Connect with us

uttar pradesh

اکھلیش یادوکا رام مندر میں چڑھاوے کی رقم کے حوالے سےسنگین الزام، عقیدت مندوں کی جانب سے پیش کیے گئے کروڑوں روپے غائب

Published

on

،

(پی این این)
لکھنؤ:سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے ایودھیا کے رام مندر میں چڑھاوے کی رقم کے حوالے سے ایک سنگین الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہےکہ رام مندر میں عقیدت مندوں کی جانب سے پیش کیے گئے کروڑوں روپے کے نذرانے کی رقم غائب ہوگئی ہے۔ اکھلیش یادو نے یہ بات اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ کے ذریعے کہی۔
وہیں دوسری جانب شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر ٹرسٹ نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک ایسی کوئی قابلِ ذکر بات سامنے نہیں آئی ہے۔
شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر، ایودھیا کے جنرل سیکریٹری چمپت رائے نے کہا کہ ٹرسٹ کے مالی معاملات کا وقتاً فوقتاً اندرونی آڈٹ کیا جاتا ہے، جس میں ٹرسٹ اور اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کے نمائندے شامل ہوتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ آڈٹ کا یہ عمل کئی دنوں تک جاری رہتا ہے اور اس وقت بھی اسی نوعیت کا آڈٹ کیا جا رہا ہے۔ چمپت رائے کے مطابق، اب تک جانچ کے دوران کسی قسم کی قابلِ ذکر بے ضابطگی یا گڑبڑی سامنے نہیں آئی ہے۔
اس پر سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے ایک بار پھر ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے طنزیہ ردِعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پیش کی گئی وضاحت خود واضح نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ معاملہ ان کے لیے ہر ہفتے پیش آنے والی ایک معمولی بات بن چکا ہے اور اتنی معمولی کہ اب وہ اسے ’’قابلِ ذکر‘‘ بھی نہیں سمجھتے۔
اکھلیش یادو نے سوال اٹھایا کہ یہ بھی واضح کیا جائے کہ محض 40 سیکنڈ کی وضاحت جاری کرنے میں اتنے گھنٹے کیوں لگ گئے؟ اور وضاحت کے نام پر ایک منٹ تک بولنا بھی کیوں دشوار محسوس ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ریاستی حکومت کی خاموشی مشتبہ معلوم ہوتی ہے، اسی طرح یہ صفائی بھی شکوک و شبہات کو جنم دے رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وضاحت کے نام پر محض رسمی الفاظ کی ادائیگی کی جا رہی ہو۔ اکھلیش یادو کے مطابق، اس نہایت کمزور وضاحت نے دنیا بھر کے سناتن سماج کے شکوک میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور انہیں مزید رنجیدہ و مضطرب کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ مندر میں آنے والے نذرانے کی رقم کی گنتی اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کی ایودھیا شاخ کے مقرر کردہ عملے کے ذریعے کی جاتی ہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

uttar pradesh

عمران مسعود نےسہارنپور میڈیکل کالج کاکیامعائنہ،کالج کاہرطرح سے باریکی سے لیا جائزہ،وارڈ میں پہنچ کر مریضوں سے کی ملاقات

Published

on

(پی این این)
سہارنپور:ایم پی قاضی عمران مسعود نے گذشتہ روز اچانک سہارنپور میڈیکل کالج میں معائنہ کے دوران مریضوں سے ملاقات کی ان کی حالت کے بارے میں دریافت کیا، اور صفائی ستھرائی بڑھانے کی اپیل کی۔ کانگریس کے عمران مسعود نے آج طبی علاج کے لیے میڈیکل کالج کا دورہ کیا۔ انہوں نے ہسپتال کی سہولیات کی تعریف کی اور مریضوں سے بات کی۔
دو روز قبل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کالج مین انتظامات ناکارہ ہیں جبکہ اسٹاف رومز میں تمام سہولیات غائب ہیں۔ سمجھا جاتا ہے کہ ویڈیو کے دوران ایم پی نے اسپتال کے احاطے میں کئی مقامات پر گندگی دیکھی۔
انہوں نے فرش پر پڑی پلاسٹک کی چادریں اور کولڈ ڈرنک کی خالی بوتلیں دیکھی اور انہیں اٹھا کر ڈبے میں ڈال دیا۔ اس دوران اسپتال کے چیف میڈیکل آفیسر (سی ایم او ایس) نے انہیں روکنے کی کوشش کی، لیکن ایم پی نے صفائی کا پیغام پھیلانے کے لیے ایسا کیا۔
عمران مسعود نے کہا کہ ہسپتال کو انٹیزیمیا کے مریضوں کی حفظان صحت اور صفائی کے معیارات پر دھیان دینا چاہیے۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ ہسپتال کے احاطے میں کوڑا کرکٹ نہ پھینکیں اور کوڈا ڈان کا استعمال کریں۔ عمران مسعود نے میڈیکل کالج کے ڈاکٹروں اور عملے سے کہا کہ وہ مریضوں کے ساتھ پیار سے پیش آئیں اور انہیں اچھا علاج فراہم کریں۔
عمران مسعود نے کچی رانوں پر آر ڈی مرہم لگایا اور حالت کی سنگینی دیکھی، جس کے بعد انہوں نے سختی سے ہسپتال کے عملے اور ڈاکٹروں کو کہا کہ اگر ہمارے سامنے یہی صورتحال ہے تو کچھ نہ کچھ چھپایا جا رہا ہے۔

Continue Reading

uttar pradesh

وی کمٹ سوسائٹی نے میرٹھ میں بنائی ہےاپنی منفر د شناخت

Published

on

(پی این این)
میرٹھ: یہ شناخت انہوں نے اسکول چلانا آسان کام نہیں ہے ۔ آج لوگوں نے اسکول کے نام پر تجارت شروع کرد پہلے کسی و تعلیم دینا کار ثواب سمجھا جاتا تھا لیکن آج حالات اس کے برعکس ہیں ۔ وی کمٹ سوسائٹی نے میرٹھ میں اپنی منظر دوستی ویسے ہی قائم نہیں کی بلکہ وی کمٹ سوسائٹی ہر ضرورت مند کے پاس چاکلی ۔
رمانبر و جیسی عظیم جن کی سر پرستی میں دی کمٹ جیسی تنظیم مسلسل نہ صرف تعلیمی، تہذیبی اورثقافتی خدمات انجام دے رہی ہے بلکہ بچوں، خواتین اورصحت اور ماحولیات کے تعلق سے بھی ان کی تعظیم نے جو کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں وہ بھی قابل ستائش اور لائق تقلید ہیں ۔ اپنے لیے تو سبھی جیتے ہیں لیکن جو سماج میں تعلیم ، دبے کچلے اور نادار لوگوں کے لیے کام کریں وہ ہی لوگ عظیم ہوتے ہیں۔ زما نہرو بھی نہ صرف بچوں بلکہ ہمارے لیے بھی ایک آئیڈیل ہیں ۔ یہ الفاظ تھے صدر شعبہ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری کے جو شعبہ اردو میں منعقد وی کمٹ سوسائٹی کے جلسے کے دوران ادا کر رہے تھے۔
اس سے قبل پروگرام کا آغاز سعید احمد سہارنپوری نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔ جلسے کی صدارت کے فرائض معروف ادیب ناقد اور صدر شعبہ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے فرمائی ۔ مہمانان خصوصی کے بطور دی کمٹ کی بانی وصدر اور معروف سماجی کارکن را شھر و اور معروف شاعر مولانا سید نایاب الدین نایاب نے شرکت کی ۔ استقبالیہ کلمات ڈاکٹر آصف علی ، نظامت ڈاکٹر ارشاد سیانوی اور شکریے کی رسم شعبۂ اردو کی ریسرچ اسکالر عظمی سحر نے ادا کی ۔
وی کمٹ سوسائٹی کی بانی رما نہرو نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری سوسائٹی سب کے لیے کام کرتی ہے۔ چاہے بچوں کی تعلیم ہو یا تربیت ، ہم نے سماج میں پسماندہ طبقات پر خاصا کام کیا ہے۔ بچوں کو کھلونے دینا، دوائیاں فراہم کرانا اور ان کے ضروریات کے پیش نظر جو بھی کوششیں ہو سکتی ہیں ہم برابر کر رہے ہیں ۔ آج شعبے میں آنا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑ ہے۔ سوسائٹی دور دراز کے علاقوں ، گاؤں دیہات میں بھی بڑے پیمانے پر کام کر رہی ہے۔ اس سوسائٹی نے اب تک بہت سی ورک شاپ مختلف ادبی، تہذیبی و ثقافتی پروگراموں کا نہ صرف انعقاد کیا ہے بلکہ وقتا فوقتا صحت اور تندرستی وغیرہ کے تعلق سے بھی معاشرے میں بہتر طور پر کام انجام دے رہی ہے۔ اس سوسائٹی نے ضلع جیل ، صوبائی نسوانی خدمات ، صوبائی بال گرہ کے تعلق سے بھی بڑے بڑے کارنامے انجام رہے ہیں ۔ کمزوروں اور پسماندہ طبقات کی مدد ہی سوسائٹی کا مقصد ہے۔ ادر اب تک اس سوسائی کو متعدد ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔اس موقع پر پیشان برود، محمد شمشاد، محمد عمرانمحمد شاہد وغیرہ پر دگرام میں موجود رہے۔

Continue Reading

uttar pradesh

اے ایم یو کے شعبہ بزنس میں نصاب کی تیاری و نظرثانی پر ورکشاپ کا انعقاد

Published

on

(پی این این)
علی گڑھ:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن نے ایم بی اے اور ایم بی اے (انٹرنیشنل بزنس) پروگراموں کا جائزہ لے کر انہیں ابھرتی ہوئی صنعتی ضروریات اور عالمی کاروباری رجحانات سے ہم آہنگ کرنے کے لئے نصاب کی تیاری و نظرثانی سے متعلق دو روزہ ورکشاپ منعقد کی۔
شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے شعبہ کی چیئرپرسن پروفیسر سلمیٰ احمد نے مینجمنٹ کے نصاب میں وقتاً فوقتاً نظرثانی کی اہمیت پر زور دیا اور طلبہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور روزگار کے مواقع میں اضافہ کرنے کے لیے صنعتی اور تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت اجاگر کی۔
ورکشاپ کے پہلے دن ایم بی اے پروگرام، بالخصوص مارکیٹنگ اور ہیومن ریسورس اسپیشلائزیشن پر توجہ مرکوز کی گئی۔ تعلیم و صنعت سے تعلق رکھنے والے ممتاز ماہرین بشمول پروفیسر اجے پنڈت (دہلی یونیورسٹی)، مسٹر سام حسینی، مسٹر کوثر علی خان، پروفیسر محمد شاہنواز عابدین، پروفیسر ویشالی شرما، پروفیسر عرفان رضوی اور مسٹر اشہر عقیل نے نصاب کی تشکیل، تجرباتی تعلیم، مینجمنٹ کی مہارتوں کے نئے تقاضوں اور صنعت کی توقعات سے متعلق تبادلہ خیال میں حصہ لیا۔
دوسرا دن ایم بی اے (انٹرنیشنل بزنس) پروگرام کے لیے وقف تھا۔ اس میں پروفیسر وی جے سیبسٹیئن، پروفیسر نیرج منکڈ، پروفیسر سعیدالنساء، ڈاکٹر محمد ناصر، ڈاکٹر محمد آفاق خان، مسٹر سید تحسین احمد، مسٹر خورشید انور، مسٹر عباد حنیف اور مسٹر شاداب خان نے عالمی کاروبار، لاجسٹکس، ڈیجیٹل تبدیلی، کراس کلچرل مینجمنٹ اور بین الاقوامی کاروباری ضوابط سے متعلق اپنے خیالات اور تجربات پیش کیے۔
ورکشاپ میں اساتذہ، سابق طلبہ اور ریسرچ اسکالرز نے بھی شرکت کی اور پروگراموں کو صنعت سے مزید ہم آہنگ کرنے اور عالمی تقاضوں کے مطابق بنانے کے لیے مفید تجاویز پیش کیں۔آخر میں پروفیسر سلمیٰ احمد نے کلمات تشکر ادا کئے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network