بہار
سیتامڑھی کے بعد اب شیوہر میں جمعہ کے دن کھلیں گے اردو سیکنڈری اسکول،تغلقی فرمان جاری
(پی این این)
شیوہر: سیتامڑھی کی راہ پر چل کر شیوہر کے ضلع تعلیمی افسر نے بھی اردو سیکنڈری و سینیئر سیکنڈری اسکولوں کو جمعہ کے دن کھولنے کا حکم نامہ صادر کیا ہے۔ جس سے شیوہر کی اردو آبادی میں بے چینی ہے، قومی اساتذہ تنظیم بہار نے اس ہدایت کی زبردست مخالفت کی ہے اور ضلع تعلیمی افسر شیوہر سے مانگ کی ہے کہ مکتوب نمبر 786 مورخہ 04/09/2025 کو رد کرتے ہوئے اپگریڈیڈ اردو سیکنڈری و ہائر سیکنڈری اسکولوں میں جمعہ کے چھٹی کو برقرار رکھا جائے۔ یہ باتیں قومی اساتذہ تنظیم بہار کے ریاستی کنوینر محمد رفیع نے کہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ضلع تعلیمی افسر کی اس حرکت سے اساتذہ میں اضطراب ہے۔ محمد رفیع نے کہا کہ بڑے ہی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ بغیر کسی محکمہ جاتی اطلاع اور اصولوں کے خلاف ضلع تعلیمی افسر نے مکتوب نمبر 786 مورخہ 04/09/2025 کے ذریعے اردو مڈل اسکول جو ترقی پا کر سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری اسکول بن گئے ہیں میں جمعہ کے بجائے اتوار کو ہفتہ واری تعطیل اور جمعہ کو اسکول کھولنے کا فرمان جاری کیا ہے یہ کسی بھی طرح اصولوں کے مطابق نہیں ہے۔
رفیع نے بتایا کہ ضلع تعلیمی افسر شیوہر نے یہ وضاحت بھی کی ہے کہ جمعہ کے دن اردو اسکولوں کے کھلنے سے امتحان کی سیکریسی ختم ہو جاتی ہے۔ جس کے بارے میں محمد رفیع نے لکھا ہے کہ یہ بیکار کی باتیں ہیں پہلے تو بورڈ کے امتحانات وغیرہ میں بھی جمعہ کے تعطیل کا خیال رکھا جاتا تھا۔ انہوں نے ضلع تعلیمی افسر کے ذریعہ حکومت بہار سے یہ مانگ بھی کی ہے کہ وہ امتحانات وغیرہ کے موقع سے جمعہ کی تعطیل کا خیال رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ حد تو یہ ہو گئی کہ ٹریننگ کے نام پر لگاتار اردو اساتذہ کے ہفتہ واری چھٹی کو برباد کیا جا رہا ہے اور اس کے بدلے اسے چھٹی بھی نہیں دی جاتی ہے۔ جہاں تک یہ بات ہے کہ سیکنڈری و سینیئر سیکنڈری اسکول الگ یونٹ ہے تو یہ بات بھی ذہن نشیں کر لیں کہ فطری طور پر وہ اردو اسکول ہی ہوگا اور اس کا نظام بھی اس کے مطابق ہی چلنی چاہئے۔
رفیع نے کہا کہ بہت واضح ہے کہ جو بھی اسکول ترقی یافتہ ہو تا ہے فطری طور پر اس کا ذریعہ تعلیم نہیں بدلتا۔ جس طرح ہندی/ جنرل پرائمری اسکول کا اپگریڈیشن ہندی/ جنرل مڈل اسکول میں اور ہندی/ جنرل مڈل اسکول کا اپگریڈیشن ہندی/ جنرل سیکنڈری و ہائر سیکنڈری اسکول میں ہوتا آ رہا ہے اسی طرح جب اردو پرائمری اسکول کا اپگریڈیشن ہوا تو اردو مڈل اسکول بنا اور اردو مڈل اسکول کا اپگریڈیشن ہوا تو وہ اردو سیکنڈری و ہائر سیکنڈری اسکول بنا اور اس میں ہفتہ واری تعطیل جمعہ کو ہوتی آئی ہے۔ اس لئے محمد رفیع نے ضلع تعلیمی افسر سیتامڑھی راگھویندر منی تریپاٹھی سے مؤدبانہ گزارش کی ہے کہ اسکولوں کے فطری اصولوں کو بدلنے اور محکمہ تعلیم کی اجازت کے بغیر قانون بدلنے کی کوشش نہ کریں اور مکتوب نمبر 786 مورخہ 04/09/2025 کو منسوخ کرتے ہوئے اپگریڈیڈ اردو سکینڈری اور ہائر سیکنڈری اسکولوں میں ہفتہ واری تعطیل جمعہ رہنے دینے کی زحمت کریں۔
رفیع نے بتایا کہ جو مکتوب انہوں نے ضلع تعلیمی افسر شیوہر کو لکھا ہے اس کی کاپی انہوں ایس ڈی او شیوہر، ضلع مجسٹریٹ شیوہر، ڈائریکٹر سیکنڈری ایجوکیشن بہار، اے سی ایس محکمۂ تعلیم بہار، وزیر تعلیم بہار، چیئرمین اقلیتی کمیشن بہار و وزیر اعلی بہار کو بھیجا ہے۔ جناب رفیع نے کہا کہ افسران کے اس کے فیصلے سے نہ صرف اساتذہ اور طلباء بلکہ سماج کا اردو آبادی متاثر ہوتا ہے۔ اس لئے میں تمام سیاسی، سماجی اور ملی رہنماؤں سے اپیل کرتا ہوں کہ اس پر قدم اٹھائیں نہیں تو سیتامڑھی سے اٹھا یہ آگ پوری ریاست کو اپنے لپیٹے میں لے لیگا۔
Bihar
تیج پرتاپ یادو جیل سے رہا
پٹنہ:(پی این این) بہار کے سابق وزیر اور جن شکتی جنتا دل (جے جے ڈی) کے قومی صدر تیج پرتاپ یادو پٹنہ کی بیور جیل سے باہر آ گئے ہیں۔ انہیں نیٹ پیپر لیک معاملے سے متعلق طلبہ تحریک کے ایک کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔بہار بند کے دوران ان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے طلبہ کو پولیس پر حملے کے لیے اکسایا۔ عدالت نے انہیں عدالتی حراست میں بھیج دیا تھا۔ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سربراہ لالو پرساد یادو کے بڑے بیٹے تیج پرتاپ نے اپنی گرفتاری کو سیاسی سازش قرار دیا تھا۔
واضح رہے کہ دہلی میں مظاہرین کے ساتھ مرکزی حکومت کی رضامندی کے بعد بہار حکومت نے بھی نیٹ پیپر لیک تحریک سے متعلق درج مقدمات واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔تیج پرتاپ یادو کو منگل کی شام بیور جیل سے رہا کر دیا گیا۔ جیل سے باہر آتے ہی ان کے حامیوں میں جوش و خروش بڑھ گیا۔ بیور جیل کے باہر بڑی تعداد میں موجود جے جے ڈی کارکنوں نے ان کا استقبال کیا۔ اس کے بعد تیج پرتاپ یادو گاڑی میں سوار ہو کر وہاں سے روانہ ہوگئے۔تیج پرتاپ یادو کو پٹنہ پولیس نے 25 جولائی کو حراست میں لیا تھا۔ ان کے خلاف گاندھی میدان تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ گزشتہ ہفتہ کو بہار بند کے دوران انہوں نے رام غلام چوک پر احتجاج کر رہے طلبہ و طالبات کے درمیان مظاہرہ کیا تھا۔
ان پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے مظاہرین کو پولیس پر حملے کے لیے اکسایا۔
Bihar
ہم بہارکونہیں بننے دیں گے ’پولیس گردی‘ کی ریاست،آپ کو بچانے نہیں آئیں گےسمراٹ چودھری،تمام پروٹوکول کی پابندی کریں پولیس افسران ، تیجسوی یادو کاقانونی نظام اور پولیس کارروائی پر سخت برہمی کا اظہار
(پی این این)
پٹنہ: بہار کی سمراٹ چودھری حکومت نے نیٹ امتحان کے مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔ اس پر ریاستی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی یادو نے کہا کہ حکومت نے ان کی تنبیہ اور دباؤ کے بعد ہی یہ قدم اٹھایا ہے۔
اسی کے ساتھ تیجسوی یادو نے ان افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا، جن کے حکم پر اے کے-47 سے فائرنگ کی اجازت دی گئی تھی۔ پٹنہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران افسران پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ ’’سمراٹ چودھری آپ کو بچانے نہیں آئیں گے۔‘‘
تیجسوی یادو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیوان میں طلبہ کے احتجاج کے دوران مبینہ طور پر اے کے-47 استعمال کرنے والے کانسٹیبل کو محض معطل کر دینا کافی نہیں ہے۔ اس پورے واقعے کی عدالتی نگرانی میں غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ معلوم کیا جائے کہ اے کے-47 کے استعمال کا حکم کس نے دیا تھا اور اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب مظاہرین کے خلاف مبینہ طور پر اے کے-47 کا استعمال کیا گیا ہے۔ تیجسوی یادو نے مطالبہ کیا کہ وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری واضح کریں کہ طلبہ مظاہرین کے خلاف اے کے-47 استعمال کرنے کا حکم کس نے دیا تھا، نیز پولیس نے متعدد طلبہ کے خلاف اقدامِ قتل کے مقدمات کس بنیاد پر درج کیے۔
تیجسوی یادو نے کہا، “جب ہم نے آپ کو الٹی میٹم دیا تو آپ (وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری) نے گرفتار طلبہ کی رہائی کا حکم جاری کیا۔ جب ہم نے آپ کو خبردار کیا تو آپ نے مقدمات واپس لینے کا اعلان بھی کر دیا، لیکن وہ افسران جو قصوروار ہیں، جن کی وجہ سے گولیاں چلیں اور جن کے حکم پر فائرنگ ہوئی، ان کے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟ آپ نے گرفتاریاں تو کیں، مگر اس معاملے کی تحقیقات کا کیا نتیجہ نکلا؟”تیجسوی یادو نے مزید کہا کہ وہ آج بھی سمراٹ چودھری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے کے ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ کسی ایک سپاہی کو قربانی کا بکرا نہ بنایا جائے، کیونکہ ایک سپاہی اتنا بااختیار نہیں ہوتا کہ وہ اپنی مرضی سے اے کے-47 سے کسی 15 سالہ بچے کے سینے پر گولی چلا دے۔ آخر یہ سب کس کے حکم پر ہوا؟ اس معاملے کی عدالتی نگرانی میں غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی، وہ خاموش نہیں بیٹھیں گے۔
اس کے بعد تیجسوی یادو نے کہا کہ وہ متعلقہ افسران کو بھی خبردار کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا، “سمراٹ چودھری کب آئیں گے اور کب چلے جائیں گے، کسی کو معلوم نہیں، لیکن وہ ان افسران کو بچانے نہیں آئیں گے۔ بہتر یہی ہے کہ افسران آئین، قواعد و ضوابط اور اپنے سرکاری پروٹوکول کی پابندی کریں۔”تیجسوی یادو نے مزید کہا کہ اب بہار میں مجرموں اور بدعنوان عناصر کو سرپرستی دینے کا سلسلہ نہیں چلے گا۔ انہوں نے کہا، “بہار جے پرکاش نارائن، کرپوری ٹھاکر اور لالو پرساد یادو کی سرزمین ہے۔ ہم اس دھرتی کو پولیس گردی کی ریاست نہیں بننے دیں گے۔‘‘
قابلِ ذکر ہے کہ ضلع سیوان میں طلبہ کے احتجاج کے دوران ابھیشیک کمار نامی ایک پولیس اہلکار اے کے-47 سے فائرنگ کرتے ہوئے نظر آیا تھا۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد شدید ہنگامہ برپا ہو گیا تھا، جس کے بعد کارروائی کرتے ہوئے ابھیشیک کمار کو معطل کر دیا گیا تھا۔
Bihar
بہار کے تمام بلاکوں میں کھولے جائیں گے ڈگری کالج، اب ریاست کے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے نہیں جانا پڑے گاباہر :سمراٹ چودھری
پٹنہ:(پی این این)بہار کے تمام اسکولوں میں اب ہفتہ کے روز نصف دن کی تعلیم ہوگی۔ اسکولوں میں ہفتہ کے دن پورے وقت پڑھائی نہیں ہوگی بلکہ صرف نصف دن تک ہی تعلیمی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔
وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری نے یہ اعلان کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ طویل عرصے سے لوگ اس کا مطالبہ کر رہے تھے۔ بہار قانون ساز اسمبلی کے مانسون اجلاس میں بھی یہ معاملہ اٹھایا گیا تھا۔ اس کے بعد وزیرِ اعلیٰ نے محکمۂ تعلیم کے افسران کو اس سلسلے میں ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دے دی ہے۔وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ یہ فیصلہ مرکزی حکومت کی قومی تعلیمی پالیسی-2020 کے تحت کیا گیا ہے۔وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری نے منگل کے روز مونگیر ضلع کے اثر گنج میں سرکاری ڈگری کالج کا افتتاح کیا۔ اس کے بعد جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بہار کے تمام اسکولوں میں ہفتہ کے روز نصف دن کی تعلیم کا اعلان کیا۔اب ریاست کے تمام اسکول ہفتہ کے دن صرف نصف دن تک ہی چلیں گے۔ ٹفن بریک کے بعد بچوں کو چھٹی دے دی جائے گی۔ وزیرِ اعلیٰ کے اس اعلان کے بعد پروگرام میں موجود لوگوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے تالیاں بجا کر ان کا استقبال کیا۔
سمراٹ چودھری نے کہا کہ ان کی حکومت نے بہار کے تمام پرکھنڈوں (بلاکوں) میں ڈگری کالج کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاست میں اب تک 211 ڈگری کالج کھولے جا چکے ہیں۔ آج اثر گنج میں 212واں ڈگری کالج قائم کیا گیا ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ اب بہار کے تمام بی ایڈ کالجوں میں بھی ڈگری کالج کھولے جائیں گے۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ اب بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے باہر نہیں جانا پڑے گا۔ حکومت نے ماڈل اسکول کے تصور کو عملی جامہ پہنایا ہے۔ سرسوتی ودیا نکیتن قائم کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 551 مقامات پر ان اسکولوں کا آغاز ہو چکا ہے۔ آج مزید 10 مقامات پر ایسے اسکول کھولے گئے ہیں، جس کے بعد ان کی تعداد بڑھ کر 561 ہو گئی ہے۔ یہ تعداد ابھی مزید بڑھے گی۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
دلی این سی آر11 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
