دیش
متبادل رہائش کے بغیر انہدامی کارروائی نہیں،ہلدوانی ریلوے کالونی معاملہ میں سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ
(پی این این)
نئی دہلی:ہلدوانی کے ریلوے کالونی سے متعلق طویل عرصے سے جاری مقدمے میں سپریم کورٹ آف انڈیا نے آج ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ متعلقہ زمین ریلوے کی ملکیت ہے اور اس کے استعمال کا فیصلہ کرنے کا حق ریلوے کے پاس ہے ، تاہم عدالت نے اس معاملے کے انسانی پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاستی حکومت، ریلوے اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ بے دخلی سے متاثر ہونے والے خاندانوں کی شناخت کرکے انہیں منظم طریقے سے بازآبادکاری کے عمل میں شامل کیا جائے تاکہ کوئی بھی خاندان بے یار و مددگار نہ رہ جائے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اپریل میں اگلی سماعت ہوگی ، اس وقت کوئی انہدامی کارروائی نہ کی جائے ۔
عدالت نے یہ فیصلہ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پر متاثرہ کالونی کے29 /افراد کی طرف سے دائر کردہ ایس ایل پی نمبر 804/2023مقدمہ کی سماعت کرتے ہوئے دیا ہے۔واضح ہو کہ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی قیادت میں ریلوے کالونی کے متاثرہ خاندانوں کی جانب سے جنوری 2023 کو دائر کیا تھا جس پر عدالت نے 5 ؍ جنوری 2023 کو ابتدائی مرحلے میں ہی اسٹے جاری کیا تھا۔ آج کورٹ میں جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے سینئر وکیل روؤف رحیم، ایڈوکیٹ منصور علی خاں اور ایڈوکیٹ روبینہ جاوید موجود تھیں جب کہ مرکزی دفتر جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے مقدمے کی نگرانی ایڈوکیٹ مولانا نیاز احمد فاروقی سکریٹری جمعیۃ علماء ہند کر رہے تھے۔
آج عدالت عظمیٰ نے سماعت کے دوران یہ بھی کہا کہ چوں کہ یہ معاملہ بڑی آبادی سے جڑا ہوا ہے اور ہزاروں خاندان اس سے متاثر ہو سکتے ہیں، اس لیے انتظامیہ کو ذمہ داری کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ عدالت نے ہدایت دی کہ نینی تال ضلع انتظامیہ اور ہلدوانی کی مقامی انتظامیہ کیمپ لگائے، جن کے ذریعے متاثرہ خاندانوں کا رجسٹریشن کیا جائے اور اہل افراد کو پردھان منتری آواس یوجنا (EWS) کے تحت درخواست دینے کا موقع فراہم کیا جائے۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ رمضان المبارک اور عید کے پیش نظر رجسٹریشن کیمپ 19 مارچ کے بعد لگائے جائیں تاکہ لوگ سکون کے ساتھ اس عمل میں شریک ہو سکیں اور ان کو رمضان میں کسی طرح پریشان نہ کیا جائے۔ عدالت نے ہدایت دی کہ ایک ہفتہ تک کیمپ چلا کر اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ہر متاثرہ خاندان کا ذمہ دار فرد وہاں آکر اندراج کرائے اور ہاؤسنگ اسکیموں کے فارم جمع کرا سکے۔
یہ بھی فیصلہ ہوا کہ بے دخلی کی صورت میں ریلوے اور ریاستی حکومت مشترکہ طور پر منتقل ہونے والے خاندانوں کو چھ ماہ تک ماہانہ مالی امداد فراہم کریں گے۔ مرکزی حکومت کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا کہ ریلوے لائن کی توسیع ناگزیر ہے اور یہ زمین ریلوے کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے، کیوں کہ آگے پہاڑی علاقہ شروع ہو جاتا ہے اور توسیع کے امکانات محدود ہیں۔ دوسری طرف جمعیۃ کے وکیل کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ علاقے میں تقریباً پچاس ہزار افراد رہتے ہیں اور ایک ساتھ ہزاروں خاندانوں کی بازآبادکاری عملی طور پر آسان نہیں، نیز یہ بھی کہا گیا کہ ریلوے نے مکمل توسیعی منصوبہ واضح نہیں کیا۔ عدالت نے اس بحث کے دوران واضح کیا کہ کسی بھی صورت میں زمین کے استعمال کا آخری فیصلہ قبضہ کرنے والے افراد نہیں بلکہ متعلقہ ادارہ ہی کرے گا، تاہم حکومت کو انسانی بنیادوں پر مؤثر بازآبادکاری یقینی بنانا ہوگی۔
دیش
2025میں1.62 کروڑ سے زائدسیاحوں نے جموں وکشمیر کا کیا دورہ
(پی این این)
سری نگر: حکومت نے قانون ساز اسمبلی کو مطلع کیا کہ 2025 میں اب تک 1.62 کروڑ سے زیادہ سیاح جموں و کشمیر کا دورہ کر چکے ہیں، انتظامیہ سیاحت کے شعبے کی مسلسل بحالی اور ترقی کے لیے ایک منظم روڈ میپ پر عمل پیرا ہے۔ایم ایل اے جاوید حسن بیگ کی طرف سے سیاحوں کی آمد کے حوالے سے پیش کردہ ایک سوال کے جواب میں محکمہ سیاحت نے کہا کہ سیاحوں کا ڈیٹا منزل کے لحاظ سے رکھا جاتا ہے اور گزشتہ تین سالوں کی تفصیلات کے ساتھ ساتھ 2019 سے پہلے کی مدت کا موازنہ بھی مرتب کیا گیا ہے۔
ایوان کے سامنے رکھے گئے اعداد و شمار کے مطابق، جموں ڈویژن میں 2025 (اب تک( میں 1,62,35,036 سیاح ریکارڈ کیے گئے، جبکہ کشمیر ڈویژن میں 4,77,882 سیاح ریکارڈ کیے گئے، جس سے مجموعی طور پر 1.67 کروڑ سے زائد افراد کی تعداد بڑھ گئی۔2024 میں جموں ڈویژن میں 2,00,91,379 سیاح ریکارڈ کیے گئے، جب کہ کشمیر ڈویژن میں 98,19,841 سیاح ریکارڈ کیے گئے۔ 2023 میں جموں میں یہ تعداد 1,80,24,166 اور کشمیر میں 96,33,972 تھی۔
2025 میں کشمیر کے اہم مقامات میں سے، جواب میں کہا گیا کہ گلمرگ میں 1,10,728 زائرین، پہلگام میں 1,00,236، سونمرگ میں 4,87,638، جبکہ دودھپتری 1,27,919 اور کوکرناگ میں 6,12,235 نے بھی نمایاں طور پر پیدل سفر کیا۔”جموں ڈویژن میں، بڑی تعداد میں یاتریوں کی منزلیں آتی رہیں۔ شری ماتا ویشنو دیوی کٹرا نے 2025 میں 69.32 لاکھ سے زیادہ یاتریوں کو ریکارڈ کیا، جب کہ شیو کھوری نے 10.56 لاکھ سے زیادہ زائرین کو دیکھا۔ دیگر مقامات بشمول پٹنی ٹاپ، مانسر، بھدرواہ، سناسر، اور سرینسری سرینسری سے بھی رجسٹرڈ ہوئے۔
دیش
ہندوستان اور برازیل کے مابین 5 سال میں 20 بلین ڈالر کی تجارت کا ہدف:مودی
(پی این این)
نئی دہلی :وزیر اعظم نریندر مودی نے برازیل کے صدر لولا ڈی سلوا کے ساتھ یہاں قومی دارالحکومت میں ایک مشترکہ نیوز کانفرنس کی اور کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت کا مقصد مشترکہ مقصد کی روح میں تمام شعبوں میں آگے بڑھنا ہے اور یہ کہ قومیں دو طرفہ تجارت کو اگلے پانچ سالوں میں 20 بلین امریکی ڈالر سے تجاوز کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔ انہوں نے گلوبل AI امپیکٹ سمٹ میں شرکت کے لیے برازیل کے صدر کا شکریہ ادا کیا، اور ہندوستان-برازیل کے تعلقات کو تقویت دینے میں ان کی دور اندیش قیادت کی بھی تعریف کی۔
انہوں نے کہا کہ مجھے صدر لولا اور ان کے وفد کا ہندوستان میں خیرمقدم کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے۔ ہندوستان-برازیل کے تعلقات نے طویل عرصے سے صدر لولا کے وژن اور متاثر کن قیادت سے فائدہ اٹھایا ہے۔ پچھلے کچھ سالوں میں، مجھے کئی بار ان سے ملنے کا شرف حاصل ہوا ہے، اور ہر ملاقات میں، میں نے ہندوستان میں ان کی گہری دوستی اور اعتماد کو محسوس کیا ہے۔ صدر لولا کے دورے نے ہماری تاریخی شراکت داری کو نئی توانائی بخشی ہے۔ ہمارے دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعلقات کے لیے صدر سے ان کی وابستگی کے لیے ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ برازیل لاطینی امریکہ میں ہندوستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ انہوں نے کہاکہ برازیل کے بڑے تجارتی وفد کا دورہ اس حقیقت کا عہد ہے اور کہا کہ ہندوستان مرکوسور تجارتی معاہدے کی توسیع سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون میں مزید اضافہ ہوگا۔ برازیل لاطینی امریکہ میں ہندوستان کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ ہم اگلے پانچ سالوں میں دو طرفہ تجارت کو 20 بلین ڈالرسے آگے لے جانے کے لیے پرعزم ہیں۔ ہماری تجارت صرف ایک اعداد و شمار نہیں ہے؛ یہ اعتماد کی عکاس ہے۔ صدر کے ساتھ آنے والا بڑا تجارتی وفد اس اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ ہندوستان-مرکوسر تجارتی معاہدے کی توسیع دونوں ملکوں کے اقتصادی تعاون اور ٹیکنالوجی میں تعاون کو مزید مضبوط کرے گی۔
دیش
اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026: بچوں کیلئے محفوظ، جامع اور بااختیار مصنوعی ذہانت کے فریم ورک پر زور
(پی این این)
نئی دہلی:حکومتِ ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر پروفیسر اجے کمار سود نے اس امر پر زور دیا کہ بچوں کے لیے ایسا مصنوعی ذہانت (اے آئی) فریم ورک تشکیل دیا جائے جو محفوظ، جامع اور انہیں بااختیار بنانے والا ہو۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی تیز رفتار رسائی کے باعث بچوں کا اے آئی سے چلنے والے پلیٹ فارمز سے واسطہ غیر معمولی طور پر بڑھ گیا ہے۔
وہ یہاں اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے موقع پر “اے آئی اور بچے: اے آئی کے اصولوں کو محفوظ، جامع اور بااختیار بنانے کے لیے عملی جامہ پہنانا” کے عنوان پر منعقدہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے، جس کا اہتمام فکی (FICCI) نے یونیسف کے اشتراک سے کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی نظام اب تیزی سے بچوں کے سیکھنے کے انداز، معلومات تک رسائی اور ان کے طرزِ عمل کی تشکیل پر اثر انداز ہو رہا ہے۔
پروفیسر سود نے کہا، ’’ہم ابھی تک یہ نہیں جانتے کہ الگورتھم کی بنیاد پر چلنے والی فیڈز اور شخصی نوعیت کے تعلیمی ایپس اے آئی ساتھیوں کے ساتھ پروان چڑھنے کے طویل المدتی اثرات کیا ہوں گے۔ وقت کے ساتھ بچے کی مجموعی ذہنی، نفسیاتی اور سماجی نشوونما پر ان اثرات کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق اور نئے آلات کی ضرورت ہے۔‘‘
وزارتِ الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے سکریٹری ایس کرشنن نے کہا کہ اس سمٹ کا انعقاد آئندہ نسل کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے اور اس کا مرکزی موضوع ’’لوگ، کرۂ ارض اور ترقی‘‘ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اے آئی کو خوف کی عینک سے دیکھنے کے بجائے اس کی انقلابی صلاحیت کو سمجھنے کی ضرورت ہے، جو بچوں کے مستقبل کو نئی جہت دے سکتی ہے۔ ’’ہمیں ایسا نظامِ حکمرانی درکار ہے جو ہمارے بچوں اور ملک کو ممکنہ منفی اثرات سے محفوظ رکھے، اور ساتھ ہی اس امر کو یقینی بنائے کہ بچے اے آئی کے فوائد سے بھرپور انداز میں مستفید ہو سکیں اور اپنی زندگیوں نیز ہمارے مشترکہ عالمی مستقبل کی تشکیل میں فعال کردار ادا کریں۔‘‘
بھارت، سری لنکا، بھوٹان اور مالدیپ میں ناروے کی سفیر مے ایلین اسٹینر نے کہا کہ بچوں اور نوجوانوں کے لیے محفوظ اور جامع اے آئی ان کے ملک کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ناروے ٹیکنالوجی، بشمول اے آئی، کے ایسے استعمال کی حمایت کرتا ہے جو بچوں کے حقوق کو مستحکم کرے نہ کہ انہیں کمزور بنائے۔ انہوں نے ڈیجیٹلائزیشن سے وابستہ مواقع اور خطرات دونوں سے سنجیدگی سے نمٹنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
فکی کی ڈائریکٹر جنرل جیوتی وج نے کہا کہ اے آئی تعلیم، صحت، حکمرانی اور روزمرہ کی ڈیجیٹل سرگرمیوں میں گہرائی تک سرایت کر چکا ہے اور بھارت سمیت دنیا بھر میں لاکھوں بچوں کے تجربات اور امکانات کو متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ہندوستانی ایڈٹیک صنعت تیزی سے اے آئی کی مطابقتی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا کر طلبہ کی کارکردگی کا تجزیہ کر رہی ہے اور ان کے لیے شخصی نوعیت کے تعلیمی تجربات فراہم کر رہی ہے۔
یونیسف آفس آف انوویشن کے گلوبل ڈائریکٹر تھامس ڈیون نے کہا کہ اے آئی اس دنیا کو نئی شکل دے رہا ہے جس میں بچے پرورش پا رہے ہیں، اور یہ تبدیلی اکثر معاشرے کی اس صلاحیت سے کہیں زیادہ تیز ہے جس کے ذریعے وہ اس کے طویل المدتی اثرات کا مکمل ادراک کر سکے۔ ان کے بقول، ’’بچوں کو مرکز میں رکھنے والا اے آئی کوئی اختیاری شے نہیں بلکہ حکومتوں، صنعتوں اور ان تمام اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے جو ان نظاموں کی تشکیل اور نفاذ میں شریک ہیں۔‘‘
اجلاس کا آغاز یونیسف انڈیا کی یوتھ ایڈووکیٹ پرسدھی سنگھ کی جانب سے بچوں اور نوجوانوں کے اعلامیے کی پیشکش سے ہوا، جو “جنریشن اَن لمیٹڈ” کی قیادت میں کیے گئے عالمی یو-رپورٹ سروے کے نتائج پر مبنی تھا۔ اس سروے میں 184 ممالک کے 54 ہزار بچوں اور نوجوانوں کے تاثرات شامل تھے، جبکہ بھارت میں بچوں کے ساتھ خصوصی مکالمے بھی کیے گئے۔
شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ اے آئی کے ڈیزائن، نفاذ اور حکمرانی کے ہر مرحلے میں بچوں کو مرکزیت دی جائے اور ان کے حقوق کو بعد از خیال کے بجائے بنیادی اصول کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ انہوں نے دنیا بھر کی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ سرکاری و نجی شعبوں میں اے آئی نظاموں کی نگرانی کے لیے بین الشعبہ جاتی نگران اداروں کو نامزد یا مضبوط کریں، جن میں ٹیکنالوجی، قانون، بچوں کے حقوق، تعلیم اور ڈیٹا تحفظ کے ماہرین شامل ہوں۔
پینل مباحثے میں مختلف ماہرین اور نمائندوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اس امر پر اتفاق کیا کہ مصنوعی ذہانت کا مستقبل اسی وقت روشن ہو سکتا ہے جب اسے انسانی اقدار، بچوں کے حقوق اور سماجی ذمہ داری کے مضبوط اصولوں کے تحت آگے بڑھایا جائے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
بہار9 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
بہار3 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
دلی این سی آر1 year agoکجریوال کاپجاری اور گرنتھی سمان اسکیم کا اعلان
