تازہ ترین
’مہاتما گاندھی ہندوستان کی روح اور گنگا جمنی تہذیب کے روشن مینار‘ارریہ میں مضمون نویسی مقابلے کا انعقاد، ہندوستان کی علمی، سیاسی وملی شخصیات نے ملک ہندوستان کو بام عروج تک پہنچانے میں اداکیا اہم کردار: مقررینپریہار میں اقلیتی ووٹر ملن تقریب کاپروقار انعقاد، جے ڈی یو رہنماؤں اور تعلیم یافتہ ووٹروں نے کی ابھشیک جھا کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنانے کی اپیلیاترا پر پابندی اور قابل اعتراض نعرے لگانے والوں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ،مسلم سیوا سنگٹھن کے وفد نے ایس پی سے کی ملاقات،ظاہر کیافرقہ وارانہ کشیدگی کا خدشہ، کارروائی نہ ہونے پر دہرادون سے سہارنپور تک ’جمہوریت بچاؤ یاترا‘ نکالنے کی وارننگ’اردو اشعار سے ہم زبان کیساتھ ادب، سلیقہ اور تربیت بھی سیکھتے ہیں‘میرٹھ میں سہ روزہ جشن سر سید کا مقابلہ بیت بازی سے شاندار اختتاماسلامیہ انٹر کالج دیوبند کی طالبہ صوفیہ ایک دن کے لئے پرنسپل بنائی گئیںپتھروں کو دے رہے ہیں آئینے کھل کر جوابسی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے کو ضمانت، نیہا بورا بھی رہا،رات بھر حراست سے رہائی کے بعد نیہا نے قانون اور انتظامیہ پر اٹھائے سوال
دیش

اے ایم یو کی اردو اکادمی کے زیر اہتمام قومی یکجہتی کے نام مشاعرے کا انعقاد

(پی این این)
علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے سنٹر فار پروفیشنل ڈیولپمنٹ آف اردو ٹیچرز (اردو اکادمی) کے زیر اہتمام قومی یکجہتی کے نام ایک مشاعرہ منعقد کیا گیا جس کی صدارت اکادمی کے ڈائریکٹر پروفیسر قمرالہدی فریدی نے کی اور مہمانان خصوصی کی حیثیت سے پروفیسر غضنفر علی اور پروفیسر مہتاب حیدر نقوی شریک ہوئے۔
اپنی صدارتی تقریر میں پروفیسر قمرالہدی فریدی نے کہا کہ قومی یکجہتی کے فروغ میں اردو شاعری کا ہمیشہ سے کلیدی رول رہا ہے۔جنگ آزادی کی تحریک کو جلا بخشنے اور ہندوستان کی صدیوں پرانی بھائی چارگی اور رواداری کی روایت کو مستحکم کرنے میں اردو شاعری نے ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔
پروفیسرغضنفر علی نے کہا کہ اردو مشترکہ تہذیب کی زبان ہے اور اس زبان نے ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنی گراں قدر خدمات سے سب کو متاثر کیا ہے۔مشاعرے کا آغاز ڈاکٹر عرفان احمد کے نعتیہ کلام سے ہوا۔مشاعرے کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر مشتاق صدف نے بحسن و خوبی انجام دیے، جبکہ شکریہ کی رسم ڈاکٹر رفیع الدین نے ادا کی۔ شعراء کے منتخب اشعار نذر قارئین ہیں:
میرے سینے کا داغ دیکھو نا
اس میں اپنا چراغ دیکھو نا
(پروفیسر غضنفر علی)
داد کس نے پائی ہے آج تک زمانے سے
درد کم نہیں ہوتا زخم کو دکھانے سے
(پروفیسر مہتاب حیدر نقوی)
یہ کس نگاہ عنایت کا شاخسانہ ہوا
تمام شہر خرد یک قلم دیوانہ ہوا
(پروفیسر سراج اجملی)
وہ تصادم گراں تو ہوا تھا مگر
پھر ہنسی آگئی روٹھتے روٹھتے
(نسیم نوری)
ترازو ٹوٹ کے ڈر ہے کہیں نیچے نہ گر جائے
ہمارے وزن کو ہلکا سمجھ کے تولنے والے
(جانی فاسٹر)
یوں تو رزم حق و باطل آج بھی درپیش ہے
ابن حیدر کی طرح اب سربہ کف کوئی نہیں
(ڈاکٹر محمد ابو صالح)
ٹکرا نہ پائیں مجھ سے زمانے کی گردشیں
میں مد ح خوان آل شہ مشرقین ہوں
(معراج نشاط)
ہم اپنی محبت کا تماشا نہیں کرتے
کرتے ہیں اگر کچھ تو دکھاوا نہیں کرتے
(ڈاکٹر مشتاق صدف)
فطرت کا تماشا ہے یہ وحشت بھی جنوں بھی
دل ہاتھ سے جائے گا تو جائے گا سکوں بھی
(صدام حسین)
کھول کر زلف سیاہ فام چلو رقص کریں
ہو رہی بارش الہام چلو رقص کریں
(اریب عثمانی)
جن کو سن کر عمر فاروق مسلمان ہوئے
اسی قرآن کو سینے سے لگائے رکھنا
(ڈاکٹر عرفان احمد)

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔