Connect with us

بہار

پٹنہ کے قلب سبزی باغ میں دارالقضا ءکاامارت شرعیہ کے ناظم اور صدر قاضی شریعت نے کیاافتتا ح

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:مسلمانوں کے عائلی تنازعات اور باہمی معاملات کو قانون شریعت کی روشنی میں حل کرنے سے صالح معاشرہ وجود میں آتا ہے، اسلئے اسلام نظام عدل کے قیام کو فریضہ محکمہ کہا گیا جو عہد نبوت سے اب تک جاری و ساری ہے چنانچہ امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ کے قیام کے ساتھ ہمارے اکابر نے نظام قضا ءکو بھی قائم کیا۔اسی سلسلے کی یہ کڑی ہے کہ آج علاقہ سبزی باغ کے مسلمانوں کی سہولت کی خاطر مرکزی دارالقضا ءکی ایک شاخ دارالقضا ءکا قیام عمل میں آ رہا ہے ،ان خیالات کا اظہار امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ کے صدر قاضی شریعت مولانا مفتی محمد انظار عالم قاسمی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا۔
واضح ہوکہ قاضی مسعود احمد نے رفاہی و فلاحی خدمت کے جذبہ سے کھتان مارکیٹ کے قریب ایک عمارت امارت شرعیہ کو وقف کیا، جہاں عرصہ سے کریسنٹ ہیلتھ کیئر کے ذریعہ مریضوں کا علاج کیا جا رہا ہے، ساتھ ہی مفت میں دوائیاں بھی دی جاتی ہیں ۔ امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی نے یہاں اسپتال کے ساتھ دارالقضا ءبھی قائم کرنے کا حکم دیا، جس کا ایک افتتاحی اجلاس۷؍ ستمبر کو ہوا، جس میں شہر کے متعدد عمائدین نے شرکت کی اور اس قیام کو وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیا ۔
اس موقع پر اپنے کلیدی خطاب میں ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی نے کہا کہ عدل و انصاف کے قیام سے امن وآشتی کی خوشگوار فضا قائم ہوتی ہے اور ظلم و زیادتی کی بیخ کنی ہوتی ہے ،اس لیے ہمارے بزرگوں نے آغاز سے ہی قیام امارت شرعیہ کے ساتھ دارالقضا ءکو بھی قائم فرمایا جو تمام امراء شریعت کے عہد سے تسلسل کے ساتھ جاری ہے، اب تک ایک سو مقامات پرذیلی دارالقضا ءقائم ہو چکے ہیں آج یہاں بھی اس کی ایک شاخ قائم کی جا رہی ہے تاکہ یہاں کے مسلمان زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکیں ،امارت شرعیہ کے نائب ناظم مولانا مفتی محمد سہراب ندوی نے اپنے تفصیلی خطاب میں حضرات ائمہ کرام سے کہا کہ آپ حضرات اس دارالقضا ءکے تعلق سے لوگ کو متوجہ کریں اور اپنے جمعہ کے خطبہ میں اسلام کے نظام قضا کی اہمیت پر روشنی ڈالیں انہوں نے اس موضوع پر کتابچے کی طباعت کی ضرورت بھی بتلائی ۔مولانا مفتی وصی احمد قاسمی نائب قاضی شریعت نے کہا کہ اسپتال کے نظام کو متحرک و سرگرم بنانے کے مقصدسے دارالقضا ءقائم کیا جا رہا ہے تاکہ مقامی لوگوں کو سہولت ہو، پٹنہ سیٹی میں بھی جلد اس کی شاخ کا قیام عمل میں آئے گا۔مولانا سہیل اختر قاسمی نائب قاضی شریعت نے کہا کہ قاضی مسعود احمد نے رفاہی و فلاحی خدمت کے جذبے سے اس عمارت کو وقف کیا، انشاءاللہ یہ ان کے لیے صدقہ جاریہ ہوگا ۔
انوار الہدی ناظم شعبہ نشر و اشاعت جمیعت علماء،نے اس اقدام کو قابل تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی ہے اس لئے ان شاء اللہ دار القضاء کے قیام سے بڑافائدہ ہوگا، مولانا محمد میکائیل مدرسہ شمس الہدی نے کہا کہ انشاء اللہ دار القضا ء کے قیام سے مسلمانوں کو اپنے عائلی مسائل حل کرنے میں سہولت ہوگی اسی طرح محمد د فیض ،محمد ارشد عالم سکریٹری دریا پور مسجد،الحاج ماسٹر نثار احمد رحمانی سکریٹری تنظیم امارت شرعیہ جموئی ،انجینیئر فہد رحمانی سی ای او رحمانی ۳۰؍، مولانا رضوان احمد ندوی معاون ناظم امارت شرعیہ ،اقبال امام ،انوار الحق ، ڈاکٹر نوشاد احمد اور قاری عبدالستار قاسمی نے امارت شرعیہ کے اس اقدام کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ یہاں مسلمانوں کی بڑی آبادی ہے انشاءاللہ دارالقضا ءکے قیام سے یہاں کے مسلمانوں کو آسانی ہوگی، اس میں ہم لوگوں کا ہر طرح کا تعاون شامل رہے گا ۔
مولانا سجاد میموریل اسپتال کے سکریٹری ڈاکٹر یاسر حبیب نے کہا کہ اس اسپتال کو ہر جہت سے معیاری بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ مریضوں کا بہتر سے بہتر علاج ہوسکے، کریسنٹ ہیلتھ کیئر سینٹر کے سکریٹری ایس ایم شرف نے کہا کہ یہاں عرصے سےاسپتال قائم ہے مقامی ضرورت کے پیش نظر دارالقضا بھی قائم کیا جا رہا ہے تاکہ دونوں اداروں سے لوگ فائدہ اٹھائیں ۔
نشست کا آغازمولانا محمد ثاقب رحمانی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، بعد از مولانا منظر قاسمی رحمانی نے بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں نذرانہ عقیدت پیش کیا ،نشست کی نظامت مولانا مفتی وصی احمد قاسمی نے بری خوش اسلوبی سے انجام دیا ،افتتاح دار القضا کی اس نشست میں شہر کے سرکردہ شخصیات کے علاوہ مولانا سجاد میموریل اسپتال کے اعجاز احمد،محمد ہمایوں، افروز احمد،مرکزی دفتر امارت شرعیہ پھلواری شریف سے مولانا محمد صابر حسین قاسمی ،مولانا محمد عادل قاسمی ، نیز کریسنٹ ہیلتھ سینٹر کے متعدد ورکروں و کارکنا ن نے شرکت کی۔ آخیر میں یہ نشست صدر مجلس صدر قاضی شریعت مولانا محمد انظارعالم قاسمی کی دعا پر اختتام پذیر ہوئی۔

Bihar

بہار کونہیں بننے دیا جائے گا پولیس کی حکمرانی والی ریاست ،تیجسوی یادو کریں گے مارچ، طلبہ پر اے کے-47 سے فائرنگ کے خلاف احتجاجی تحریک کا اعلان

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار میں طلبہ تحریک کے دوران طلبہ پر اے کے-47 سے فائرنگ کے معاملے میں اب تک کارروائی نہ ہونے پر راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے احتجاجی تحریک کا اعلان کر دیا ہے۔ آر جے ڈی 19 اگست کو ویرچند پٹیل پتھ واقع پارٹی دفتر سے لوک بھون تک مارچ کرے گی۔ قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی یادو نے کل نئی دہلی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں اس کا اعلان کیا۔ تیجسوی یادو نے کہا کہ مارچ میں پارٹی کے تمام ارکانِ پارلیمنٹ، ارکانِ اسمبلی، ارکانِ قانون ساز کونسل اور پارٹی کارکنان شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بہار کو پولیس کی حکمرانی والی ریاست نہیں بننے دیا جائے گا۔
بہار کے قائدِ حزبِ اختلاف نے کہا کہ اس مارچ کے سلسلے میں اپوزیشن کی دیگر جماعتوں سے بھی بات چیت کی جا رہی ہے۔ انہیں بھی بہار میں طلبہ کو انصاف دلانے کے لیے اس مارچ میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورا ملک یہ جاننا چاہتا ہے کہ طلبہ پر فائرنگ کس کے حکم پر کی گئی۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے آواز اٹھائے جانے کے بعد ایک سپاہی کو معطل کر دیا گیا، لیکن اب تک ایس پی کو معطل کیوں نہیں کیا گیا؟ انہوں نے پارلیمنٹ میں یہ معاملہ اٹھانے پر راہل گاندھی اور اکھلیش یادو کا شکریہ بھی ادا کیا۔
تیجسوی یادو نے اس کے ساتھ ہی الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ اور مرکزی وزیر داخلہ نے اس معاملے پر آج تک ایک لفظ تک نہیں کہا۔ وزیر اعلیٰ یا کسی نائب وزیر اعلیٰ نے زخمی طلبہ سے ملاقات کرنے تک کی زحمت نہیں کی۔ اگر ان معصوم طلبہ کی جان چلی جاتی تو اس کا ذمہ دار کون ہوتا؟ پریس کانفرنس میں رکنِ پارلیمنٹ میسا بھارتی، ابھے کشواہا اور سریندر یادو بھی موجود تھے۔
واضح رہے کہ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے کارگزار صدر تیجسوی یادو نے اس سے قبل اگست ہی میں بہار کے پولیس ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی پی) ونے کمار سے ملاقات کی تھی اور 25 جولائی کو طلبہ کے احتجاج کے دوران اے کے-47 رائفل کے مبینہ استعمال کے معاملے میں سیوان کے پولیس سپرنٹنڈنٹ اور دیگر سینئر افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی یادو کی قیادت میں وفد نے کہا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) حکومت کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ طلبہ کے خلاف اس طرح کی رائفل استعمال کرنے کا حکم کس نے دیا تھا۔ آر جے ڈی لیڈر نے صحافیوں سے کہا تھا کہ مظاہرین کے خلاف اے کے-47 کا استعمال صرف وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری یا مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے حکم پر ہی کیا جا سکتا تھا۔ اس معاملے پر دونوں نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور کچھ بھی نہیں کہہ رہے ہیں۔ متعلقہ پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) اور دیگر سینئر افسران کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔

Continue Reading

Bihar

بہار کو ایک بار پھر شراب کی لعنت میں دھکیلنے کی ہورہی ہے سازش،ریاست میں شراب بندی ختم کرنے کی سفارش پر سیاسی جنگ، جنتادل یونائیٹڈ این سی اے ای آر کوبھیجے گی قانونی نوٹس

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار میں شراب بندی قانون پر نیشنل کونسل آف اپلائیڈ اکنامک ریسرچ (این سی اے ای آر) کی مطالعاتی رپورٹ کے بعد سیاسی ہنگامہ برپا ہوگیا ہے۔ کونسل نے اپنی مطالعاتی رپورٹ میں شراب بندی قانون کو دس سال بعد بھی ناکام قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کی سفارش کی ہے۔
اس پر جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) نے این سی اے ای آر کو قانونی نوٹس بھیج کر قانونی کارروائی کی وارننگ دی ہے۔ پارٹی کے چیف ترجمان نیرج کمار نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ ’’ہم انہیں چھوڑیں گے نہیں۔‘‘جے ڈی یو کے قانون ساز کونسلر و چیف ریاستی ترجمان نیرج کمار اور ریاستی ترجمان پوجا پیٹرک نے بہار میں شراب بندی کے حوالے سے نجی ادارے این سی اے ای آر کی جانب سے کرائے گئے سروے پر سخت حملہ بولا ہے۔ انہوں نے کمپنی کے اعلیٰ عہدوں پر فائز عہدیداروں کے مفادات اور کردار پر سنگین سوالات اٹھائے۔ دونوں رہنما جمعرات کو جے ڈی یو دفتر میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی نجی ادارے کے عہدیداروں یا ارکان کے براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ایسے مالیاتی اداروں سے تعلقات ہوں، جو شراب کے کاروبار سے وابستہ کمپنیوں کو بینکاری سہولیات فراہم کرتے ہوں، تو ایسے ادارے کی جانب سے بہار میں شراب بندی کے حوالے سے کیے گئے سروے کی غیر جانب داری پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
انہوں نے کہا کہ سروے کرانے والے نجی ادارے این سی اے ای آر کی گورننگ باڈی میں ایچ ڈی ایف سی بینک کے چیئرمین دیپک ایس پاریخ شامل ہیں، جن کے بارے میں جے ڈی یو رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ ان کی سرمایہ کاری شراب بنانے والی کمپنی میں ہے۔ وہیں سگریٹ بنانے والی کمپنی آئی ٹی سی کے چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر سنجیو پوری بھی اس ادارے کے بورڈ ممبر ہیں۔جے ڈی یو رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ یہ تحقیق شراب کمپنیوں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے اور بہار کو ایک بار پھر شراب کی لعنت میں دھکیلنے کی سازش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ شراب بندی ختم کرکے بہار کی خواتین کو دوبارہ پریشان کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن جے ڈی یو خاموش نہیں بیٹھے گا۔ نیرج کمار نے کہا کہ نتیش کمار نے خواتین کے مطالبے پر بہار کی اصلاح اور سماجی بہتری کے لیے شراب بندی کا قانون نافذ کیا تھا۔

Continue Reading

Bihar

اردو اسکولوں اور مدارس کیلئے جمعرات کونصف دن کی چھٹی کی دی جائے منظوری:مفتی سعید الرحمٰن قاسمی

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈو مغربی بنگال کے ناظم جناب مولانا مفتی محمد سعیدالرحمٰن قاسمی صاحب نے اپنے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ محکمۂ تعلیم بہار نے سرکاری اسکولوں کے لئے سنیچر کے نصف دن کی چھٹی کی منظوری کانوٹیفیکیشن جاری کیا ہے جس سے اسکولوں کے اساتذہ کو راحت ملی ہے اور قدیم روایت کی پاسداری بھی ہوئی ہے۔
تاہم اردو اسکولس اور مدارس جہاں ہمیشہ سے جمعہ کو مکمل دن کی سرکاری چھٹی کا معمول جاری ہے ایسے اسکولوں اور مدارس کے لئے نوٹیفیکیشن میں جمعرات کے آدھے دن کی چھٹی کی کوئی صراحت نہیں ہے ،جس کی وجہ سے اردو اسکولوں اور مدارس کے اساتذہ میں بے حد بے چینی پائی جارہی ہے ،یہ بات اصولی ہے کہ اگر اتوار کی رعایت کرتے ہوئے سنیچر کو نصف دن کی چھٹی کا منظوری نامہ جاری ہوا ہے تو جمعہ کی چھٹی کی رعایت کرتے ہوئے جمعرات کو بھی نصف دن کی چھٹی منظور کی جائے اور اس کے لئے واضح منظوری نامہ جاری ہو،ایسا نہیں کرنے کی صورت میں اردو اسکولوں اور مدارس کے اساتذہ کواس رعایت کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا اور خواہ مخواہ سنیچر کو آدھے دن چھٹی کرنے کی وجہ سے تعلیمی نظام میں خلل بھی واقع ہوگا۔
اس لئے جناب ناظم صاحب نے اپنے اس پریس ریلیز کے ذریعہ محترم وزیر تعلیم حکومت بہار اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ ذمہ داران سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس طرف توجہ دیں اورجلد از جلد متعلقہ محکمہ کی طرف سے اردو اسکولوں اور مدارس کے لئے جمعرات کے نصف دن کی چھٹی کا واضح منظوری نامہ جاری کیا جائے ؛تاکہ سابقہ روایت کی پاسداری بھی ہواور ان اداروں کے اساتذہ کو مساوی فائدہ بھی حاصل ہو سکے ۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network