دیش
2025میں1.62 کروڑ سے زائدسیاحوں نے جموں وکشمیر کا کیا دورہ
(پی این این)
سری نگر: حکومت نے قانون ساز اسمبلی کو مطلع کیا کہ 2025 میں اب تک 1.62 کروڑ سے زیادہ سیاح جموں و کشمیر کا دورہ کر چکے ہیں، انتظامیہ سیاحت کے شعبے کی مسلسل بحالی اور ترقی کے لیے ایک منظم روڈ میپ پر عمل پیرا ہے۔ایم ایل اے جاوید حسن بیگ کی طرف سے سیاحوں کی آمد کے حوالے سے پیش کردہ ایک سوال کے جواب میں محکمہ سیاحت نے کہا کہ سیاحوں کا ڈیٹا منزل کے لحاظ سے رکھا جاتا ہے اور گزشتہ تین سالوں کی تفصیلات کے ساتھ ساتھ 2019 سے پہلے کی مدت کا موازنہ بھی مرتب کیا گیا ہے۔
ایوان کے سامنے رکھے گئے اعداد و شمار کے مطابق، جموں ڈویژن میں 2025 (اب تک( میں 1,62,35,036 سیاح ریکارڈ کیے گئے، جبکہ کشمیر ڈویژن میں 4,77,882 سیاح ریکارڈ کیے گئے، جس سے مجموعی طور پر 1.67 کروڑ سے زائد افراد کی تعداد بڑھ گئی۔2024 میں جموں ڈویژن میں 2,00,91,379 سیاح ریکارڈ کیے گئے، جب کہ کشمیر ڈویژن میں 98,19,841 سیاح ریکارڈ کیے گئے۔ 2023 میں جموں میں یہ تعداد 1,80,24,166 اور کشمیر میں 96,33,972 تھی۔
2025 میں کشمیر کے اہم مقامات میں سے، جواب میں کہا گیا کہ گلمرگ میں 1,10,728 زائرین، پہلگام میں 1,00,236، سونمرگ میں 4,87,638، جبکہ دودھپتری 1,27,919 اور کوکرناگ میں 6,12,235 نے بھی نمایاں طور پر پیدل سفر کیا۔”جموں ڈویژن میں، بڑی تعداد میں یاتریوں کی منزلیں آتی رہیں۔ شری ماتا ویشنو دیوی کٹرا نے 2025 میں 69.32 لاکھ سے زیادہ یاتریوں کو ریکارڈ کیا، جب کہ شیو کھوری نے 10.56 لاکھ سے زیادہ زائرین کو دیکھا۔ دیگر مقامات بشمول پٹنی ٹاپ، مانسر، بھدرواہ، سناسر، اور سرینسری سرینسری سے بھی رجسٹرڈ ہوئے۔
دیش
پانچ کلو وزن ہواکم،وانگچک کے بھوک ہڑتال کا ساتواں دن
نئی دہلی:جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کا دھرنا جاری ہے۔ ان کے اندولن کے ساتھ معروف سماجی خدمات گار سونم وانگچک بھی شریک ہوچکے ہیں آج ان کے بھوک ہڑتال کا ساتواں دن ہے۔ جس میں ان کا پانچ کلو وزن کم ہوگیا ہے۔ اس دوران سی جے پی نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبہ کو تیز کردیا ہے۔ واضح ہو کہ جنتر منتر پر طلبا نیٹ ، یوجی سمیت مقابلہ جاتی امتحانات میں بدعنوانی کولیکر مظاہرہ کررہے ہیں۔
دیش
حکومت پر تنقید جمہوریت کا حصہ ، جرم نہیں : بمبئی ہائی کورٹ
بمبئی ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ جمہوری نظام میں شہریوں کو حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف کرنے، اپنے خیالات کا اظہار کرنے اور پُرامن احتجاج کرنے کا آئینی حق حاصل ہے۔ صرف حکومت مخالف نعرے لگانے یا احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرنے کی بنیاد پر کسی شہری کو اس کے اپنے شہر سے بے دخل نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے اسی بنیاد پر مہاراشٹر پولیس کی جانب سے جاری ایک سالہ ایکسٹرنمنٹ (شہر بدری) کا حکم منسوخ کر دیا۔
یہ فیصلہ جسٹس مادھو جمدار کی بنچ نے سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے مہاراشٹر کے جنرل سیکریٹری اور سابق لوک سبھا امیدوار سعید احمد عبد الواحد چودھری کی درخواست پر سنایا۔ عدالت نے واضح کیا کہ انتظامی اختیارات کا استعمال شہریوں کے آئینی اور بنیادی حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے نہیں کیا جا سکتا۔
سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کی کارروائی اور اس کے جواز پر کئی اہم سوالات اٹھائے۔ جسٹس مادھو جمدار نے ریمارکس دیے کہ ہر شہری کو حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے، احتجاج کرنے اور اختلاف رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
عدالت نے سوال کیا کہ محض ’’بی جے پی حکومت مردہ باد‘‘ یا ’’امت شاہ مردہ باد‘‘ جیسے نعرے کسی شخص کے خلاف شہر بدری جیسی سخت کارروائی کی بنیاد کیسے بن سکتے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ جمہوریت میں اختلاف رائے کو دبانے کے بجائے اسے برداشت کرنا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔
جسٹس جمدار نے گزشتہ برسوں میں مختلف مسابقتی امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر عوام ایسے معاملات پر احتجاج کریں اور اس کے جواب میں ان پر مقدمات درج کیے جائیں تو یہ جمہوری اقدار کے مطابق نہیں ہوگا۔ عدالت نے واضح کیا کہ پولیس عوام کی خدمت کے لیے ہے اور اس کی جواب دہی شہریوں کے سامنے ہے، نہ کہ کسی سیاسی جماعت یا حکومت کے سامنے۔
اپنے تحریری فیصلے میں ہائی کورٹ نے کہا کہ حکومت کے بعض فیصلوں کی مخالفت کرنا کسی شخص کو اس کے رہائشی علاقے سے بے دخل کرنے کی قانونی بنیاد نہیں بن سکتا۔ عدالت کے مطابق ایسی کارروائی اظہارِ رائے کی آزادی اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔عدالت نے مشاہدہ کیا کہ درخواست گزار کے خلاف جاری کیے گئے ایکسٹرنمنٹ آرڈر کی اصل وجہ مختلف احتجاجی پروگراموں کا انعقاد اور ان میں شرکت تھی۔ عدالت نے کہا کہ صرف اسی بنیاد پر کسی شہری کے خلاف اتنی سخت انتظامی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔
سعید احمد عبد الواحد چودھری شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے)، نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی)، بابری مسجد تنازع، گیان واپی مسجد معاملہ، وقف بورڈ میں مبینہ بدعنوانی اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سمیت کئی عوامی مسائل پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں سرگرم رہے ہیں۔
دیش
رام مندر کے بعد بدری ناتھ میں چڑھاوا چوری معاملہ ، کرمچاریوں سے جواب طلب
نئی دہلیایودھیا کے رام مندر میں چڑھاوا چوری کا معاملہ چل ہی رہا ہے کہ اب معروف کیدار بدری ناتھ چڑھاوا چوری کا معاملہ بھی اجاگر ہوا ہے اس سلسلے میں انتظامیہ نے فوری طور پر کرمچاریوں کو نوٹس دیا ہے اور تین دن میں جواب دینے کو کہا ہے۔ غورطلب ہے کہ شری بدری ناتھ-کیدار ناتھ مندر کمیٹی (بی کے ٹی سی) نے معاملے کی تحقیقات کا حکم جاری کر دیا ہے۔ کمیٹی کے ایک عہدیدارکے مطابق دہرادون واقع ’بھیرو سینا‘ نامی تنظیم نے الزام عائد کیا ہے کہ بدری ناتھ دھام میں تعینات ایک ملازم عطیات اور نذرانوں کی رقم میں گڑبڑی کر رہا ہے۔ حالانکہ انتظامیہ کی جانب سے ان الزامات کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا ہے، لیکن معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے کمیٹی نے تحقیقات شروع کر دی ہے۔ ساتھ ہی عطیات کی رقم کی گنتی سے منسلک ملازمین سے بھی وضاحت طلب کی گئی ہے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار7 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
دلی این سی آر10 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
