Connect with us

بہار

جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر سے 2فضلاء اعلیٰ تعلیم کے لیے جامعہ ازہر مصر روانہ

Published

on

(پی این این)
مونگیر: آج جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے دو فضلاء، مولانا محمد آصف رحمانی (مونگیر) اور مولانا مشکور عثمانی رحمانی (ارریہ)، کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے جامعہ رحمانی سے جامعہ ازہر مصر رخصت کیا گیا۔
یہ مبارک سفر دراصل جامعہ رحمانی کے سابق سرپرست امیر شریعت سابع مولانا محمد ولی رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کی دوراندیشی اور موجودہ سرپرست امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کی خصوصی توجہ اور کوششوں کا ثمرہ ہے۔ 2018ء میں جامعہ رحمانی اور جامعۃ الازہر کے درمیان ہونے والے تاریخی تعلیمی معاہدے کے بعد جامعۃ الازہر نے جامعہ رحمانی کے نصاب کو با ضابطہ تسلیم کیا۔ اس کے نتیجے میں جامعہ رحمانی کے فضلاء کو دنیا کی سب سے بڑی اسلامی یونیورسٹی میں داخلہ کا موقع فراہم ہوا۔
اس سلسلے کا آغاز جامعہ رحمانی کے دو فضلاء مولانا عبد الاحد رحمانی اور مولانا عبد العلیم رحمانی سے ہوا، جو اپنی جامعہ ازہر میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد سے ہی جامعہ رحمانی میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کے بعد مولانا فاخر صبا رحمانی اور مولانا سالم رحمانی نے یہ سفر جاری رکھا۔ آج اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے مولانا آصف رحمانی اور مولانا مشکور عثمانی رحمانی کو جامعہ رحمانی سے جامعۃ الازہر مصر رخصت کیا گیا۔
اس موقع پر جامعہ رحمانی کے سرپرست امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی نے سفر پر جانے والے دونوں فضلاء کو خصوصی نصیحت کی کہ وہ لغویات اور فضولیات سے بچتے ہوئے اپنی زندگی کا مقصد صرف اور صرف علم کو بنائیں اور بھرپور محنت سے مہارت حاصل کریں۔ جامعہ رحمانی کے ناظم، مولانا محمد عارف رحمانی نے کہاکہ “ان شاءاللہ آئندہ بڑی تعداد میں جامعہ رحمانی کے فارغین کو اعلی تعلیم کیلئے جامعہ ازہر بھیجنے کا منصوبہ ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ یہاں کے فارغین اس موقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔”
جامعہ رحمانی کے ناظمِ تعلیمات، استاذ حدیث مولانا جمیل احمد مظاہری نے کہاکہ “جامعہ رحمانی کی تعلیم و تربیت کا معیاربہت بلند ہے، خصوصاً عربی زبان کی خصوصی محنت کی وجہ سے یہاں کا نصاب جامعہ ازہر مصر میں مقبول ہے لہذا یہاں کے فارغین کا بآسانی جامعہ ازہر میں داخلہ ہوجاتا ہے۔ یہ جامعہ رحمانی اور اس کے مخلصین کے لیے باعثِ افتخار ہے کہ ہمارے طلبہ دنیا کی عظیم اسلامی یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔”نائب ناظم تعلیمات مولانا مفتی محمد صالحین ندوی نے کہا کہ دنیا کی کئی بڑی جامعات کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور مستقبل قریب میں جامعہ رحمانی کے فضلاء کے لیے عالمی سطح پر تعلیمی سفر کے مزید دروازے کھلنے والے ہیں۔

بہار

ارریہ ضلع کی 211 پنچایتوں میں پی ڈی ایس دکانوں کی جانچ شروع

Published

on

(پی این این)
ارریہ: ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ارریہ مسٹر ونود دوہن کی ہدایات پر ضلع کی تمام 211 پنچایتوں میں عوامی تقسیم کے نظام (پی ڈی ایس) کی دکانوں کی جانچ شروع کر دی گئی ہے۔ اس مہم کا مقصد سرکاری اسکیموں کے موثر نفاذ، شفافیت اور مستحقین تک اناج کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی متعلقہ پنچایتوں میں چلنے والی پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم (PDS) دکانوں کا معائنہ کریں اور مقررہ فارمیٹ کے مطابق تفصیلی معائنہ رپورٹ تیار کریں۔
معائنہ کے دوران، دکانوں کی باقاعدگی، اسٹاک کی دستیابی، قیمت کی فہرست کی نمائش، فائدہ مندوں کو اناج کی تقسیم کی حیثیت، اور ای پی او ایس مشین کے کام کاج سمیت دیگر اہم نکات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس بات کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے کہ دکاندار مقررہ معیارات پر عمل پیرا ہوں۔
ضلع مجسٹریٹ نے تمام متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ معائنہ کو سنجیدگی سے لیں اور مقررہ مدت کے اندر رپورٹ ڈسٹرکٹ سپلائی برانچ کو پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر چھان بین کے دوران کوئی بے ضابطگی پائی گئی تو متعلقہ پبلک ڈسٹری بیوشن فروشوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ یہ جامع تحقیقاتی مہم مزید مضبوط اور ضلع میں عوامی تقسیم کے نظام کو مزید شفاف بنائے گی۔

Continue Reading

بہار

تعلیم ہی قوموں کی ترقی اور خوشحالی کا دارومدار : امیرشریعت

Published

on

(پی این این)
کشن گنج: امارت پبلک اسکول کے زیرِ اہتمام کمیونٹی ہال کشن گنج میں ایک عظیم الشان اجلاسِ عام کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت امیرشریعت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی (سجادہ نشین خانقاہِ رحمت مونگیر) نے کی۔ امیرِ شریعت نے اپنے تفصیلی خطاب میں تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم ہی وہ بنیادی ستون ہے جس پر قوموں کی ترقی اور خوشحالی کا دارومدار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں صرف دینی تعلیم کافی نہیں بلکہ دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم بھی نہایت ضروری ہے، تاکہ نئی نسل علم کے ساتھ ساتھ دین و اخلاق سے بھی وابستہ رہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے دنیاوی تعلیم پر توجہ دیتے ہیں، مگر ان کے دین و ایمان کی فکر سے غافل ہو جاتے ہیں۔ مزید فرمایا کہ اسلام محض ایک مذہب نہیں بلکہ مکمل ضابطۂ حیات ہے، اس لیے ہمیں اپنی زندگی کے ہر شعبے میں سنتِ نبوی ﷺ کو اپنانا چاہیے۔ انہوں نے شادی بیاہ کے مواقع پر فضول خرچی اور اسراف سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے سادگی کو فروغ دینے پر زور دیا ۔
مولانا مفتی سعید الرحمن قاسمی (ناظمِ اعلیٰ امارت شرعیہ، بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈ، پھلواری شریف پٹنہ) نے اپنے خطاب میں کہا کہ تعلیم ترقی کی شاہ کلید ہے اور جو قوم تعلیم کو اپنائے گی وہی کامیابی سے ہمکنار ہوگی۔ انہوں نےوالدین کو نصیحت کی کہ وہ اپنے بچوں کو عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم سے بھی آراستہ کریں ساتھ ہی جہیز جیسی سماجی برائی کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بیٹیوں کو جہیز کے بجائے تعلیم سے آراستہ کریں، نکاح کو آسان بنائیں اور شادی بیاہ میں فضول خرچی سے مکمل پرہیز کریں۔
مولانا حکیم الدین قاسمی (جنرل سکریٹری، جمعیۃ علماء ہند) نے نوجوان نسل میں بڑھتے ہوئے نشہ اور منشیات کے رجحان پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے اس کے سدباب کے لیے سنجیدہ اقدامات کی اپیل کی مفتی جاوید احمد قاسمی (صدر، جمعیۃ علماء ہند بہار) نے تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں دینی و دنیاوی دونوں علوم کا حصول نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے سیاسی بصیرت و حکمت اپنانے اور تجارت و تعلیم کو مضبوطی سے اختیار کرنے کی تلقین کی۔

Continue Reading

بہار

بہارمیں شراب بندی کے معاملے پر مانجھی نے اپنی ہی حکومت کوبنایا نشانہ

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار کے سابق وزیرِ اعلیٰ اور ’ہم‘ پارٹی کے سرپرست جیتن رام مانجھی نے ریاست میں نافذ شراب بندی کے قانون کے حوالے سے ایک بار پھر اپنی صاف گوئی کا اظہار کیا ہے۔
پٹنہ ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ بہار میں شراب بندی کی پالیسی تو درست ہے، لیکن اس کو عملی طور پر نافذ کرنے کے طریقے میں بڑی خرابیاں ہیں۔ مانجھی کے مطابق اس قانون کا سب سے زیادہ نقصان معاشرے کے غریب طبقے کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔
مانجھی نے کہا کہ شراب بندی کے باعث غریب طبقے کو دو طرح کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پہلا یہ کہ اس قانون کی آڑ میں بڑی تعداد میں غریب لوگ قانونی پیچیدگیوں اور پولیس کارروائیوں میں پھنس رہے ہیں، جس سے ان کی معاشی اور سماجی حالت بگڑ رہی ہے۔ دوسرا یہ کہ ریاست میں شراب بندی کے باوجود غیر قانونی شراب کا کاروبار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ مافیا عناصر جلد بازی میں یوریا اور دیگر خطرناک کیمیکل ملا کر زہریلی شراب تیار کر رہے ہیں، جس کے استعمال سے غریب لوگ 50 سے 60 سال کی عمر میں ہی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
ریاست میں حالیہ اقتدار کی تبدیلی اور سمراٹ چودھری کے وزیرِ اعلیٰ بننے پر مانجھی نے کہا کہ انہیں بڑے فیصلے لینے میں کچھ وقت لگے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئی حکومت شراب بندی کے قانون کو ختم کرنے پر غور کرے گی۔ مانجھی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ شراب بندی کی پالیسی پر نظرِ ثانی ہونی چاہیے۔ جو خرابیاں موجود ہیں انہیں دور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ریاست کی آمدنی میں بھی اضافہ ہو اور غریبوں کو بلاوجہ کی اذیت سے بچایا جا سکے۔

 

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network