دلی این سی آر
انجمن ترقی اردو’ہند‘ کے زیراہتمام میر تقی میرکے مخطوطات کی نمائش
(پی این این)
نئی دہلی: انجمن ترقی اردو (ہند) آج اپنے مرکزی دفتر اردو گھر میں شام 6 بجے میر کے خطی نسخوں کی خصوصی نمائش کا اہتمام کررہی ہے ۔ انجمن نے پچھلے برس خداے سخن میر تقی میر کے تین سو سالہ جشن کا اہتمام کرتے ہوئے کئی اہم پروگرام منعقد کئے تھے لیکن یہ 11 جنوری 2025 کا پروگرام اس سلسلے کی سب سے اہم کڑی اس لئے ہے کیوں کہ انجمن ترقی اردو (ہند) کا میر کے تمام مخطوطات کو ایک ہی مقام پر جمع کرلینا اردو ادب کے اسکالروں اور محققوں کئے لے نعمت مترقبہ سے کسی طرح کم نہیں ہے ۔2024 میں ذکرِمیر کے مکمل متن کی اشاعت کے ساتھ ہی انجمن نے میر کے متعلق تمام اہم مخطوطوں کی جمع آوری کی کوشش کی تاکہ خداے سخن کی تفہیم کی نئے راہیں دریافت کی جاسکیں، اور اس سلسلے میں مختلف کلیات، نسخہ رامپور، ذکرِ میر کا نسخہ اٹاوہ، میر کے فارسی کلام کا نادر نسخہ حیدرآباد، مثنویات اور قصائدِ میر کے نسخے نیز نادر اشاعتوں کے جمع کرنے کا سلسلہ جاری ہے ۔خدائے سخن کہلانے کے باوجود بھی آج تک میر کا کوئی مستند کلیات ان معنی میں شائع نہیں ہوسکا جس میں مدون نے متن کا موازنہ مخطوطات سے کیا ہو۔ میر کے فارسی اور اردو کلام نیز ان کے نثری متن کے مخطوطات ہندستان کی مختلف لائبریریوں میں محفوظ تو ہیں لیکن اسکالروں کی عدم توجہی کی وجہ سے ان مخطوطات کے متعلق معلومات کبھی عام نہ ہوسکی۔ میر کا زیادہ تر کلام، میر کی زندگی میں ترتیب دے ے گئے ان کے اس کلیات جو ان کے انتقال کے ایک سال بعد 1811 میں فورٹ ولیم کالج سے شائع ہونے والی کلیات کا چربہ ہے اس کلیات سے نقل کئے گئے کلام میں نقائص کی بھرمار ہے ۔ انجمن نے ہندستان میں موجود تمام مخطوطات کو اردو گھر کی لائبریری میں جمع کرکے اردو اسکالروں کے لئے یہ بہترین موقع فراہم کیا ہے۔ کہ وہ کلامِ میر پر نئے زاوئے اور تدوین کے اصولوں کی روشنی میں ازسرِنو کام کرنے کے لے ے ان دواوین سے رجوع کریں۔میر کے صدسالہ جشن کا یہ سلسلہ جسے انجمن ترقی اردو (ہند) نے 2024 کے پورے برس جاری رکھا، ابھی بھی جاری ہے ، اور یہ پروگرام اسی سلسلے کی کڑی ہے جسے انجمن نور انٹرنیشنل مائیکروفلم و سنٹر نئی دہلی کے اشتراک سے منعقد کررہی ہے ۔ نور مائیکرو فلم نے انجمن کے اردو اور فارسی مخطوطات کو ڈیجیٹائز کیا ہے ۔ فارسی مخطوطات کو ڈیجیٹائز کرنے والا نور مائیکرو فلم دنیا کا سب سے بڑا ادارہ ہے جس کی سربراہی گذشتہ چار دہائیوں سے خواجہ پیری کررہے ہیں۔اس پروگرام میں میر کے فارسی اور اردو دواوین کے خطی و چاپی نسخوں کی نمائش کے علاوہ اردو ادب کے ‘میر نمبر’ کی رسم رونمائی بھی عمل میں آئے گی جس میں پہلی بار ذکرِمیر کا مکمل فارسی متن مع اردو ترجمے کے شامل کیا جارہا ہے ۔ یہ ترجمہ ڈاکٹر صدف فاطمہ نے کیا ہے ۔ ایران کے سفیر ڈاکٹر ایرج الٰہی اس نمائش کا افتتاح کریں گے اور پروفیسر شریف حسین قاسمی کلیدی خطبہ پیش کریں گے ، ایران کے کلچرل کاونسلر ڈاکٹر فریدالدین فرید عصر، سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کریں گے ۔۔ انجمن کے صدر صدیق الرحمان قدوائی اس جلسے کی صدارت فرمائیں گے ، پروفیسر اخترالواسع اور پروفیسر اخلاق آہن اپنی تقاریر میں ان مخطوطات کی اہمیت پر روشنی ڈالیں گے ۔
دلی این سی آر
دہلی میں 1,511 غیر قانونی کالونیوں کو باقاعدہ بنانے کا عمل شروع
(پی این این )
نئی د ہلی :دہلی میں 1,511 غیر مجاز کالونیوں میں رہنے والوں کے لیے اچھی خبر ہے۔ دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) ان غیر مجاز کالونیوں کو باقاعدہ بنانے کا عمل شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ MCD فی الحال SWAGAMپورٹل کی ڈیمو ٹیسٹنگ کر رہا ہے، اور اسے جلد ہی حکومت کے مرکزی پورٹل کے ساتھ مربوط کر دیا جائے گا۔شناخت شدہ کالونیوں میں 50 فیصد سے زیادہ ڈرون سروے پہلے ہی مکمل ہو چکے ہیں، جو نقشوں، سڑکوں کے نیٹ ورکس اور پراپرٹی کی حدود پر ڈیٹا تیار کر رہے ہیں۔ ان سروے کے ڈیٹا کو پورٹل میں شامل کیا جائے گا۔
جس سے ان کالونیوں کے رہائشیوں کے لیے اپنی جائیدادوں کو ریگولرائز کرنے کے لیے درخواست دینا آسان ہو جائے گا۔ پورٹل بینکنگ موبائل ایپ کی طرح سادہ، بول چال کی زبان استعمال کرتا ہے، جس سے اسے استعمال کرنا آسان ہوتا ہے۔دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) کے ایک سینئر افسر نے کہا، پورٹل کو (مین پورٹل سے) جوڑنے کا کام فی الحال جاری ہے۔ ہم نے ایک ڈیمو کیا اور زبان کو آسان بنانے کے لیے کچھ تبدیلیاں کیں تاکہ ایک عام آدمی بھی درخواست دیتے وقت اس عمل، متعلقہ شعبوں اور اس کے فوائد اور اثرات کو آسانی سے سمجھ سکے۔
ہلکار کے مطابق، اگر تعمیرات ماسٹر پلان کے تحت فلور ایریا ریشو (FAR) سے زیادہ ہوتی ہیں۔
تو مالک کو عام اضافی چارج سے تین گنا جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔ حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ جائیدادوں کو ریگولرائز کرنے کے لیے کوئی یکساں فیس نہیں ہے۔اس کے بجائے، اس میں درخواست کی فیس اور معائنہ کی فیس سمیت مختلف چارجز شامل ہوں گے۔ مثال کے طور پر، اگر معائنے کی فیس10 فی مربع میٹر ہے، تو 1,000 مربع میٹر کے تعمیر شدہ علاقے کے لیے، فیس 10,000 ہوگی۔
ریگولرائزیشن کا عمل 700 ایمپینلڈ آرکیٹیکٹس (حکومت کے ذریعہ تسلیم شدہ) کی مدد سے انجام دیا جائے گا۔ مالکانہ حقوق حاصل کرنے کے بعد، معمار موجودہ جائیدادوں کے نقشے تیار کریں گے اور انہیں پورٹل پر اپ لوڈ کریں گے۔ آرکیٹیکٹس پراپرٹی کی اصل حالت کو واضح کرنے کے لیے گراؤنڈ کا دورہ کریں گے، چاہے یہ ایک منزلہ عمارت ہو یا تین منزلہ۔ اس کے بعد نقشے پورٹل پر اپ لوڈ کیے جائیں گے۔ ریگولرائزیشن سرٹیفکیٹ ملنے کے بعد یہ نقشہ سرکاری ریکارڈ کا حصہ بن جائے گا۔
ایم سی ڈی کے ایک اور اہلکار نے کہا کہ جن لوگوں نے 2019 میں شروع کی گئی PM-UDAY اسکیم کے تحت ملکیتی حقوق حاصل نہیں کیے ہیں وہ ایک ماہ کے اندر انہیں حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد، ایم سی ڈی ایک ماہ کے اندر ریگولرائزیشن کی درخواستوں پر بھی کارروائی کرے گی۔اہلکار نے مزید کہا، “ابتدائی مرحلے میں، تقریباً 40,000 رہائشی جنہوں نے مالکانہ حقوق حاصل کیے ہیں ،SWAGAMپورٹل پر براہ راست درخواست دے سکیں گے۔ انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ ایک بار ریگولرائزیشن کا عمل مکمل ہونے کے بعد، کارپوریشن ان کالونیوں میں سڑکوں اور نالوں جیسے بنیادی ڈھانچے کی بہتری پر کام شروع کرے گی۔
دلی این سی آر
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مذاکرہ اور انٹرایکٹو سیشن کا انعقاد
(پی این این)
نئی د ہلی :شعبہ تاریخ و ثقافت، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے شعبہ کے سیمینار روم میں ایک مذاکرہ اور انٹرایکٹو سیشن کا انعقاد کیا۔ اجلاس میں مالدیو جمہوریہ سے علا دیدی رسرچ انالسٹ، منسٹری آف آرٹس اینڈ ہیریٹیج، انڈین کونسل آف کلچرل ریلیشنز، وزارت برائے امور خارجہ،حکومت ہندکے اکیڈمک ویزیٹر نے شرکت کی۔
کیمپس پہنچنے پر، عبداللہ عاصم، ان کی سوشل میڈیا ٹیم اور آئی سی سی آر کے رابطہ اہل کار جناب دیپک کے ساتھ علا دیدی نے شعبہ کی سربراہ پروفیسر پریتی شرما اور فیکلٹی اراکین سے ملاقات کی۔ ڈین، فیکلٹی آف ہیومینیٹیز اینڈ لینگویجز پروفیسر اقتدار محمد۔ خان اور ڈین، بین الاقوامی تعلقات، جے ایم آئی، پروفیسر اشویندر کور پوپلی نے بھی بات چیت میں شرکت کی۔ مہمان کو جامعہ کی شاندار تاریخ اور اس کی موجودہ توسیع اور ترقی کے بارے میں بتایا گیا۔ جناب دیدی نے جامعہ اور مالدیپ کے روابط اور ماضی میں اعلیٰ تعلیم کے لیے جامعہ آنے والے مالدیپ کے طلبہ کے بارے میں دلچسپ حقائق اور معلومات بھی ساجھا کیے۔ وہ جامعہ ملیہ کے اس وقت کے شیخ الجامعہ اور ہندوستان کے سابق صدر ڈاکٹر ذاکر حسین کی طرف سے مالدیپ کے اسکالر کو لکھے گئے خط کی نقل بھی لائے تھے۔
ڈینز اور صدور شعبہ جات کے ساتھ ابتدائی ملاقات کے بعد دیدی نے طلبہ سے خطاب کیا اور ’ہند۔مالدیو تاریخی و تہذیبی وثقافتی روابط اور موجودہ اور مستقبل میں باہمی تعلقات کو بہتربنانے کے لیے ان روابط سے استفادہ کرنے‘ کے موضوع پر گفتگو کی۔پروگرام میں فیکلٹی اراکین، ریسر چ اسکالر اور طلبہ بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔
جامعہ کی ثقافتی روایت کی عکاسی کرتے ہوئے پروگرام کا آغاز ڈاکٹر شاہ نواز فیاض، شعبہ اردو کی تلاوت کلام پاک اور جامعہ ترانی کی نغمہ سرائی سے ہوا۔ شعبہ کی سربراہ پروفیسر پریتی شرما نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی آر کی طرف سے کئے گئے اس طرح کے اقدامات مشترکہ تعلیمی اہداف کو فروغ دینے اور باہمی تحقیق کے مواقع تلاش کرنے کے لیے سازگار ہیں۔ انہوں نے اس طرح کی تقریبات کے انعقاد کے لیے شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ پروفیسر مظہر آصف اور پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی،مسجل جامعہ ملیہ اسلامیہ کی جانب سے فراہم کردہ فراخدلانہ تعاون اور حوصلہ افزائی کا بھی اعتراف کیا۔ اس کے بعد پروفیسر اقتدار محمد کی طرف سے دعائیہ کلمات کہے گئے۔ ڈین، فیکلٹی آف ہیومینٹیز اینڈ لینگویجز، پروفیسر خان نے اس طرح کی تعلیمی سرگرمیوں کی معنویت پر زور دیا۔
ڈین، آئی آر، پروفیسر اشویندر پوپلی نے بین الاقوامی دفتر، جامعہ ملیہ اسلامیہ کی طرف سے شروع کی گئی مختلف سرگرمیوں اور پروگراموں کے متعلق معلومات ساجھا کیں، جو اس کی عالمی موجودگی کی تصدیق کرتی ہیں۔ڈین،۔ایف ایچ ایل،ڈین۔آئی آر اور صدر شعبہ تاریخ نے مہمان مقرر کا باقاعدہ استقبال کیا۔ ڈاکٹر روہما جاوید رشید نے مہمان مقررکا باقاعدہ تعارف پیش کیا۔
دیدی نے لیکچر کے بعد پروفیسر مظہر آصف شیخ الجامعہ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ملاقات کی۔ ان کے ساتھ پروفیسر پریتی شرما اور پروفیسر اشویندر پوپلی بھی تھے۔ انہوں نے ہندوستان مالدیپ اور مغربی ایشیا سے متعلق مختلف علمی، تاریخی تعلقات، ثقافتی وابستگی اور عصری مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ شیخ الجامعہ نے مہمان کو مخطوطات سے مزین جامعہ سنٹرل لائبریری کے ذخیرے کے بارے میں معلومات ساجھا کیں۔ پروفیسر آصف نے مہمانوں کو لائبریری وسائل کے کیٹلاگ بھی تحفے میں دیے۔مجموعی طور پر علمی اعتبار سے یہ ایک بھرپور اور ثمر آور تجربہ ثابت ہوا۔
دلی این سی آر
امید ہے کہ میں اچھا فیصلہ سناؤں گی ،کجریوال معاملے میں جسٹس شرماکا تبصرہ
(پی این این)
نئی دہلی : دہلی ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعلی اروند کیجریوال کی درخواست پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا جس میں جسٹس سوارن کانتا شرما کو سی بی آئی کی درخواست کی سماعت سے ہٹانے کی مانگ کی گئی تھی۔ سماعت کے دوران اروند کیجریوال نے اپنے دلائل پیش کئے۔ کیجریوال نے اپنی دلیلیں ختم کرنے کے بعد جسٹس شرما نے ان کی تعریف کی اور کہا کہ وہ وکیل بھی بن سکتے ہیں۔ اس پر کیجریوال نے جواب دیا کہ انہوں نے اپنا راستہ چنا ہے اور اس سے خوش ہیں۔اس معاملے پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھتے ہوئے جسٹس سوارن کانتا نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب انہیں کسی مقدمے سے الگ ہونے کو کہا گیا ہے۔
جسٹس شرما نے کہا، “میں نے دستبرداری کے قانونی اصولوں کے بارے میں بہت کچھ سیکھا ہے۔ میری زندگی میں پہلی بار کسی نے مجھے عہدہ چھوڑنے کے لیے کہا ہے۔ میں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ مجھے امید ہے کہ میں اچھا فیصلہ سناؤں گی۔”اروند کیجریوال نے دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس سوارن کانتا شرما کو بتایا کہ شراب پالیسی کے معاملات میں ان کے پہلے کے فیصلوں نے عملی طور پر انہیں مجرم اور بدعنوان قرار دیا تھا، اور انہیں خدشہ ہے کہ اگر وہ ان کی بریت کے خلاف سی بی آئی کی درخواست پر سماعت جاری رکھیں گی تو انہیں انصاف نہیں ملے گا۔اروند کیجریوال نے استدلال کیا کہ جسٹس شرما کی دستبرداری سے متعلق قانونی سوال جج کی دیانتداری یا غیر جانبداری کے بارے میں نہیں تھا، بلکہ اس کے بارے میں تھا کہ مدعی کے تعصب کے اندیشے ہیں۔
کیجریوال نے دعویٰ کیا کہ سی بی آئی کی درخواست اور بی جے پی کے سیاسی حریف سے جڑے ایک اور کیس کے علاوہ جسٹس شرما کے سامنے کسی اور کیس کی اسی رفتار سے سماعت نہیں ہو رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ عدالت تحقیقاتی ایجنسیوں کے دلائل کی حمایت کرنے کا رجحان دکھا رہی ہے۔27 فروری کو، نچلی عدالت نے کیجریوال، سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا، اور 21 دیگر کو بری کر دیا، سی بی آئی کی سرزنش کرتے ہوئے، یہ کہتے ہوئے کہ اس کا مقدمہ عدالتی جانچ میں پوری طرح ناکام رہا ہے اور یہ مکمل طور پر بے بنیاد ثابت ہوا ہے۔9 مارچ کو، جسٹس شرما نے تمام 23 ملزمان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سی بی آئی کی طرف سے دائر درخواست پر ان کی بریت کو چیلنج کیا، جس میں کہا گیا تھا کہ الزامات طے کرنے کے مرحلے پر نچلی عدالت کے کچھ مشاہدات اور نتائج بنیادی طور پر غلط لگے اور اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار5 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
بہار11 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ1 year agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
