uttar pradesh
ہماری پہچان صرف ہندوستانی: پروفیسرصغیر افراہیم،شعبۂ اردو سی سی ایس یونیورسٹی میں آزادی کے موقع پرآن لائن مشاعرہ و قوی سمیلن کا انعقاد
میرٹھ:آج کے پروگرام میں اردو کی نفاست اور ہندی کی لطافت ہے۔ مشاعرہ اور کوی سمیلن میں مسکرا ہٹ بھی ہے اور طنز بھی، خوشی بھی ہے اور سنجیدگی بھی۔ یہاں پر جنگ آزادی نے ہمیں یہی بتایا ہے کہ ہندی اور اردو کو ہم الگ نہیں کرسکتے۔ اومان، لندن،ماریشس وغیرہ دوسرے ممالک میں جہاں ہندوستانی بستے ہیں وہاں ملک کی آزادی کو لوگ بڑی خوشی سے مناتے ہیں۔ایسٹ انڈیا کمپنی نے زبردست دھوکہ دیا اور ہمارے گھر، مذہب، مسلک، تیوہار وغیرہ پر حملہ کیا۔جنگ آزادی ہندو،مسلمان کی جنگ نہیں بلکہ ہند کے ہر باشندے کی جنگ تھی۔یہ ترنگا ہم سے امن اور بھائی چارے کی بات کرتا ہے۔ آج بسمل،حسرت،رواں،جوش،ٹیگور، نذر الاسلام وغیرہ نے آزادی کا جوبیج بویا تھا وہ انسانیت اور بھائی چارے کا بیج تھا۔ اشفاق اللہ خان،بھگت سنگھ،آزاد وغیرہ نے بہت سی قربانیاں پیش کیں۔ میرٹھ تو جنگ آزادی کا مرکز ہے۔ہم کہیں بھی جائیں لیکن ہماری پہچان ہندوستانی ہے۔یہ الفاظ تھے معروف ادیب و ناقد پروفیسر صغیر افراہیم]علی گڑھ[ کے جو شعبہئ اردو اور ایو ساکے زیر اہتمام منعقد ”آزادی کے موقع پر مشاعرہ و کوی سمین“پروگرام میں اپنیصدارتی تقریر کے دوران ادا کررہے تھے۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغازسعید احمد نے تلا وت کلام پاک سے کیا۔ہدیہئ نعت فرحت اختر نے پیش کیا۔پروگرام کی سرپرستی معروف ناقد و افسانہ نگار اور صدر شعبہئ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے فرمائی اور صدارت کے فرائض معروف ادیب وناقد پروفیسر صغیر افراہیم نے انجام دیے۔مہمانانِ خصوصی کے بطورپروفیسر فاروق بخشی ] سابق صدر شعبہئ اردو،مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدر آباد[ اور امیر مہدی] انگلینڈ[ نے آن لائن شرکت فرمائی۔مدعو شعرا کے بطور ڈاکٹر ایشور چند گمبھیر، ایڈوکیٹ ارشاد بیتاب]چوہان[،وارث وارثی، سروج دوبے، میشاب الہ آبادی، وندنا کنور رائے زادہ،ڈاکٹر فرقان سردھنوی اور مولانا سید نا یاب الدین نایابؔنے شر کت کی۔استقبالیہ کلمات ڈاکٹر آصف علی،نظامت کے فرا ئض ڈاکٹر الکا وششٹھنے انجام دیے۔
موضوع کا تعارف کراتے ہوئے ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے کہا کہ جس طرح ہمارے ادبا و ناقدین ادب نے ناولوں، افسانوں اور تحقیقی و تنقیدی تحریروں میں ملک سے محبت کے جذبات و احساسات کو پیش کیا اسی طرح سے بہت سے شعرا نے بھی اپنے کلام میں ملک سے محبت اور وطن کی آزادی کے تعلق سے اپنے جذبات کو بڑی فن کاری سے قلم بند کیا۔ملک سے محبت اور ملک میں رہنے والوں کے لیے علامہ اقبال، فیض، جوش وغیرہ نے نظمیں اور غزلیں پیش کیں۔معروف ادیب و ناقد پروفیسر اسلم جمشید پوری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب سے پہلے ہندوستانی ہیں۔ ملک کی آزادی میں سبھی کی قربا نیاں شامل ہیں۔ ہم سب گنگا جمنی تہذیب کو سجانے اور سنوارنے کی کوشش میں لگے ہو ئے ہیں۔ ملک کی محبت میں ہم سب کو آگے آ نا چاہئے اور یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ملک میں ہمیشہ امن و چین اور سکون بر قرار رہے۔ ملک کی آزادی میں بھی ہندو، مسلمان سبھی شعرا نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
سروج دوبے نے کہا کہ آزادی کے دیوانوں کو شکست کسی طرح بھی قبول نہیں تھی۔ ملک کے باشندگان نے محبت اور اپنی ہمت کی بدولت اپنے ملک کی آزادی کو حاصل کیا۔ ہمارے ملک میں سبھی طرح کے لوگ بستے ہیں،وہ ہندو ہوں یا مسلمان سبھی ملک کی محبت میں سر شار ہیں۔وندنا کنور رائے زادہ نے کہا کہ آج ہم آزادی کے تعلق اس پروگرام میں شامل ہیں اور شاعری کے حوالے سے میں اپنے والد کی وراثت کو آگے بڑھا رہی ہوں۔ شہیدوں کو سلام کرتے ہوئے میں کہتی ہوں؎بارود سے چاقو سے نہ خنجر سے بات کر/ گر کر سکے تو دل کے ہی اندر سے بات کر/ جس میں کھلیں بہار بن کے ایکتا کے پھول/ کچھ اس طرح سے د ل کے تو بنجر سے بات کر/ملتی ہے جس میں جاکے ہر ایک پیار کی ندی/ انسانیت کے ایسے سمندر سے بات کر۔
ڈاکٹر فرقان سردھنوی نے کہا ؎ تم نے میری تنہائی کا منظر نہیں دیکھا/ آنکھوں میں میری اشکوں کا لشکر نہیں دیکھا/ کیا مجھ پہ گزرتی ہے جدائی میں تمہاری/ جس دن سے گئے تم نے پلٹ کر نہیں دیکھا/ ویسے تو تمہیں رہتی ہے میری فکر شب و روز/ کس حال میں ہوں تم نے کبھی آکر نہیں دیکھا۔ وارث وارثی نے کہا؎ ہمارا ہندوستان/ یہ پیارا ہندوستان/ اس میں جنمے ویر بھگت سنگھ،اشفاق اللہ خان/ ہمارا ہندوستان،یہ پیارا ہندوستان/ ہر دن تیو ہاروں کے رنگ برنگے مان/ ہمارا ہندوستان،یہ پیارا ہندوستان/ دیکھو دیکھو وارث اس کی مسکا تی ہے شان/ ہمارا ہندوستان،یہ پیارا ہندوستان۔ ایڈوکیٹ ارشاد بے تاب نے کہا ؎ غم کا احساس بھلایا بھی تو جاسکتا ہے/ ظلم و دہشت کو مٹا یا بھی تو جاسکتا ہے/ سونی آنکھوں کو یہ پاگل کردیتی ہے/انسان کے احساس کو بھی گھا ئل کردیتی ہے/حسرتوں کیوں اداس آج بیٹھی ہو تم /پاس دریا کے رہ کے بھی پیاسی ہو تم۔
مولانا سید نایاب الدین نایابؔ نے اپنی نظم’شکوہئ وطن‘ پیش کرتے ہوئے کہا ؎گاندھی،پٹیل،نہرو مرے غم گسار تھے/ دنیا میں ان کا نام تھا وہ با وقار تھے/مجھ کووہ کرکے کس کے حوالے چلے گئے/ کیوں مسجدوں سے دور شوالے چلے گئے/ گھٹ گھٹ کے رو رہا ہوں مرا کوئی اب نہیں / جمہوریت کہاں ہے پتا کوئی اب نہیں۔میشاب الہ آبادی نے کہا ؎دوستو خوشیاں مناؤ یوم آزادی ہے آج/پورے بھارت کو سجاؤ یومِ آزادی ہے آج۔ڈاکٹر ایشور چند گمبھیر نے کہا ؎شہادت اور قربانی ہمیں یوں ہی نہیں کھلتے/تبھی تو لوگ ڈرتے ہیں وطن کی راہ پر چلتے،/اب تو دامن بھی چاک سر راہ ہوتا ہے/ آج نردوش کا ثابت گناہ ہوتا ہے۔امیر مہدی نے کہا ؎ کسی کو قتل کردیتا کسی کا گھر جلاتا/ شجاعت اس کو کہتے ہیں تو اپنی بزدلی اچھی/ چاک ہے شب کا گریباں مگر کیا کیجئے/ صبح کے رُخ پہ کوئی نور،کوئی آب نہیں / اس سے بہتر تو وہی رات کی تاریکی تھی/ کم سے کم صبح کی امید لیے رہتے تھے/ اس سحر سے تو وہی سحر اچھی تھی۔
پروفیسر فاروق بخشی نے کہا ؎ اے وطن اے وطن میرے پیارے وطن/تیری دھرتی کا منہ چومتا ہے گگن/ تیرے ماتھے کی مالا کا جھو مر سجے/ تیرے دامن میں گنگا کی دھارا بہے/ تیرے کھیتوں میں کیسر مہکتی رہے/ تیری مٹی سے مہکے میرا تب بدن/اے وطن اے وطن میرے پیارے وطن/کچھ الگ اپنی مٹی کی تاثیر ہے/ اس کے پیروں میں کب کوئی زنجیر ہے/ یہ محبت کی اک ایسی جاگیر ہے/اپنا اپنا ہے سب کا یہاں پر چلن/اے وطن اے وطن میرے پیارے وطن۔ اس موقع پر ڈاکٹر سکینہ ماریشس، ڈاکٹر شاداب علیم، سیدہ مریم الٰہی، محمد شمشاد، شاہِ زمن، وغیرہ پروگرام سے جڑے رہے۔
uttar pradesh
اعظم خان کیساتھ غلط سلوک کررہی ہے یوپی حکومت،خودبی جے پی رہنماؤں کی ہیں لکھنؤ میں سب سے زیادہ غیر قانونی عمارتیں :اکھلیش یادو
(پی این این)
لکھنؤ:سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے جمعرات کو لکھنؤ میں پارٹی دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بی جے پی حکومت پر حملہ بولا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت ہمارے پروگرام منعقد نہیں ہونے دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلند شہر میں سماج وادی پارٹی کا ساون کے دوران ایک پروگرام ہونا تھا۔ حکام نے پروگرام کے لیے میدان کی اجازت دینے کی کئی بار یقین دہانی کرائی، بعد میں ساون کا مہینہ ہونے کی وجہ سے پروگرام کی تاریخ آگے بڑھانے کا مشورہ دیا۔ سماج وادی پارٹی نے پروگرام آگے بڑھا دیا، لیکن اس کے باوجود اجازت نہیں دی گئی۔ کہا گیا کہ پولیس لائن میں پانی بھرا ہوا ہے، جس کی وجہ سے ہیلی پیڈ پر ہیلی کاپٹر نہیں اتر سکے گا۔اکھلیش یادو نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ میں نے سوچا شاید کالی ندی میں سیلاب تو نہیں آگیا ہے۔ اس کے بعد اکھلیش نے پولیس لائن کی ایک ویڈیو دکھائی، جس میں کہیں بھی پانی نظر نہیں آ رہا تھا۔ اکھلیش نے کہا کہ آخر حکومت ہمارے پروگرام سے پریشان کیوں ہے؟ ہم نے اس سے خراب حکومت پہلے کبھی نہیں دیکھی۔
دراصل بلند شہر میں 11 ستمبر(آج) کو سماج وادی پارٹی کا پروگرام مقرر تھا۔ ایس پی صدر نے کہا کہ جہاں ہیلی کاپٹر اترنا تھا، وہاں ہیلی پیڈ پر دور دور تک پانی جمع نہیں ہے۔ صرف زبردستی سیمنٹ، گارا اور پیور بلاکس دکھا کر، حکومت کی خفیہ ہدایت پر انتظامیہ ہمارے 11 ستمبر کے پروگرام کو منسوخ کرنے کا بہانہ تلاش کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سماج وادی پارٹی کے عہدیداران کی موجودگی میں غیر جانب دار ماہرین سے جانچ کراکر حقیقت سامنے لائی جائے۔ اگر ہم سڑک کے راستے آئیں گے تو کیا ایکسپریس وے، ہائی وے یا سڑکوں کی خراب حالت کا بہانہ بھی بنایا جائے گا؟ کیونکہ یہ تمام سڑکیں واقعی آمدورفت کے قابل نہیں ہیں۔عوام پوچھ رہی ہے کہ ہیلی پیڈ اور موسم صرف اپوزیشن کے لیے ہی کیوں خراب ہوتا ہے؟
سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے کہا کہ ہم ضلع وار انتخابی منشور تیار کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ریاست کے لیے تو انتخابی منشور تیار کریں گے ہی، ساتھ ہی ضلع وار منشور بھی بنائیں گے، جس میں ہر ضلع کے مسائل کو ترجیح دی جائے گی۔بی جے پی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ درست خبریں چلانے پر صحافیوں کے خلاف مقدمات درج کیے جا رہے ہیں اور انہیں اسکولوں میں جانے سے روکا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت جانے والی ہے اور سماج وادی پارٹی اسے اقتدار سے ہٹانے کا عزم کر رہی ہے۔
اکھلیش نے اعظم خان کے خلاف کارروائی کو ناانصافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ان کے ساتھ غلط سلوک کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ لکھنؤ میں سب سے زیادہ غیر قانونی عمارتیں بی جے پی رہنماؤں کی ہیں۔ انہوں نے ریزرویشن اور مدارس کے معاملے پر بھی بی جے پی کو گھیرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کے معاملے پر حکومت کے پاس کوئی جواب نہیں ہے، اسی لیے وہ دوسرے مسائل کو سامنے لا رہی ہے۔
جی ڈی پی کے اعداد و شمار پر سوال اٹھاتے ہوئے اکھلیش نے جھانسی کے واقعے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک شخص کے پاس اپنی اہلیہ کی لاش لے جانے اور آخری رسومات ادا کرنے تک کے پیسے نہیں تھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ کیسی جی ڈی پی ہے؟ اکھلیش نے الزام لگایا کہ اپنے خاص لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے جی ڈی پی کے اعداد و شمار میں اضافہ دکھایا جا رہا ہے۔
uttar pradesh
دانش آزاد انصاری کی ڈاکٹر عمار رضوی سے ملاقات،سیتاپور میں ڈگری کالج، آئی ٹی آئی، پولی ٹیکنک اور یونانی و آیورویدک کالج کے قیام پر زور
(پی این این)
لکھنؤ:ریاستی وزیر برائے اقلیتی بہبود، مسلم وقف و حج، اتر پردیش حکومت دانش آزاد انصاری نے آل انڈیا مائنارٹیز فورم فار ڈیموکریسی کے قومی صدر اور اتر پردیش کے سابق کارگزار وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عمار رضوی سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ اس دوران ریاست میں اقلیتوں سے متعلق مختلف اہم امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔ملاقات کے دوران تعلیم، تجارت، روزگار اور سماجی و معاشی مسائل سمیت متعدد موضوعات زیرِ بحث آئے۔ دانش آزاد انصاری نے ڈاکٹر عمار رضوی کو بتایا کہ اقلیتی طبقے کے تعلیمی فروغ اور مجموعی پیش رفت کے لیے حکومت کی جانب سے ان اضلاع میں، جہاں اقلیتی آبادی تقریباً 25 فیصد ہے، ڈگری کالج، آئی ٹی آئی، پولی ٹیکنک، یونانی اور آیورویدک کالج قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ڈاکٹر عمار رضوی نے ریاستی وزیر کی توجہ ضلع سیتاپور کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ وہاں بھی اقلیتی آبادی قابلِ ذکر تعداد میں ہے، اس لیے ضلع میں اعلیٰ تعلیم اور فنی تربیت سے متعلق اداروں کے قیام کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اداروں کے قیام سے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم اور ہنر حاصل کرنے کے بہتر مواقع میسر آئیں گے، جس سے روزگار کے امکانات بڑھنے کے ساتھ سیتاپور کی مجموعی ترقی کو بھی تقویت ملے گی۔
دانش آزاد انصاری نے ڈاکٹر عمار رضوی کو یقین دلایا کہ وہ سیتاپور کے معاملے میں خصوصی توجہ دیں گے اور اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ ضلع کے لیے کون کون سی سرکاری اسکیمیں اور منصوبے فراہم کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ دستیاب امکانات کے مطابق ضروری اقدامات کے لیے متعلقہ سطح پر کوشش کی جائے گی۔ڈاکٹر عمار رضوی نے اقلیتی بہبود سے متعلق ریاستی حکومت کی فلاحی اسکیموں کے نفاذ میں دانش آزاد انصاری کی سرگرمی اور کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں مبارک باد اور نیک خواہشات پیش کیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اقلیتوں کی تعلیمی، معاشی اور سماجی ترقی کے لیے حکومت کی کوششوں کو مزید مؤثر اور نتیجہ خیز بنایا جائے گا۔یہ اطلاع آل انڈیا مائنارٹیز فورم فار ڈیموکریسی کے شعبۂ نشر و اشاعت کے سیکریٹری ابوشحمہ انصاری نے فراہم کی۔
uttar pradesh
شمیم حنفی نے تنقیدی و تحقیقی کا رناموں کے علاوہ ڈرا ما نگاری کے حوالے سے بھی انجام دی ہیں لائق تحسین خدمات:پروفیسر کوثر مظہری
میرٹھ:تخلیق سے ہی تنقید بنی ہے۔ ریڈیائی ڈرامے اسٹیج پر کامیاب نہیں ہوتے کیونکہ ان کے لیے موسیقی اور پردہ بھی ضروری ہو تا ہے۔ ریڈیائی اور اسٹیج ڈرامے میں جو فرق ہوتا ہے وہ پردہ ہو تا ہے اور یہ پردہ بھی اس طرح کا ہوتا ہے کہ سامعین و ناظرین کو پردہ جوڑے رکھتا ہے۔ شمیم حنفی نے زندگی کے آخری دور میں ڈرامے نہیں لکھے۔یہ الفاظ تھے سابق صدر شعبہئ اردو،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسرصغیر افراہیم کے جو شعبہئ اردو اور ایو ساکے زیر اہتمام منعقد ”شمیم حنفی کی ڈراما نگاری“ موضوع پر اپنی صدارتی تقریر کے دوران ادا کررہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”شمیم حنفی کا”زندگی کی طرف“ ایک اہم ڈراما ہے جس میں پردہ کے پیچھے سے عجیب و غریب آ وازیں آ تی ہیں جن کا تعلق زندگی سے ہوتا ہے۔ ریڈیا ئی ڈراموں میں بہت سی پریشانیاں ہوتی ہیں۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغازسعید احمد نے تلا وت کلام پاک سے کیا۔پروگرام کی سرپرستی معروف ناقد و افسانہ نگار اور صدر شعبہئ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے فرمائی اور صدارت کے فرائض معروف ادیب وناقدپروفیسر صغیر افراہیم نے انجام دیے۔ مہمانان کے طور پروفیسر کوثر مظہری ]سابق صدر شعبہئ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی[،پروفیسر عارفہ بشریٰ]صدر شعبہئ اردو، کشمیر یونیورسٹی[، اسلم پرویز]ممبئی[ نے آن لائن شر کت فرمائی۔ لکھنؤ سے ایوسا کی صدر پروفیسر ریشما پروین بھی موجود رہیں۔ استقبالیہ اور تعارفی کلمات فر حت اختر، نظا مت کے فرا ئض شعبہئ اردو کے ریسرچ اسکالر شاہِ زمن اورشکریے کی رسم ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے اداکی۔
پروگرام کا تعارف پیش کرتے ہوئے پروفیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ ریوتی سرن شرما ڈرا ما نگاری کے حوالے سے بڑا نام ہے۔حبیب تنویر اور شمیم حنفی نے ریڈیا ئی ڈراموں کے حوالے سے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ ریڈیو کے لیے ڈرا مے لکھنا آسان کام نہیں ہے۔آواز کے ذریعے کوئی کہانی یا ڈرا ما پیش کرنا بہت مشکل کام ہے۔ شمیم حنفی، عارف نقوی، کرشن چندر،منٹو وغیرہ نے ریڈیو کے لیے ڈرا مے لکھے مگر شمیم حنفی کے ڈراموں کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔ شمیم حنفی نے ڈراموں کے حوالے سے جو کام کیے ہیں انہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
پروفیسر کوثر مظہری نے کہا کہ پروفیسر شمیم حنفی کا ادبی دائرہ کافی پھیلا ہوا ہے۔ ان کے ڈرا موں کے مجمو عوں ”زندگی کی طرف“، ”مٹی کا بلا وا“ وغیرہ نے شمیم حنفی کو بڑا مقبول کیا ہے۔ ہما رے شعبے میں بھی شمیم حنفی پر دو ریسرچ اسکالر تحقیق کررہے ہیں اور آپ کے یہاں بھی کام ہورہا ہے تو اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شمیم حنفی نے تنقیدی و تحقیقی کا رناموں کے ساتھ ساتھ ساتھ ڈرا ما نگاری کے حوالے سے بھی لائق تحسین خدمات انجام دی ہیں۔
پروفیسر عارفہ بشریٰ نے کہا کہ شمیم حنفی نے تحقیق اور تنقید کے میدان میں متعدد کتابیں تحریر کیں۔ ان کو بہت سے اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ اگر ان کے ڈرا موں کی بات کریں تو ان کے ڈراموں میں ذہنی کشمکش، زبان کا حسن تہذیبی مسائل کو بہترین انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ زندگی کے بہت سے نئے تجربات ان کے ڈرا موں میں ملتے ہیں۔”مٹی کا بلا وا“ میں چھ ڈرا مے شا مل ہیں۔ اس مجمو عے کا بہترین ڈرا ما”مٹی کا بلا وا“ ہے۔ ”مجھے گھر یاد آتا ہے1988ء میں منظر عام پر آ یا۔ شمیم حنفی کے ڈرا موں میں زمین داری، تہذیب و ثقا فت،ماضی و حال کی کشمکش ملتی ہے۔
اسلم پرویز نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شمیم حنفی نے زیادہ تر ریڈیو ڈرا مے لکھے ہیں اور انہیں ”اندھوں کا رنگ منچ“ کہا جاتا ہے۔ آنکھوں دیکھا حال جو ڈرا موں میں ملتا ہے وہ زیادہ متاثر کرتا ہے۔ شمیم حنفی کے ریڈیو ڈرا موں میں علمی و ادبی کار کردگی ملتی ہے۔ ان کے ریڈیو ڈراموں کو تھو ڑی تبدیلی کے ساتھ اسٹیج پر کھیلا جاسکتا ہے۔ شمیم حنفی کے بیشتر کردار جیتے جاگتے ہوتے ہیں۔ سماجی، سیاسی زندگی کا انتشار ان کے ڈرا موں کی خوبی ہے۔ان کے ریڈیا ئی ڈراموں میں مختلف کردار، خوبصورت مکالمے اور لفظوں کا معنیٰ خیز استعمال ملتا ہے۔ ان کے بیشتر ڈرا موں میں ڈرامائی غزلیات شدت کے سا تھ موجود ہیں۔شمیم حنفی نے اپنے ڈراموں میں بڑی حد تک سماج کی حقیقت کو پیش کیا ہے۔
پروفیسر ریشما پروین نے کہا کہ آج کا مو ضوع بہت اہم ہے۔ آج ہم نے شمیم حنفی کے ڈرا موں کے بارے میں جانا۔ میں آج کے پروگرام سے کا فی استفادہ کیا ہے۔ ہم کبھی کبھی یہ سوچتے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسٹیج ڈرامے اور ریڈیا ئی ڈراموں کے درمیان کیا فرق ہوتا ہے۔ آج کے پروگرام نے بہت سے نئے نکات پر روشنی ڈا لی۔پروگرام سے ڈاکٹرآصف علی،ڈاکٹرشاداب علیم،ڈاکٹر الکا وششٹھ، سیدہ مریم الٰہی،محمد شمشاد اور دیگر طلبہ وطالبات جڑے رہے۔
-
بہار10 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
