دیش
اے ایم یو کی اردو اکادمی کے زیر اہتمام قومی یکجہتی کے نام مشاعرے کا انعقاد
(پی این این)
علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے سنٹر فار پروفیشنل ڈیولپمنٹ آف اردو ٹیچرز (اردو اکادمی) کے زیر اہتمام قومی یکجہتی کے نام ایک مشاعرہ منعقد کیا گیا جس کی صدارت اکادمی کے ڈائریکٹر پروفیسر قمرالہدی فریدی نے کی اور مہمانان خصوصی کی حیثیت سے پروفیسر غضنفر علی اور پروفیسر مہتاب حیدر نقوی شریک ہوئے۔
اپنی صدارتی تقریر میں پروفیسر قمرالہدی فریدی نے کہا کہ قومی یکجہتی کے فروغ میں اردو شاعری کا ہمیشہ سے کلیدی رول رہا ہے۔جنگ آزادی کی تحریک کو جلا بخشنے اور ہندوستان کی صدیوں پرانی بھائی چارگی اور رواداری کی روایت کو مستحکم کرنے میں اردو شاعری نے ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔
پروفیسرغضنفر علی نے کہا کہ اردو مشترکہ تہذیب کی زبان ہے اور اس زبان نے ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنی گراں قدر خدمات سے سب کو متاثر کیا ہے۔مشاعرے کا آغاز ڈاکٹر عرفان احمد کے نعتیہ کلام سے ہوا۔مشاعرے کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر مشتاق صدف نے بحسن و خوبی انجام دیے، جبکہ شکریہ کی رسم ڈاکٹر رفیع الدین نے ادا کی۔ شعراء کے منتخب اشعار نذر قارئین ہیں:
میرے سینے کا داغ دیکھو نا
اس میں اپنا چراغ دیکھو نا
(پروفیسر غضنفر علی)
داد کس نے پائی ہے آج تک زمانے سے
درد کم نہیں ہوتا زخم کو دکھانے سے
(پروفیسر مہتاب حیدر نقوی)
یہ کس نگاہ عنایت کا شاخسانہ ہوا
تمام شہر خرد یک قلم دیوانہ ہوا
(پروفیسر سراج اجملی)
وہ تصادم گراں تو ہوا تھا مگر
پھر ہنسی آگئی روٹھتے روٹھتے
(نسیم نوری)
ترازو ٹوٹ کے ڈر ہے کہیں نیچے نہ گر جائے
ہمارے وزن کو ہلکا سمجھ کے تولنے والے
(جانی فاسٹر)
یوں تو رزم حق و باطل آج بھی درپیش ہے
ابن حیدر کی طرح اب سربہ کف کوئی نہیں
(ڈاکٹر محمد ابو صالح)
ٹکرا نہ پائیں مجھ سے زمانے کی گردشیں
میں مد ح خوان آل شہ مشرقین ہوں
(معراج نشاط)
ہم اپنی محبت کا تماشا نہیں کرتے
کرتے ہیں اگر کچھ تو دکھاوا نہیں کرتے
(ڈاکٹر مشتاق صدف)
فطرت کا تماشا ہے یہ وحشت بھی جنوں بھی
دل ہاتھ سے جائے گا تو جائے گا سکوں بھی
(صدام حسین)
کھول کر زلف سیاہ فام چلو رقص کریں
ہو رہی بارش الہام چلو رقص کریں
(اریب عثمانی)
جن کو سن کر عمر فاروق مسلمان ہوئے
اسی قرآن کو سینے سے لگائے رکھنا
(ڈاکٹر عرفان احمد)
دیش
بنگلہ دیش نے کی بھارت سے مزید ایندھن کی فراہمی کی درخواست
(پی این این)
ڈھاکہ :بنگلہ دیش نے بھارت سے ایندھن کی مزید فراہمی کی درخواست کی ہے، جو دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کی ایک اہم علامت سمجھی جا رہی ہے۔بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان نے نئی دہلی کے دو روزہ دورے کے دوران بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور پیٹرولیم وزیر ہردیپ سنگھ پوری سے ملاقاتیں کیں، جہاں توانائی تعاون سمیت مختلف امور پر بات چیت ہوئی۔
بنگلہ دیش نے حالیہ ڈیزل سپلائی پر بھارت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ایندھن اور کھاد کی فراہمی میں اضافے کی درخواست کی، جس پر بھارتی وزیر نے مثبت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس درخواست پر “ہمدردانہ اور فوری” غور کیا جائے گا۔رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش توانائی کی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، اور امریکہ۔اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے باعث عالمی سپلائی متاثر ہوئی ہے، جس سے ملک میں ایندھن کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔یہ دورہ وزیر اعظم طارق رحمان کی نئی حکومت کی جانب سے بھارت کے ساتھ سفارتی روابط بحال کرنے کی ابتدائی کوششوں کا حصہ ہے، جو فروری 2026 میں اقتدار میں آئی تھی۔
ملاقاتوں میں ویزا سہولتوں میں نرمی اور سیکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ بھارت نے عندیہ دیا کہ بنگلہ دیشی شہریوں کے لیے، خاص طور پر طبی اور کاروباری مقاصد کے لیے، ویزا عمل کو آسان بنایا جائے گا۔یاد رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات 2024 میں اس وقت کشیدہ ہو گئے تھے جب سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ بھارت منتقل ہو گئی تھیں، تاہم حالیہ مہینوں میں دونوں جانب سے مثبت اشاروں کے بعد تعلقات میں بہتری دیکھی جا رہی ہے۔
دیش
پیوش گوئل نے خطے میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد کویتی ہم منصب سے کی بات
(پی این این)
نئی دہلی : تجارت اور صنعت کے مرکزی وزیر پیوش گوئل نے جمعرات کو کویت کے وزیر تجارت اور صنعت اسامہ خالد بودائی کے ساتھ ایک ورچوئل میٹنگ کی۔ دونوں نے دوطرفہ تجارتی تعلقات کو وسعت دینے پر بات چیت کی۔ ہندوستان اور کویت روایتی طور پر دوستانہ تعلقات ہیں، جو تاریخ میں جڑے ہوئے ہیں اور وقت کی کسوٹی پر کھڑے ہیں۔
ہندوستان کویت کا فطری تجارتی شراکت دار رہا ہے، اور 1961 تک، ہندوستانی روپیہ کویت میں قانونی طور پر رائج تھا۔ تیل کی دریافت اور ترقی تک، کویت کی معیشت اس کی عمدہ بندرگاہ اور سمندری سرگرمیوں کے گرد گھومتی تھی، جس میں جہاز کی تعمیر، موتیوں کی غوطہ خوری، ماہی گیری اور کھجوریں، عربی گھوڑے اور موتی جو لکڑی، اناج، کپڑوں اور مسالوں کے لیے تجارت کیے جاتے تھے، پر بھارت کا سفر شامل تھا۔
دریں اثنا، الجزیرہ کے مطابق، ایران اور امریکہ کی طرف سے دو ہفتے کی جنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹے بعد، کئی خلیجی ممالک نے اپنے علاقوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاع دی ہے۔
دیش
آبنائے ہرمز پارکرگیا ہندوستان کا 8واں جہاز
(پی این این)
نئی دہلی: ایران جنگ کے باعث آبنائے ہرمز پر سخت کنٹرول کے باوجود بھارت نے اپنی توانائی سپلائی کو برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے، جہاں کم از کم آٹھ بھارتی یا بھارت سے وابستہ جہاز اس اہم راستے سے گزرنے میں کامیاب رہے۔ رپورٹس کے مطابق، یہ جہاز — جن میں ایل پی جی اور تیل بردار ٹینکرز شامل ہیں — حالیہ کشیدگی کے دوران اس اسٹریٹجک گزرگاہ سے گزرے، جس سے بھارت کی توانائی سپلائی کا تسلسل برقرار رہا۔
آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے، ایران کی جانب سے کنٹرول سخت کیے جانے کے بعد شدید دباؤ میں ہے، اور عالمی سطح پر سپلائی چین متاثر ہوئی ہے۔ بھارتی حکام کے مطابق، ان جہازوں میں “شیولک، نندا دیوی، جگ لادکی، پائن گیس، جگ وسنت، بی ڈبلیو ٹائر، بی ڈبلیو ایلم اور گرین سانوی” جیسے نام شامل ہیں، جنہوں نے بحران کے باوجود کامیاب ٹرانزٹ کیا۔ ایران نے بھی بھارت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اس کی توانائی سپلائی محفوظ رہے گی۔ ایران کے سفارتی ذرائع نے کہا کہ “بھارتی دوست محفوظ ہاتھوں میں ہیں”، جس سے دونوں ممالک کے درمیان جاری توانائی تعاون کا عندیہ ملتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، ایران نے آبنائے ہرمز میں محدود رسائی صرف “دوست ممالک” جیسے بھارت، چین اور روس کے لیے کھولی ہے، جبکہ دیگر ممالک کے لیے پابندیاں برقرار ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد اس اہم سمندری راستے پر سخت کنٹرول قائم کر لیا، جس کے باعث جہازوں کی آمد و رفت میں نمایاں کمی آئی ہے اور عالمی توانائی منڈی متاثر ہوئی ہے۔
ماہرین کے مطابق، اس صورتحال میں بھارت کی جانب سے اپنی توانائی سپلائی کو جاری رکھنا اس کی سفارتی اور بحری حکمتِ عملی کی کامیابی کو ظاہر کرتا ہے، جس نے ایک بڑے عالمی بحران کے دوران بھی داخلی توانائی ضروریات کو متاثر ہونے سے بچایا۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار4 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
بہار11 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ1 year agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
