اللہ خان،بھگت سنگھ،آزاد وغیرہ نے بہت سی قربانیاں پیش کیں۔ میرٹھ تو جنگ آزادی کا مرکز ہے۔ہم کہیں بھی جائیں لیکن ہماری پہچان ہندوستانی ہے۔یہ الفاظ تھے معروف ادیب و ناقد پروفیسر صغیر افراہیم]علی گڑھ[ کے جو شعبہئ اردو اور ایو ساکے زیر اہتمام منعقد ”آزادی کے موقع پر مشاعرہ و کوی سمین“پروگرام میں اپنیصدارتی تقریر کے دوران ادا کررہے تھے۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغازسعید احمد نے تلا وت کلام پاک سے کیا۔ہدیہئ نعت فرحت اختر نے پیش کیا۔پروگرام کی سرپرستی معروف ناقد و افسانہ نگار اور صدر شعبہئ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے فرمائی اور صدارت کے فرائض معروف ادیب وناقد پروفیسر صغیر افراہیم نے انجام دیے۔مہمانانِ خصوصی کے بطورپروفیسر فاروق بخشی ] سابق صدر شعبہئ اردو،مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدر آباد[ اور امیر مہدی] انگلینڈ[ نے آن لائن شرکت فرمائی۔مدعو شعرا کے بطور ڈاکٹر ایشور چند گمبھیر، ایڈوکیٹ ارشاد بیتاب]چوہان[،وارث وارثی، سروج دوبے، میشاب الہ آبادی، وندنا کنور رائے زادہ،ڈاکٹر فرقان سردھنوی اور مولانا سید نا یاب الدین نایابؔنے شر کت کی۔استقبالیہ کلمات ڈاکٹر آصف علی،نظامت کے فرا ئض ڈاکٹر الکا وششٹھنے انجام دیے۔
موضوع کا تعارف کراتے ہوئے ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے کہا کہ جس طرح ہمارے ادبا و ناقدین ادب نے ناولوں، افسانوں اور تحقیقی و تنقیدی تحریروں میں ملک سے محبت کے جذبات و احساسات کو پیش کیا اسی طرح سے بہت سے شعرا نے بھی اپنے کلام میں ملک سے محبت اور وطن کی آزادی کے تعلق سے اپنے جذبات کو بڑی فن کاری سے قلم بند کیا۔ملک سے محبت اور ملک میں رہنے والوں کے لیے علامہ اقبال، فیض، جوش وغیرہ نے نظمیں اور غزلیں پیش کیں۔معروف ادیب و ناقد پروفیسر اسلم جمشید پوری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب سے پہلے ہندوستانی ہیں۔ ملک کی آزادی میں سبھی کی قربا نیاں شامل ہیں۔ ہم سب گنگا جمنی تہذیب کو سجانے اور سنوارنے کی کوشش میں لگے ہو ئے ہیں۔ ملک کی محبت میں ہم سب کو آگے آ نا چاہئے اور یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ملک میں ہمیشہ امن و چین اور سکون بر قرار رہے۔ ملک کی آزادی میں بھی ہندو، مسلمان سبھی شعرا نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
سروج دوبے نے کہا کہ آزادی کے دیوانوں کو شکست کسی طرح بھی قبول نہیں تھی۔ ملک کے باشندگان نے محبت اور اپنی ہمت کی بدولت اپنے ملک کی آزادی کو حاصل کیا۔ ہمارے ملک میں سبھی طرح کے لوگ بستے ہیں،وہ ہندو ہوں یا مسلمان سبھی ملک کی محبت میں سر شار ہیں۔وندنا کنور رائے زادہ نے کہا کہ آج ہم آزادی کے تعلق اس پروگرام میں شامل ہیں اور شاعری کے حوالے سے میں اپنے والد کی وراثت کو آگے بڑھا رہی ہوں۔ شہیدوں کو سلام کرتے ہوئے میں کہتی ہوں؎بارود سے چاقو سے نہ خنجر سے بات کر/ گر کر سکے تو دل کے ہی اندر سے بات کر/ جس میں کھلیں بہار بن کے ایکتا کے پھول/ کچھ اس طرح سے د ل کے تو بنجر سے بات کر/ملتی ہے جس میں جاکے ہر ایک پیار کی ندی/ انسانیت کے ایسے سمندر سے بات کر۔
ڈاکٹر فرقان سردھنوی نے کہا ؎ تم نے میری تنہائی کا منظر نہیں دیکھا/ آنکھوں میں میری اشکوں کا لشکر نہیں دیکھا/ کیا مجھ پہ گزرتی ہے جدائی میں تمہاری/ جس دن سے گئے تم نے پلٹ کر نہیں دیکھا/ ویسے تو تمہیں رہتی ہے میری فکر شب و روز/ کس حال میں ہوں تم نے کبھی آکر نہیں دیکھا۔ وارث وارثی نے کہا؎ ہمارا ہندوستان/ یہ پیارا ہندوستان/ اس میں جنمے ویر بھگت سنگھ،اشفاق اللہ خان/ ہمارا ہندوستان،یہ پیارا ہندوستان/ ہر دن تیو ہاروں کے رنگ برنگے مان/ ہمارا ہندوستان،یہ پیارا ہندوستان/ دیکھو دیکھو وارث اس کی مسکا تی ہے شان/ ہمارا ہندوستان،یہ پیارا ہندوستان۔ ایڈوکیٹ ارشاد بے تاب نے کہا ؎ غم کا احساس بھلایا بھی تو جاسکتا ہے/ ظلم و دہشت کو مٹا یا بھی تو جاسکتا ہے/ سونی آنکھوں کو یہ پاگل کردیتی ہے/انسان کے احساس کو بھی گھا ئل کردیتی ہے/حسرتوں کیوں اداس آج بیٹھی ہو تم /پاس دریا کے رہ کے بھی پیاسی ہو تم۔
مولانا سید نایاب الدین نایابؔ نے اپنی نظم’شکوہئ وطن‘ پیش کرتے ہوئے کہا ؎گاندھی،پٹیل،نہرو مرے غم گسار تھے/ دنیا میں ان کا نام تھا وہ با وقار تھے/مجھ کووہ کرکے کس کے حوالے چلے گئے/ کیوں مسجدوں سے دور شوالے چلے گئے/ گھٹ گھٹ کے رو رہا ہوں مرا کوئی اب نہیں / جمہوریت کہاں ہے پتا کوئی اب نہیں۔میشاب الہ آبادی نے کہا ؎دوستو خوشیاں مناؤ یوم آزادی ہے آج/پورے بھارت کو سجاؤ یومِ آزادی ہے آج۔ڈاکٹر ایشور چند گمبھیر نے کہا ؎شہادت اور قربانی ہمیں یوں ہی نہیں کھلتے/تبھی تو لوگ ڈرتے ہیں وطن کی راہ پر چلتے،/اب تو دامن بھی چاک سر راہ ہوتا ہے/ آج نردوش کا ثابت گناہ ہوتا ہے۔امیر مہدی نے کہا ؎ کسی کو قتل کردیتا کسی کا گھر جلاتا/ شجاعت اس کو کہتے ہیں تو اپنی بزدلی اچھی/ چاک ہے شب کا گریباں مگر کیا کیجئے/ صبح کے رُخ پہ کوئی نور،کوئی آب نہیں / اس سے بہتر تو وہی رات کی تاریکی تھی/ کم سے کم صبح کی امید لیے رہتے تھے/ اس سحر سے تو وہی سحر اچھی تھی۔
پروفیسر فاروق بخشی نے کہا ؎ اے وطن اے وطن میرے پیارے وطن/تیری دھرتی کا منہ چومتا ہے گگن/ تیرے ماتھے کی مالا کا جھو مر سجے/ تیرے دامن میں گنگا کی دھارا بہے/ تیرے کھیتوں میں کیسر مہکتی رہے/ تیری مٹی سے مہکے میرا تب بدن/اے وطن اے وطن میرے پیارے وطن/کچھ الگ اپنی مٹی کی تاثیر ہے/ اس کے پیروں میں کب کوئی زنجیر ہے/ یہ محبت کی اک ایسی جاگیر ہے/اپنا اپنا ہے سب کا یہاں پر چلن/اے وطن اے وطن میرے پیارے وطن۔ اس موقع پر ڈاکٹر سکینہ ماریشس، ڈاکٹر شاداب علیم، سیدہ مریم الٰہی، محمد شمشاد، شاہِ زمن، وغیرہ پروگرام سے جڑے رہے۔
uttar pradesh
اے ایم یو کے شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن میں طلبہ کا اورینٹیشن پروگرام منعقد
(پی این این)
علی گڑھ:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی فیکلٹی آف مینجمنٹ اسٹڈیز اینڈ ریسرچ (ایف ایم ایس آر) کے شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن نے 2026-28 بیچ کے طلبہ کے لئے اورینٹیشن پروگرام منعقد کیا، جس میں ایم بی اے، ایم بی اے -آئی بی، ایم بی اے -ایچ اے اور ایم بی اے -آئی بی ایف کے سالِ اول اور سال آخرکے طلبہ نے شرکت کی۔
پروگرام کی صدارت اے ایم یو کے پرو وائس چانسلر پروفیسر ایم محسن خان نے کی، جبکہ الحمد فوڈ پروڈکٹس، علی گڑھ کے چیئرمین حاجی ظہیر نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔پروفیسر ایم محسن خان نے طلبہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہیں باہمی تعاون سے کام کرنے، مثبت تعلیمی ماحول برقرار رکھنے اور یونیورسٹی میں وقت کا درست استعمال کرنے کی ترغیب دی۔ حاجی ظہیر نے طلبہ کو محنت کرنے اور اپنی بہترین کارکردگی پیش کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ ثابت قدمی کامیابی کی راہ ہموار کرتی ہے۔
فیکلٹی کے ڈین پروفیسر محمد نوید خان نے مہمانوں اور طلبہ کا خیرمقدم کیا اور قائدانہ صلاحیتوں کی نشوونما میں فیکلٹی آف مینجمنٹ اسٹڈیز اینڈ ریسرچ کے کردار کو اجاگر کرنے کے ساتھ طلبہ کے لیے دستیاب سہولیات اور وسائل کے بارے میں بھی بتایا۔ شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن کی چیئرپرسن پروفیسر سلمیٰ احمد نے اساتذہ اور عملے کے ارکان کا تعارف کرایا۔اورینٹیشن پروگرام کے دوران پروفیسر پرویز طالب نے شعبہ اور فرینک اینڈ ڈیبی اسلام مینجمنٹ کمپلیکس کی تاریخ اور ترقی کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔ پروفیسر جمال احمد فاروقی نے نصاب، کریڈٹ کی ضروریات، انٹرن شپ، تحقیقی مقالے اور تعلیمی ضوابط کے بارے میں بتایا۔
پروفیسر ولید احمد انصاری نے لائبریری اور رہنمائی کی سہولیات، پروفیسر آصف علی سید نے ہم نصابی سرگرمیوں، کھیلوں اور صحت و تندرستی، جبکہ پروفیسر فضا تبسم اعظمی نے صنعتی اداروں میں انٹرن شپ کے حوالے سے طلبہ کی رہنمائی کی۔سال آخر کی طالبات مس ثانیہ راشد اورمسٹر عریب خان نے نئے طلبہ کے سامنے اپنے تجربات بیان کیے۔ پروگرام کی نظامت ڈاکٹر زرین حسین فاروق نے کی، جبکہ ڈاکٹر لمے بن صابر نے اظہارِ تشکر کیا۔
uttar pradesh
ایم ایل اے اور سابق کابینی وزیر کمال اختر نے اپنے دفتر میں سنے عوامی مسائل
کانٹھ؍مراداباد: (پی این این)مقامی ایم ایل اے اور سابق کابینی وزیر کمال اختر نے آج اپنے کیمپ دفتر پر عوامی مسائل کو سنا انہوں نے حلقے کے مختلف مقامات سے آئے لوگوں کے مسائل کو سن کر انہیں حل کرنے کی یقین دہا نکل آئی اس موقع پر انہوں نے دفتر پر موجود پارٹی کے عہدے داران و ممبران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2027 کا اسمبلی انتخاب اپ کے سر پر ہے لہذا انتخابات کے تعلق سے آج ہی سے کوشش کرنا ہوگی انہوں نے کہا کہ سماجوادی پارٹی کے دور اقتدار میں جو ترقیاتی کام ہوئے اور سماج وادی پارٹی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کیا کرنا چاہتی ہے وہ عوام کو سمجھایا جائے انہوں نے کہا کہ سماجوادی پارٹی کے رہنما اور قومی صدر اکھلیش یادو کی پی ڈی اے فکر سے مخالفین میں کھلبلی مچی ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ ہر سماجوادی پارٹی کے رکن کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ پارٹی کی فکر سے عوام کو آگاہ کرے آج ریاست میں ہر طرف افراد تفری کا ماحول ہے عوام موجودہ سرکار سے چھٹکارا چاہتے ہیں لہذا عوام کے درمیان جا کر کے انہیں سماجوادی پارٹی کی پالیسیوں سے آگاہ کیا جائے اس موقع پر وکرم سنگھ یا دو تسلیم پردھان یاسین پردھان چرن سنگھ پردھان ڈاکٹر دانش انصاری مجیب چوہدری ارشد فرقان چوہدری انظار چوہدری نیتا جی صغیر احمد وغیرہ درجنوں پارٹی کے عہدے داران و ممبران موجود رہے۔
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
بہار9 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
