uttar pradesh
اترپردیش میںشدید گرمی کی لہر،ریاست کے دیگراضلاع میں کہیں سخت گرمی کی تو کہیں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان
(پی این این)
لکھنؤ:اتر پردیش میں آئندہ تین دنوں کے دوران بندیل کھنڈ اور پوروانچل کے بعض اضلاع میں ہیٹ ویو جاری رہنے کا امکان ہے، جبکہ ریاست کے کئی حصوں میں گرج چمک، آسمانی بجلی گرنے اور 40 سے 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چلنے کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری اثراتی پیش گوئی کے مطابق 9 جون سے 10 جون کی صبح تک باندا، چترکوٹ، کوشامبی، پریاگ راج، فتح پور، سون بھدر، مرزاپور، چندولی، وارانسی، سنت روی داس نگر، کانپور دیہات، کانپور نگر، جالون، ہمیرپور، مہوبا اور جھانسی سمیت ملحقہ علاقوں میں شدید گرمی کی لہر چلنے کا امکان ہے۔
اسی دوران ریاست کے مشرقی، وسطی اور مغربی علاقوں کے متعدد اضلاع میں گرج چمک کے ساتھ آسمانی بجلی گرنے اور 40 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چل سکتی ہیں۔ ان اضلاع میں اعظم گڑھ، مئو، بلیا، دیوریا، گورکھپور، بستی، کشی نگر، مہاراج گنج، لکھیم پور کھیری، لکھنؤ، بارہ بنکی، رائے بریلی، ایودھیا، سہارنپور، شاملی، مظفر نگر، میرٹھ، غازی آباد، آگرہ، فیروز آباد، اٹاوہ، مین پوری، بریلی اور پیلی بھیت سمیت کئی علاقے شامل ہیں۔موسمیاتی مرکز کے مطابق 10 جون سے 11 جون کی صبح تک بھی بندیل کھنڈ اور اس سے ملحق پوروانچل کے اضلاع میں ہیٹ ویو کی صورتحال برقرار رہ سکتی ہے۔ دوسری جانب سون بھدر، مرزاپور، وارانسی، غازی پور، مئو، دیوریا، گورکھپور، بستی، گونڈا، بلرام پور، بہرائچ، لکھیم پور کھیری، سہارنپور، شاملی، میرٹھ، آگرہ، بریلی اور شاہجہاں پور سمیت متعدد اضلاع میں گرج چمک اور تیز ہواؤں کے اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔11 جون سے 12 جون کی صبح تک مغربی اتر پردیش کے سہارنپور، شاملی، مظفر نگر، باغپت، میرٹھ، بجنور، امروہہ، مراد آباد، رام پور، بریلی، پیلی بھیت، شاہجہاں پور، سنبھل اور بدایوں میں 50 سے 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز جھونکے دارہوائیں چل سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ ریاست کے مشرقی اور وسطی حصوں کے کئی اضلاع میں 40 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہواؤں کے ساتھ گرج چمک اور آسمانی بجلی گرنے کا امکان برقرار ہے۔
محکمہ موسمیات نے آگرہ، فیروز آباد، مین پوری، اٹاوہ، اوریا، جالون، ہمیرپور، مہوبا، جھانسی اور للت پور میں 11 جون کو بھی شدید گرمی کی لہر برقرار رہنے کی وارننگ جاری کی ہے۔
محکمہ نے مشورہ دیا ہے کہ گرج چمک اور آسمانی بجلی کے دوران لوگ محفوظ مقامات پر پناہ لیں اور درختوں کے نیچے کھڑے ہونے سے گریز کریں۔ بجلی گرنے کے خدشے کے وقت برقی آلات کے پلگ نکال دیں اور غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں۔ تیز ہواؤں کے دوران کچے مکانات، کمزور ڈھانچوں اور کھلے مقامات پر خصوصی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔
شدید گرمی کے پیش نظر عوام کو دوپہر کے وقت زیادہ دیر تک دھوپ میں رہنے سے بچنے، وافر مقدار میں پانی اور دیگر مشروبات استعمال کرنے اور ہلکے رنگ کے سوتی کپڑے پہننے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ کسانوں کو شام کے وقت ہلکی آبپاشی کرکے کھیتوں میں نمی برقرار رکھنے اور مویشیوں کو سایہ دار مقامات پر رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔محکمہ موسمیات نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ موسم سے متعلق تازہ ترین وارننگز اور پیش گوئیوں پر نظر رکھیں اور انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔
uttar pradesh
اے ایم یو کے شعبہ کمیونٹی میڈیسن نے یو ایچ ٹی سی میں انسدادِ تمباکو نوشی بیداری پروگرام کیا منعقد
(پی این این)
علی گڑھ:جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ کمیونٹی میڈیسن نے عالمی یومِ انسدادِ تمباکو نوشی کی مناسبت سے یونیورسٹی کے اربن ہیلتھ ٹریننگ سینٹر (یو ایچ ٹی سی) میں بیداری پروگرام منعقد کیا، جس کا مقصد عوام کو تمباکو کے استعمال کے مضر اثرات سے آگاہ کرنا اور تمباکو سے پاک طرزِ زندگی کو فروغ دینا تھا۔
یہ پروگرام شعبہ کمیونٹی میڈیسن کی صدر پروفیسر عظمیٰ ارم کی رہنمائی میں منعقد ہوا۔ سینئر ریزیڈنٹ ڈاکٹر شائستہ پروین نے تمباکو نوشی کے خلاف مسلسل عوامی بیداری کی ضرورت پر زور دیا۔ جونیئر ریزیڈنٹ ڈاکٹر ریا نے تمباکو کے استعمال سے ہونے والے مضر نتائج پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا تعلق سرطان، قلبی امراض، سانس کی بیماریوں اور دیگر سنگین طبی مسائل سے ہے۔ جونیئر ریزیڈنٹ ڈاکٹر روہن کوشک نے تمباکو نوشی ترک کرنے کے طریقوں، احتیاطی تدابیر اور دھوئیں والی اور بغیر دھوئیں والی تمباکو مصنوعات کے خطرات پر گفتگو کی۔
اس موقع پر یو ایچ ٹی سی کی لیڈی سی ایم او ڈاکٹر صبوحی افضل، ڈاکٹر شائستہ پروین، پوسٹ گریجویٹ طلبہ، انٹرنز، انڈر گریجویٹ طلبہ، میڈیکل سوشل ورکرز اور یو ایچ ٹی سی کے عملے کی موجودگی میں شرکاء نے تمباکو نہ استعمال کرنے کا حلف بھی لیا اور تمباکو کے مضر اثرات سے متعلق بیداری پیدا کرنے اور تمباکو سے پاک معاشرے کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔
uttar pradesh
معاشرے کی ترقی، ثقافت اور تہذیب کو محفوظ رکھنے میں ادیبوں کا اہم کردار: مینا خان ناز
(پی این این)
رُڑکی: ادیب معاشرے کو جوڑنے کے ساتھ ساتھ ہماری ثقافت اور تہذیب کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ شاعری کسی مدرسے یا یونیورسٹی میں نہیں سیکھی جاتی، یہ الہامی عطیہ ہوتی ہے۔یہ خیالات موہنی دیوی ڈگری کالج میں پدم وبھوشن گوپال داس نیرج، پدم شری بیکل اتساہی و پدم شری بشیر بدر کی یاد میں ہوئے آل انڈیا کوی سمیلن و مشاعرے میں اتر پردیش کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج و معروف شاعرہ محترمہ مینا خان ناز نے ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ عمدہ ادب ہی عمدہ سماج اور قومیت کے جذبے کو مضبوط کرتا ہے۔
مشاعرے کے مہمانِ خصوصی ہریدوار کے پولیس سپرنٹنڈنٹ پروفیسر شیکھر سویال نے کہا کہ شاعری بھی ایک تپسیا اور یوگ سادھنا سے کم نہیں ہے کیونکہ شاعر دنیاوی الجھنوں اور ہنگاموں سے الگ اپنی دنیا بساتا ہے۔ سی او منگلور ابھِنَے چودھری، سی او بھگوان پور دَکش شوکھنڈ نے کہا کہ شاعری ایسی صنف ہے جو آج کے مادی اور سائنسی دور میں بھی کسی سورس کی محتاج نہیں، اے آئی کے ذریعے آج سب کچھ ممکن ہے مگر جو شاعری کے جذبات یا خیالات شاعر پیش کر سکتا ہے وہ اے آئی بھی ظاہر نہیں کر سکتا۔
پروگرام میں مہمانِ خصوصی کے طور پر تشریف لائے ایم ایل اے منگلور قاضی نظام الدین، معروف صنعتکار و نیوٹیک گروپس انڈیا-دبئی کے سی ای او مشرف علی خان، بی جے پی ضلع صدر ڈاکٹر مدھو سنگھ، وزیرِ مملکت شوبھا رام پرجاپتی، شیام ویر سینی، فونکس کے چیئرمین نوجوان سماج سیوک انجینئر چیرب جین، الائنس کلب انٹرنیشنل کی ڈسٹرکٹ گورنر انیتا گپتا، چیئرمین اروند گپتا، وزیرِ مملکت مفتی شمعون قاسمی، اقلیتی تعلیمی اتھارٹی کے چیئرمین پروفیسر سرجیت سنگھ گاندھی، نے بھی نیرج، بیکل و بدر جی کو خراجِ عقیدت پیش کر کے شاعری سے لطف اندوز ہوئے۔مشاعرے کے بانی اور اتراکھنڈ اردو اکیڈمی کے سابق نائب صدر ڈاکٹر افضل منگلوری نے کہا کہ اس مشاعرے کا مقصد محبت ,اتحاد اور سماج میں پھیلی نفرت کو ختم کرنا ہے – یہ خوشی کی بات ہے کہ یہاں پر ہندو ,مسلمان اور تمام سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ تمام ضلعے کے اعلی افسران موجود ہیں جو اس بات کی دلیل ہے کہ محبت کے پیغام کے لیے ہر کوئی دل سے ادب کی محفلوں کو پسند کرتا ہے۔
ملک بھر سے آئے شاعروں میں مینا خان، مَیکش اعظمی، مونیکا اروڑا منتشا، ششانک نیرج، شَیلیش گوتم، مہیش شریواستو، پردیپ دیوانہ، پرم ویر کوشک، عادل رشید، شریف، منوج آریہ، اُدے کمار مصور، انیل امروہوی، سید نفیس، دیپک اروڑا دیپ، اشوک پال سنگھ وغیرہ نے حب الوطنی، سماجی ہم آہنگی، ویر رس کی غزلوں و نظموں سے سماں باندھ دیا۔
اس سے قبل موہنی دیوی ڈگری کالج کے مینیجنگ ڈائریکٹر یوگیش سنگھل، سشیل سنگھل، چیئرمین منیشا سنگھل، ڈائریکٹر اکشے سنگھل، اشونی سنگھل، امیت گوئل، منیشا جین، نوین جین، اروند گپتا، بال کلیان کی سپروائزر گنگا دیوی، استاد اشوک پال، اُدے کمار مصور، انیتا گپتا نے مہمانوں، مدعو شاعروں و صحافیوں کا شال، پھول مالاؤں، و مومنٹو سے استقبال کیا۔
اس موقع پر، ضلع جنرل سیکریٹری اکشے پرتاپ سنگھ، صدر جمہوریہ ایوارڈ یافتہ ایچ ایم کپور، ایڈووکیٹ برجیش تیاگی، بھاجیومو پردیش نائب صدر گورو کوشک، پرنسپل نریندر سنگھ امبیڈکر، سماج سیوک، سبھاش نمبردار، سلمان فریدی، ایشور لال شاستری، وکاس وشِشٹ، رام کمار اُپادھیائے، نریندر آہوجا، حیدر زما خان، قاضی نورالدین، سابق کونسلر انیل شرما بلّو، عمران دیش بھکت، سید نفیس الحسن، قاضی سراج الدین، وغیرہ موجود رہے۔ آخر میں کالج کی چیئرمین منیشا سنگھل نے سب کا شکریہ ادا کیا۔ شاعر مَیکش اعظمی کی سرسوتی وندنا و سید نفیس کے حب الوطنی گیت سے کوی سمیلن کا آغاز ہوا۔
uttar pradesh
اکھلیش یادوکا رام مندر میں چڑھاوے کی رقم کے حوالے سےسنگین الزام، عقیدت مندوں کی جانب سے پیش کیے گئے کروڑوں روپے غائب
،
(پی این این)
لکھنؤ:سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے ایودھیا کے رام مندر میں چڑھاوے کی رقم کے حوالے سے ایک سنگین الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہےکہ رام مندر میں عقیدت مندوں کی جانب سے پیش کیے گئے کروڑوں روپے کے نذرانے کی رقم غائب ہوگئی ہے۔ اکھلیش یادو نے یہ بات اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ کے ذریعے کہی۔
وہیں دوسری جانب شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر ٹرسٹ نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک ایسی کوئی قابلِ ذکر بات سامنے نہیں آئی ہے۔
شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر، ایودھیا کے جنرل سیکریٹری چمپت رائے نے کہا کہ ٹرسٹ کے مالی معاملات کا وقتاً فوقتاً اندرونی آڈٹ کیا جاتا ہے، جس میں ٹرسٹ اور اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کے نمائندے شامل ہوتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ آڈٹ کا یہ عمل کئی دنوں تک جاری رہتا ہے اور اس وقت بھی اسی نوعیت کا آڈٹ کیا جا رہا ہے۔ چمپت رائے کے مطابق، اب تک جانچ کے دوران کسی قسم کی قابلِ ذکر بے ضابطگی یا گڑبڑی سامنے نہیں آئی ہے۔
اس پر سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے ایک بار پھر ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے طنزیہ ردِعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پیش کی گئی وضاحت خود واضح نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ معاملہ ان کے لیے ہر ہفتے پیش آنے والی ایک معمولی بات بن چکا ہے اور اتنی معمولی کہ اب وہ اسے ’’قابلِ ذکر‘‘ بھی نہیں سمجھتے۔
اکھلیش یادو نے سوال اٹھایا کہ یہ بھی واضح کیا جائے کہ محض 40 سیکنڈ کی وضاحت جاری کرنے میں اتنے گھنٹے کیوں لگ گئے؟ اور وضاحت کے نام پر ایک منٹ تک بولنا بھی کیوں دشوار محسوس ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ریاستی حکومت کی خاموشی مشتبہ معلوم ہوتی ہے، اسی طرح یہ صفائی بھی شکوک و شبہات کو جنم دے رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وضاحت کے نام پر محض رسمی الفاظ کی ادائیگی کی جا رہی ہو۔ اکھلیش یادو کے مطابق، اس نہایت کمزور وضاحت نے دنیا بھر کے سناتن سماج کے شکوک میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور انہیں مزید رنجیدہ و مضطرب کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ مندر میں آنے والے نذرانے کی رقم کی گنتی اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کی ایودھیا شاخ کے مقرر کردہ عملے کے ذریعے کی جاتی ہے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
بہار7 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
دلی این سی آر9 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
